تزكية النفوس وتهذيب السلوك – 13-01-2017
فضيلة الشيخ صالح بن محمد آل طالب
فضيلة الشيخ صالح بن محمد آل طالب
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا عبد النّور عبد الباری فكردے ندوی
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة الانعام– آيت نمبر -126-127-128 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة الانعام– آيت نمبر -125-126 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سوال نمبر/ 0121
لنگی پہن کر امامت کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: جس لباس میں آدمی نماز پڑھ سکتا ہے اس میں امامت بھی کر سکتا ہے۔
نمازیوں کے لیے حکم خداوندی ہے اچھے کپڑے پہنیں، زیب و زینت کے ساتھ جائیں، با ادب با خشوع جائیں، کہ احکم الحاکمین کا دربار ہے۔
لباس کے سلسلے میں عرف کا اعتبار کیا جائےگا۔ جس ماحول میں لنگی مہذب لباس تصور ہوتی ہو، اور اس علاقے کے عام شرفا اس کو پہنتے ہوں تو اس لباس میں نماز پڑھنا پڑھانا دونوں صحیح ہیں۔
سوال نمبر/ 0122
جمعہ کے دن نماز کے لیے سر پر تیل ڈالنے کا کیا حکم ہے ؟
جواب:۔صحیح بخاری کی روایت میں جمعہ کے دن سر پر تیل ڈالنے کا ذکر ملتا ہے، امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن نماز سے پہلے غسل کرنا، ناخن کتروانا، مسواک کرنا، خوشبو لگانا اور سر پر تیل ڈالنا بھی سنت ہے۔
حدیث میں چونکہ "یدھن” کا لفظ استعمال ہوا ہے حافظ ابن حجر رحمة الله عليه نے لفظ "یدھن” سے مراد تیل کے ذریعہ سر کے بکھرے ہوئے بالوں کو سیدھا کرنا لکھا ہےاور اس میں جمعہ کے دن تزیین کی طرف اشارہ ہے۔(صحیح بخاری/883)
————-
قال الامام النووي:
يستحب مع الإغتسال للجمعة أن ينتظف بإزالة أظفار وشعر…… وأن يتطيب و يدهن يتسوك. (المجموع:458/4)
قال الحافظ بن حجر: قوله "ويدهن” المراد به ازالة شعث الشعر به و فيه إشارة إلى التزيين يوم الجمعة۔(فتح الباري:388/3)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)