فضيلة الشيخ أسامة بن عبدالله الخياط – 02-12-2016
مكۃ المكرّمہ اردو ترجمہ
مكۃ المكرّمہ اردو ترجمہ
سورة الانعام– آيت نمبر 053(مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سوال نمبر/ 0027
نماز میں عورت کے لیے ستر کتنا ہونا ضروری ہے؟
جواب:۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے "ولا یبدین زینتھن الا ما ظھر منھا”(سورہ نور/31)
یعنی عورتیں اپنے جسم کی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے ان اعضاء کے جو ظاہر ہوتے ہیں۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت میں ” الا ما ظھر منھا” کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد چہرہ اور ہتیلیاں ہیں (اضواء البیان:27/28)
امام قرطبی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں
"الا ما ظھر منھا” سے مراد چہرہ اور ہتیلیاں ہیں جو عادۃ اور عبادت میں ظاہر ہوتی ہیں. لہذا نماز اور حج میں چہرہ اور ہتیلیاں ستر میں داخل نہیں ہیں۔ (الجامع لاحکام القرآن :6/331)
اس تفصیل کی روشنی میں فقہاء فرماتے ہیں کہ نماز میں عورت کے لیے چہرہ اور ہتیلیوں کے علاوہ پورا بدن ستر ہے۔ لہذا ان دو اعضاء کے علاوہ بدن کا کوئی بھی حصہ ظاہر ہوجائے تو نماز درست نہیں ہوگی۔
————–
شیخ سلیمان جمل رحمة الله عليه ) ہیں:
انه لما دل الدلیل علی ان عورۃ الانثی بالنسبة الی الاجانب جمیع بدنھا و باالنسبة الی المحارم ماعدا سرتھا و رکبتھا تعین ان تکون الایة واردۃ فی شان الصلاۃ (حاشیۃ الجمل:2/133)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة الانعام– آيت نمبر 052(مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سوال نمبر/ 0026
کیا قمیص وجبہ کی آستین کو انگلیوں سے زائد رکھنا جائز ہے؟ یا اس میں اسراف ہوگا؟
جواب:۔ حضرت اسماء بنت یزید انصاریہ رضي الله عنها فرماتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کی آستین گھٹوں تک ہوتی تھی ۔(سنن ترمذی :1765)
اس حدیث کی بناء پر آستین کو گھٹوں تک رکھنا سنت ہے۔ اور جس طرح بغیر کسی مقصد کے ضرورت سے زیادہ لباس کا استعمال ناپسندیدہ ہے، اسی طرح کرتہ وجبہ کی آستین کو انگلیوں سے زیادہ لمبی رکھنا ناپسندیدہ اور منع ہے۔
ومثله (فی الممانعة) حمل ما لو کان زائداعلی تمام لباسه کما قاله القاضی لانه غیر مضطر الیه قال فی المھمات: و مقتضاہ منع زیادۃ الکم علی الاصابع و لبس ثوباآخر لا لغرض من تجمل و نحوہ۔(اعانۃ الطالبین:1/221)
ويسن في الكم كونه إلى الرسغ للاتباع وهو المفصل بين الكف والساعد وللمرأة ومثلها الخنثى فيما يظهر إرسال الثوب على الأرض إلى ذراع من غير زيادة عليه لما صح من النهي عن ذلك، والأوجه أن الذراع يعتبر من الكعبين وقيل من الحد المستحب للرجال وهو أنصاف الساقين ورجحه جماعة وقيل من أول ما يمس الأرض وإفراط توسعة الثياب والأكمام بدعة وسرف وتضييع للمال نعم ما صار شعارا للعلماء يندب لهم لبسه ليعرفوا بذلك۔ (نهاية المحتاج : 382/2)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
اردو ترجمہ شفقت الرحمٰن
عنوان: غفلت، خطرات، اسباب، اور تدابیر
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة الانعام– آيت نمبر 050-051(مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سوال نمبر/ 0025
مسجد میں ہواخارج کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص پیاز اور لہسن کھائے ۔اسے چاہئے کہ مسجد میں نہ آئے کیونکہ فرشتوں کو ان چیزوں سے تکلیف ہوتی ہیں جن سے انسانوں کو ہوتی ہے۔
(مسلم 564)
اس حدیث کی روشنی میں فقہاء فرماتے ہیں مسجداللہ تعالی کا گھر ہے. جس میں ملائکہ موجود رہتے ہیں. اور جس چیز سے انسان کو تکلیف پہنچتی ہے اس سے ملائکہ کو بھی تکلیف پہنچتی ہے اس لیے کہ مسجد میں ہوا خارج کرنے میں نمازیوں کے ساتھ فرشتوں کو بھی تکلیف پہچتی ہے۔ اس لئے علماء نے اس سے منع کیا ہے۔ اور بعض علماء نے مسجد سے باہر جانا ممکن ہونے کے باوجود بھی مسجد میں ہوا خارج کرنا حرام قرار دیا ہے۔
لایحرم اخراج الریح من الدبر فی المسجد لکن الاولی اجتنابه لقوله صلی الله علیه وسلم. فان الملائکة تتاذی مما یتاذی منه بنو آدم..(المجموع:2/200)
ینبغی ان یکرہ ذلك اذاتعاطاہ لا سیما اذا کان عن غیرحاجۃ بل ینبغی ان یحرم والحدیث نص فی النھی۔(حاشیۃ المجموع2/200)
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
فضيلة الشيخ علي بن عبدالرحمن الحذيفي