بھٹكل جامع مسجد عربی خطبہ – 10-07-2020
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
فقہ شافعی سوال نمبر / 0866
*بدن پر کھجلی کی بناء پر پانی میں ڈیٹول ڈال کر اس پانی سے فرض غسل کرنے کا کیا حکم ہے؟*
*اگر ڈیٹول پانی میں اتنی معمولی مقدار میں ڈالا جائے جس سے پانی کے رنگ، بُو یا مزہ میں تبدیلی واقع نہ ہو تو اس پانی سے فرض غسل کر سکتے ہیں، لیکن اگر ڈیٹول اتنی زیادہ مقدار میں ڈالا جائے جس کی وجہ سے پانی کا رنگ، بو یا مزہ تبدیل ہوجائے تو اب اس پانی کو فرض غسل کے لیے استعمال کرنا درست نہیں۔ لہذا فرص غسل کے لئے صاف پانی استعمال کرنا ضروری ہے ۔*
*قال الماوردي في الحاوي الكبير: اعْلَمْ أَنَّ كُلَّ مَا خَالَطَهُ مَذْرُورٌ طَاهِرٌ كَالزَّعْفَرَانِ وَالْعُصْفُرِ وَالْحِنَّاءِ، أَوْ خَالَطَ الْمَائِعَ طَاهِرٌ كَمَاءِ الْوَرْدِ وَالْخَلِّ، فَإِنْ لَمْ يُؤَثِّرْ فِي تَغَيُّرِ الْمَاءِ جَازَ اسْتِعْمَالُهُ فِي الْحَدَثِ وَالنَّجَسِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْمَائِعُ الْمَخَالِطُ أَكْثَرَ وَإِنْ غَيَّرَ أَحَدَ أَوْصَافِ الْمَاءِ مِنْ لَوْنٍ أَوْ طَعْمٍ أَوْ رَائِحَةٍ لَمْ يَجُزِ اسْتِعْمَالُهُ فِي حَدَثٍ وَلَا نَجَسٍ.* (الحاوي الكبير:١/ ٤٦) *قال النووي في المجموع: وَأَمَّا صِفَةُ التَّغَيُّرِ فَإِنْ كَانَ تَغَيُّرًا كَثِيرًا سَلَبَ قَطْعًا: وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا بِأَنْ وَقَعَ فِيهِ قَلِيلُ زَعْفَرَانٍ فَاصْفَرَّ قَلِيلًا أَوْ صَابُونٌ أَوْ دَقِيقٌ فَابْيَضَّ قَلِيلًا بِحَيْثُ لَا يُضَافُ إلَيْهِ فَوَجْهَانِ الصَّحِيحُ منهما انه طهور لبقاء الاسم هكذا صححه الخراسانيون وهو المختار۔* (المجموع:١ / ١٠٣)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0865
