فقہ شافعی سوال نمبر/ 0180 اگر کسی عورت کا حیض کا خون صبح صادق سے پہلے بند ہو جاۓ تو کیا وہ روزہ رکھ سکتی ہے یا پہلے غسل کرنا ضروری ہوگا؟
جواب: جب عورت کا حیض کا خون بند ہوگیا تو اب اس پر روزہ رکھنا فرض ہوگا اگر چہ اس نے ابھی تک غسل نہ کیا ہو کیونکہ اصل مانع حیض تھا. جب ختم ہو گیا تو روزہ رکھنا ضروری ہوگا.
Fiqhe Shafi Question No/0180 If a menstruating woman attains purity before dawn then is it permissible for her to keep fast or is it necessary to take bath(ghusl) first?
Ans; Fasting becomes obligatory(fardh) on a menstruating woman when she stops bleeding even though she didnot take bath(ghusl) yet because the main reason for not fasting was menstruation so whenever a woman stops bleeding fasting becomes compulsory on her…
روزہ افطار کرتے وقت افطار صوم کے نام سے جو دعا حدیث میں وارد ہے اسکو افطار کے بعد یا پہلے پڑھنا چاہئے.؟
جواب: حضرت معاذ ابن زہرہ سے روایت ہےکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی روزہ افطار کرتے تھے تو یہ دعا پڑھتے تھے.
اللهم لك صمت وعلی رزقك أفطرت (سنن ابی داؤد:2358)
اس حدیث کے ضمن میں ابن الملک فرماتے ہیں کہ آپ جو دعا پڑھتے تھے وہ افطار کے بعد پڑھتے تھے۔
البتہ بعض فقہاء کرام کی عبارتوں سے یہ بات واضح ہوتی ہیکہ وہ دعا افطار کے وقت پڑھنی ہے.
لہذا افطارکے وقت اس دعا کے پڑھنے کا اہتمام کریں اگر بھول جائیں یا موقع نہ ملے تو افطار کے بعد پڑھ لیں. (عون المعبود: 347/3)
اگر کوئی عورت رمضان کی برکتوں اور رمضان کو مکمل طور پر عبادت میں گزارنے کے لیے یا بعد میں قضاء روزے رکهنے کی پریشانی سے بچنے کے لیے حیض کو روکنے کی دوائیں استعمال کرکے رمضان ہی میں روزہ رکهنا چاہیے تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟
جواب :- ماہ رمضان برکتوں اور فضیلتوں والا مہینہ ضرور ہے، مگر اس مہینہ کی برکتوں کو حاصل کرنے کے لیے کسی عورت پر حیض کو روکنے والی دوائیں نہ کهانا بہتر ہے۔ البتہ اگر کسی مسلمان ماہر ڈاکٹر سے مشورہ کرنے کے بعد یہ بات یقینی ہوجائے یا ظن غالب ہوجائے کہ کچھ نقصان نہیں ہوگا تو پهر حیض کو روکنے یا آگے پیچهے کرنے والی دوائیں کهاکر روزہ رکهنے کے لیے طہارت کو باقی رکهنا جائز ہے، جیسا کہ ایام حج میں اس کی اجازت دی گئی ہے، اور فقہاء کے کلام سے کسی قسم کا نقصان نہ ہونے کی صورت میں حیض روکنے کی ادویہ کے استعمال کی اجازت معلوم ہوتی ہے۔
فقہ شافعیسوال نمبر/ 0183 اگر کوئی شخص ہاتھ سے اپنی منی خارج کرے تواس کے روزہ کا کیا حکم ہے ؟
جواب-اگر کوئی شخص ہاتھ سے اپنی منی نکالے یا بیوی سے ملاعبت ( لطف اندوز ہونے) سے منی نکل آئے تو روزہ ٹوٹ جائے گا، البتہ قضا ضروری ہے ۔ (المجموع 6 / 341) (نهاية المطالب 3/348)
Fiqhe Shafi Question No/0183 If a man ejaculates semen through masturbation then what is the ruling with regard to his fast?
Ans; If a man ejaculates semen through masturbation or by making love(foreplay) with his wife then the fast invalidates.. And making up the fast will be compulsory..
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0185 اگر کسی شخص پر غسل جنابت ہو اور وقت میں اتنی گنجائش نہ ہو کہ غسل کرکے سحری کرئے تو اس صورت میں کیا کرئے ؟
جواب :۔ ایسا شخص جس پر غسل جنابت ہو اور وقت کم ہو تو پہلے سحری کریگا پھر غسل جنابت کرئے اگرچے کہ صبح کی آذان ہی ہوجائے.البتہ سحری سے پہلے اگر وضوء کی گنجائش ہو تو وضوکرنا سنت ہے رواه مسلم /305
Fiqhe Shafi Question No/0185 If a person eats sehri after the sexual intercourse and then he sleeps and wakes up after adhan to take a bath then what are the rulings regarding his fast?
Ans; If a person is in a state of janabah and he has no time then he must perform sehri first and then he may take the ghusl even if the fajar azan is called.. However if one is able to perform ablution before sehri then performing ablution is sunnah..
اگر کسی روزے دار كو ٹیسٹ معلوم کرنے کے لئے کھانا چکھنے کی ضرورت پیش آئے تو اس سلسلے میں فقہائے شوافع کے نزدیک بہتر یہ ہے کہ ایسا آدمی جو روزے سے نہ ہو وہ چکھ کر دیکھ لے لیکن ایسا آدمی میسّر نہ ہو یا پھر میسّر تو ہو مگر اس کے اندر ذائقہ چکھ کر معلوم کرنے کی صلاحیت نہ ہو تو ایسی صورت میں روزے دار بھی چکھ کر دیکھ سکتا ہے لیکن اِس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ کوئی چیز پیٹ میں نہ چلی جائے۔
فَإنْ مَضَغَ أوْ ذاقَ ولَمْ يَنْزِلْ إلى جوفه شئ مِنهُ لَمْ يُفْطِرْ(١)
ويَنْبَغِي عَدَمُ كَراهَتِهِ لِلْحاجَةِ وإنْ كانَ عِنْدَهُ مُفْطِرٌ غَيْرَهُ لِأنَّهُ قَدْ لا يَعْرِفُ إصْلاحَهُ مِثْلُ الصّائِمِ (٢)
نعم لَو ذاق الطَّعام لغَرَض إصْلاحه لمتعاطيه لم يكره للْحاجة وإن كانَ عِنْده مفطر غَيره لِأنَّهُ قد لا يعرف إصْلاحه مثل الصّائِم (٣)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔المراجع۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
١۔ المجموع۔ ٣٦٩/٦
٢۔ نهاية المحتاج. ١٨٣/٣
٣۔ نهاية الزين. ١٩٥/١
*۔ حاشية الجمل۔ ٣٢٩/٢
*۔ حاشيتا قليوبي وعميره. ٧٩/٢
اگر کوئی شخص روزے کی حالت میں نہ جانتے ہوئے اور روزہ یاد نہ ہونے کی وجہ سے اپنی بیوی سے جماع کرے تواس صورت میں روزہ کا کیا حکم ہے؟
جواب: روزہ کی حالت میں بیوی سے جماع حرام ہے.اور روزہ باطل ہوجاتا ہے. اور جماع کرنے والے پر کفارہ بھی واجب ہوتا ہے. لیکن شریعت اسلامیہ میں جہل اور بھول کومعاف کیا گیا ہے، لہذا اگر کسی کو جماع کی حرمت کا علم نہ ہو یا روزہ کو بھول کر جماع کرے تو اس سے روزہ باطل نہیں ہوتا.اور روزہ باطل نہ ہونے کی بناء پر کفارہ بھی واجب نہیں ہوگا.
جواب: روزہ کی فرضیت کا منکر اسلام کے دائرہ سے نکل جاتا ہے، لیکن اگر اس کی فرضیت کا تو منکر نہیں ہے مگر روزہ نہیں رکهتا ہے تو ایسا شخص فاسق ہے بعض ائمہ کے نزدیک اس کو قید میں رکھ کر روزہ رکهوایا جائے گا۔
جواب:۔ حلق و سینہ کے اندر سے بلغم نکال کر تھوکنے میں کوئی حرج نہیں .اگر بلغم اندر کے اندر چلاجائے تو اس سے روزہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور اگر کوئی شخص بلغم کو نکالے اور اسے باہر پھیکنے پر قدرت کے باوجود نگل جائے تو اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔ اگر پھیکنے پر قدرت نہ ہونے کی وجہ سے تھوک نہ پایا تو روزہ باطل نہ ہوگا.
نزلت نخامة من رأسه إلى جوفه، ولم يمكنه رميها.. لم يفطر بذلك؛ لأنه لا يمكنه الاحتراز عن ذلك.
وإن أخرج الريق من فيه إلى يده، وابتلعه، أو أخرج نخامة من صدره أو رأسه وأمكنه رميها، فلم يفعل، وابتلعها.. أفطر بذلك؛ لأنه قد أمكنه الاحتراز منه.(١)
جواب:۔ تراویح اقرب الی السنہ بیس رکعت ہی ہے اس لئے کہ احادیث سے بهی اسکا ثبوت ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیس رکعات تراویح پر اپنے زمانہ خلافت میں اجماع کرالیا تھا اور روز اول سے آج تک آئمہ اربعہ کے یہاں اسی پر عمل بھی چلا آرہا ہے، البتہ اگر عذر ہو سفر وغیرہ کا تو کم و بیش رکعات پر بهی اکتفاء کرئے تو کوئی حرج نہیں۔
روزه كى حالت ميں اگر کسی کو ہارٹ اٹیک ہو جائے اور ابهی اس میں زندگی باقی ہے تو اس کو پانی پلانا درست ہے یا نہیں؟ یا اس کو روزہ کی حالت میں ہی باقی رکہنا ہے ؟
جواب: روزہ کی حالت میں کسی کو اس قدر سخت بھوک یا پیاس کا غلبہ ہوجائے کہ وہ ہلاکت کے قریب پہنچ جائے تو اس صورت میں جان کی حفاظت کے لیے روزہ توڑنا واجب ہے۔ اسی طرح کسی کو ہارٹ اٹیک ہو جائے اور ابہی اس میں زندگی باقی ہے تو اسے پانی پلا کر روزه افطار کرانا لازم ہے کیوں کہ اگر اسے پانی نہ پلائے تو وہ ہلاکت کو پہنچ جائے گا۔
قالَ أصْحابُنا وغَيْرُهُمْ مَن غَلَبَهُ الجُوعُ والعَطَشُ فَخافَ الهَلاكَ لَزِمَهُ الفِطْرُ وإنْ كانَ صَحِيحًا مُقِيمًا لقوله تعالي (ولا تقتلوا أنفسكم إنه كان بكم رحيما) وقَوْله تَعالى (ولا تُلْقُوا بِأيْدِيكُمْ إلى التَّهْلُكَةِ) ويَلْزَمُهُ القَضاءُ كالمَرِيضِ واَللَّهُ أعْلَمُ.
المجموع ٢٥٧/٦
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0192 عورت کے لئے اعتکاف کرنے کا کیا مسئلہ ہے؟
جواب:۔ اعتکاف کے لئے اصل مسجد شرط ہے چاہے مرد ہو یا عورت ہو اس کا اعتکاف مسجد ہی میں صحیح ہوگا. مسجد کے علاوہ کسی اور جگہ اعتکاف صحیح نہیں ہوگا. لیکن موجودہ پُرفتن زمانہ میں کسی عورت کے لئے مسجد میں اعتکاف کرنا مشکل ترین امر ہے اس بناء پر عورت کے لیے اپنے گھر میں نماز کے لیے متعین جگہ میں اعتکاف کرنے کی گنجائش ہے. لہذا عورتیں اعتکاف کرنا چاہیں تو اپنی گھر میں نماز کی جگہ اعتکاف کرلیں.
امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں:
لایصح الاعتکاف من الرجل والمراۃ الا فی المسجد ولا یصح فی مسجد بیت المراۃ ..وھوالمعتزل المھیاللصلاۃ ..وحکی الخراسانیوں وبعض العراقیین فیہ قولین ..وھو القدیم یصح اعتکاف المراۃ فی مسجد بیتھا (المجموع:6/472)
Fiqhe Shafi Question No/0192 What is the ruling with regard to women performing I’tikaaf?
Ans; Masjid is the main condition for performing I’tikaaf whether it might be male or female.. His or her Itikaaf will be valid in Masjid only and except masjid no other place is appropriate to perform Itikaaf.. But in this era of mischievousness it is highly difficult for a woman to perform I’tikaaf so based on this there is permissiblility for woman to determine some specific place in her house for performing I’tikaaf.. Therefore if a woman wants to perform I’tikaaf then she may perform in a place of praying salah in her house…
کیا اعتکاف میں اپنی بیوی سے یا کسی عورت سے بضرورت فون پر بات کرسکتے ہیں ؟
جواب:۔ حضرت صفیہ رضی اللہ عنھا بیان فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالت اعتکاف میں تھے اور میں رمضان کے آخری عشرہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے آئی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ دیر گفتگو کی (بخاری:2035)
اس حدیث کی روشنی میں علماء فرماتے ہیں کہ معتکف کے لئے مباح امور میں مشغول ہونا جائز ہے .چنانچہ معکتف کے لیے اپنی اہلیہ اور گھروالوں سے ضروری بات کرنے کی بھی گنجائش ہے. اورغیر ضروری باتوں سے اجتناب بہتر ہے. اس لیے کہ اعتکاف کا اصل مقصود عبادت میں ترقی اور مسجد کے باہر کے ماحول سے ہٹ کر تلاوت قرآن و ذکرالہی میں زیادہ مشغول رہنا ہے۔
قال الإمام الخطيب الشربيني رحمه الله:
ولا يضر فِي الِاعْتِكاف التَّطَيُّب والتزين وقص شارِب ولبس ثِياب حَسَنَة ونَحْو ذَلِك من دواعي الجِماع لِأنَّهُ لم ينْقل أنه ﷺ تَركه ولا أمر بِتَرْكِهِ والأصْل بَقاؤُهُ على الإباحَة …..وإن اشْتغل المُعْتَكف بِالقُرْآنِ والعلم فَزِيادَة خير لِأنَّهُ طاعَة فِي طاعَة(١)
اعتکاف کی حالت میں کسی کو نیند میں یا کسی عورت پرشہوت کی نظر ڈالنے کی وجہ احتلام ہوجائے تو کیا اس صورت میں اعتکاف باطل ہوگا؟
جواب:۔اپنی بیوی کے ساتھ جان بوجھ کر جماع یا شہوت کے ساتھ لطف اندوز ہونے پر منی نکلنے کی صورت میں اعتکاف باطل ہوتا ہے لہذا اگر کسی کو نیند میں یا کسی پر غلط نظر کی بناء پر منی نکلے تو اعتکاف باطل نہیں ہوگا. البتہ اس صورت میں مسجد سے نکل کر فورا غسل کرلینا ضروری ہے _
وخرج بِالمُباشرَةِ ما إذا نظر أو تفكر فَأنْزل فَإنَّهُ لا يبطل.