ہفتہ _10 _دسمبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0029
اگر نماز پڑھنے والے نے سترہ رکھا ہو تو سخت ضرورت کے وقت اس کے اندر سے گزرنے کا حکم کیا ہے؟
جواب :۔حضرت ابوجہیم رضی اللہ عنہ سے روایت کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر نمازی کے آگے سے گذرنے والے کو اس کا گناہ معلوم ہوجاے تو وہ وہاں چالیس سال رکنا برداشت کرے گا (لیکن گذرے گانہیں )(بخاری :480)
اس حدیث اور دیگر احادیث کی بناء پر فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر نمازی نے اپنے سامنے سترہ رکھا ہو تو اس کے اندر سے گذرنا حرام ہے. چاہے وہ دوسرا راستہ نہ پاے یا کوئی مجبوری کیوں نہ ہو لیکن اگر کوئی راستہ میں نماز پڑھ رہا ہو یا ایسی جگہ نماز پڑھ رہا ہو جہاں لوگ زیادہ آتے جاتے ہوں اور دوسرا کوئی راستہ بھی نہ ہو تو سخت ضرورت کے تحت فقہاء نے نمازی کے سترہ کے اندر سے گذرنے کی گنجائش دی ہے۔ لہذا اس وقت نمازی کو اسے روکنا بھی مشروع نہیں ۔
————–
ثم قال الأئمة: ما ذكرناه من النهي عن المرور [و] ( 1) دفع المار فيه إذا وجد المار سبيلا سواه، فإن لم يجد، وازدحم الناس، فلا نهي عن المرور، ولا يشرع الدفع۔(نهاية المطلب 226/2)
ہفتہ _10 _دسمبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
ہفتہ _10 _دسمبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبد النّور عبد الباری فكردے ندوی
ہفتہ _10 _دسمبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
جمعہ _9 _دسمبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
جمعہ _9 _دسمبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
جمعہ _9 _دسمبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
جمعہ _9 _دسمبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
جمعہ _9 _دسمبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
جمعہ _9 _دسمبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سورة الانعام– آيت نمبر 065-066-067(مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
جمعرات _8 _دسمبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سورة الانعام– آيت نمبر 065-066-067(مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
بدھ _7 _دسمبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
بدھ _7 _دسمبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سورة الانعام– آيت نمبر 054-055(مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
منگل _6 _دسمبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0028
مسجد میں کھانے پینے کا شرعا کیاحکم ہے؟
جواب:۔ حضرت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد میں روٹی اور گوشت کھاتے تھے۔(سنن ابن ماجہ:3300)
اس دلیل کی بناء پر علماء نے مسجد میں کھانے پینے کی اجازت دی ہے. البتہ مسجد میں کھانے پینے سے احتیاط بہتر ہے.اور اگر کھانے کی نوبت آجائے تو دسترخوان بچھانے کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ فرش گندانہ ہو. اور کھانے کے ذرات کچھ باقی نہ رہے ۔
—————
امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں
لا باس بالاکل والشرب فی المسجد و وضع المائدۃ فیه وغسل الید فیه ۔(فتاوی للنووی:126)
امام زرکشی رحمة الله عليه فرماتے ہیں۔
یجوز اکل الخبز و الفاکہة و البطیخ و بغیر ذالك فی المسجد۔ (اعلام الساجد باحکام المساجد:232)
وینبغی ان یبسط شیئا و یحترز خوفا من التلویث لئلا یتناثر شئي من الطعام فتجتمع علیه الھوام۔ (اعلام الساجد باحکام المساجد:232)
منگل _6 _دسمبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)