*عمامہ پہنے شخص کے لیے وضو کرتے وقت عمامہ کو اتارنا ضروری ہے یا حرکت دئیے بغیر سر کے پچھلے یا کانوں کے اوپری حصہ کے بالوں میں مسح کرے تو کیا مسح درست ہے؟*
*وضو میں سر کا مسح کرنا فرض ہے اور سر کے مسح کی حد سر میں بالوں کے اگنے کی متعین جگے ہیں اگر کوئی عمامہ پہنا ہوا شخص سر کے پچھلے یا کانوں کے اوپری حصہ کے بالوں کا مسح کرے تو کافی ہوگا۔*
*علامہ رملی رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔(اﻟﺮاﺑﻊ) ﻣﻦ اﻟﻤﻔﺮﻭﺽ ﻣﺴﻤﻰ ﻣﺴﺢ ﻟﺒﺸﺮﺓ ﺭﺃﺳﻪ) ﻭﺇﻥ ﻗﻞ (ﺃﻭ) ﺑﻌﺾ (ﺷﻌﺮ) ﻭﻟﻮ ﺑﻌﺾ ﻭاﺣﺪﺓ (ﻓﻲ ﺣﺪﻩ) ﺃﻱ اﻟﺮﺃﺱ ﺑﺤﻴﺚ ﻻ ﻳﺨﺮﺝ اﻟﻤﻤﺴﻮﺡ ﻋﻨﻪ ﺑﻤﺪ ﻭﻟﻮ ﺗﻘﺪﻳﺮا ﺑﺄﻥ ﻛﺎﻥ ﻣﻌﻘﻮﺻﺎ ﺃﻭ ﻣﺘﺠﻌﺪا، ﻏﻴﺮ ﺃﻧﻪ ﺑﺤﻴﺚ ﻟﻮ ﻣﺪ ﻣﺤﻞ اﻝﻣﺴﺢ ﻣﻨﻪ ﺧﺮﺝ ﻋﻦ اﻟﺮﺃﺱ ﻣﻦ ﺟﻬﺔ ﻧﺰﻭﻟﻪ ﺃﻭ اﺳﺘﺮﺳﺎﻝ ﻣﻦ ﺟﻬﺔ ﻧﺰﻭﻟﻪ ﺳﻮاء ﻓﻴﻬﻤﺎ ﺟﺎﻧﺐ اﻟﻮﺟﻪ ﻭﻏﻴﺮﻩ، ﻟﻤﺎ ﺻﺢ ﻣﻦ «ﻣﺴﺢﻫ – ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ – ﻟﻨﺎﺻﻴﺘﻪ ﻭﻋﻠﻰ ﻋﻤﺎﻣﺘﻪ» اﻟﺪاﻟﻴﻦ ﻋﻠﻰ اﻻﻛﺘﻔﺎء ﺑﻣﺴﺢ اﻟﺒﻌﺾ۔* (نهايةالمحتاج:١٧٣/١) *علامہ عبدالواحد الرویانی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: وإن مسح على الصدغين أو النزعتين جاز۔* (بحر المذهب :٩٦/١)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0864
*خطبہ جمعہ میں تقوی کی وصیت کا کیا حکم ہے ؟*
*خطبہ جمعہ میں تقوی کی وصیت کرنا ضروری ہے البتہ تقوی کی وصیت کرنے میں کسی خاص الفاظ کا استعمال کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ اصل مقصد اللہ کی اطاعت پر ابھارنا اور گناہ پر تنبیہ کرنا ہے اگر کوئی خطیب خطبہ جمعہ میں انہی چیزوں کو دوسرے الفاظ میں بیان کرے تو تقوی کی وصیت حاصل ہوگی لیکن صرف دنیاوی زیب و زینت اور دھوکہ سے متنبہ کرنا کافی نہیں ہوگا۔*
