بھٹكل تنظیم جمعہ مسجِد عربی خطبہ – 03-09-2021
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا محمد ایوب برماور صاحب ندوی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0996
*اگر کسی شخص کو جمعہ کے دن نماز سے پہلے غسل لینے کا موقع نہ ملے تو کیا ایسا شخص نماز جمعہ کے بعد غسل کرنے سے جمعہ کا سنت غسل ادا ہوگا یا نہیں؟*
*اگر کسی شخص کو جمعہ کی نماز سے پہلے غسل کرنے کا موقع نہ ملے اور وہ جمعہ کی نماز کے بعد غسل کرے تو جمعہ کا سنت غسل حاصل نہیں ہوگا۔ اس لیے کہ جمعہ کا غسل نماز جمعہ کے لیے ہے نہ کہ جمعہ کے دن کے لیے۔*
*علامہ ترمسي رحمة الله عليه فرماتے ہیں: (يسن الغسل لحاضرها) أي: مريد حضورها وإن لم تجب عليه؛لأن الغسل للصلاة لا لليوم۔* (حاشية الترمسي:٤/ ٢٩۱) مغني المحتاج:١/ ٤٩٦ بداية المحتاج:١/ ٣٨٧ الدیباج شرح المنهاج:١/ ٤٠٤
فقہ شافعی سوال نمبر / 0997
*اگر کوئی نماز میں تکبیر زیادہ کہے تو کیا سجدہ سہو کرنا ضروری ہے؟ اگر کسی نے سجدہ سہو کردیا تو کیا مسئلہ ہے؟*
*اگرکوئی نماز میں زائد تکبیر کہے تو سجدہ سہو کرنا ضروری نہیں مثلاً تیسری رکعت میں کھڑے ہونے کی بجائے بیٹھ جائے پھر زائد تکبیر کہتے ہوئے کھڑے ہوجائے تو اب نماز کے آخر میں سہو نہیں کیا جائے گا اس لیے کہ تکبیر نماز کی سنتوں میں سے ہیں اگرچہ زائد تکبیر بھول کر کہے یا عمدا اسی طرح اگر کوئی شخص نہ جاننے کی وجہ سے سجدۂ سہو کرے تو نماز باطل نہیں ہو گی۔*
*قال الإمام النووي (ر): مِن السُّنَنِ كالتَّعَوُّذِ ودُعاءِ الِافْتِتاحِ ورَفْعِ اليَدَيْنِ والتَّكْبِيراتِ والتَّسْبِيحاتِ…… وسائِرِ الهَيْئاتِ المَسْنُوناتِ غَيْرِ الأبْعاضِ فَلا يَسْجُدُ لَها سَواءٌ تَرَكَها عَمْدًا أوْ سَهْوًا لِأنَّهُ لَمْ يُنْقَلُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ السجود لشئ مِنها والسُّجُودُ زِيادَةٌ فِي الصَّلاةِ.* المجموع شرح المهذب ٤/١٢٥
*قال الخطيب الشربيني(ر): لَوْ فَعَلَ ما لا يَقْتَضِي سُجُودَ سَهْوٍ فَظَنَّ أنَّهُ يَقْتَضِيهِ وسَجَدَ لَمْ تَبْطُلْ إنّ كانَ جاهِلًا لِقُرْبِ عَهْدِهِ بِالإسْلامِ أوْ لِبُعْدِهِ عَنْ العُلَماءِ.* (مغني المحتاج إلى معرفة: معاني ألفاظ المنهاج ١/٤١٧) تحفة المحتاج في شرح:٢/١٥٠ حاشية البجيرمي على الخطيب:٢/٥٦ فتح العزيز بشرح الوجيز ٤/١٣٩
فقہ شافعی سوال نمبر / 0993
*کھانے پینے کے بعد پانی کے ہوتے ہوئے ٹیشو پیپر سے ہاتھ صاف کرنے کا کیا مسئلہ ہے؟*
*کھانے پینے کے بعد اگر منہ یا ہاتھ پر چکنائی وغیرہ لگے تو اسے پانی سے دھوئے یا پھر ایسی چیز سے ہاتھ صاف کیا جائے جس سے چکنائی وغیرہ دور ہوجائے اگر ٹیشو سے ہاتھ صاف ہوجاتا ہو تو اس کا استعمال کرنا درست ہے ہاں اگر پانی کے بغیر صاف ہونا ممکن نہ ہو تو پانی کا استعمال کرنا ضروری ہے۔*
*أنَّهُ لا كَراهَةَ فِي عَدَمِ غَسْلِ اليَدِ مِنَ الطَّعامِ لَكِنْ بِشَرْطِ أنْ يُزالَ ما فِيها مِن أثَرِهِ بِالمَسْحِ.* (مرقاة المفاتيح:٣٦٨/١)
*قالَ عِياضٌ مَحِلُّهُ فِيما لَمْ يَحْتَجْ فِيهِ إلى الغَسْلِ مِمّا لَيْسَ فِيهِ غَمْرٌ ولُزُوجَةٌ مِمّا لا يُذْهِبُهُ إلّا الغَسْلُ لِما جاءَ فِي الحَدِيثِ مِنَ التَّرْغِيبِ فِي غَسْلِهِ والحَذَرِ مِن تَرْكِهِ* (فتح الباري:٥٧٩/٩)
*قال الإمام النووي رحمة الله عليه: ويستحب مسح اليد بالمنديل بعد فراغ الطعام* (فتاوى الامام النووي :١٦٥)
*قال الإمام الهرري رحمة الله عليه:وفيه جواز مسح اليد بعد الطعام وهذا والله أعلم فيما يكفي فيه المسح * (الکوکب الوھاج شرح صحیح مسلم:21/180)