بھٹكل جامع مسجد عربی خطبہ – 17-02-2017
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبد النّور عبد الباری فكردے ندوی
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة الأعراف– آيت نمبر 008-009-010 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
سوال نمبر/ 0128
اگر کسی لڑکی کی عمر تقریبا 19/ سال ہو لیکن اب تک اسے حیض نہ آیا ہو اور نہ احتلام ہوا ہو، تو کیا ایسی لڑکی پر روزے اور نمازیں فرض ہیں؟
جواب:۔ لڑکوں اور لڑکیوں کی بلوغت کے لیے تین علامتیں ہیں۔(1)حیض آجائے
(2)حاملہ ہوجائے،
(3)پندرہ سال کی عمر مکمل ہوجائے۔
اس میں سے کوئی ایک علامت پائی جائے تو وہ بالغ تصور کیا جائے گا، اس لڑکی میں تیسری علامت پائی جارہی ہے، لہذا ایسی لڑکی پر نمازیں اور روزے فرض ہوں گے.
————–
ویعرف البلوغ بامور… الثالث باستکمال الخامسة عشرۃ من العمر بالسنین القمریة اذا لم یحصل الاحتلام اوالحیض (الفقہ المنھجی1/77) (تحفۃ المحتاج2/262)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة الأعراف– آيت نمبر 001-002-003-004-005-006-007 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سوال نمبر/ 0127
اگرکسی شخص کے ہاتھ کی انگلیاں زائد ہو (چھ یا سات) تو وضوکرتے وقت زائدانگلی کودھونے کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ اگر کسی کو پانچ انگلیوں کے ساتھ ایک زائد انگلی بھی ہو تو وضو میں اصل پانچ انگلیوں کے ساتھ زائدانگلی کو بھی وضو میں دھونا واجب ہے. ورنہ وضو درست نہیں ہوگا۔
—————
امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں:
لو کان له ید ان من جانب فتارۃ تمیز الزائدہ عن الاصلیة. وتارۃ لا، فان تمیزت وخرجت من محل الفرض امامن الساعد وامامن المرافق، وجب غسلھامع الاصلیة کالاصبع الزائدہ، والسلعة سواء جاوز طولھا الاصلیة ام لا (روضۃ الطالبین :1/52)
سورة الانعام– آيت نمبر 165 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
سوال نمبر/ 0126
کیا داڑھی اور سر کے بالوں کا کالا کرنا حرام ہے؟ اگر حرام ہے تو داڑھی اور سر کے بال کالا کرنے کی صورت میں نماز درست ہوگی یا نہیں؟ نیز اگر امام ایسا کرے تو اسکے پیچھے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ سر اور داڑھی کے بالوں کو کالے رنگ کے ذریعہ خضاب کرنا حرام ہے۔ نیز اس طرح کا عمل مسلسل کرنے والے کی نماز درست تو ہوگی اور امام اگراسطرح کا عمل کرے تو اسکے پیچھے نماز پڑھنا بھی مکروہ ہے۔ اگر امام نے ایسا خضاب لگایا ہو جسکے ذریعے بالوں تک پانی نہیں پہنچتا ہو تو ایسی صورت میں اس کا وضو اور غسل درست نہیں ہوگا اور ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا درست نہیں۔
اس طرح کا ایک واقعہ صحیح مسلم میں ملتا ہے جس کے راوی حضرت جابر رضی اللہ عنہ ہیں فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے وقت ابو قحافہ کو لایا گیا درحالیکہ ان کا سر اور ڈاڑھی ثمامہ درخت کے مانند سفید ہوگیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ان کے بالوں کو کسی چیز کے ذریعہ تبدیل کرو اور کالے رنگ سے بچو۔(مسلم/2102)
————–
امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں:
ویحرم خضابه بالسواد على الأصح(شرح مسلم:2/266)
امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں:
قال اصحابنا:الصلاة وراءالفاسق صحيحة ليست محرمة.لكنها مكروهة.(المجموع:4/222 )
امام
ويحرم تجعيده اى الشعر ونشر الأسنان… والخراب بالسواد (أسنى المطالب:1/35)
امام…
ومن يكرهه المامونين. لأمر يذم شرعا (العباب:1/265)
خطيب شربيني رحمة الله عليه فرماتے ہیں
ويجب إزالة ما فى شقوق الرجلين من عين كشمع وحناء (مغني المحتاج:1/93)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة الانعام– آيت نمبر 164-165 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)