درس قرآن نمبر 0779
سورة الانعام– آيت نمبر 160-161-162-163 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سورة الانعام– آيت نمبر 160-161-162-163 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبد النّور عبد الباری فكردے ندوی
سورة الانعام– آيت نمبر 159-160 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سوال نمبر/ 0401
اگر کوئی کینسر کے مرض میں مبتلا ہو اور اسی مرض میں اسکا انتقال ہو جائے تو کیا یہ شہید شمار ہوگا؟
جواب:۔ کینسر یہ ایک مہلک مرض ہے اور اسکی کئی قسمیں ہیں جیسے پھیپھڑا، دماغ، خون، پیٹ، جلد وغیرہ کا کینسر لہذا جسے پیٹ کا کینسر ہو اور وہ اسی مرض میں وفات پائے تو ایسا شخص آخرت کی رو سے شہید شمار ہوگا۔ ترمذی شریف میں حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صل اللہ علیہ و سلم نے فرمایا "شہداء پانچ طرح کے ہیں۔1۔جو طاعون کے مرض انتقال ہو جائے,2۔جو پیٹ کی بیماری میں مر جائے۔3۔ڈوب کر مرنے والا۔4۔جو شخص دیوار وغیرہ کے اپنے اوپر گرنے کی وجہ سے مرنے والا۔5۔اللہ کی راہ میں شہید ہونے والا۔ (ترمذى:1063)
اسی بنیاد پر دنیاوی اعتبار سے پیٹ کے کینسر میں انتقال ہونے والے پر عام میت کےاحکام جاری ہوں گے یعنی اسے غسل دیا جائیگا، کفن پہنایا جائیگا، اور اس پر نماز جنازہ بھی پڑھی جائیگی اور دفن کیا جائے گا۔
علامہ عبدالرحمن مبارکپوری رحمة الله عليه فرماتے ہیں
و المبطون ای الذى يموت يمرض البطن كالاستحاضة ونحوه.(تحفة الاحوذي 4/121)
علامه دمياطى رحمة الله عليه فرماتے ہیں:
وأما شهيد الآخرة فقط… واقسامه كثيرة فمنها….الميت بالبطن أو فى زمن الطاعون ولو بغيره…….
وأما شهيد الآخرة فقط: فهو كغيره الشهيد فيغسل و يكفن و يصلى عليه و يدفن.(اعانة الطالبین 2/169)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة الانعام– آيت نمبر 158 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
سوال نمبر/ 0400
سونےکے کاروبار کے دو طریقہ ہے ایک قانونی اور دوسرا غیر قانونی، تو کیا غیر قانونی طریقہ پر کاروبار کرنا کیسا ہے؟
جواب:۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :کہ مومن کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل کر ے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پوچھا کہ وہ آپنے آپکو کیسے ذلیل کرے گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :کہ وہ آپنے آپکو ایسی مصیبت میں ڈالے جو اسکے مناسب نہ ہو (الترمذی/2254)
مذکورہ حدیث کے تحت علماء فرماتے ہیں مصیبت میں ڈالنے کا مطلب یہ ہے کہ نقصاندہ اسباب کو اختیار کیا جاے، معلوم یہ ہوا حکومت کے قانونی طریقہ پر لایا ہوا سونا یعنی اس سے متعلق واجبات (ٹیکس) کو ادا کر دیا گیا ہو تو اس کی خرید و فروخت کے جائز ہونے میں کوئی شک نہیں ہے، جہاں تک غیر قانونی طریقہ (اسمگلنگ) کے ذریعہ لایا ہوا سونا یہ عمل قانونا جرم ہے، اس کے پکڑے جانے پر سخت سزا اور بےعزتی کا امکان ہے، لہٰذا شرعا کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے کاروبار میں ایسا طریقہ اختیار کر ے جس میں اس کی عزت و آبرو کو خطرہ لاحق ہو، اس طرح کے کاروبار کرنے سے بچنا لازم ہے ۔
————–
امام سندی رحمة الله عليه فرماتے ہیں:
ویتعرض من البلاء…. أو بأن يأتي بأسبابها العادية۔(شرح السنن : رقم :4066)
أمام شاطبي فرماتے ہیں:
ومجموع الضروريات خمسة: وهي حفظ الدين و النفس والنقل والمال والعقل وقد قالوا: إنها مراعاة في كل ملة (الموافقات :2/327 (دارالمعرفة، بيروت)
فإذا منعت الدولة تهريب الذهب أو نحوه من الأشياء المباحة لمصالح تعود علي البلد والناس ولمفاسد معتبرة تدفع فيجب الإلتزام بهذا القرار والكف عن التهريب۔(اسلام ويب :254782)