004 – سورة النساء – آیت نمبر – 028
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة الانعام– آيت نمبر 011-012-013(مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سوال نمبر/ 0279
اگر کوئی شخص پاک ہو اور وضو کے ساتھ تلاوت کر رہا ہو، دوران تلاوت ریح خارج ہو جائے تو کیا اس کے لئے تلاوت روک کر وضو کرنا ضروری ہے یا وہ تلاوت جاری رکھ سکتا ہے؟
جواب:۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ہر حال میں قرآن سکھاتے تھے مگر یہ کہ آپ جنبی ہو۔(ترمذی:146)
اس حدیث سے فقھاء نے استدلال کیا ہے کہ جنبی کے لئے ہر حالت میں قرآن کو چھونا یا پڑھنا حرام ہے، البتہ غیر جنبی کے لئے بغیر وضو کے قرآن کو ہاتھ لگائے بغیر تلاوت کی گنجائش ہے نیز باوضو پڑهنا مستحب ہے ، مگر قرآن کو چھونے لئے وضو شرط ہے.
قوله (يقرئنا القرآن) اي يعلمنا (على كل حال ) اي متوضئا كان او غير متوضئي (مالم يكن جنبا ) قوله: (قالوا يقرأ الرجل القرآن علي غير وضوء ) اي يجوز له ان يقرأ علي غير وضوء، والستدلوا على ذلك بحديث الباب ولا يقرأ في المصحف اي اخذا بيده وما شابه فانه اذا لم يمسه ويقرأ ناظرا فيه فهو جائز (الا وهو طاهر ) اي متوضئ (تحفة الاحوذي 1/401/402
قال الروياني :۔واما ما يستحب له الطهارة ولا تجب كقراءة القرآن۔(بحر المذهب 1/87)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة الانعام– آيت نمبر 007-008-009-010(مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سوال نمبر/ 0278
اگر کسی میت کی نماز جنازہ صرف عورتیں ادا کرے تو کیا مردوں کی طرف سے بھی فرض کفایہ ساقط ہوجائے گا ؟
جواب:۔ حضرت عایشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ جب حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو نبی کریم صلی الله عليه وسلم کی ازواج مطہرات نے یہ بیغام بھیجا کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے جنازے کو مسجد میں سے گذارا جاے تاکہ وہ (عورتیں) ان پر نمازے جنازہ پڑھے صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین نے ایسا ہی کیا۔ لہذا جنازے کو نماز کیلے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کے حجرے کے پاس رکھا گیا پھر عورتوں نے ان پر نماز جنازہ پڑھی (مسلم: 100)
اس حدیث کی روشنی میں مردوں کی طرح عورتوں کے لیے بھی نمازجنازہ مشروع ہے۔ البتہ اگر مرد حضرات میت پر موجود ہیں تو صرف عورتوں کے نماز پڑھنے سے فرض کفایہ ساقط نہیں ہوگا، لیکن مرد حضرات موجود نہیں ہیں تو صرف عورتوں کے نماز پڑھنے سے فرض ساقط ہوجائے گا۔
ولا تسقط بالنساء وهناك رجال أما إذا لم يكن غيرهن فتلزمهن وتسقط بفعلهن ولھن تسن الجماعة (حاشية الجمل 3/193-94)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة الانعام– آيت نمبر 004-005-006(مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
اردو ترجمہ شفقت الرحمٰن
عنوان: نبی ﷺ کی محبت
مكۃ المكرّمہ اردو ترجمہ
عنوان / نبی ﷺ کی عظمت
سوال نمبر/ 0277
بدن کا رنگ دکھائے دینے والے چست اور باریک کپڑوں میں عورت کے لیے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ اگر کپڑا ایسا ہو جس سے بدن کا رنگ نظر آرہا ہو تو ایسے کپڑے میں نماز پڑھنا درست نہیں ہے اس لیے کہ نماز صحیح ہونے کے لیے ستر کا ایساہونا بھی شرط ہے جس سے چمڑی کا رنگ نظر نہ آتا ہو ، لھذا ایسے کپڑے پر نماز پڑھنا جس سے بدن کا رنگ اور جسم کی ساخت پوری طرح معلوم ہو جس سے ستر کا مقصود فوت ہو تو ایسےکپڑے میں نماز پڑھنا صحیح نہیں ہے۔ اگر جسم کی ساخت پوری طرح ظاہر ہوتی ہولیکن رنگ ظاہرنہ ہو تو ایسے کپڑے میں عورت کے لیے نماز پڑھنا مکروہ ہے اور مرد کے لیے خلاف اولی ہے ۔
علامہ خطیب شر بنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
شروط الصلاة خمسة….. وستر العورة والعورة ما سوي الوجه والكفين، وشرطه اَي الساتر ما اَي جرم منع لون ادراك البشرة لا حجمها، فلا يكفي ثوب رقيق ولا مهلهل ولا يمنع ادراك اللون، ولا زجاج يحكي اللون لان مقصود الستر لا يحصل بذالك، أما ادراك الحجم فلا يضره لكنه للمرأة مكروه ۔(مغنی المحتاج 1/317-319)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)