بدھ _6 _جون _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0195
عام طور پر مساجد میں معتکفین کے لئے مسجد کے ایک کونہ میں پردہ لٹکاکر جگہ کو مختص کیا جاتا ہے. شرعا اس کی گنجائش ہے؟
جواب:۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف میں ہوتے تو نماز پڑھنے کے بعد اس حجرہ میں چلے جاتے جو اعتکاف کے لیے مسجد میں بنایا جاتا. (بخاری :2034)
اس عمل کی بناء پر فقہاء نے معتکف کے لئے مسجد میں چادر کے ذریعہ ایک کونہ کو کمرہ نما بنانے کی اس طرح اجازت دی ہے کہ لوگوں کوجگہ تنگ نہ ہو تاکہ معتکف کو عبادت میں تنہائی اور یکسوئی حاصل ہو. البتہ بہتر یہی ہے کہ یہ کمرہ نما مسجد کے آخیری حصہ میں بنایا جائے تاکہ نمازیوں کو جگہ کی تنگی نہ ہوسکے۔
قال الإمام إبن حجر العسقلاني:
وفِيهِ جَوازُ ضَرْبِ الأخْبِيَةِ فِي المَسْجِدِ(١)
__________
(١)فتح الباري:(٢٧٧/٤)
*شرح مسلم (٢٤٨/٣)
ہفتہ _9 _جون _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0196
صدقہ فطر کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مسلمان مرد عورت ، آزاد و غلام پر رمضان کے( روزہ ختم ہونے پر) ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو فرض کیا ہے۔ (بخاری:1506)
اس حدیث کی روشنی میں فقہاء نے ہر فرد کی طرف سے ایک صاع اناج .(چاول یا گہیوں) صدقہ فطر نکالنا فرض قرار دیا ہے۔ البتہ صاع کی مقدار میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے. جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک صاع 2100/گرام سے 2400/گرام کے درمیان رہتا ہے. بہتر یہ ہے کہ زیادہ مقدار میں ہی صدقہ فطر نکالا جائے. (المجموع;6/85)(الفقه المنهجي 1/ 230
(زَكاةُ الفِطْرِ واجِبَةٌ لِما رَوى ابْنُ عُمَرَ قالَ (فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ صَدَقَةَ الفِطْرِ مِن رَمَضانَ عَلى النّاسِ صاعًا مِن تَمْرٍ أوْ صاعًا مِن شَعِيرٍ عَلى كُلِّ ذَكَرٍ وأُنْثى حُرٍّ وعَبْدٍ مِن المُسْلِمِينَ)
(الشَّرْحُ) حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ رَواهُ البُخارِيُّ ومُسْلِمٌ وزَكاةُ الفِطْرِ واجِبَةٌ عِنْدَنا وعِنْدَ جَماهِيرِ العلماء. (المجموع: ٨٥/٦)
هي قدر معين من المال، يجب إخراجه عند غروب الشمس آخر يوم من أيام رمضان، بشروط معينة، عن كل مكلف ومن تلزمه نفقته.(الفقه المنهجي:٢١٩/١)
Fiqhe Shafi Question No/0196
What is the ruling on Sadqa al fitr?
Ans; Hazrat Abdullah bin Umar R.A narrated that the Messenger of Allah(peace and blessings of Allah be upon him) has made one sa of dates or one sa of wheat obligatory on every muslim men and women , slave and freed one in the holy month of Ramadhan..(Sahih bukhari 1506)
Based on this hadeeth,the jurists(fuqaha) has concluded that giving one Sa of meal(rice or wheat) as sadqa al fitr is obligatory for every individual.. However, there is variation between the scholars with regard to the quantity of Sa.. That is one Sa ranges between 2100 grams to 2400 grams.. Giving in maximum quantity is considered to be better..
اتوار _10 _جون _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0197
کیا صدقہ فطر رمضان کے مہینہ میں نکالنے سے ادا ہوجائے گا؟
جواب: صدقہ فطر نکالنے کا وقت رمضان کی ابتداء ہوتے ہی شروع ہوجاتا ہے۔ البتہ رمضان کے آخری دن کے افطار کے بعد نماز عید سے پہلے پہلےاس کا ادا کرنا افضل ہے.اور رمضان میں ادا کرنا جائز ہے. اس لیے اگر کوئی شروع رمضان ہی سےادا کرنا چاہے تو اس کے لیے جائز ہے. لیکن رمضان سے پہلے ادا کرنا منع ہے.
ولا بُدَّ مِن إدْراكِ جُزْءٍ مِن رَمَضانَ مَعَ الجُزْءِ المَذْكُورِ كَما يُفِيدُهُ قَوْلُهُ فَيُخْرِجُ إلى آخِرِهِ، وقَوْلُهُ فِيما بَعْدُ لَهُ تَعْجِيلُ الفِطْرَةِ مِن أوَّلِ رَمَضانَ.
(نهاية المحتاج ٩٥/٣)
اتوار _10 _جون _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0198
جو لوگ بیرون ملک یا بیرون شہربرسر روزگار مقیم ہیں وہ اپنا صدقہ فطر وطن اصلی میں نکالیں گے یا اقامت کی جگہ پر نکالنا ضروری ہے؟
جواب:۔ جو شخص رمضان کے آخری دن کے غروب کے وقت جہاں مقیم ہے اس کے لئے اپنا صدقہ فطر نکالنےکے لئے اسی جگہ کا اعتبار ہوتا ہے. لہذا جو لوگ برسر روزگار بیرون ملک یا بیرون شہر مقیم ہیں وہ اپنا صدقہ فطر اسی جگہ پر ادا کریں گے. البتہ اگر اس جگہ پر صدقہ فطر لینے والے موجود نہ ہوں تو پھر کسی قریبی دوسری جگہ یا اپنے وطن اصلی میں منتقل کرسکتے ہیں۔ (المجموع 225/6)
قال الإمام النووي رحمه الله:
قالَ أصْحابُنا إذا كانَ فِي وقْتِ وُجُوبِ زَكاةِ الفِطْرِ فِي بَلَدٍ ومالُهُ فِيهِ وجَبَ صَرْفُها فِيهِ
_____________
المجموع (٢٢٥/٦)
منگل _12 _جون _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0199
اگرکوئی شخص صدقہ فطر اپنے قریبی رشتہ دار کو دینا چاہتا ہے اور اس قریبی رشتہ دار کوعید کے روز کے بعد ہی دینا ممکن ہو تو اتنی تاخیر کی گنجائش ہے؟
جواب:۔ صدقہ فطر عید کی نماز سے پہلے ادا کرنا افضل ہے.اور عید کی نماز کے بعد سے غروب تک موخر کرنا مکروہ ہے. اور عید کا دن گذرنے تک تاخیر کرنا حرام ہے. لہذا کسی قریبی رشتہ دارکے انتظار میں نمازعید کے بعد عید کا دن ختم ہونے تک انتظار کرنا مسنون ہے. لیکن عید کا دن گذرنے تک موخر کرنا جائز نہیں ہے. البتہ اس صورت میں رشتہ دار کی طرف سے کسی کو وکیل بنا کر صدقہ فطر عید کے روز ہی اس کے حوالہ کیا جائے کہ وہ بعد میں مستحق کو صدقہ فطر سپرد کردے.
نَعَمْ يُسَنُّ تَأْخِيرُها عَنْها لِانْتِظارِ قَرِيبٍ أوْ جارٍ ما لَمْ يَخْرُجُ الوَقْتُ.
تحفة المحتاج: ١/٤٧٩
Question No/199
If a person wants to give sadqa al fitr to his relative but it is only possible after Eid ..In this situation is it permissible to pay him after Eid?
Ans; Giving sadqa al fitr before Eid prayer is Afzal and delaying it after Eid prayer till sunset is Makrooh and it is haram to delay it after the day of Eid.. Therefore it is sunnah to wait for the relatives after Eid prayer till the end of the day of Eid but it is not permissible to delay till the next day..However in this situation one may appoint a middle man(wakeel)on behalf of his relatives and give him sadqa al fitr on the day of Eid and later the receiving person may hand it over to the deserving person..
