درس حدیث نمبر 0627
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 1096
جمعہ کی دوسری اذان کہاں کھڑے ہوکر دینا چاہیے؟ اور اس کا کیا حکم ہے؟
جمعہ کی دوسری اذان خطیب کے سامنے کھڑے ہو کر دینا سنت ہے۔
عن السائبِ بنِ يزيدَ قال: كان الأذانُ الأولُ يومَ الجمعةِ حين يخرج الإمامُ فيجلس على المنبرِ في عهدِ رسولِ اللهِ صلّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ وأبي بكرٍ وعمرَ. (النجم الوهاج :٤٨٠/٢)
وهو الأذان الذي يقام بين يدي الخطيب؛ فإنّه من الشعائر المختصة بصلاة الجمعة (نهاية المطلب في دراية المذهب:١٥٠/٢) بداية المحتاج ٣٩١/١ نهاية المحتاج ٤٢٠/١
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 1095
نابالغ بچے کو والدین اگر سونے چاندی کے زیور پہنائیں تو کیا والدین گنہگار ہوں گے؟
مردوں پر سونےکے زیورات حرام ہیں اور چاندی کی انگوٹھی کے علاوہ دیگر زیورات حرام ہیں البتہ بالغ ہونے سے پہلے بچوں کو والدین سونے چاندی کے زیور وغیرہ پہنائیں تو والدین گنہگار نہیں ہوں گے کیونکہ بچے کو سونا چاندی کے زیورات پہننا جائز ہے.
قال الامام أبن حجر الهيتمي رحمة الله عليه : والسِّوارُ والخَلْخالُ وسائِرُ حُلِيِّ النِّساءِ للُبْسِ الرَّجُلِ بِأنْ قَصَدَ ذَلِكَ بِاِتِّخاذِهِما فَهُما مُحَرَّمانِ بِالقَصْدِ فاللُّبْسُ أوْلى وذَلِكَ؛ لِأنَّ فِيهِ خُنُوثَةً لا تَلِيقُ بِشَهامَةِ الرَّجُلِ بِخِلافِ اتِّخاذِهِما لِلُبْسِ امْرَأةٍ أوْ صَبِيٍّ (تحفة المحتاج: ٣\٢٧٢) حاشية الترمسي :٥\١٨٣ المجموع :٥\٤٣٤ فتح الوهاب :١\١٢٧ حاشية البجيرمي على شرح المنهج :٢\٣١
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 1093
اگر کسی وجہ سے حکومت کی طرف سے یہ حکم جاری کیا جائے کہ مطاف میں صرف عمرہ کرنے والوں کو جانے کی اجازت ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو طواف وداع اوپری حصہ سے کرنا لازم ہو تو کیا یہ فاصلہ طویل ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ تکلیف و مشقت کی بناء پر طواف وداع کے بجائے مکہ سے نکلنے سے عین وقت پہلے کوئی عمرہ کرے جس میں طواف و سعی سے فارغ ہوجائے اور حلق سے پہلے طواف وداع سے فارغ ہوجائے تو اس طرح کرنے کی گنجائش ہے يا نہیں؟
حالات کے پیش نظر مطاف چوں کہ صرف معتمرین کے لیے کھلا ہے اور معتمرین کے علاوہ کسی کو نیچیے اترنے کی اجازت نہیں ہے ایسی صورت میں اگر کوئی مکہ سے عین نکلنے سے پہلے عمرہ کرے اور اس میں طواف و سعی سے فارغ ہوجائے اور حلق سے پہلے طواف وداع سے فارغ ہوجائے تو اس کی گنجائش نہیں ہے اسلئے کہ طواف وداع کا اطلاق تمام مناسک حج کو ادا کرنے کے بعد ہوتا ہے اور ان مناسک میں سے ایک نسک حلق باقی رہا اسلیے اس کی کنجائش نہیں ہے۔ البتہ اگر سعی کے بعد باہر نکلنے سے پہلے کچھ بال کاٹ دے اور اس کے بعد طواف وداع کرے تو گنجائش ہوگی
علامہ سلیمان جمل رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں: ولا يَجُوزُ أيْضًا بَعْدَ طَوافِ وداعٍ، بَلْ لا يُتَصَوَّرُ وُقُوعُهُ بَعْدَهُ كَما قالاهُ؛ لِأنَّهُ لا يُسَمّى طَوافَ وداعٍ إلّا إنْ كانَ بَعْدَ الإتْيانِ بِجَمِيعِ المَناسِكِ ومِن ثَمَّ لَوْ بَقِيَ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِنها جازَ لَهُ الخُرُوجُ مِن مَكَّةَ بِلا وداعٍ لِعَدَمِ تَصَوُّرِهِ فِي حَقِّهِ حِينَئِذٍ (حاشية الجمل:٤/ ١٢١) حاشية الشرواني و العبادي: ٤/ ٩٩ تحفة المحتاج: ٢/ ٥٧ الغرر البهية: ٤/ ٢٥٢ أبحاث هيئة كبار العلماء:٧/٤٥٠
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا اقبال نائطے صاحب ندوی
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب