سوال نمبر/ 0050 دعا مانگتے وقت دعا درود شریف سے پہلے اللہ تعالی کی بہت حمد وثناء(تعریف) کرنا یا درود شریف پڑھنا ضروری ہے؟
جواب:۔ حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے ایک صحابی داخل ہوئے اور نماز ادا کی، اور یوں دعا مانگنے لگے اللہ میری مغفرت فرما،اور مجھ پر رحم فرما۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے فلانے آپ نے دعا مانگنے میں جلدی کی، اور فرمایا جب تم نماز پڑھو تو بیٹھ جاؤ اور جب تم دعا مانگنے لگو تو پہلے اللہ تعالی کی خوب حمد و ثنا بیان کرو اور مجھ پر درود بھیجو پھر اللہ تعالی سے مانگو۔ (ترمذی 3476)
مذکورہ حدیث کے تحت علماء نے دعا مانگنے سے پہلے اللہ تعالی کی خوب تعریف کرنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف پڑھنا مستحب لکھا ہے۔
قال الامام النووی رحمه الله قلت اجمع العلماء علي استحباب ابتداء الدعا بحمدلله تعالی والثناء عليه، والصلاة علي رسول الله عليه وسلم ، وكذلك تختم الدعا بهما، والاثار في هذاالباب كثيرة معروفة۔ (الاذکار:84/85)
Question no/ 0050
Is it necessary to begin the supplications with praise of Allah before reciting durood e shareef? Or is it sufficient to recite only durood?
Ans; Hazrat Fadalah bin ubaid R.A narrated; While the messenger of Allah was seated, a man entered and performed Salat,and he said: ‘O Allah,forgive me, and have mercy upon me.’ The Messenger of Allah said: ‘You have rushed , O praying person. When you perform Salat, and then sit,Then Praise Allah with what he is deserving of, and send Durood upon me, then call upon him.”He said:”Then another man performed Salat after that, so he praised Allah and sent durood upon the Prophet. The Prophet said to him:’ O praying person! Supplicate, and you shall be answered.” (Tirmidhi 3476)
Based on this hadees the scholars(ulama) said that praising Allah and sending durood upon the Prophet sallallahu alaihi wasallam before supplicating is considered to be Mustahab..
سوال نمبر/ 0147 آج کل چھوٹے بچوں کئ نجاست دور کرنے کے لیے پانی کی جگہ ایک خاص قسم کا ٹیشو پیپر استعمال کیا جاتا ہے اگر ایسے ٹیشو سے نجاست کو دور کیا جائے پھر وہ بچہ کسی کی گود میں بغیر حائل کے بیٹھ جائے تو کیا وہ کپڑا یا آدمی کا جسم ناپاک ہوگا ؟
جواب :۔ آج کل بچوں کی نجاست کو دور کرنے کے لیے جو ٹیشو استعمال ہوتا ہے حقیقت میں وہ ایک قسم کا کاغذ ہی ہوتا ہے اور اس میں ایک قسم کی خشبو کی ملاوٹ بھی ہوتی ہے اور اس میں نجاست کو دور کرنے کی صلاحیت بھی ہوتی ہے، لھذا ایسے ٹیشو کے ذریعہ جس بچہ کی نجاست کو دور کیا جائے بدبو اور نجاست کے اثرات باقی نہ ہو اور وہ بچہ کسی کی گود میں بیٹھ جائے تو کپڑا اور جس کی گود بیٹھا ہے اس کا جسم بھی ناپاک نہیں ہوگا ۔
يجوز استنجاء بأوراق البياض الخالي عن ذكر الله تعالي. بغية المسترشدين (370)
قال اصحاب الفقه المنهجي
يجوز استنجاء ……كالحجر والورق ونحو ذالك .الفقه المنهجي (1/45)
قال الامام النووي رحمه الله وفي معني الحجر…..فالع : لحصول الغرض به كالحجر .مغني المحتاج 1/77
سوال نمبر/ 0396 بعض علاقوں میں منگنی کے بعد منگیتر سے بات اور اس سے ملنا جلنا معیوب نہیں سمجھا جاتا ہے تو کیا منگنی کے بعد ملنا جلنا یا آخری درجہ میں موبائل سے بات چیت کرنا درست ہے ہا نہیں؟
جواب :۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کسی عورت کے ساتھ اس وقت تک خلوت (تنہائی) اختیار نہ کرے جب تک اس کے ساتھ اس کا کوئی محرم نہ ہو. (صحیح مسلم 1341)
اس حدیث کے ضمن میں امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں ۔
کہ اگر کوئی آدمی کسی اجنبی عورت کے ساتھ ملاقات کرے. یا تنہائی اختیار کرے تو حرام ہے۔ (شرح مسلم:434)
اس سے یہ مسئلہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی اجنبی لڑکی سے بات چیت کرنا، ملنا جلنا چاہے فون کے ذریعہ ہو یا خط و کتابت یا واٹس ایپ کے ذریعہ ہو. ہر صورت میں حرام ہے. لہٰذا بعض علاقوں میں منگنی کے بعد منگیتر سے بات چیت کرنے اور ملنے جلنے کا جو رواج ہے وہ نا جائز اور گناہ کا کام ہے۔ کیونکہ منگنی کے بعد شادی سے پہلے وہ لڑکی اجنبیہ کے حکم میں ہی رہتی ہے اور اجنبی عورت سے بات چیت کرنا، ملاقات کرنا بلا ضرورت شرعی بالکل جائز نہیں۔ اس لیے اس سے بچنا بے حد ضروری ہے۔
لا يجوز التكلم مع المرأة الاجنبية بما يثير الشهوة كمغازلة وتغنج وخضوع في القول سواء كان في الهاتف أو غيره
(فتاوي المرأة المسلمة 551)
أن الاختلاط الخاطب بالمخطوبة وخلوته بها قبل عقد الزوج حرام لا يقره شرع الله عزوجل ولا يرضي به (الفقه المنهجي 2/50)
أن الخطبة ليست زواجا وإنما هي مجرد وعد بالزوج فلا يترتب عليها شيء من احكام الزوج ولاالخلوة بالمرأة او معاشرتها بانفراد لانها ما تزال اجنبية عن الخاطب (فقه الاسلامي وادلته 7/24)
سوال نمبر/ 0395 بہت سے لوگ بندر كو خريد كر اپنے گهر میں ركھتے ہیں اور اس سے تفریح حاصل كرتے ہیں تو بندر جيسے جانوروں میں خريد و فروخت كا كيا حكم ہے؟
جواب:۔ بہت سے لوگ بندر كو خريد كر اپنے گھر میں ركھتے ہیں اور اس سے تفریح حاصل كرتے ہیں تو بندر جيسے جانوروں میں خريدفروخت دونوں درست ہے،اس لئے كہ يہ ايسا جانور ہے جس سے تفريح ہوتي ہے-
قال الإمام النووي: الحيوان الطاهر ضربان ضرب ينتفع به فيجوز بيعه كالغنم…ومما ينتفع به القرد و الفيل والهرة. روضة الطالبين:١٩/٣
Question no/ 0395
Many people buy monkeys and keep it in their house and gain affection.. What does the shariah say with regard to buying and selling of monkeys or animals of these kind?
Ans; Many people buy monkeys and keep it in their house and gain affection. Therefore it is acceptable to sell or buy monkeys or any such kind of animal as these are such kind of animals through which one can benefit.