اتوار _10 _جون _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0200
اگر کوئی شخص ہندوستان سے عرب ممالک جائے اور اس کے 28/ روزے ہی ہوئے ہوں اور وہاں عید کا دن ہو تو وہ کیا کرئے گا ؟
جواب : اگر کوئی ہندوستان سے 28/ روزہ مکمل کر کے عرب ممالک جائے اور وہاں پر عید کا دن ہو تو اس پر اس دن عید منانا واجب ہے اور باقی روزے کی قضا کرنا واجب ہے کیونکہ مہینہ 28 /کا نہیں ہوتا 29/ یا 30/ کا ہوتا ہے۔
لہذا اسے صورت میں اس کے لئے ایک روزہ کی قضاء ضروری ہے. لیکن اسے 29/ روزے حاصل ہوچکے ہیں تو قضاء کی ضرورت نہیں. کیوں مہینہ 29/کا بھی ہوتا ہے چاہے جس بستی سے چلا تھا وہاں رمضان 30/ دن کا ہوگیا ہو۔
وَمَنْ سَافَرَ مِنْ الْبَلَدِ الْآخَرِ) الَّذِي لَمْ يَرَ فِيهِ (إلَى بَلَدِ الرُّؤْيَةِ عَيَّدَ) أَيْ أَفْطَرَ (مَعَهُمْ) وَإِنْ كَانَ لَمْ يَصُمْ إلَّا ثَمَانِيَةً وَعِشْرِينَ يَوْمًا لِمَا مَرَّ أَنَّهُ صَارَ مِثْلَهُمْ (وَقَضَى يَوْمًا) إذَا عَيَّدَ مَعَهُمْ فِي التَّاسِعِ وَالْعِشْرِينَ مِنْ صَوْمِهِ كَمَا بِأَصْلِهِ؛ لِأَنَّ الشَّهْرَ لَا يَكُونُ ثَمَانِيَةً وَعِشْرِينَ بِخِلَافِ مَا إذَا عَيَّدَ مَعَهُمْ يَوْمَ الثَّلَاثِينَ فَإِنَّهُ لَا قَضَاءَ؛ لِأَنَّهُ يَكُونُ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ
(تحفة المحتاج مع حواشي الشرواني 3/ 384)
جمعرات _30 _جون _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0201
عرب ممالک سے30 /روزے مکمل کرکے ہندوستان آنے والے شخص اگر اپنے علاقہ کے لوگوں کو روزہ دار پائے تو اس کے لیے شرعی حکم کیا ہے ؟
جواب:۔ عرب ممالک سے اگر کوئی 30/روزہ مکمل کرکے ہندوستان آیا ہو اور یہاں ابھی تیسواں(30) روزہ باقی ہو تو اس شخص کو یہاں والوں کے ساتھ روزہ رکھنا واجب ہے اگرچہ 30/ سے زائد روزے ہوجائیں۔
(فَسَافَرَ إلَيْهِ مِنْ بَلَدِ الرُّؤْيَةِ) إنْسَانٌ (فَالْأَصَحُّ أَنَّهُ يُوَافِقُهُمْ فِي الصَّوْمِ آخِرًا) وَإِنْ أَتَمَّ ثَلَاثِينَ؛ لِأَنَّهُ بِالِانْتِقَالِ إلَيْهِمْ صَارَ مِثْلَهُمْ وَانْتَصَرَ الْأَذْرَعِيُّ لِلْمُقَابِلِ بِأَنَّ تَكْلِيفَهُ صَوْمَ أَحَدٍ وَثَلَاثِينَ بِلَا تَوْقِيفٍ لَا مَعْنَى لَهُ
(تحفة المحتاج مع حواشي الشرواني 3 /383)
Question No/0201
If a person completes 30 fasts in the Arab country and on reaching India he finds the people of his hometown fasting the 30th day of Ramadhan then What will be the rulings on him regarding the fast?
Ans; If a person completes 30 fasts in the Arab country and on reaching India he finds the people of his hometown fasting the 30th day of Ramadhan then it is compulsory(wajib) for him to fast along with them even if his fasts exceed from 30..
