پیر _3 _نومبر _2025AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1317
نماز میں سردی کی وجہ سے ناک بہنے، تو حالت نماز میں اسے صاف کرنے کا کیا مسئلہ ہے
سردی کی وجہ سے ناک سے پانی بہے تو اس سے وضو نہیں ٹوٹتا اور نہ اس سے نماز پر کچھ اثر پڑتا ہے۔ لہذا نماز میں مشغول شخص ناک سے بہتے ہوئے پانی کو صاف کرے تو اس سے نماز بھی باطل نہیں ہوتی۔ البتہ، زیادہ حرکت سے بچنا چاہیے تاکہ نماز میں خشوع باقی رہے.
قال الامام شمس الدين الرملي والبلغم الصاعد من المعدة نجس بخلاف النازل من الرأس أو من أقصي الحلق أو الصدر فهو طاهر
قال الامام النووي وَمَذْهَبُنَا أَنَّهُ لَا ينتقض الوضوء بخروج شئ من غير السبيلين كدم الفصد والحجامةوالقئ وَالرُّعَافِ
نهاية المحتاج : ١/١٤٧
المجموع : ٢/٦٥
حاشية الجمل:١/٢٧٤
النجم الوهاج: ١/١٧٤
إعانة الطالبين : ١/١٣٤
جمعرات _6 _نومبر _2025AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1318
سفر میں جمع تاخیر کرتے وقت نمازوں کی ترتیب ضروری ہے یا نہیں؟
جمع تأخیر میں ترتیب ضروری نہیں ہے۔ اگر کوئی مغرب کی نماز جمع تأخیر کے ساتھ ادا کرنے کی نیت کرے اور دورانِ سفر عشاء کی جماعت کھڑی ہو تو وہ جماعت کے ساتھ پہلے عشاء کی نماز پڑھے گا۔ بعد میں مغرب کی نماز پڑھے گا۔
قال ابن حجر الهيتمي: واذا آخر الاولي الي وقت الثانية لم يجب الترتيب ولا الموالات بينهما ولا نية الجمع في الولى علي الصحيح لأن الوقت هنا الثانية والأول هي التابعة فلم يحتج لشيئ من تلك الثلاثة لأنها انها اعتبرت ثم لتحقق التبعية لعدم صلاحية الوقت الثانية نعم تسن هذه الثلاثة هنا
تحفة المحتاج:٣/٢٦٥,٢٦٦
حاشية الجمل: ٢/٤٤٥
مغني المحتاج: ١/٤٦٧
المجموع :٤/ ٣١٣
روضة الطالبين: ١/ ٣٩٧
بدھ _19 _نومبر _2025AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1319
سفر میں قصر و جمع کی رخصت حاصل ہونے کے لیے شرعی مسافت کا اعتبار 81 کلو میٹر آمد و رفت کا مجموعی اعتبار ہوگا یا صرف جانے کی مسافت کا اعتبار ہوگا؟
قصر و جمع کی رخصت حاصل کرنے کے لیے شرعی مسافت کا اعتبار صرف ایک طرف کے سفر کا کیا جائے گا۔ دونوں کے مجموعی فاصلہ کا شمار نہیں ہوگا۔ شرعاً قصر و جمع کی اجازت اسی وقت ہوگی جب ایک طرف کا فاصلہ شرعی حد مسافت تقریبا 81 کلو میٹر تک ہوگا۔*
الإمام ابن حجر الهيتمي فرماتے ہیں: فصل في شروط القصر وتوابعها…(طَوِيلُ السَّفَرِ ثَمَانِيَةٌ وَأَرْبَعُونَ مِيلًا) ذَهَابًا فَقَطْ تَحْدِيدًا…(هَاشِمِيَّةٌ)*
(تحفة المحتاج:٢٣٠/٣)
نهاية المحتاج: ٢٥٧/٢
منهج الطلاب:٢٣/١
مغني المحتاج (٥٢١/١)
عجالة المحتاج(٣٤٧/١)
بدھ _19 _نومبر _2025AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1320
نماز میں یا نماز کے باہر قرآن مجید کی تلاوت کے وقت آیت سجدہ آجائے تو سجدہ کرنے کے بعد دوبارہ اعوذ باللہ اور بسم اللہ پڑھنا ضروری نہیں۔
قال الامام إبن حجر الهيتمي رحمه الله : وَيَتَعَوَّذُ كُلَّ رَكْعَةٍ عَلَى الْمَذْهَبِ..وَإِنَّمَا لَمْ يُعِدْهُ لَوْ سَجَدَ لِتِلَاوَةٍ لِقُرْبِ الْفَصْلِ وَأُخِذَ مِنْهُ أَنَّهُ لَا يُعِيدُ الْبَسْمَلَةَ أَيْضًا وَإِنْ كَانَتْ السُّنَّةُ لِمَنْ ابْتَدَأَ مِنْ أَثْنَاءِ سُورَةٍ أَيْ غَيْرِ بَرَاءَةٍ*
(تحفة المحتاج: ١/١٨٨)
قال الامام النووي رحمه الله: التَّعَوُّذُ يُسْتَحَبُّ لكل من يريد الشروع في قراءة أَوْ غَيْرِهَا وَيَجْهَرُ الْقَارِئُ خَارِجَ الصَّلَاةِ بِاتِّفَاقِ القراء يكفيه التَّعَوُّذُ الْوَاحِدُ مَا لَمْ يَقْطَعْ قِرَاءَتَهُ بِكَلَامٍ أَوْ سُكُوتٍ طَوِيلٍ فَإِنْ قَطَعَهَا بِوَاحِدٍ مِنْهُمَا اسْتَأْنَفَ التَّعَوُّذَ وَإِنْ سَجَدَ لِتِلَاوَةٍ ثُمَّ عَادَ إلَى الْقِرَاءَةِ لَمْ يَتَعَوَّذْ لِأَنَّهُ لَيْسَ بِفَصْلٍ أَوْ هُوَ فَصْلٌ يَسِيرٌ
(المجموع: ٣/٢٧١)
أسنى المطالب: ١/١٤٢
النجم الوهاج :٢/١١٠
الغرر البهية (٢/٢٢٥)
پیر _22 _دسمبر _2025AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال/نمبر / 1321
اگر کوئی طویل سفر شروع کرے اور نماز قصر بھی کرے لیکن یہ سفر کسی ضرورت کی وجہ سے مسافت قصر سے پہلے ہی منقطع ہوجائے تو کیا ان پڑھی ہوئی نمازوں کو دوبارہ پڑھنا ہے؟
اگر کوئی طویل سفرشروع کرنے کے بعدنماز قصر وجمع کرے لیکن کسی وجہ سے مسافت قصرسے پہلے سفر منقطع ہوجائے تو وہ نماز قصروجمع جو سفر میں ادا کر چکا ہے تو اُسے دوبارہ ادا کرنا ضروری نہیں،
خطيب الشربيني فرماتے ہیں: وَمَنْ قَصَدَ سَفَرًا طَوِيلًا فَسَارَ ثُمَّ نَوَى… رُجُوعًا عَنْ مَقْصِدِهِ إلَى وَطَنِهِ أَوْ غَيْرِهِ…انْقَطَعَ سَفَرُهُ، سَوَاءٌ أَرَجَعَ أَمْ لَا؛ لِأَنَّ النِّيَّةَ الَّتِي اسْتَفَادَ بِهَا التَّرَخُّصَ قَدْ انْقَطَعَتْ وَانْتَهَى سَفَرُهُ،..وَلَا يَقْضِي مَا قَصَرَهُ أَوْ جَمَعَهُ قَبْلَ هَذِهِ النِّيَّةِ وَإِنْ قَصُرَتْ الْمَسَافَةُ قَبْلَهَا
(مغني المحتاج: 1/459)
حاشية الشرواني على تحفة : 3/243
حاشية القليوبي: 3/305
منگل _6 _جنوری _2026AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 1322
اگر کوئی امام کے تشہد آخیر میں تکبیر تحریمہ کہہ کر شامل ہونے کے بعد بیٹھنے کے لیے جھکا نہیں تھا کہ امام نے سلام پھیر دیا تو یہ مسبوق بغیر بیٹھے ہی نماز مکمل کرے گا ؟
اگر کوئی شخص امام کے ساتھ آخری تشہد میں شامل ہو جائے اور اس شخص کے تشہد میں بیٹھنے سے پہلے ہی امام سلام پھیر دے تو ایسے شخص کو تشہد کے لیے بیٹھنا جائز نہیں ہے بلکہ وہ اسی طرح کھڑے ہو کر اپنی نماز مکمل کرے گا چونکہ امام کے سلام کے پھیرنے کے بعد امام کی متابعت ختم ہوجاتی ہے
قال ابن حجر الهيتمي: اذا سلم الإمام عقب تحرمه لم يلزمه القعود بل لا يجوز له لانقضاء المتابعة الموجبة للموافقة فيما لم يحسب له فيصير جلوسه زيادة في الصلاة وهي مبطلة وإذا احرم ولم يسلم الامام ولم يجلس عامدا عالما بل استمر قائما إلي أن سلم الإمام بطلت صلاته لما فيه من المخالفة الفاحشة… لوجلس بعد الهوي من الاعتدال جلسة يسيرة لم يضر مع أن الموضع ليس موضع جلوس فاتضح بذالك ما ذكرته
(الفتاوي الكبري الفقهية :١/٣٠٦،٣٠٧)
إعانة الطالبين : ٢/ ١٥
حواشي الشرواني علي تحفة المحتاج: ٣/٢٠
پیر _2 _مارچ _2026AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1232
اگر کوئی موذی مرض میں مبتلاء ہو جس کی وجہ سے مسلسل بے اختیار پیشاب جاری رہتا ہو اور وہ شخص طہارت کی حالت میں نہیں رہ سکتا ہو تو ایسے شخص کا قرآنِ مجید پڑھنے اور چھونے کا کیا مسئلہ ہے؟
ایسا بیمار شخص قرآنِ مجید پڑھ بھی سکتا ہے اور اسے ہاتھ میں لے بھی سکتا ہے۔ البتہ جب بھی قرآن ہاتھ میں لے گا اس سے پہلے وضو کرنا ضروری ہے، اگر وضو کے بعد بے اختیار پیشاب جاری ہوجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ وہ شرعی عذر میں داخل ہے۔
الإمام النووي فرماتے ہیں:ولها- أي لمستحاضة- قراءة لقرآن، وإذا توضأت استباحت مسَّ المصحف وحمله.
(المجموع: ٥٤٢/٢)
قال الامام العمراني: ومن به سلس البول والمذي.. حكمه حكم المستحاضة في الشد، والوضوء لكل صلاة؛ لأن ذلك من نواقض الوضوء، فهو كالاستحاضة.
(البيان:٤١٦/١)
ما دامت والدة السائل لا تستطيع أن تحافظ على وضوئها بسبب بعض الأمراض، وكانت غير حافظة للقرآن؛ فإنه يجوز لها تحت حكم الاضطرار- أن تقرأ من المصحف، ولكن بعد أن تتوضأ لمس المصحف، ولا يضرها نقض الوضوء بعد ذلك.
(دار الإفتاء المصرية فتاوى رقم:٤٨٨٧)
پیر _2 _مارچ _2026AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1324
اگر کسی علاقے میں چھ مہینے دن اور چھ مہینے رات ہو، یا سورج طویل مدت تک طلوع یا غروب رہے، تو ایسے مقام پر روزہ کس طرح رکھا جائے گا؟
جن علاقوں میں دن اور رات کے معمول کا نظام متعین نہ ہو یعنی 6 ماہ دن اور6 ماہ رات رہتی ہو جس کی وجہ سے سورج کے طلوع اور غروب کے ذریعے اوقات کا تعین کرنا ممکن نہ ہو تو وہاں نماز، روزہ اور دیگر وقتی عبادات قریبی شہر یا علاقہ کے وقت کا اندازہ لگا کر ادا کرنا لازم ہوگا۔جس طرح نماز کے اوقات کا اندازہ کیا جاتا ہے، اسی طرح روزے کے لیے سحری اور افطار کا وقت متعین کیا جائے گا۔ لہٰذا صبح صادق اور غروب کا وقت قریبی معتدل علاقے کے مطابق مقرر کیا جائے گا اور اسی وقت سے روزہ شروع کیا جائے گا۔ یہی طریقہ دیگر وقتی عبادات اور معاملات میں بھی اختیار کیا جائے گا۔
ﻭاﻋﻠﻢ ﺃﻥ ﻣﺤﻞ ﻛﻮﻧﻬﺎ ﺧﻤﺴﺎ ﻓﻲ اﻟﻴﻮﻡ ﻭاﻟﻠﻴﻠﺔ ﻓﻲ ﻏﻴﺮ ﺃﻳﺎﻡ اﻟﺪﺟﺎﻝ، ﺃﻣﺎ ﻓﻴﻬﺎ ﻓﻘﺪ ﻭﺭﺩ ﺃﻥ ﺃﻭﻟﻬﺎ ﻛﺴﻨﺔ ﻭﺛﺎﻧﻴﻬﺎ ﻛﺸﻬﺮ ﻭﺛﺎﻟﺜﻬﺎ ﻛﺠﻤﻌﺔ، ﻭاﻷﻣﺮ ﻓﻲ اﻟﻴﻮﻡ اﻷﻭﻝ ﺑﺎﻟﺘﻘﺪﻳﺮ ﻭﻳﻘﺎﺱ ﺑﻪ اﻷﺧﻴﺮاﻥ ﺑﺄﻥ ﻳﺤﺮﺭ ﻗﺪﺭ ﺃﻭﻗﺎﺕ اﻟﺼﻼﺓ ﻭﺗﺼﻠﻰ، ﻭﻛﺬا اﻟﺼﻮﻡ ﻭﺳﺎﺋﺮ اﻟﻌﺒﺎﺩاﺕ اﻟﺰﻣﺎﻧﻴﺔ ﻭﻏﻴﺮ اﻟﻌﺒﺎﺩﺓ ﻛﺤﻠﻮﻝ اﻵﺟﺎﻝ، ﻭﻳﺠﺮﻯ ﺫﻟﻚ ﻓﻴﻤﺎ ﻟﻮ ﻣﻜﺜﺖ اﻟﺸﻤﺲ ﻋﻨﺪ ﻗﻮﻡ ﻣﺪﺓ.
نهاية المحتاج:١/٣٦٢
ﺻﺢ ﺃﻥ ﺃﻭﻝ ﺃﻳﺎﻡ اﻟﺪﺟﺎﻝ ﻛﺴﻨﺔ ﻭﺛﺎﻧﻴﻬﺎ ﻛﺸﻬﺮ ﻭﺛﺎﻟﺜﻬﺎ ﻛﺠﻤﻌﺔ، ﻭاﻷﻣﺮ ﻓﻲ اﻟﻴﻮﻡ اﻷﻭﻝ ﻭﻗﻴﺲ ﺑﻪ اﻷﺧﻴﺮاﻥ ﺑﺎﻟﺘﻘﺪﻳﺮ ﺑﺄﻥ ﺗﺤﺮﺭ ﻗﺪﺭ ﺃﻭﻗﺎﺕ اﻟﺼﻠﻮاﺕ ﻭﺗﺼﻠﻰ، ﻭﻛﺬا اﻟﺼﻮﻡ ﻭﺳﺎﺋﺮ اﻟﻌﺒﺎﺩاﺕ اﻟﺰﻣﺎﻧﻴﺔ ﻭﻏﻴﺮ اﻟﻌﺒﺎﺩاﺕ ﻛﺤﻠﻮﻝ اﻵﺟﺎﻝ ﻭﻳﺠﺮﻱ ﺫﻟﻚ ﻓﻴﻤﺎ ﻟﻮ ﻣﻜﺜﺖ اﻟﺸﻤﺲ ﻃﺎﻟﻌﺔ ﻋﻨﺪ ﻗﻮﻡ ﻣﺪﺓ
تحفة المحتاج :١/٤٢٨
ﻓﺄﻃﻠﻖ اﻟﺸﻴﺦ ﺃﺑﻮ ﺣﺎﻣﺪ ﺃﻧﻪ ﻳﻌﺘﺒﺮ ﺣﺎﻟﻬﻢ ﺑﺄﻗﺮﺏ ﺑﻠﺪ ﺇﻟﻴﻬﻢ ﻭﻓﺮﻉ ﻋﻠﻴﻪ اﻟﺰﺭﻛﺸﻲ ﻭاﺑﻦ اﻟﻌﻤﺎﺩ ﺃﻧﻬﻢ ﻳﻘﺪﺭﻭﻥ ﻓﻲ اﻟﺼﻮﻡ ﻟﻴﻠﻬﻢ ﺑﺄﻗﺮﺏ ﺑﻠﺪ ﺇﻟﻴﻬﻢ ﺛﻢ ﻳﻤﺴﻜﻮﻥ ﺇﻟﻰ اﻟﻐﺮﻭﺏ ﺑﺄﻗﺮﺏ ﺑﻠﺪ ﺇﻟﻴﻬﻢ
حاشية الجمل :١/٢٧٠