درس قرآن نمبر 0761
سورة الانعام– آيت نمبر 137-138-139-140 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سورة الانعام– آيت نمبر 137-138-139-140 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سوال نمبر/ 0116
ایصالِ ثواب کے لئے میت کی جانب سے جو چیز خرچ کی جائے وہ صدقہ میں شمار کی جائے گی یا نہیں؟ تو اس کے پیش نظر اگر میت کے ایصالِ ثواب کے لئے کھانا پکا کر امیر و غریب دونوں قسم کے لوگوں کو کھلایا جائے تو مالدار لوگوں کے لئے اس کا کھانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:۔ میت کی طرف سے ایصالِ ثواب کی خاطر جو دیا جاتا ہے وہ سب صدقہ نہیں ہوا کرتا، بلکہ اس میں دینے والے کی نیت کا اعتبار ہوگا، اگر صدقہ تطوع (مستحب ) کے طور پر دیا گیا ہو پھر اس میں مالدار بھی شریک ہوں تو اس میں کوئی حرج نہیں، ہاں واجب صدقہ (زکات، وغيره) میں مالدار لوگوں کو شامل کرنا جائز نہیں ہے۔ نیز مالدار کو نفلی صدقہ لینے سے احتیاط کرنا بہتر ہے۔
————–
امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں:
قال اصحابنا: لا يجوز صرف الزكاة إلى غني من سهم الفقراء والمساكين (المجموع:219/6)
امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں:
ﺗﺤﻞ ﺻﺪﻗﺔ اﻟﺘﻄﻮﻉ للأﻏﻨﻴﺎء ﺑﻼ ﺧﻼﻑ ﻓﻴﺠﻮﺯ ﺩﻓﻌﻬﺎ ﺇﻟﻴﻬﻢ ﻭﻳﺜﺎﺏ ﺩاﻓﻌﻬﺎ ﻋﻠﻴﻬﺎ و لكن المحتاج أفضل۔(المجموع:٢٣٢\٦)
امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں يستحب للغني التنزه عنها(روضةالطالبين:204/2)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
فضيلة الشيخ عبد الباري بن عواض الثبيتي
فضيلة الشيخ أسامة بن عبدالله الخياط
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا عبد النّور عبد الباری فكردے ندوی
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة الانعام– آيت نمبر 136-137 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
سوال نمبر/ 0117
اگر کوئی شخص سفر کی وجہ سے جمع تقدیم کرے، پھر اپنے شہر کو اس وقت پہنچے کہ ابھی دوسری نماز کا وقت شروع نہ ہوا ہو، تو کیا اس کی دوسری نماز ہوگئی ہوگی یا دوبارہ اس نماز کو دہرانا ہوگا ؟
جواب:۔ جمع تقدیم کے لئے یہ شرط ہے کہ دوسری نماز مکمل ہونے تک سفر باقی ہو لہٰذا مذکورہ صورت میں اس کی دونوں نماز صحیح ہوجائے گی. لہٰذا اسے دوسری نماز کو دہرانے کی ضرورت نہیں۔
مثال کے طور پر اگر کوئی مسافر ظہر کے وقت ظہر اور عصر کو جمع کر دے، اور عصر کا وقت شروع ہونے سے پہلے ہی اس کا سفر ختم ہو جائے تو اسے عصر کی نماز دہرانے کی ضرورت نہیں ۔
————
وَمِنْ ثَمَّ لَوْ جَمَعَ تَقْدِيمًا، ثُمَّ دَخَلَ الْمَقْصِدَ فِي وَقْتِ الظُّهْرِ لَمْ تَلْزَمْهُ إعَادَةُ الْعَصْرِ۔(تحفة المحتاج في شرح المنهاج – الهيتمي 1 / 438)
وَلَوْ جَمَعَ تَقْدِيمًا فَصَارَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ مُقِيمًا بَطَلَ الْجَمْعُ. وَفِي الثَّانِيَةِ وَبَعْدَهَا لَا يَبْطُلُ فِي الْأَصَحِّ۔(منهاج الطالبين وعمدة المفتين – النووي ص : 46)
سورة الانعام– آيت نمبر 133-134-135-136 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)