درس قرآن نمبر 0726
سورة الانعام– آيت نمبر 068-069-070(مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سورة الانعام– آيت نمبر 068-069-070(مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
فقہ شافعی سوال نمبر/ ۳۱/ 0031
مسجد میں محفل نکاح منعقد کرنے کا شرعا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا فرماتی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نکاح کا اعلان کرو، اور نکاح مسجد میں کیا کرو۔
نکاح ایک سنت عمل ہے اور ایمان کی تکمیل کا سبب ہے. اس عمل کو ہمیشہ بابرکت جگہ انجام دینا چاہیے.اور مسجد سب سے بابرکت جگہ ہے. اس لیے مسجد میں نکاح کرنا سنت ہے۔
علامہ دمیاطی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ویسن ان یکون العقد فی المسجد…. لامربه خبر….. و ھو اعلنوا ھذا النکاح واجعلوہ فی المساجد. (اعانة الطالبین:3/431)
Fiqha Shafi Question no;0031
What does the shariah say with regard to organizing Nikah ceremony in the Mosque?
Ans;
Hazrat Aaisha Radhiallahu anha taa’la narrates that the Prophet sallallahu alaihi wasallam said;” Announce the Marriage and do it in the Mosque”
Nikah is a sunnah act and as a means of fulfillment of belief(Imaan).. This act should be carried out in a blessed place and Mosque is the best place among all.. Therefore Organizing Nikah in the mosque is Sunnah..
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
سوال نمبر/ 0030
بعض مساجد کا نام کسی شخصیت کی طرف نسبت کرکے رکھا جاتا ہے شرعا اس کی گنجائش ہے یا نہیں؟
جواب:۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک گھوڑوں کا مسابقہ کرایا۔(بخاری:420)
اس حدیث کی شرح میں حافظ ابن حجررحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسجدکی اس کے بانی یا مصلیوں کی طرف نسبت کرنا جائز ہے۔ (فتح الباری:2/258)
لہذا تعریف اور پہچان کے طور پر کسی مسجد کی نسبت کسی شخصیت کی طرف کرنا درست ہے۔
و لا باس ان یقال مسجد فلان و مسجد بنی فلان علی سبیل التعریف (المجموع:2/207)
Fiqhe Shafi Question no:0030
Some Mosques are named after
Certain people what does the shariah say with regard to this?
Ans;
Naming the Mosques after someone just to honour them and as a means of their identification is permissible…
سورة الانعام– آيت نمبر 066-067(مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
فضيلة الشيخ عبد الباري بن عواض الثبيتي
فضيلة الشيخ سعود بن إبراهيم الشريم
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
سوال نمبر/ 0029
اگر نماز پڑھنے والے نے سترہ رکھا ہو تو سخت ضرورت کے وقت اس کے اندر سے گزرنے کا حکم کیا ہے؟
جواب :۔حضرت ابوجہیم رضی اللہ عنہ سے روایت کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر نمازی کے آگے سے گذرنے والے کو اس کا گناہ معلوم ہوجاے تو وہ وہاں چالیس سال رکنا برداشت کرے گا (لیکن گذرے گانہیں )(بخاری :480)
اس حدیث اور دیگر احادیث کی بناء پر فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر نمازی نے اپنے سامنے سترہ رکھا ہو تو اس کے اندر سے گذرنا حرام ہے. چاہے وہ دوسرا راستہ نہ پاے یا کوئی مجبوری کیوں نہ ہو لیکن اگر کوئی راستہ میں نماز پڑھ رہا ہو یا ایسی جگہ نماز پڑھ رہا ہو جہاں لوگ زیادہ آتے جاتے ہوں اور دوسرا کوئی راستہ بھی نہ ہو تو سخت ضرورت کے تحت فقہاء نے نمازی کے سترہ کے اندر سے گذرنے کی گنجائش دی ہے۔ لہذا اس وقت نمازی کو اسے روکنا بھی مشروع نہیں ۔
————–
ثم قال الأئمة: ما ذكرناه من النهي عن المرور [و] ( 1) دفع المار فيه إذا وجد المار سبيلا سواه، فإن لم يجد، وازدحم الناس، فلا نهي عن المرور، ولا يشرع الدفع۔(نهاية المطلب 226/2)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا عبد النّور عبد الباری فكردے ندوی
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب