003 – سورۃ آلِ عمران – آیت نمبر – 187
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة المائدة – آيت نمبر 006 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سوال نمبر/ 0147
آج کل چھوٹے بچوں کئ نجاست دور کرنے کے لیے پانی کی جگہ ایک خاص قسم کا ٹیشو پیپر استعمال کیا جاتا ہے اگر ایسے ٹیشو سے نجاست کو دور کیا جائے پھر وہ بچہ کسی کی گود میں بغیر حائل کے بیٹھ جائے تو کیا وہ کپڑا یا آدمی کا جسم ناپاک ہوگا ؟
جواب :۔ آج کل بچوں کی نجاست کو دور کرنے کے لیے جو ٹیشو استعمال ہوتا ہے حقیقت میں وہ ایک قسم کا کاغذ ہی ہوتا ہے اور اس میں ایک قسم کی خشبو کی ملاوٹ بھی ہوتی ہے اور اس میں نجاست کو دور کرنے کی صلاحیت بھی ہوتی ہے، لھذا ایسے ٹیشو کے ذریعہ جس بچہ کی نجاست کو دور کیا جائے بدبو اور نجاست کے اثرات باقی نہ ہو اور وہ بچہ کسی کی گود میں بیٹھ جائے تو کپڑا اور جس کی گود بیٹھا ہے اس کا جسم بھی ناپاک نہیں ہوگا ۔
يجوز استنجاء بأوراق البياض الخالي عن ذكر الله تعالي. بغية المسترشدين (370)
قال اصحاب الفقه المنهجي
يجوز استنجاء ……كالحجر والورق ونحو ذالك .الفقه المنهجي (1/45)
قال الامام النووي رحمه الله وفي معني الحجر…..فالع : لحصول الغرض به كالحجر .مغني المحتاج 1/77
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة المائدة – آيت نمبر 006 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سوال نمبر/ 0396
بعض علاقوں میں منگنی کے بعد منگیتر سے بات اور اس سے ملنا جلنا معیوب نہیں سمجھا جاتا ہے تو کیا منگنی کے بعد ملنا جلنا یا آخری درجہ میں موبائل سے بات چیت کرنا درست ہے ہا نہیں؟
جواب :۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کسی عورت کے ساتھ اس وقت تک خلوت (تنہائی) اختیار نہ کرے جب تک اس کے ساتھ اس کا کوئی محرم نہ ہو. (صحیح مسلم 1341)
اس حدیث کے ضمن میں امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں ۔
کہ اگر کوئی آدمی کسی اجنبی عورت کے ساتھ ملاقات کرے. یا تنہائی اختیار کرے تو حرام ہے۔ (شرح مسلم:434)
اس سے یہ مسئلہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی اجنبی لڑکی سے بات چیت کرنا، ملنا جلنا چاہے فون کے ذریعہ ہو یا خط و کتابت یا واٹس ایپ کے ذریعہ ہو. ہر صورت میں حرام ہے. لہٰذا بعض علاقوں میں منگنی کے بعد منگیتر سے بات چیت کرنے اور ملنے جلنے کا جو رواج ہے وہ نا جائز اور گناہ کا کام ہے۔ کیونکہ منگنی کے بعد شادی سے پہلے وہ لڑکی اجنبیہ کے حکم میں ہی رہتی ہے اور اجنبی عورت سے بات چیت کرنا، ملاقات کرنا بلا ضرورت شرعی بالکل جائز نہیں۔ اس لیے اس سے بچنا بے حد ضروری ہے۔
لا يجوز التكلم مع المرأة الاجنبية بما يثير الشهوة كمغازلة وتغنج وخضوع في القول سواء كان في الهاتف أو غيره
(فتاوي المرأة المسلمة 551)
أن الاختلاط الخاطب بالمخطوبة وخلوته بها قبل عقد الزوج حرام لا يقره شرع الله عزوجل ولا يرضي به (الفقه المنهجي 2/50)
أن الخطبة ليست زواجا وإنما هي مجرد وعد بالزوج فلا يترتب عليها شيء من احكام الزوج ولاالخلوة بالمرأة او معاشرتها بانفراد لانها ما تزال اجنبية عن الخاطب (فقه الاسلامي وادلته 7/24)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة المائدة – آيت نمبر 006 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سوال نمبر/ 0148
گدهے كى خريد و فروخت كا كيا حكم ہے؟
جواب:۔ گدهے كى خريد و فروخت كرنا جائز ہے، اس لئے كہ اس سے حمل و نقل کا نفع اٹهايا جاتا ہے۔
قال الإمام النووي
ﻳﻨﺘﻔﻊ ﺑﻪ ﻓﻴﺠﻮﺯ ﺑﻴﻌﻪ ﻛﺎﻹﺑﻞ ﻭاﻟﺒﻘﺮ ﻭاﻟﻐﻨﻢ ﻭاﻟﺨﻴﻞ ﻭاﻟﺒﻐﺎﻝ ﻭاﻟﺤﻤﻴﺮ ﻭاﻟﻈﺒﺎء ﻭاﻟﻐﺰﻻﻥ ﻭاﻟﺼﻘﻮﺭ ﻭاﻟﺒﺮاﺓ ﻭاﻟﻔﻬﻮﺩ ﻭاﻟﺤﻤﺎﻡ ﻭاﻟﻌﺼﺎﻓﻴﺮ ﻭاﻟﻌﻘﺎﺏ
المجموع:٢٢٦/٩
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة المائدة – آيت نمبر 005 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سوال نمبر/ 0395
بہت سے لوگ بندر كو خريد كر اپنے گهر میں ركھتے ہیں اور اس سے تفریح حاصل كرتے ہیں تو بندر جيسے جانوروں میں خريد و فروخت كا كيا حكم ہے؟
جواب:۔ بہت سے لوگ بندر كو خريد كر اپنے گھر میں ركھتے ہیں اور اس سے تفریح حاصل كرتے ہیں تو بندر جيسے جانوروں میں خريدفروخت دونوں درست ہے،اس لئے كہ يہ ايسا جانور ہے جس سے تفريح ہوتي ہے-
قال الإمام النووي: الحيوان الطاهر ضربان ضرب ينتفع به فيجوز بيعه كالغنم…ومما ينتفع به القرد و الفيل والهرة. روضة الطالبين:١٩/٣
Question no/ 0395
Many people buy monkeys and keep it in their house and gain affection.. What does the shariah say with regard to buying and selling of monkeys or animals of these kind?
Ans; Many people buy monkeys and keep it in their house and gain affection. Therefore it is acceptable to sell or buy monkeys or any such kind of animal as these are such kind of animals through which one can benefit.
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)