امانت کا دلوں سے نکلنا
مولانا عبد النّور عبد الباری فكردے ندوی
مولانا عبد النّور عبد الباری فكردے ندوی
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
سوال نمبر/ 0108
کھانے کے بعد پلیٹ اور انگلیاں چاٹ کر صاف کرنے کا کیا حکم ہے؟ کیا حدیث سے اس کا ثبوت ملتا ہے؟
جواب:۔ کھانے کے بعد پلیٹ (برتن) اور انگلیوں کو چاٹ کر صاف کرنے کا سنت ہے
ترمذی شریف کی روایت ہے حضرت نبیشہ الخیر رضی اللہ عنھا فرماتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص پیالہ (پلیٹ وغیرہ) میں کھانا کھائے پھر اس کو چاٹ لےصاف کر لے) تو وہ پیالہ اس کے لئے مغفرت کی دعا کرتا ہے.(ترمذی/١٨٠٤)
علامه خطيب شربيني رحمة الله عليه فرماتے ہیں
و يسن لعق الإناء والأصابع (مغني المحتاج 250/3)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة الانعام– آيت نمبر 151 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سورة الانعام– آيت نمبر 151 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سورة الانعام– آيت نمبر 151 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
سوال نمبر/ 0109
فرض صدقہ کا گوشت اپنے غریب رشتہ داروں کو دینے کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ فرما تے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسکین کو صدقہ دینے پر ایک صدقہ کا ثواب ملتا ہے اور رشتہ داروں کو دینے پر دو صدقہ کا ثواب ملتا ہے ایک صدقہ کا اور ایک صلہ رحمی کا (الترمذی :658 )
علامہ مبارکپوری رحمة الله عليه فرماتے ہیں مذکورہ حدیث نفل اور فرض صدقہ دونوں کو شامل ہے اور رشتہ داروں کو زکاة دینے کے جواز پر دلالت کرتی ہے، لہذا فرض صدقہ کا گوشت اپنے ان غریب رشتہ دارں کو دینا جائز ہے جن کا نفقہ اس پر لازم نہ ہو مثلا بیوی بچے ماں باپ وغیرہ ان کے علاوہ رشتہ دار کو دینا جائز ہے بلکہ ان کو دینا افضل ہے اسی پر دہرا اجر ملنے کا ذکر ہے ایک صلہ رحمی کا اجر، اور دوسرا زکوة کی ادائیگی کا اجر ۔
والله اعلم بالصواب
————–
امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں:
ﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﻓﻲ اﻷﺻﻨﺎﻑ ﺃﻗﺎﺭﺏ ﻟﻪ ﻻ ﻳﻠﺰﻣﻪ ﻧﻔﻘﺘﻬﻢ اﺳﺘﺤﺐ ﺃﻥ ﻳﺨﺺ اﻷﻗﺮﺏ ﻓﻤﺘﻔﻖ ﻋﻠﻴﻪ ﺃﻳﻀﺎ ﻟﻤﺎ ﺫﻛﺮﻧﺎ ﻣﻦ اﻷﺣﺎﺩﻳﺚ ﻗﺎﻝ ﺃﺻﺤﺎﺑﻨﺎ ﻳﺴﺘﺤﺐ ﻓﻲ ﺻﺪﻗﺔ اﻟﺘﻄﻮﻉ ﻭﻓﻲ اﻟﺰﻛﺎﺓ ﻭاﻟﻜﻔﺎﺭﺓ ﺻﺮﻓﻬﺎ ﺇﻟﻰ اﻷﻗﺎﺭﺏ ﺇﺫا ﻛﺎﻧﻮ ﺑﺼﻔﺔ اﻻﺳﺘﺤﻘﺎﻕ ﻭﻫﻢ ﺃﻓﻀﻞ ﻣﻦ اﻷﺟﺎﻧﺐ'(المجموع209-210/6
علامہ مبارکپوری رحمة الله عليه فرماتے ہیں:
اﻟﺼﺪﻗﺔ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﺴﻜﻴﻦ اﻟﺦ) ﺇﻃﻼﻗﻪ ﻳﺸﻤﻞ اﻟﻔﺮﺽ ﻭاﻟﻨﺪﺏ ﻓﻴﺪﻝ ﻋﻠﻰ ﺟﻮاﺯ ﺃﺩاء اﻟﺰﻛﺎﺓ ﺇﻟﻰ اﻟﻘﺮاﺑﺔ۔(مرعاة المفاتيح :رقم الحدیث 1960)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)