درس حدیث نمبر 0343
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا جعفر فقیہ صاحب ندوی
فضيلة الشيخ عبدالله بن عبدالرحمن البعيجان
فضيلة الشيخ أسامة بن عبدالله الخياط
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0775
اگر کوئی شخص ایسا قمیص (short shirt) پہن کر نماز پڑھائے جس سے ستر کا حصہ سجدہ یا رکوع کی حالت میں کھل جاتا ہو تو ایسے شخص کے پیچھے نماز درست ہوگی یا نہیں ؟
جو لوگ ایسے چھوٹے قمیص یا پاجامہ پہن کر نماز پڑھتے ہیں اور جب وہ سجدے میں جاتے ہیں تو ان کا ستر کھل جاتا ہے تو اس صورت میں ان کی نماز باطل ہوجاتی ہے۔ اگر ایسا شخص امامت کرے تو مقتدی اس امام سے الگ ہونے کی نیت کر کے اپنی نماز مکمل کرے گا اور اس کو اعادہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی ۔
وثالثها ستر العورة صلّی في الخلوة او غیرها فان ترکه مع القدوة لم یصح صلاته۔ (كنز الراغبين:١/ ٢٤٨-١٦٦) فصل إذا خرج الامام من صلاته بحدث او غیره انقطعت القدوة به فان لم یخرج وقطعها الماموم بأن نوی المفارقة جاز۔ (الديباج: ١/ ٣٦٠ -٢٦١)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0774
میت کی تدفین سے پہلے کیا نماز غائبانہ پڑھ سکتے ہیں؟
میت کی تدفین سے پہلے دوسرے علاقوں میں غائبانہ نماز جنازہ پڑھنے کے لیے اس بات کا علم ہونا ضروری ہے کہ میت کو غسل دیا جاچکا ہوگا یعنی میت کا پاک ہونا شرط ہے میت کی نماز جنازہ اور دفن ہونا ضروری نہیں۔
علامہ رملی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ﻗﺎﻝ اﻷﺫﺭﻋﻲ: ﻭﻳﻨﺒﻐﻲ ﺃﻧﻬﺎ ﻻ ﺗﺠﻮﺯ ﻋﻠﻰ اﻟﻐﺎﺋﺐ ﺣﺘﻰ ﻳﻌﻠﻢ ﺃﻭ ﻳﻈﻦ ﺃﻧﻪ ﻗﺪ ﻏﺴﻞ: ﺃﻱ ﺃﻭ ﻳﻤﻢ ﺑﺸﺮﻃﻪ. ﻧﻌﻢ ﻟﻮ ﻋﻠﻖ اﻟﻨﻴﺔ ﻋﻠﻰ ﻃﻬﺮﻩ ﺑﺄﻥ ﻧﻮﻯ اﻟﺼﻼﺓ ﻋﻠﻴﻪ ﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﻗﺪ ﻃﻬﺮ ﻓﺎﻷﻭﺟﻪ اﻟﺼﺤﺔ ﻛﻤﺎ ﻫﻮ ﺃﺣﺪ اﺣﺘﻤﺎﻟﻴﻦ اﻷﺫﺭﻋﻲ۔ (نهایة المحتاج:٢/٤٨٥) علامه دمیاطی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ﻭﻻ ﺑﺪ- ﻓﻲ ﺻﺤﺔ اﻟﺼﻼﺓ ﻋﻠﻰ اﻟﻐﺎﺋﺐ -ﺇﻥ ﻳﻌﻠﻢ -ﺃﻭ ﻳﻈﻦ- ﺃﻧﻪ ﻗﺪ ﻏﺴﻞ، ﻭﺇﻻ ﻟﻢ ﺗﺼﺢ.ﻧﻌﻢ: ﺇﻥ ﻋﻠﻖ اﻟﻨﻴﺔ ﻋﻠﻰ ﻏﺴﻠﻪ، ﺑﺄﻥ ﻧﻮﻯ اﻟﺼﻼﺓ ﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﻏﺴﻞ، ﻓﻴﻨﺒﻐﻲ ﺃﻥ ﺗﺼﺢ – ﻛﻤﺎﻫﻮ ﺃﺣﺪ اﺣﺘﻤﺎﻟﻴﻦ ﻟﻷﺫﺭﻋﻲ۔ (اعانة الطالبین:٢/٢٠٧)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0773
میت پر عطر ڈالنے کا کیا حکم ہے؟
میت پر عطر یا خوشبو دار چیز ڈال سکتے ہیں نیز کفن کی چادروں درمیان کافور کے ساتھ مشک اور دوسری خوشبو دار چیزیں استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے البتہ اس بات کا خیال رہے کہ خوشبو اور عطر کا استعمال اسراف کی حد تک نہ پہنچے
ﻓﻘﺎﻝ اﻟﺸﺎﻓﻌﻲ ﻭاﻷﺻﺤﺎﺏ ﻳﺴﺘﺤﺐ ﺃﻥ ﻳﺒﺴﻂ ﺃﻭﺳﻊ اﻟﻠﻔﺎﺋﻒ ﻭﺃﺣﺴﻨﻬﺎ ﻭﻳﺬﺭ ﻋﻠﻴﻬﺎ ﺣﻨﻮﻁ ﺛﻢ ﻳﺒﺴﻂ اﻟﺜﺎﻧﻴﺔ ﻋﻠﻴﻬﺎ ﻭﻳﺬﺯ ﻋﻠﻴﻬﺎ ﺣﻨﻮﻁ ﻭﻛﺎﻓﻮﺭ ﻭﺇﻥ ﻛﻔﻦ اﻟﺮﺟﻞ ﺃﻭ اﻟﻤﺮﺃﺓ ﻓﻲ ﻟﻔﺎﻓﺔ ﺛﺎﻟﺜﺔ ﺃﻭ ﺭاﺑﻌﺔ ﻛﺎﻧﺖ ﻛﺎﻟﺜﺎﻧﻴﺔ ﻓﻲ ﺃﻧﻬﺎ ﺩﻭﻥ اﻟﺘﻲ ﻗﺒﻠﻬﺎ ﻭﻓﻲ ﺫﺭ اﻟﺤﻨﻮﻁ ﻭاﻟﻜﺎﻓﻮﺭ ﻭاﺗﻔﻖ اﻟﺸﺎﻓﻌﻲ ﻭاﻷﺻﺤﺎﺏ ﻋﻠﻰ اﺳﺘﺤﺒﺎﺏ اﻟﺤﻨﻮﻁ ﻛﻤﺎ ﺫﻛﺮﻧﺎ. (المجموع:١)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0772
اگر کسی نے نماز جنازہ پہلی جماعت کے ساتھ نہ پڑھی ہو تو کیا دوسری جماعت بناکر پڑھ سکتے ہیں؟
اگر ایک سے زائد لوگ کسی وجہ سے نماز جنازہ کی پہلی جماعت میں شریک نہ ہو سکے ہوں تو اسی میت پر دوسری جماعت بناکر نماز پڑھ سکتے ہیں۔ ﻭاﺫا ﺻﻠﻰ ﻋﻠﻴﻪ ﺃﻯ اﻟﻤﻴﺖ ﻓﺤﻀﺮ ﻣﻦ ﻟﻢ ﻳﺼﻞ ﺻﻠﻰ. (السراج الوهاج: ١١٢/١)