فقہ شافعی سوال نمبر/ 0497 عاشوراء یعنی دس محرم کے مسنون أعمال کیا ہے؟
عاشوراء يعني دس محرم کا روزہ سنت ہے اس کی فضیلت یہ ہے کہ اس سے سابقہ سال کے گناہ صغیرہ معاف ہوجاتے ہیں نیز عاشوراء کے ساتھ تاسوعاء یا پھر گیارہ محرم کا روزہ بھی مستحب ہے تاکہ یہود کی مشابہت نہ ہو. نیز بعض روایات کے مطابق اس دن اھل وعیال پر وسعت یعنی عام دنوں سے زیادہ خرچ کرنا بھی مستحب ہے (جامع الترمذي752) (ابن ماجه/1838) (إعانة الطالبين 416/2)
Fiqhe Shafi Question no/0497 What are the virtues and rules on Ashura i.e 10th Muharram?
Ans:, Many scholars agree that fasting on the day of Ashora is sunnat . According to the narration of Tirmidhi , the Prophet Muhammad (pbuh) said ,
” Fasting the day of Ashura ( is a great merits ) , I hope that Allah will accept it as an expiation for (the sins committed in ) the previous year ".
Likewise , fasting on 10th Muharram is Sunnah . Similarly , fasting on Tasu’a which means 9th Muharram is also considered as Sunnah .
Apart from these , spending money whole heartedly on this day on one’s family is considered to be great sunnah .
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0645 ہرن پالنے اور اس کا دودھ پینے کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ ہرن پالنا اور اس کا دودھ پینا جائز ہے اسلئے کہ ہرن کا گوشت اور دودھ دونوں پاک ہے۔ البتہ اس زمانہ میں ہرن کا شکار اور اس کے پالنے پر حکومت کی طرف سے پابندی ہے اسلئے اس کے پالنے سے احتیاط کرنا ضروری ہے۔
الألبان أربعة أقسام. أحدها لبن مأكول اللحم كالإبل والبقر والغنم والخيل والظباء وغيرها من الصيود وغيرها وهذا طاهر۔ (المجموع 2/ 587) قوله من مأكول أي من لبن مأكول أي لبن يحل أكله ليشمل لبن الظباء والأرنب وبنت عرس ولبن الآدميات لأن الجميع مأكول (نهاية المحتاج 8/ 200)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0644 اذان کے کلمات کو خوب کھینچ کر اذان دینا یعنی جہاں پر مد نہ ہو وہاں مد کے ساتھ زیادہ کھینچنا کیسا ہے ؟
جواب:۔ اذان کے کلمات کو حد سے زیادہ کھینچنا اس وقت مکروہ ہے جب تک کہ اذان کے معنی میں کوئی تبدیلی نہ ہو اگر معنی میں تبدیلی ہوتی ہو تو جیسا کہ الله اکبر میں لفظ الله کے الف کو کھینچنا حرام ہے۔
ويكره التمطيط والتغني فيه مالم يتغير به المعني وإلا حرم۔ (تحفة المحتاج 1/ 168) (قوله التمطيط والتغني فيه) أي تمديد الأذان والتطريب به (قوله مالم يتغير به المعني) قال إبن عبدالسلام يحرم المتلحين أي إن غير المعني المعني أو أوهم محذورا كمد همزة أكبر ونحوها حاشية الشرواني وابن قاسم العبادي 1/ 473 ويكره تمطيط الأذان أي تمديده والتغني به۔ (نهاية المحتاج 1/ 416)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0643 اگر کوئی شخص اس قدر معذور ہو کہ سجدہ میں جاتے وقت اس کا سینہ ذرہ سا قبلہ سے ہٹ جاتا ہو تو ایسے شخص کی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔نماز میں قبلہ رخ ہونا واجب ہے، البتہ معذور بہت زیادہ بیمار یا نہایت کمزور و لاغر شخص جو قبلہ رخ نہیں ہوسکتا ہو یا قبلہ کی طرف رخ کرنے کی صورت میں ڈوبنے کا خوف ہو تو ایسے شخص کو جس طرح ممکن ہو نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔ اگر عذر عارضی ہو تو وہ شخص نماز کا اعادہ کرے گا۔ اگر عذر دائمی ہو، اور بیٹھنے کی صورت میں قبلہ رخ ہونا ممکن ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز ہے اسلیے کہ قبلہ رخ ہونا قیام کے مقابلہ میں زیادہ اہم ہے ۔
علامہ رملی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: واحترز المصنف بالقادر عن العاجز كمريض عجز عمن يوجهه ومربوط على خشبة وغريق على لوح يخاف من استقباله الغرق، ومن خاف من نزوله عن دابته على نفسه أو ماله أو انقطاعا عن الرفقة فإنه يصلي على حسب حاله ويعيد على الأصح لندرته….فلو أمكنه أن يصلي إلى القبلة قاعدا وإلى غيرها قائما وجب الأول، لأن فرض القبلة آكد من فرض القيام بدليل سقوطه في النفل مع القدرة من غير عذر۔ (نهاية المحتاج427/1) علامہ ابن حجر ہیتمی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ولو تعارض هو، والقيام قدمه؛ لأنه آكد إذ لا يسقط في النفل إلا لعذر بخلاف القيام. (تحفة المحتاج:172/1) (سورة البقرة/144)