عشرہ ذی الحجہ کی فضیلت – 24-07-2020
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا ابوبکر صدیق خطیبی صاحب ندوی
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
فضيلة الشيخ عبد المحسن بن محمد القاسم
فضيلة الشيخ ماهر بن حمد المعيقلي
فقہ شافعی سوال نمبر / 0874
*کسی شخص کو بکرے کی قربانی کی طاقت کے باوجود بڑے جانوروں کی قربانی میں حصہ لینا کیسا ہے؟*
*جو شخص بکرے کی قربانی کرنے کی طاقت رکھتا ہو اس کے لیے بڑے جانوروں میں حصہ لینے کے مقابل بکرے کی قربانی کرنا افضل ہے، اس لئے کہ اس صورت میں تنہا خون بہانے کی فضیلت حاصل ہوگی.*
*امام ابو اسحاق الشیرازی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں: والشاة أفضل من مشاركة سبعة في بدنة أو بقرة لأنه يتفرد بإراقة دم* (المهذب في فقة الإمام الشافعي ١/ ٤٣٣) *امام نووی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں. والشاة عن واحد وأفضلها بعير ثم بقرة ثم ضأن ثم معز وسبع شياه أفضل من مشاركة في بعير* (منهاج الطالبين وعمدة المفتين في الفقه/٣٢٠) *وَشَاةٌ أَفْضَلُ مِنْ مُشَارِكَةٍ بِقَدْرِهَا (فِي بَعِيرٍ) أَوْ بَقَرَةٍ لِلِانْفِرَادِ بِإِرَاقَةِ الدَّمِ.* (حاشيتا قليوبي وعميرة:٤/ ٢٥٢) *والبدنة أفضل من البقر لانها أعظم والبقرة أفضل من الشاة لانها بسبع من الغنم والشاة أفضل من مشاركة سبعة في بدنة أو بقرة لانه ينفرد باراقة دم.* المجموع شرح المهذب:٨/ ٣٩٥ *والشاة أفضل من مشاركة سبعة في بدنة أو بقرة.* البيان في مذهب الإمام الشافعي ٤: ٤٤١
فقہ شافعی سوال نمبر / 0873
*باپ اگر استطاعت کے باوجود اپنی طرف سے قربانی نہ کرے بلکہ اپنے نابالغ بچہ کی طرف سے قربانی کرنا چاہیے تو کیا اس کی گنجائش ہے؟*
*قربانی کے اصل مخاطب عاقل، بالغ، استطاعت رکھنے والے مسلمان ہیں، لیکن اگر بچے کا ولی اپنی طرف سے قربانی نہ کرتے ہوئے اپنے بچہ کی طرف سے قربانی کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔*
*قال ابن حجر الهيتمي في تحفة المحتاج: أَنَّ لِلْوَلِيِّ الْأَبِ فَالْجَدِّ التَّضْحِيَةَ عَنْ مُوَلِّيهِ وَعَلَيْهِ فَلَا يُقَدَّرُ انْتِقَالُ الْمِلْكِ فِيهَا لِلْمُوَلِّي كَمَا هُوَ ظَاهِرٌ.* (تحفة المحتاج:٩ / ٣٦٩) *ﻭَﺃَﻣَّﺎ اﻟﺘَّﻀْﺤِﻴَﺔُ ﻋَﻦْ ﻃِﻔْﻠِﻪِ ﻓَﻬِﻲَ ﻏَﻴْﺮُ ﻣُﺨَﺎﻃَﺐٌ ﺑِﻬَﺎ ﻭَﺇِﻧَّﻤَﺎ ﻭُﺳِّﻊَ ﻟَﻪُ ﻓِﻴﻬَﺎ ﺗَﺤْﺼِﻴﻼً ﻟِﻠﺜَّﻮَاﺏِ ﻟِﻤُﻮَﻟِّﻴﻪِ.* (فتاوى الفقهية الكبرى:٤ / ٢٥٥)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0872
*وضو کی حالت گوبر سے بنی ہوئی سوکھی زمین پر تَر پاؤں سے داخل ہوجائے تو اس صورت میں وضو کا کیا مسئلہ ہے؟*
*نجاست کا بدن یا کپڑے پر لگنا نواقض وضو میں شامل نہیں ہے البتہ اس لگی ہوئی نجاست کو بدن یا کپڑے سے دور کرنا ضروری ہے مذکورہ صورت میں گوبر سے بنی ہوئی سوکھی زمین پر گِلے پاؤں لے جانے سے یا اسی طرح کسی گیلی نجاست پر پاؤں گرنے سے وضو نہیں ٹوٹے گا البتہ نجاست کا پاؤں سے دور کرنا اور صرف پانی سے نجاست کی جگہ کو دھونا کافی ہے دوبارہ وضو کرنے کی ضرورت نہیں*
