جواب: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جسے احتلام کا یاد نہیں تھا لیکن کپڑے پر کچھ تری تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ غسل کرے.اور دوسرے ایک شخص جسے احتلام کا یاد تھا لیکن بطور علامت کپڑے پر گیلاپن نہیں تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر غسل ضروری نہیں۔ (سنن ابو داود :236)
اس حدیث سے فقہاء نے استدلال کیا ہے کہ شک کی وجہ سے غسل واجب نہ ہوگا جب تک کہ غسل کے وجوب کا یقین نہ ہوجائے مثلا…احتلام کی وجہ سے کپڑے پر منی کے آثار ہوں، سوکر اٹھنے کے بعد کپڑوں پر کچھ نشانات پائے گئے اور وہ نشانات یقینی طور پر منی کے ہی ہیں تو اس پر غسل واجب ہوگا. اگر وہ نشانات ودی یا مذی دونوں میں سے ایک کے ہونے کا یقین یا اِحتمال ہو تو غسل واجب نہیں۔
اگر یقین ہے کہ منی یا وذی بھی نہیں ہیں توغسل واجب نہ ہوگا.( رواه البخاري 282 المغني 1/269)
قال الإمام الخطيب الشربيني رحمه الله:
فَإنْ احْتَمَلَ كَوْنَ الخارِجِ مَنِيًّا أوْ غَيْرَهُ كَوَدْيٍ أوْ مَذْيٍ تُخَيِّرَ بَيْنَهُما عَلى المُعْتَمَدِ، فَإنْ جَعَلَهُ مَنِيًّا اغْتَسَلَ أوْ غَيْرَهُ تَوَضَّأ وغَسَلَ ما أصابَهُ؛ لِأنَّهُ إذا أتى بِمُقْتَضى أحَدِهِما بَرِئَ مِنهُ يَقِينًا، والأصْلُ بَراءَتُهُ مِن الآخَرِ، ولا مُعارِضَ لَهُ،
مغني المحتاج(١٢٣/١)
Question No/100
Can fardh ghusl be taken on the basis of doubt?
Ans; Hazrat Aisha R.A narrated that the messenger of Allah(sallallahu alaihi wasallam) was asked about a person who found wetness on his cloths or body but did not remember the sexual dream..He replied;He should take a bath(ghusl)..He was asked about a person who remembered that he had a sexual dream but did not find wetness on his clothes or body.. He replied: Bath(ghusl) is not necessary for him.. (Al bukhari 282)
Fuqaha based thier opinion from this hadees that ghusl does not become compulsory(wajib)on the basis of doubt unless the compulsion of ghusl is assured..
for example; If there is some indications of semen(mani) on clothes due to ehtilam or if one sees traces on clothes after waking up from sleep and the traces are surely to be semen only then the bath will be compulsory on him..If one is assured that those traces are either wadi or pre seminal fluid(mazi) then bath will not be compulsory on him..
If he is sure that those traces are neither semen(mani) nor wadi then bath will not be compulsory on him…
فقہ شافعی سوال نمبر (/ 0101 نماز میں ادھر اُدھر دیکھنا کیسا ہے؟ نماز میں نگاہ سجدے کی جگہ رکھنا سنت ہے اور بلاوجہ اِدھر اُدھر یا آسمان کی طرف دیکھنا بھی مکروہ ہے۔ قلت يكره الالتفات لا لحاجة و رفع بصره السماء۔ (منهاج الطالبين:دار البشائر الاسلاميه) (صحيح البخاري /٧٥٠) (صحيح البخاري /٧٥١)
آیت سجدہ کی تلاوت کےبعد سجدہ فورا کرنا ممکن نہ تو اس صورت میں کیاحکم ہے؟
جواب: سجدہ تلاوت آیت سجدہ کی تلاوت کے فورا بعد کرلینا سنت ہے.اگرآیت سجدہ اورسجدہ کے درمیان طویل فصل ہوگیا توسجدہ تلاوت مسنون نہیں ہے اس لئے کہ اس کا محل فوت ہوجاتا ہے.(مغنی المحتاج:٣٧٢/١)لہذادوران درس آیت سجدہ آجاےلیکن اس وقت سجدہ تلاوت ممکن نہ ہونے کی صورت میں اگرطویل فاصلہ ہوجاے توسجدہ تلاوت مسنون نہیں ہے.اس لئے کہ اس کا محل فوت ہوگیا ہے،اگرکم فاصلہ گذرا ہوتوسجدہ تلاوت مسنون ہے.
جمعہ کے خطبہ کے دوران بات کرنے اور خطیب کی دعاپر ہاتهہ اٹہا کے آمین کہنے کاکیاحکم ہے؟
جواب:حضرت ابوہریرہ رض سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ تم اپنے ساتھی کو دوران خطبہ خاموش رہنے کوکہوتب بھی تم نے لغوکام کیا(بخاری:934)
اس حدیث کی روشنی فقہاء نے دوران خطبہ بات کرنے کوناپسند اورمکروہ قرار دیا ہے.اورخاموش رہ کرخطبہ سننے کااستحباب نقل کیا ہے.البتہ کسی عذر کی وجہ سے بات کرنا جائز ہے. (منھاج مع المغنی :1/632) اس لئے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے تو ایک دیہاتی کھڑا ہوا اور فرمایا ائے اللہ کے رسول. مال ہلاک ہوگیا اور اولاد بھوکی ہے اللہ سے دعا کیجئے بارش ہوجائے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ پھیلائے اور دعا کی ( بخاری 933)اور خطیب جب دعا کرتا ہے تو اسکی دعا پردرمیانی آواز میں آمین کہنا سنت ہے ( اعانة الطالبين 146/2) البتہ ہاتھ اٹھانے کا تذکرہ صراحتا نہیں مل سکا لیکن عمومی دعاووں میں چوں کہ ہاتھ اٹھانے کا استحباب ہے اس لئے اس موقع پربھی ہاتھ اٹھانے کی گنجائش ہے.
قال الإمام الخطيب الشربيني رحمه الله:
ويسن الإنصات…ويُكْرَهُ لِلْحاضِرِينَ الكَلامُ فِيها اي في الخطبة لِظاهِرِ هَذِهِ الآيَةِ(١)
قال الإمام الدمياطي رحمه الله:
وكذا التأمين لدعاء الخطيب.
أما مع رفع الصوت فلا يندب، لأن فيه تشويشا (قوله: وكذا التأمين الخ) أي وكذا لا يبعد ندب التأمين بلا رفع صوت لدعاء الخطيب.(٢)_____________(١) مغني المحتاج (٤٩١/١)
(٢)اعانة الطالبين (١٠١/٢)
سوال نمبر/ 0104 کسی مسجد میں ایک جماعت کے بعد دوسری جماعت کرکے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ اگر کسی مسجد میں امام مقرر ہو تو اس کی جماعت سے قبل یا بعد اس کی اجازت کے بغیر دوسری جماعت مکروہ ہے، لیکن اگر مسجد بازار میں یا ایسے راستے پر جہاں لوگوں کی ہمیشہ آمدورفت رہتی ہو تو پھر مکروہ نہیں ہے۔
————–
وان حضر وقد فرغ الامام من الصلاة فان كان المسجد له امام راتب كره ان يستانف فيه جماعة وان كان المسجد في سوق او ممر الناس لم يكره أن يستانف الجماعة۔(المھذب مع المجموع/4/193)
اما اذا لم یکن له امام راتب فلا کراھة في الجماعة الثانیه والثالثه…..
واما اذا کان له امام راتب ولیس المسجد مطروقا فمذھبنا کراھك الجماعة الثانیة بغیر أذنه (المجموع:4/194)
سوال نمبر/ 0105 تیراکی کے وقت پانی میں پیشاب کرنے کا شرعا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ تیراکی رکے ہوئے پانی میں ہو مثلا کنویں یا تالاب میں اور پانی کم ہو تو اس میں پیشاب کرنا حرام ہے. اور اگر ٹہرا ہوا پانی زیادہ ہو تو مکروہ ہے. لیکن تیراکی جاری پانی میں ہو اور وہ زیادہ ہو مثلا ندی یا سمندر تو حرام نہیں ہے. البتہ جاری پانی میں بھی پیشاب کرنا بہتر نہیں ہے. لیکن اگر جاری پانی کم ہو تو پھر پیشاب کرنا مکروہ ہے۔ اس لئے تیرا کی کرنے والوں کو چاہیے کہ پانی میں پیشاب نہ کریں۔ اس لیے کہ صحیح مسلم کی روایت ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص ٹہڑے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے۔ (مسلم:665 )
————–
وإن كان الماء كثيرا راكبا فقال أصحابنا يكره ولا يحرم…وأما الراكد القليل فقد أطلق جماعة من أصحابنا أنه مكروه والصواب المختار انه يحرم البول فيه (شرح مسلم 1/523)
[ فإن كان الماء كثيرا جاريا لم يحرم البول فيه لمفهوم الحديث ولكن الأولى إجتنابه (شرح مسلم 1/523)
وان كان قليلا جاريا فقد قال جماعة من أصحابنا: يكره…لأنه يقذره وينجسه (شرح مسلم1/523)
سوال نمبر/ 0106 کھانے کے بعد دانتوں میں خلال کرنے اور خلال سے کھانے کے نکلنے والے ذرات کو نگلنے کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ کھانے سے فراغت کے بعد دانتوں کے سوراخوں میں پھنسے ہوئے کھانے کے ریشے وغیرہ کو احتیاط کے ساتھ خلال کے ذریعہ صاف کر لینا چاہیے. اس لیے کہ منہ اور دانتوں میں ان ذرات کا باقی رہنا دانتوں کی بیماری اور بدبو کا باعث بنتا ہے. اگر ان ذرات میں خون بھی نکلا ہو توایسے ذرات کو نگلنا حرام ہے۔ اس سلسلے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے کھانے کے بعد خلال کیا تو خلال سے نکلنے والے ذرات کو پھینک دے اور جو زبان سے نکلے اسے نگل سکتا ہے. جس نے ایسا کیا تو بہتر کیا اور جس نے نہیں کیا تو اس پر کوئی حرج نہیں۔(سنن ابی داود/35)
————-
علامہ خطیب شربینی رحمة الله عليه فرماتے ہیں:
ولا یبتلع ما یخرج من اسنانه بالخلال بل یرمیه (مغنی المحتاج:3/250)
(ﺃﻛﻞ) ﺷﻴﺌﺎ (ﻓﻤﺎ ﺗﺨﻠﻞ) ﻣﺎ ﺷﺮﻃﻴﺔ ﻭاﻟﺠﺰاء ﻓﻠﻴﻠﻔﻆ ﺃﻱ ﻣﺎ ﺃﺧﺮﺟﻪ ﻣﻦ اﻷﺳﻨﺎﻥ ﺑﺎﻟﺨﻼﻝ (ﻓﻠﻴﻠﻔﻆ) ﺑﻜﺴﺮ اﻟﻔﺎء ﻓﻠﻴﻠﻖ ﻭﻟﻴﺮﻡ ﻭﻟﻴﻄﺮﺡ ﻣﺎ ﻳﺨﺮﺟﻪ ﻣﻦ اﻟﺨﻼﻝ ﻣﻦ ﺑﻴﻦ ﺃﺳﻨﺎﻧﻪ ﻷﻧﻪ ﺭﺑﻤﺎ ﻳﺨﺮﺝ ﺑﻪ ﺩﻡ (ﻭﻣﺎ ﻻﻙ ﺑﻠﺴﺎﻧﻪ) ﻋﻄﻒ ﻋﻠﻰ ﻣﺎ ﺗﺨﻠﻞ ﺃﻱ ﻣﺎ ﺃﺧﺮﺟﻪ ﺑﻠﺴﺎﻧﻪ ﻭاﻟﻠﻮﻙ ﺇﺩاﺭﺓ اﻟﺸﻲء ﺑﻠﺴﺎﻧﻪ ﻓﻲ اﻟﻔﻢ ﻳﻘﺎﻝ ﻻﻙ ﻳﻠﻮﻙ (ﻓﻠﻴﺒﺘﻠﻊ) ﺃﻱ ﻓﻠﻴﺄﻛﻠﻪ ﻭﺇﻥ ﺗﻴﻘﻦ ﺑﺎﻟﺪﻡ ﺣﺮﻡ ﺃﻛﻠﻪ (ﻣﻦ ﻓﻌﻞ) ﺃﻱ ﺭﻣﻰ ﻭﻃﺮﺡ ﻣﺎ ﺃﺧﺮﺟﻪ ﻣﻦ اﻷﺳﻨﺎﻥ ﺑﺎﻟﺨﻼﻝ (ﻭﻣﻦ ﻻ) ﺃﻱ ﻟﻢ ﻳﻠﻔﻈﻪ ﺑﻞ ﺃﻛﻠﻪ ﻋﻠﻰ ﺗﻘﺪﻳﺮ ﻋﺪﻡ ﺧﺮﻭﺝ اﻟﺪﻡ (عون المعبود)
سوال نمبر/ 0107 عورت کے لئے اپنے ہاتھ پاؤں کے بال نکالنے کا کیا حکم ہے؟اس حکم میں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ میں کوئی فرق ہوگا یا نہیں ؟
جواب:۔امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں کہ "نامصہ” یعنی وہ عورت جو اپنے چہرے کے بال کو زائل کرے، اور یہ حرام ہے، اور اس ممانعت میں بھنویں اور چہرے کے اطراف کے بال بھی داخل ہیں، لیکن اگر کسی عورت کو ڈاڑھی، مونچھ آئے، تو اس کا نکالنا مستحب ہے، اسی طرح جسم کے بال مثلا ہاتھ اور پنڈلیوں کے بالوں کا نکالنا شادی شدہ عورت کے لئے زینت کے طور پر شوہر کی اجازت سے جائز ہے، غیرشادی شدہ عورت کے لئے اجازت نہیں ہے اس لیے کہ ان بالوں کے نکالنے کا اس میں کوئی فائدہ نہیں، بلکہ فتنہ کا اندیشہ ہے، لہذا غیر شادی شدہ کے لئے ہاتھ پاوں کے بالوں کا نکالنا کرنا جائز نہیں، لیکن اگر اس کی شادی جلد ہونے والی ہے، اور ان بالوں کے نکالنے کا مقصود شوہر کے لئے زینت اختیار کرنا ہے تو اس کی گنجائش ہونی چاہیے۔
قال الإمام النووي:۔
وأما النامصة…فهي التي تزيل الشعر من
الوجه…وهذا الفعل حرام إلا إذا نبتت للمرأة لحية أو شوارب فلا تحرم إزالتها،بل يستحب عندنا۔(شرح مسلم:288/5)
قال الشيخ خالد سيف الله الرحماني:-
وأما إزالة بقية الشعر من الجسم فقد أجاز والمرأة بإذن زوجها،ولم يجيزوا لغير المتزوجة لعدم المصلحة في إزالته غالبا۔
(4)نوازل فقهة معاصرة:288/2 الموسوعة الفقهية الكويتية:82/ج:14
سوال نمبر/ 0108 کھانے کے بعد پلیٹ اور انگلیاں چاٹ کر صاف کرنے کا کیا حکم ہے؟ کیا حدیث سے اس کا ثبوت ملتا ہے؟
جواب:۔ کھانے کے بعد پلیٹ (برتن) اور انگلیوں کو چاٹ کر صاف کرنے کا سنت ہے
ترمذی شریف کی روایت ہے حضرت نبیشہ الخیر رضی اللہ عنھا فرماتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص پیالہ (پلیٹ وغیرہ) میں کھانا کھائے پھر اس کو چاٹ لےصاف کر لے) تو وہ پیالہ اس کے لئے مغفرت کی دعا کرتا ہے.(ترمذی/١٨٠٤)
علامه خطيب شربيني رحمة الله عليه فرماتے ہیں
و يسن لعق الإناء والأصابع (مغني المحتاج 250/3)
سوال نمبر/ 0109 فرض صدقہ کا گوشت اپنے غریب رشتہ داروں کو دینے کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ فرما تے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسکین کو صدقہ دینے پر ایک صدقہ کا ثواب ملتا ہے اور رشتہ داروں کو دینے پر دو صدقہ کا ثواب ملتا ہے ایک صدقہ کا اور ایک صلہ رحمی کا (الترمذی :658 )
علامہ مبارکپوری رحمة الله عليه فرماتے ہیں مذکورہ حدیث نفل اور فرض صدقہ دونوں کو شامل ہے اور رشتہ داروں کو زکاة دینے کے جواز پر دلالت کرتی ہے، لہذا فرض صدقہ کا گوشت اپنے ان غریب رشتہ دارں کو دینا جائز ہے جن کا نفقہ اس پر لازم نہ ہو مثلا بیوی بچے ماں باپ وغیرہ ان کے علاوہ رشتہ دار کو دینا جائز ہے بلکہ ان کو دینا افضل ہے اسی پر دہرا اجر ملنے کا ذکر ہے ایک صلہ رحمی کا اجر، اور دوسرا زکوة کی ادائیگی کا اجر ۔
والله اعلم بالصواب
————–
امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں:
ﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﻓﻲ اﻷﺻﻨﺎﻑ ﺃﻗﺎﺭﺏ ﻟﻪ ﻻ ﻳﻠﺰﻣﻪ ﻧﻔﻘﺘﻬﻢ اﺳﺘﺤﺐ ﺃﻥ ﻳﺨﺺ اﻷﻗﺮﺏ ﻓﻤﺘﻔﻖ ﻋﻠﻴﻪ ﺃﻳﻀﺎ ﻟﻤﺎ ﺫﻛﺮﻧﺎ ﻣﻦ اﻷﺣﺎﺩﻳﺚ ﻗﺎﻝ ﺃﺻﺤﺎﺑﻨﺎ ﻳﺴﺘﺤﺐ ﻓﻲ ﺻﺪﻗﺔ اﻟﺘﻄﻮﻉ ﻭﻓﻲ اﻟﺰﻛﺎﺓ ﻭاﻟﻜﻔﺎﺭﺓ ﺻﺮﻓﻬﺎ ﺇﻟﻰ اﻷﻗﺎﺭﺏ ﺇﺫا ﻛﺎﻧﻮ ﺑﺼﻔﺔ اﻻﺳﺘﺤﻘﺎﻕ ﻭﻫﻢ ﺃﻓﻀﻞ ﻣﻦ اﻷﺟﺎﻧﺐ'(المجموع209-210/6
علامہ مبارکپوری رحمة الله عليه فرماتے ہیں:
اﻟﺼﺪﻗﺔ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﺴﻜﻴﻦ اﻟﺦ) ﺇﻃﻼﻗﻪ ﻳﺸﻤﻞ اﻟﻔﺮﺽ ﻭاﻟﻨﺪﺏ ﻓﻴﺪﻝ ﻋﻠﻰ ﺟﻮاﺯ ﺃﺩاء اﻟﺰﻛﺎﺓ ﺇﻟﻰ اﻟﻘﺮاﺑﺔ۔(مرعاة المفاتيح :رقم الحدیث 1960)