*وثالثها الوصية بالتقوی للأتباع رواه مسلم، ولا يتعين لفظ الوصية بالتقوى لان الغرض الوعظ والحث على طاعة الله تعالى فيكفى أَطِيعُوا الله وراقبوه۔* (مغنى المحتاج:٤٨٧/١) *الوصیت بالتقوی للأتباع، ولا يتعين لفظها اي الوصية بالتقوى لان غرضها الوعظ وهو حاصل بغير لفظها كاطيعوا الله … ولا يكفي الاقتصار على تحذير من غرور الدنيا .* (اسني المطالب:٥١٥/٥١٦:١)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0863
*اگر کوئی شافعی شخص حنفی امام کی اقتدا میں نماز پڑھ رہا ہو تو ایسا مقتدی اپنی سورہ فاتحہ کب پڑھے گا؟*
*شوافع کے نزدیک ہر رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنا فرض ہے اگر کوئی شافعی شخص حنفی امام کی اقتداء میں نماز پڑھ رہا ہو تو اس کو چاہیے کہ امام کے سورہ فاتحہ کے ختم ہونے کے ساتھ ہی اپنی سورہ فاتحہ شروع کرے اور اگر یہ گمان ہو کہ امام طویل سورت پڑھنے کا عادی نہیں ہے جس کی وجہ سے سورہ فاتحہ کا موقع نہیں مل سکتا تو امام کے سورہ فاتحہ شروع کرنے کے بعد مقتدی اپنی سورة فاتحہ شروع کرکے مکمل کرسکتا ہے*
*علامہ خطیب شربینی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ﻓﺈﻥ ﻋﻠﻢ ﺃﻥ اﻹﻣﺎﻡ ﻻ ﻳﻘﺮﺃ السورة ﺃﻭ ﻳﻘﺮﺃ ﺳﻮﺭﺓ ﻗﺼﻴﺮﺓ ﻻ ﻳﺘﻤﻜﻦ ﺑﻌﺪ ﻗﺮاءﺗﻪ ﻣﻦ ﺇﺗﻤﺎﻡ اﻟﻔﺎﺗﺤﺔ ﻓﻌﻠﻴﻪ ﺃﻥ ﻳﻘﺮﺃ اﻟﻔﺎتحة معه.* (مغني المحتاج:١/٥٠٩) *علامہ رملي رحمة الله علیہ فرماتے ہیں: لَوْ عَلِمَ أَنَّ إمَامَهُ يَقْتَصِرُ عَلَى الْفَاتِحَةِ أَوْ سُورَةٍ قَصِيرَةٍ وَلَا يَتَمَكَّنُ مِنْ إتْمَامِ الْفَاتِحَةِ فَعَلَيْهِ أَنْ يَقْرَأَ الْفَاتِحَةَ مَعَ قِرَاءَتِهِ۔* (نهاية المحتاج:٢/٢٣١)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0857
*استبراء کسے کہتے ہیں؟ اس کا طریقہ اور حکم کیا ہے؟*
*مرد کے عضو تناسل میں پیشاب کے بچے ہوئے قطروں سے مکمل طور پر پاکی حاصل کرنے کو استبراء کہتے ہیں اگر کسی شخص کو پیشاب کے بعد پوری طرح پیشاب کے قطرے نہ نکلنے کا یقین ہو تو ایسے شخص کے لیے استبراء کرنا واجب ہے ورنہ عام لوگوں کے لیے استبراء کرنا مندوب ہے اس کا طریقہ یہ ہے کہ پیشاب سے فارغ ہونے کے بعد بائیں ہاتھ کے انگھوٹے اور شہادت کی انگلی کو عضو تناسل کے نیچھے سے اوپر کی طرف پھیر دے جس سے بقیہ پیشاب باہر نکلے یا پیشاب کے بعد چند قدم چلنے سے یا پھر پیشاب کے بعد تھوڑا کھانسنے سے بھی پیشاب کے بقیہ قطرے نکلتے ہوں اور اطمینان حاصل ہوتا ہو تو اس پر عمل کرنے سے استبراء حاصل ہوگا۔*
*علامہ شربیني رحمة الله فرماتے ہیں۔ ﻭﻳﺴﺘﺒﺮﺉ ﻣﻦ اﻟﺒﻮﻝ ﻧﺪﺑﺎ ﻋﻨﺪ اﻧﻘﻄﺎﻋﻪ ﺑﻨﺤﻮ ﺗﻨﺤﻨﺢ ﻭﻣﺸﻲ، ﻭﺃﻛﺜﺮ ﻣﺎ ﻗﻴﻞ ﻓﻴﻪ: ﺳﺒﻌﻮﻥ ﺧﻄﻮﺓ ﻭﻧﺘﺮ ﺫﻛﺮ. ﻭﻛﻴﻔﻴﺔ اﻟﻨﺘﺮ ﺃﻥ ﻳﻤﺴﺢ ﺑﻴﺴﺮاﻩ ﻣﻦ ﺩﺑﺮﻩ ﺇﻟﻰ ﺭﺃﺱ ﺫﻛﺮﻩ، ﻭﻳﻨﺘﺮﻩ ﺑﻠﻄﻒ ﻟﻴﺨﺮﺝ ﻣﺎ ﺑﻘﻲ ﺇﻥ ﻛﺎﻥ، ﻭﻳﻜﻮﻥ ﺫﻟﻚ ﺑﺎﻹﺑﻬﺎﻡ ﻭاﻟﻤﺴﺒﺤﺔ؛ ﻷﻧﻪ ﻳﺘﻤﻜﻦ ﺑﻬﻤﺎ ﻣﻦ اﻹﺣﺎﻃﺔ ﺑﺎﻟﺬﻛﺮ، ﻭﺗﻀﻊ اﻟﻤﺮﺃﺓ ﺃﻃﺮاﻑ ﺃﺻﺎﺑﻊ ﻳﺪﻫﺎ اﻟﻴﺴﺮﻯ ﻋﻠﻰ ﻋﺎﻧﺘﻬﺎ. ﻗﺎﻝ ﻓﻲ اﻟﻤﺠﻤﻮﻉ: ﻭاﻟﻤﺨﺘﺎﺭ ﺃﻥ ﺫﻟﻚ ﻳﺨﺘﻠﻒ ﺑﺎﺧﺘﻼﻑ اﻟﻨﺎﺱ. ﻭاﻟﻘﺼﺪ ﺃﻥ ﻳﻈﻦ ﺃﻧﻪ ﻟﻢ ﻳﺒﻖ ﺑﻤﺠﺮﻯ اﻟﺒﻮﻝ ﺷﻲء ﻳﺨﺎﻑ ﺧﺮﻭﺟﻪ، ﻓﻤﻨﻬﻢ ﻣﻦ ﻳﺤﺼﻞ ﻫﺬا ﺑﺄﺩﻧﻰ ﻋﺼﺮ، ﻭﻣﻨﻬﻢ ﻣﻦ ﻳﺤﺘﺎﺝ ﺇﻟﻰ ﺗﻜﺮﺭﻩ، ﻭﻣﻨﻬﻢ ﻣﻦ ﻳﺤﺘﺎﺝ ﺇﻟﻰ ﺗﻨﺤﻨﺢ، ﻭﻣﻨﻬﻢ ﻣﻦ ﻻ ﻳﺤﺘﺎﺝ ﺇﻟﻰ ﺷﻲء ﻣﻦ ﻫﺬا. ﻭﻳﻨﺒﻐﻲ ﻟﻜﻞ ﺃﺣﺪ ﺃﻥ ﻻ ﻳﻨﺘﻬﻲ ﺇﻟﻰ ﺣﺪ اﻟﻮﺳﻮﺳﺔ، ﻭﺇﻧﻤﺎ ﻟﻢ ﻳﺠﺐ اﻻﺳﺘﺒﺮاء ﻛﻤﺎ ﻗﺎﻝ ﺑﻪ اﻟﻘﺎﺿﻲ ﻭاﻟﺒﻐﻮﻱ، ﻭﺟﺮﻯ ﻋﻠﻴﻪ اﻟﻤﺼﻨﻒ ﻓﻲ ﺷﺮﺡ ﻣﺴﻠﻢ ﻟﻘﻮﻟﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺗﻨﺰﻫﻮا ﻣﻦ اﻟﺒﻮﻝ ﻓﺈﻥ ﻋﺎﻣﺔ ﻋﺬاﺏ اﻟﻘﺒﺮ ﻣﻨﻪ ﻷﻥ اﻟﻈﺎﻫﺮ ﻣﻦ اﻧﻘﻄﺎﻉ اﻟﺒﻮﻝ ﻋﺪﻡ ﻋﻮﺩﻩ، ﻭﻳﺤﻤﻞ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻋﻠﻰ ﻣﺎ ﺇﺫا ﺗﺤﻘﻖ ﺃﻭ ﻏﻠﺐ ﻋﻠﻰ ﻇﻨﻪ ﺑﻤﻘﺘﻀﻰ ﻋﺎﺩﺗﻪ ﺃﻧﻪ ﺇﻥ ﻟﻢ ﻳﺴﺘﺒﺮﺉ ﺧﺮﺝ ﻣﻨﻪ ﺷﻲء۔* (مغني المحتاج:١/١٥٩) *وَ وُجُوبِهِ (الإستبراء) مَحْمُولٌ عَلَى مَا إذَا غَلَبَ عَلَى ظَنِّهِ خُرُوجُ شَيْءٍ مِنْهُ بَعْدَ الِاسْتِنْجَاءِ إنْ لَمْ يَفْعَلْهُ۔* (نهاية المحتاج:١ /١٤٢)
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی