جمعرات _19 _جنوری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0117
اگر کوئی شخص سفر کی وجہ سے جمع تقدیم کرے، پھر اپنے شہر کو اس وقت پہنچے کہ ابھی دوسری نماز کا وقت شروع نہ ہوا ہو، تو کیا اس کی دوسری نماز ہوگئی ہوگی یا دوبارہ اس نماز کو دہرانا ہوگا ؟
جواب:۔ جمع تقدیم کے لئے یہ شرط ہے کہ دوسری نماز مکمل ہونے تک سفر باقی ہو لہٰذا مذکورہ صورت میں اس کی دونوں نماز صحیح ہوجائے گی. لہٰذا اسے دوسری نماز کو دہرانے کی ضرورت نہیں۔
مثال کے طور پر اگر کوئی مسافر ظہر کے وقت ظہر اور عصر کو جمع کر دے، اور عصر کا وقت شروع ہونے سے پہلے ہی اس کا سفر ختم ہو جائے تو اسے عصر کی نماز دہرانے کی ضرورت نہیں ۔
————
وَمِنْ ثَمَّ لَوْ جَمَعَ تَقْدِيمًا، ثُمَّ دَخَلَ الْمَقْصِدَ فِي وَقْتِ الظُّهْرِ لَمْ تَلْزَمْهُ إعَادَةُ الْعَصْرِ۔(تحفة المحتاج في شرح المنهاج – الهيتمي 1 / 438)
وَلَوْ جَمَعَ تَقْدِيمًا فَصَارَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ مُقِيمًا بَطَلَ الْجَمْعُ. وَفِي الثَّانِيَةِ وَبَعْدَهَا لَا يَبْطُلُ فِي الْأَصَحِّ۔(منهاج الطالبين وعمدة المفتين – النووي ص : 46)
جمعرات _19 _جنوری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سورة الانعام– آيت نمبر 133-134-135-136 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
بدھ _18 _جنوری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
بدھ _18 _جنوری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
بدھ _18 _جنوری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سورة الانعام– آيت نمبر 133-134-135 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
منگل _17 _جنوری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0118
کھانا کھانے کے بعد عام طور پر napkin سے ہاتھ صاف کیا جاتا ہے اس کا شرعاً کیا حکم ہے؟
جواب:۔ کھانا کھانے کے بعد انگلیوں کو چاٹ لے پھر رومال وغیرہ سے صاف کرنا مستحب ہے، البتہ پانی سے ہاتھوں کو دھونا زیادہ صفائی کا باعث ہے۔
احادیث مبارکہ میں اس تعلق سے جو ذکر ملتا وہ اس طرح ہے۔حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:جب تم میں سے کوئ کھانا کھائے تو اپنے ہاتھوں کو نہ پونچھے یہانتک کہ اس کو چاٹے یا چٹوائے۔(مسلم:2031)
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بکری کا شانہ کھایا پھر نیچے رکھی ہوئی چادر سے ہاتھ پونچھا پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی۔ (ابوداؤد:189)
————–
علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ويستحب مسح اليد بالمنديل بعد فراغ الطعام ولا يستحب ذالك قبله (فتاوی الامام )(النووی:ص 165)
علامہ شمس الحق عظیم آبادی فرماتے ہیں:
(بمسح) بکسرالمیم البلاس وھو کساء معروف (فصلی)..فيه ثلاث مسائل:…جواز مسح اليد بعد الطعام و أن غسلها ليس بضروري.(عون المعبود :225/1)
الراجح: وفيه(أي الحديث) جواز مسح اليد بعد الطعام و أنه لا يجب الغسل وإنما يستحب فإذا مسح بالمنديل كفى، وإن غسلها فهو أكمل وأفضل۔(شرح سنن ابي داؤد: كتاب الطهارة. باب ترك الوضوء مما مست النار.)
منگل _17 _جنوری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
منگل _17 _جنوری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0119
اگر کس شخص کو پیشاب کے دوران یا جھنکتے وقت یا نماز میں جھکنے سے یا وضو کے دوران ودی کا قطرہ نکل جائے تو ایسے شخص کے لیے کیا حکم ہے؟
جواب:۔اگلی یا پچھلی شرمگاہ سے اگر کوئی چیز نکلے چاہے وہ پیشاب، پاخانہ، ہوا، حیض کا خون، یا مذی ودی، کیڑا، یا کنکر وغیرہ تو ان سب چیزوں کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جائے گا۔ لھذا اگر کسی شخص کو پیشاب کے دوران یا زیادہ جھنکنے سے یا نماز میں جھکتے سے یا وضو کے دوران ودی کا قطرہ خارج ہو جائے تو ان تمام صورتوں میں دوبارہ وضو کرنا ضروری ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس بھیجا تو انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے مذی کے بارے میں پوچھا جو انسان سے نکلتا ہے کہ وہ کیا کرے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ وضو کرے اور اپنی شرمگاہ کو صاف کرے۔
————–
امام ماوردی فرماتے رحمة الله عليه ہیں:۔
ﻭاﻟﺨﺎﺭﺝ ﻣﻨﻬﻤﺎ ﺿﺮﺑﺎﻥ: ﻣﻌﺘﺎﺩ ﻭﻧﺎﺩﺭ: ﻓﺎﻟﻤﻌﺘﺎﺩ اﻟﻐﺎﺋﻂ ﻭاﻟﺒﻮﻝ ﻭاﻟﺼﻮﺕ ﻭاﻟﺮﻳﺢ ﻭﺩﻡ اﻟﺤﻴﺾ. ﻭﻓﻴﻬﺎ اﻟﻮﺿﻮء. ﻭﻓﺎﻗﺎ ﻟﻘﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ{ﺃﻭ ﺟﺎء ﺃﺣﺪ ﻣﻨﻜﻢ ﻣﻦ اﻟﻐﺎﺋﻂ) {اﻟﻤﺎﺋﺪﺓ: 6) . ﻭاﻟﻨﺎﺩﺭ اﻟﻤﺬﻱ ﻭاﻟﻮﺩﻱ، ﻭاﻟﺪﻭﺩ ﻭاﻟﺤﺼﻰ… ﻓﻤﺬﻫﺒﻪ اﻟﺸﺎﻓﻌﻲ ﻭﺃﺑﻲ ﺣﻨﻴﻔﺔ ﻭﺟﻮﺏ اﻟﻮﺿﻮء ﻣﻨﻪ ﻛﺎﻟﻤﻌﺘﺎﺩ…ﻭﺩﻟﻴﻠﻨﺎ ﻗﻮﻟﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ: {ﺃﻭ ﺟﺎء ﺃﺣﺪ ﻣﻨﻜﻢ ﻣﻦ اﻟﻐﺎﺋﻂ} ، ﻭﻫﻮ ﻣﻘﺼﻮﺩ ﻟﻠﻨﺎﺩﺭ ﻭاﻟﻤﻌﺘﺎﺩ، ﻭﺭﻭﻯ ﻋﺎﺑﺲ ﺑﻦ ﺃﻧﺲ ﻗﺎﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﻋﻠﻴﺎ ﺑﺎﻟﻜﻮﻓﺔ ﻳﻘﻮﻝ ﻗﻠﺖ ﻟﻌﻤﺎﺭ ﺳﻞ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ – ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻋﻦ اﻟﻤﺬﻱ ﻳﺼﻴﺐ ﺃﺣﺪﻧﺎ ﺇﺫا ﺩﻧﺎ ﻣﻦ ﺃﻫﻠﻪ ﻓﺈﻥ اﺑﻨﺘﻪ ﺗﺤﺘﻲ ﻭﺃﻧﺎ ﺃﺳﺘﺤﻲ ﻣﻨﻪ ﻓﺴﺄﻟﻪ ﻋﻤﺎﺭ ﻓﻘﺎﻝ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻳﻜﻔﻲ ﻣﻨﻪ اﻟﻮﺿﻮء، ﻓﺈﻧﻤﺎ ﺃﻭﺟﺐ ﻫﺬا اﻟﺤﺪﻳﺚ اﻟﻮﺿﻮء ﻣﻦ اﻟﻤﺬﻱ ﻭﻫﻮ ﻧﺎﺩﺭ ﻓﻜﺬﻟﻚ ﻣﻦ ﻛﻞ ﻧﺎﺩﺭ (الحاوی الكبير :1/176)
منگل _17 _جنوری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سورة الانعام– آيت نمبر 132-133 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
پیر _16 _جنوری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سورة الانعام– آيت نمبر -129-130-131-132 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
اتوار _15 _جنوری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
اردو ترجمہ شفقت الرحمٰن
عنوان: انسانیت کے تین دشمن "تحفظ اور تدابیر”
اتوار _15 _جنوری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
اتوار _15 _جنوری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سورة الانعام– آيت نمبر -129-130-131-132 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
ہفتہ _14 _جنوری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0120
آج کل حجامہ(پچھنہ) لگوانا عام ہو گیا ہے۔تو کیا پچھنہ لگوانے کے بعد غسل کرنا مستحب ہے ؟
جواب:۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم چار اسباب کی وجہ سے غسل کرتے تھے ۔جنابت کی وجہ سے جمعہ کے دن حجامہ لگوانے کے بعد میت کو غسل دینے کے بعد (ابو داؤد 348)
اس حدیث کے تحت امام خطابی فرماتے ہیں کہ حجامہ کے بعد غسل کرنا یہ گندگی کو دور کرنے کیلئے ہے۔ اسلئے کہ حجامہ لگوانے والا خون کے چھینٹوں سے محفوظ نہیں رہتا۔ نیز حجامہ کے بعد چونکہ بدن میں کمزوری پیدا ہوتی ہے اور غسل اس کمزوری اور ضعف کو دور کرتا ہے اور بدن میں نشاط اور چشتی پیدا کرتا ہے نیز طھارت میں احتیاط اور نظافت کی زیادتی کی لئے غسل کرنا مستحب ہے۔
————
قال الشيخ شمس الحق
قال الخطابي : ومعقول أن الاغتسال من الحجامة إنما هو لإماطة الأذى وإنما لا يومن من أن يكون أصاب المحتجم رشاش الدم فالإغتسال منه استظهار بالطهارة استحباب للنظافة۔(عون المعبود:10/2)
قال النووي رحمة الله عليه:
والمختار: الجزم بإستحباب الغسل من الحجامة والحمام فقد نقل صاحب جمع الجوامع فى منصوصات الشافعي أنه قال أحب الغسل من الحجامة و الحمام وكل أمر غير الجسد وأشار الشافعي إلى أن حكمته أن ذالك يغير الجسد ويضعفه والغسل يشده وينعشه۔(روضة الطالبين:550/1)
ہفتہ _14 _جنوری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فضيلة الشيخ علي بن عبدالرحمن الحذيفي