درس قرآن نمبر 0765
سورة الانعام– آيت نمبر 145 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سورة الانعام– آيت نمبر 145 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
سوال نمبر/ 0113
بسا اوقات بعض جگہوں پر پانی میں کیمیکل چھوڑا جاتا ہے جس کی وجہ سے مچھلیاں پانی کے کنارے لگ جاتی ہیں اگر ان کو فورا نہ پکڑا جائے تو تھوڑی دیر کے بعد مر جاتی ہیں تو ایسی مچھلی کے کھانے کا کیا حکم ہے ؟
جواب:۔ سمندر کا مردار تمام حلال ہے، چاہے وہ شکار کے بعد فطری موت مرے یا کسی سبب کی بنا پر مرے، لہذا کسی جگہ اگر کیمیکل چھوڑنے کی وجہ سے مچھلیاں مر جائیں تو وہ سب حلال ہیں جبکہ ان مچھلیوں کو کھانے کی بناء پر کسی قسم کے ضرر کا اندیشہ نہ ہو، ہاں اگر کسی بیماری وغیرہ کا اندیشہ ہو تو حرام ہیں۔
————
قال الامام النووي:
فيحل عندنا كل ميتات البحر… سواء ما مات بسبب و غيره (المجموع 9/30)
وقال ايضاً:
قد ذكرنا أن مذهبنا: إباحة ميتتات السمك سواء الذي مات بسبب (المجموع. 9/70)
قال وهبة الزحيلي:
مذهب الجمهور غير الحنفية، ورأيهم هو الاصح: حيوان الما: السمك و شبهه مما لا يعيش إلا في الما…. حلال… كيف مات ، حتف أنفه ،أو بسبب ظاهر…. لكن إنتفخ الطافي بحيث يخشي منه السقم يحرم للضرر (موسوعة الفقه الإسلامي 3/672)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة الانعام– آيت نمبر 143-144 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
اردو ترجمہ شفقت الرحمٰن
عنوان: اسلام کی مقبولیت میں اضافہ کیوں اور کیسے؟
سوال نمبر/ 0114
میت کو غسل دیتے وقت غسل میت کے ساتھ احتلام و جنابت وغیرہ کا غسل دینے کا عام رواج ہے، کیا یہ صحیح ہے؟ غسل میت سے تمام غسل ادا ہوتے ہیں یا نہیں؟
جواب:۔ ميت کو غسل دیتے وقت احتلام و جنابت کے غسل کا رواج صحیح نہیں ہے، بلکہ صرف غسل میت کافی ہے۔
—————
علامہ خطیب شربینی فرماتے ہیں
ولو اجتمع على المرأة غسل حيض و جنابة كفت نية أحدهما قطعا.(مغني المحتاج:125/1)
سيلانه على جميع البدن أي شرائط مخصوصة بالنية أي فى غير غسل الميت … أي أما هو فلا يجب فيه النیة بل يستحب.(حواشي الشرواني وابن القاسم العبادي:257/1)
سورة الانعام– آيت نمبر 141-142 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
سوال نمبر/ 0115
اگر کسی میت کو دفن کرنے کے لیے قبر کے بقدر جگہ خریدنی ہو تو قبر کی جگہ کی قیمت میت کے ترکہ (مال) میں سے دیجائے گی یا ورثاء اپنے مال میں سے اداء کرینگے؟
جواب:۔ اگر کسی میت کو دفن کرنے کے لیے قبر کے بقدر جگہ خریدنی ہو تو اس جگہ کی قیمت میت کے ترکہ سے دیجائے گی ، ورثاء اپنے ذاتی مال سے میت کی تجہیز و تکفین کا خرچہ دینا ضروری نہیں ۔
—————-
امام شافعی رحمة الله عليه فرماتے ہیں :
وكفن الميت و حنوطه ومؤنته حتى يدفن من رأس ماله ليس لغرمائه ولا لوارثه منع ذالك۔(الأم:595/2)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة الانعام– آيت نمبر 141-142 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)