ہفتہ _2 _جولائی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0202
عید کی نماز میں ہر دو تکبیر کے درمیان رکعت باندھنا ہے یا ہاتھ چھوڑے رکھنا بھی درست ہے؟
جواب:عید کی نماز میں دو تکبیرکے درمیان رکعت باندھنا سنت ہے. البتہ اگر کوئی رکعت باندھنے کے بجائے ہاتھ چھوڑے رکھے توکوئی حرج نہیں اس لیے کہ اصل ہاتھوں کو کسی عبث اور بے كار کام میں مشغول کیے بغیر ایک ہی کیفیت پر برقرار رکھناہے.اوریہ مقصد رکعت باندھنے اور ہاتھوں کو چھوڑے رکھنے سے حاصل ہوتا ہے.
ویسن ان یضع یمناہ علی یسراہ تحت صدرہ بین التکبیرتین کما فی تکبیر الاحرام (مغنی المحتاج:1/531)
قال الشیخ الجمل:
ولا باس بارسالھما لان المقصود عدم العبث لھا وھو حاصل مع الارسال وان کانت السنۃ وضعھا تحت صدرہ (حاشیۃ الجمل:2/51)
منگل _21 _اگست _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0203
عورتوں کے لئے عید کی نماز اداکرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ عورتوں کے لیے عید کی نماز سنت ہے. البتہ عورتیں نماز عید اپنے گھروں میں اداکریں گی. نیز اگرکسی گھر میں عورتیں جماعت کے ساتھ نماز عید ادا کریں تو اس کی بھی گنجائش ہے. البتہ نماز میں عورت امام اپنی آواز کو پست کریں گی تاکہ اجنبی مرد اس کی آواز نہ سن سکے. نیز عورتوں کے لئے باجماعت نماز ادا کرتے وقت خطبہ مشروع نہیں ہے.ہاں اگر کوئی عورت وعظ ونصیحت کرئے تو کوئی حرج نہیں ہے.
وتشرع ایضا للمنفرد.. والمراۃ….والمسافر۔ (الاقناع:1/258) یکرہ الحضور لذوات الھیئات ولو عجائز وللشابات وان کن مبتذلات بل یصلین فی بیوتھن ولا باس بجماعتھن…..ولاخطبة له … ای ولا لجماعة النساء….. فلو قامت واحدۃ منھن وظتھن بلا باس. (حاشیة الشروانی والعبادی:3/40)
Question No/0203
What are the rulings on women to offer the salah of Eid ul fitr?
Ans; It is sunnah for woman to offer Eid prayer..However woman must offer prayer at their house..If women offer prayer along with jamaat in somebody’s house then also it is acceptable..But the woman who leads the prayer should lower her voice during the prayer so that it is not audible to any strange man…
پیر _4 _جولائی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0204
عید کی نماز کے لئے جاتے وقت اور آتے وقت الگ الگ راستہ کو اختیار کرنا بھی مشہور ہے.کیا یہ بات شرعا ثابت ہے؟
جواب: حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے موقع پر(جاتے آتے وقت ) الگ الگ راستوں کو اختیار کرتے تھے (بخاری:986)
اس حدیث کی روشنی میں فقہاء نے عید کی نماز کے لیے جاتے وقت طویل راستہ کو اختیار کرنا اور واپسی میں مختصر راستہ کو اختیار کرنا مستحب قرار دیا ہے.
وَأَن يذهب للصَّلَاة فِي طَرِيق طَوِيل مَاشِيا بسكينة وَيرجع فِي آخر قصير (الإقناع في حل الفاظ ابي شجاع ١/ ٣٨٩)
Question no/0204
People usually walk through different roads while going and returning from Eid prayers..Does sharia approve this custom?
Ans; Hazrat Jabir R.A narrated that On the day of Eid,”the Prophet(peace and blessings of Allah be upon him)used to return(after offering the Eid prayer)through the way different from that by which he went” (Sahih Bukhari 986)
In the light of this hadees the jurists (fuqaha) concluded that it is mustahab to prefer the long route while going and short route while returning for Eid prayer..
پیر _4 _جولائی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0205
نماز عید سے پہلے اور بعد میں کسی سنت نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
جواب :۔ امام کے علاوہ دیگر مقتدیوں کے لئے نماز عید سے پہلے اور بعد میں مطلقا سنت نماز یا اشراق و چاشت پڑھنا جائز ہے.
البتہ مسجد یا عیدگاہ میں امام کے حاضر ہونے سے پہلے پہلے تک درست ہے .اور امام کے لئے نماز عید سے پہلے اور بعد میں کسی قسم کی سنت نماز ادا کرنا مکروہ ہے. واضح رہے کہ خصوصیت کے ساتھ عید سے پہلے اور بعد میں کوئی سنت ثابت نہیں ہے.
وإذا حضر جاز أن يتنفل الي ان يخرج الامام لما روى عَنْ أبِي بَرْزَةَ وأنَسٍ والحَسَنِ وجابِرِ بْنِ زيد انهم كانوا يصلون يوم العيد قبل خروج الامام ولانه ليس بوقت منهي عن الصلاة فيه ولا هناك ما هو أهم من الصلاة فلم يمنع من الصلاة كما بعد العيد والسنة للامام أن لا يخرج الا في الوقت الذى يوافي فيه الصلاة (۱)
وَلَا يُكْرَهُ النَّفَلُ قَبْلَهَا) بَعْدَ ارْتِفَاعِ الشَّمْسِ (لِغَيْرِ الْإِمَامِ، وَاَللَّهُ أَعْلَمُ) لِانْتِفَاءِ الْأَسْبَابِ الْمُقْتَضِيَةِ لِلْكَرَاهَةِ، فَخَرَجَ بِقَبْلِهَا بَعْدَهَا. وَفِيهِ تَفْصِيلٌ فَإِنْ كَانَ يَسْمَعُ الْخُطْبَةَ كُرِهَ لَهُ كَمَا مَرَّ وَإِلَّا فَلَا، وَبِبَعْدِ ارْتِفَاعِ الشَّمْسِ قَبْلَهُ فَإِنَّهُ وَقْتُ كَرَاهَةٍ وَقَدْ تَقَدَّمَ حُكْمُهُ فِي بَابِهِ، وَبِغَيْرِ الْإِمَامِ فَيُكْرَهُ لَهُ النَّفَلُ قَبْلَهَا وَبَعْدَهَا لِاشْتِغَالِهِ بِغَيْرِ الْأَهَمِّ وَلِمُخَالَفَتِهِ فِعْلَ النَّبِيِّ (٢)
****مراجع****
۱) المجموع ٦/ ٣٩
٢) مغني المحتاج ٢ /٢٠٥
Question No/0205
What does the sharia say regarding praying any sunnah salah before and after Eid prayer?
Ans; It is permissible for the other muqtadi (except imam) to pray sunnah prayers or ishraq prayer or zuha(chast)prayer before and after Eid prayer..However praying sunnah prayers in masjid and Eidgah is valid before the arrival of Imaam..And it is makrooh for the Imaam to pray any sunnah prayer before and after Eid prayer..But there is no special evidence for offering sunnah prayers before and after Eid prayer..
منگل _5 _جولائی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0206
اگر کوئی شخص نماز عید میں امام کے ساتھ دوسری رکعت میں شامل ہوجائے تو وہ فوت شدہ رکعت میں تکبیرات پڑھے گا یا نہیں؟
جواب:۔ اگر کوئی شخص نماز عید میں امام کی دوسری رکعت میں شامل ہوجائے تو وہ امام کے ساتھ اس رکعت میں پانچ تکبیرات کہے گا. اور اپنی فوت شدہ رکعت میں بھی پانچ ہی تکبیرات کہہ کر اپنی نماز مکمل کرئے گا.
مَسْبُوقٌ الْإِمَامَ فِي أَثْنَاءِ الْقِرَاءَةِ أَوْ وَقَدْ كَبَّرَ بَعْضَ التَّكْبِيرَاتِ الزَّوَائِدِ فَعَلَى الْجَدِيدِ لَا يُكَبِّرُ مَا فَاتَهُ وَعَلَى الْقَدِيمِ يُكَبِّرُ وَلَوْ أَدْرَكَهُ رَاكِعًا رَكَعَ مَعَهُ وَلَا يُكَبِّرُهُنَّ بِلَا خِلَافٍ وَلَوْ أَدْرَكَهُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ كَبَّرَ معه خمسا على الجديد فإذا أقام إلَى فَائِتَةٍ كَبَّرَ أَيْضًا خَمْسًا وَاَللَّهُ أَعْلَمُ(المجموع 129/4)
Question No/0206
If a person joins imam in the second rakah of Eid prayer then should he recite takbeer in the missed rakah?
Ans; If a person joins imam in the second rakah of eid prayer then he should recite takbeer five times along with the imam and also in his missed rakah he should recite takbeer five times and complete his prayer..
جمعرات _14 _جون _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0207
عید کے دن مصافحہ اور مبارک باد دینا اور ملاقات کے وقت "تقبل اللہ منا و منک ” کہنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: عید کے دن خوشی کے اظہارکے لئے ایک دوسرے سے مصافحہ کرنا اور مبارک باد دینا نیز ملاقات کے لیے مذکورہ الفاظ کا پڑھنا مشروع ہے. لہذا آپس میں عید کی مبارکباد دینے میں کوئی حرج نہیں ہے. واضح رہے کہ کوئی اجنبی مرداجنبی عورت سے مصافحہ نہ کرے. یہاں کہ قریبی رشتہ داروں میں کسی نامحرم عورت ولڑکی سے مصافحہ نہ کرے.(مثلا پھوپھی زاد خالہ زاد بہن) اس لئے کہ اجنبی اور غیر محرم عورت سے مصافحہ حرام ہے۔
التھنئة بالعید سنة ….. وکذا بالعام والشھر علی المعتمد مع المصافحة عند اتحاد الجنس (بغیة المسترشدین 112)
وقولہ۔۔ "تقبل الله منا و منك” ای ونحو ذلك مما جرت به العادۃ فی التھنئة .ومنه المصافحة (حاشیۃ الجمل:3/70)
قال القمولي: لم أر لأحد من أصحابنا كلاما في التهنئة بالعيد والأعوام والأشهر كما يفعله الناس، لكن نقل الحافظ المنذري عن الحافظ المقدسي أنه أجاب عن ذلك بأن الناس لم يزالوا مختلفين فيه، والذي أراه أنه مباح لا سنة فيه ولا بدعة.
وأجاب الشهاب ابن حجر بعد اطلاعه على ذلك بأنها مشروعة، واحتج له بأن البيهقي عقد لذلك بابا، فقال: باب ما روي في قول الناس بعضهم لبعض في العيد: تقبل الله منا ومنك، وساق ما ذكر من أخبار وآثار ضعيفة لكن مجموعها يحتج به،( مغني المحتاج 596/1)
Fiqhe Shafi Question No/0207
What does the shariah say with regard to greeting ,shaking hands and saying ‘Taqabballahu minna wa minka’ while meeting each other on Eid day?
Ans; Expressing joy on eid day by shaking hands, greeting eachother and upon meeting the other saying the words mentioned above is allowed.. Therefore, there is nothing wrong with greeting eachother..but one must be careful that no strange man should shake his hand with a strange woman. Even one must not shake his hand with a nonmahram woman of his close relative(Ex : maternal and paternal cousin sisters) because shaking hands with a non mahram woman is forbidden(haram)..
جمعرات _14 _جون _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0208
اگر کوئی شخص ایک مرتبہ نماز عید ادا کرے پھر وہ کسی دوسری جگہ چلا جائے تواس کے لئے نماز عید کے اعادہ کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ اگر کوئی ایک مرتبہ کسی علاقہ میں نماز عید ادا کرنے کے بعد کسی ایسے علاقہ کی طرف منتقل ہوجائے جہاں دوسرے دن عید ہے تو ایسے شخص کے اس علاقہ والوں کے ساتھ نماز عید ادا کرنا سنت ہے جیسا کہ کوئی شخص کسی علاقہ سے نماز مغرب پڑھ کر کسی دوسرے علاقہ میں چلا گیا جہاں اس کے جانے کے بعد غروب ہو رہا ہے تو اس علاقہ کا اعتبار کرتے ہوئے نماز مغرب ادا کرنا واجب ہے۔
(فلو سافر إلى) محل (بعيد من محل رؤيته) من صام به (وافق أهله في الصوم آخرا فلو عيد) قبل سفره (ثم أدركه) بعده.اعادہ
(قوله: أيضا فلو سافر إلى بعيد. . . إلخ) لا يختص هذا بالصوم بل يجري في غيره أيضا على المعتمد حتى لو صلى المغرب بمحل وسافر إلى بلدة فوجدها لم تغرب وجبت الإعادة (حاشية الجمل309/2)
Question No/0208
If a person offer Eid prayer at some place and then he moves to some other place then What does the shariah say with regard to repetition of eid prayer?
Ans; If a person offer eid prayer at some place and then he moves to another place where the next day is next declared as eid then it is sunnah to offer eid prayer along with the people of that place..Its like if a person offer maghrib prayer and moves to some other place where he finds sun as setting after his arrival then with respect to that place offering maghrib prayer is compulsory(wajib)..
جمعرات _7 _جولائی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0209
اگرکوئی شخص شوال کے روزوں کے ساتھ رمضان کے قضا روزہ کی بھی نیت کرے تو کیا شوال کے روزہ کے ساتھ رمضان کے روزہ کی قضاء بھی درست ہوگی؟
جواب:۔ اکثر فقہاء کے مطابق شوال کے روزے کے ساتھ اگر کوئی رمضان کے روزوں کی قضاء کی نیت کرے تو دونوں روزے حاصل ہونگے.اور ثواب بھی ملے گا. لیکن کامل ثواب نہیں ملے گا اس لئے دونوں روزے الگ الگ رکھنا افضل ہے. البتہ بعض فقہاء نے قضاء روزہ کے ساتھ سنت روزہ کے حاصل نہ ہونے کا حکم لگایا ہے.
علَى مَنْ عَلَيْهِ قَضَاءٌ وَإِذَا تَرَكَهَا فِي شَوَّالٍ لِذَلِكَ أَوْ غَيْرِ مُسِنٍّ قَضَاؤُهَا مِمَّا بَعْدَهُ وَتَحْصُلُ السُّنَّةُ بِصَوْمِهَا مُتَفَرِّقَةً وَلَوْ صَامَ فِي شَوَّالٍ أَوْ فِي نَحْوِ عَاشُورَاءَ قَضَاءً أَوْ نَذْرًا أَوْ غَيْرَهُمَا فَحَصَلَ لَهُ ثَوَابُ تَطَوُّعِهِمَا كَمَا أَفْتَى بِهِ الْوَالِدُ – ﵀ تَعَالَى – تَبَعًا لِلْبَارِزِيِّ وَالْإِسْنَوِيِّ وَالنَّاشِرِيِّ، وَالْفَقِيهِ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ الْحَضْرَمِيِّ وصل لَكِنْ لَا يَحْصُلُ لَهُ الثَّوَابُ الْكَامِلُ الْمُرَتَّبُ عَلَى الْمَطْلُوبِ (حاشیۃ الجمل:3/470)
ولو صام في شوال قضاء أو نذرا أو غير ذلك: هل تحصل له السنة أو لا؟ لم أر من ذكره، والظاهر الحصول.
لكن لا يحصل له هذا الثواب المذكور، خصوصا من فاته رمضان وصام عنه شوالا، لأنه لم يصدق عليه المعنى المتقدم، ولذلك قال بعضهم: يستحب له في هذه الحالة أن يصوم ستا من ذي القعدة، لأنه يستحب قضاء الصوم الراتب. (اعانة الطالبين 419/2)
Question No/0209
If a person makes niyah to keep qaza fasts of Ramadhan along with fasts of shawwal will it be valid?? Is it permissible to keep qaza fasts of Ramadhan along with shawwal fasts?
Ans; According to Most of the jurists(fuqaha)if anyone makes niyyah to keep qaza fasts of Ramadhan along with fasts of shawwal then both fasts will be attained and also he will get the reward(Sawaab)but he will not get whole(kamil) of the reward so it is afzal to keep both the fasts separately..However some jurists say along with the qaza fasts,sunnah fasts are not attained..