پیر _13 _فروری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0063
اگر کسی دوسرے کی مرغی اپنے گھر میں انڈا دے اور ہمیں معلوم نہ ہو کہ مرغی کس کی ہے تو اس انڈے کے استعمال کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔اگر کسی دوسرے کی مرغی اپنے گھر میں انڈا دے اور اس کا مالک معلوم نہ ہو تو اس انڈے کو معمولی لقطہ کے حکم میں مان کراستعمال کرسکتے ہیں اگر بعد میں اس کا مالک معلوم ہوجائے اور وہ اس چیز کی رقم طلب کرے تو اسکے مالک کو اس کی قیمت لوٹانا ضروری ہے۔
—————
علامه عمراني فرماتے ہیں:
وإن وجدها(أي اللقطة) في موضع مباح…. فإن كانت يسيرة بحيث يعلم أن صاحبها لو علم أنها ضاعت منه لم يطلبها كزبيبة أو تمرة وما أشبهها لم تجب تعريفها وله أن ينتفع بها فى الحال ، لما روي أنس رضي الله عنه أن النبي صلي الله عليه وسلم مر بتمرة مطروحة فى الطريق فقال "لولا أني أخشي أن تكون من تمرة الصدقة لأكلتها”(438/7-439)
پیر _13 _فروری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سورة الانعام– آيت نمبر 161-162-163 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
اتوار _12 _فروری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
اتوار _12 _فروری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
اردو ترجمہ شفقت الرحمٰن
عنوان: خاوند اور بیوی کے لئے رہنما اصول
اتوار _12 _فروری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سورة الانعام– آيت نمبر 160-161-162-163 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
ہفتہ _11 _فروری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
ہفتہ _11 _فروری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
ہفتہ _11 _فروری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
ہفتہ _11 _فروری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
جمعہ _10 _فروری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
جمعہ _10 _فروری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
جمعہ _10 _فروری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
جمعہ _10 _فروری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبد النّور عبد الباری فكردے ندوی
جمعہ _10 _فروری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سورة الانعام– آيت نمبر 159-160 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
جمعرات _9 _فروری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0401
اگر کوئی کینسر کے مرض میں مبتلا ہو اور اسی مرض میں اسکا انتقال ہو جائے تو کیا یہ شہید شمار ہوگا؟
جواب:۔ کینسر یہ ایک مہلک مرض ہے اور اسکی کئی قسمیں ہیں جیسے پھیپھڑا، دماغ، خون، پیٹ، جلد وغیرہ کا کینسر لہذا جسے پیٹ کا کینسر ہو اور وہ اسی مرض میں وفات پائے تو ایسا شخص آخرت کی رو سے شہید شمار ہوگا۔ ترمذی شریف میں حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صل اللہ علیہ و سلم نے فرمایا "شہداء پانچ طرح کے ہیں۔1۔جو طاعون کے مرض انتقال ہو جائے,2۔جو پیٹ کی بیماری میں مر جائے۔3۔ڈوب کر مرنے والا۔4۔جو شخص دیوار وغیرہ کے اپنے اوپر گرنے کی وجہ سے مرنے والا۔5۔اللہ کی راہ میں شہید ہونے والا۔ (ترمذى:1063)
اسی بنیاد پر دنیاوی اعتبار سے پیٹ کے کینسر میں انتقال ہونے والے پر عام میت کےاحکام جاری ہوں گے یعنی اسے غسل دیا جائیگا، کفن پہنایا جائیگا، اور اس پر نماز جنازہ بھی پڑھی جائیگی اور دفن کیا جائے گا۔
علامہ عبدالرحمن مبارکپوری رحمة الله عليه فرماتے ہیں
و المبطون ای الذى يموت يمرض البطن كالاستحاضة ونحوه.(تحفة الاحوذي 4/121)
علامه دمياطى رحمة الله عليه فرماتے ہیں:
وأما شهيد الآخرة فقط… واقسامه كثيرة فمنها….الميت بالبطن أو فى زمن الطاعون ولو بغيره…….
وأما شهيد الآخرة فقط: فهو كغيره الشهيد فيغسل و يكفن و يصلى عليه و يدفن.(اعانة الطالبین 2/169)