*علامہ ماوردی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ﻣﻦ ﻣﺲ ﻛﻠﺒﺎ ﺃﻭ ﺧﻨﺰﻳﺮا ﻟﻢ ﻳﺘﻮﺿﺄ ﻭﻟﻮ ﻣﺲ ﺑﻮﻻ ﺃﻭ ﻋﺬﺭﺓ ﻟﻢ ﻳﺘﻮﺿﺄ۔* (الحاوی الکبیر:٣٧٧/١) *علامہ بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وإن كانت [عيينة] كالدم والروث يحثها، ويقرضها، ثم يدلكها بالماء؛ فتطهر۔* (التهذيب:١٩٣/١)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0871
*کیا عقیقہ اور قربانی ایک ساتھ ایک ہی جانور میں ہو سکتی ہے یا الگ الگ کرنا ہوگا؟*
*بڑے جانور یعنی اونٹ اور بیل کے سات حصوں میں کچھ عقیقہ اور کچھ قربانی کے حصہ بنانا درست ہے۔ لھذا اگر کوئی شخص بڑے جانور کے حصوں میں بیک وقت عقیقہ اور قربانی کرنا چاہے تو عقیقہ اور قربانی کرنا درست ہے۔*
*ﻭﻟﻮ ﺫﺑﺢ ﺑﻘﺮﺓ ﺃﻭ ﺑﺪﻧﺔ ﻋﻦ ﺳﺒﻌﺔ ﺃﻭﻻﺩ ﺃﻭ اﺷﺘﺮﻙ ﻓﻴﻬﺎ ﺟﻤﺎﻋﺔ ﺟﺎﺯ ﺳﻮاء ﺃﺭاﺩﻭا ﻛﻠﻬﻢ اﻟﻌﻘﻴﻘﺔ ﺃﻭ ﺃﺭاﺩ ﺑﻌﻀﻬﻢ اﻟﻌﻘﻴﻘﺔ ﻭﺑﻌﻀﻬﻢ اﻟﻠﺤﻢ ﻛﻤﺎ ﺳﺒﻖ ﻓﻲ اﻷﺿﺤﻴﺔ (اﻟﺜﺎﻟﺜﺔ) اﻟﻤﺠﺰﺉ ﻓﻲ اﻟﻌﻘﻴﻘﺔ ﻫﻮ اﻟﻤﺠﺰﺉ ﻓﻲ اﻷﺿﺤﻴﺔ۔* (المجموع:٤٢٩/٨)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0870
*قربانی کے چمڑے کو بطور صدقہ غریب کو دینا اور وہ غریب اس چمڑے کو بیچ دے تو کیا قربانی درست ہوگی یا نہیں؟*
*قربانی کے جانور کا چمڑا اس کے گوشت کی طرح کسی غریب کو صدقہ کی نیت سے دینا جائز ہے۔ چونکہ غریب اس چمڑے کا مالک بن جاتا ہے اس اعتبار سے اس کے لئے قربانی کے گوشت کی طرح قربانی کے جانور کا چمڑا فروخت کرنا بھی جائز ہے۔*
*وَيَتَصَدَّقُ بِجِلْدِهَا أَوْ يَنْتَفِعُ بِهِ) بِنَفْسِهِ أَوْ يُعِيرُهُ لِغَيْرِهِ، وَيَحْرُمُ عَلَيْهِ وَعَلَى وَارِثِهِ بَيْعُهُ كَسَائِرِ أَجْزَائِهَا وَإِجَارَتُهُ وَإِعْطَاؤُهُ أُجْرَةً لِلْجَزَّارِ لِخَبَرِ «مَنْ بَاعَ جِلْدَ أُضْحِيَّتِهِ فَلَا أُضْحِيَّةَ لَهُ» وَلِزَوَالِ مِلْكِهِ عَنْهَا بِذَبْحِهَا .* (نهايه المحتاج.١٤٢/٨) *ﻭﺃﻣﺎ اﻟﻔﻘﺮاء ﻓﻴﺠﻮﺯ ﻟﻬﻢ ﻓﻲ اﻟﻤﺄﺧﻮﺫ ﺟﻤﻴﻊ اﻟﺘﺼﺮﻓﺎﺕ.* (حاشيه الجمل.٢٥٩/٥)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0869
*جانور کو ذبح کرتے وقت پوری گردن کٹ جائے اور جسم سے الگ ہوجائے تو کیا ذبیحہ درست ہوگا یا نہیں؟*
*جانور ذبح کرتے وقت اس بات خیال رکھیں کہ گردن پوری طرح جسم سے الگ نہ ہوجائے ہاں اگر چھری زیادہ تیز ہونے کی وجہ سے اچانک پوری گردن کٹ جائے تو اس صورت میں ذبیحہ حلال ہوگا البتہ عمدا ایسا کرنا مکروہ ہے۔*
*علامه ماوردي رحمه الله علیہ فرماتےہیں: ﻗﺎﻝ اﻟﻤﺎﻭﺭﺩﻱ ﻭﻫﺬا ﺻﺤﻴﺢ ﻳﻜﺮﻩ ﺇﺫا ﻗﻄﻊ اﻟﺤﻠﻘﻮﻡ ﻭاﻟﻤﺮﻱء ﻭاﻟﻮﺩﺟﻴﻦ ﺃﻥ ﻳﺰﻳﺪ ﻓﻲ اﻟﺬﺑﺢ ﻟﻮﻗﻮﻉ اﻟﺬﻛﺎﺓ ﺑﻬﺎ ﻭﺇﺯﻫﺎﻕ ﺭﻭﺣﻪ ﺑﻤﺎ ﺯاﺩ ﻋﻠﻴﻪ ﻓﺈﻥ ﺯاﺩ ﻓﻲ اﻟﺬﺑﺢ ﺣﺘﻰ ﻗﻄﻊ ﺭﺃﺳﻬﺎ ﻟﻢ ﺗﺤﺮﻡ۔* (الحاوي الكبير:٩٨/١٥) *علامہ رملی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وَيُكْرَهُ لَهُ إبَانَةُ رَأْسِهَا حَالًا وَزِيَادَةُ الْقَطْعِ وَكَسْرُ الْعُنُقِ وَقَطْعُ عُضْوٍ مِنْهَا وَتَحْرِيكُهَا وَنَقْلُهَا حَتَّى تَخْرُجَ رُوحُهَا۔* (نهاية المحتاج:١١٨/٨)