عورت کے لیے اپنے پیر میں سونے کی چین پہننے کا کیا حکم ہے؟
جواب: حضرت ابوموسی اشعری رض سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے میری امت کی عورتوں کے لیے سونا اورریشم حلال کردیا ہےاورمردوں پرحرام کیا ہے (نسائی :5151)
اس حدیث کی روشنی میں فقہاء فرماتے ہیں کہ عورت کے لیے سونے چاندی کے مختلف قسم کے زیورات پہننے کی اجازت ہے لہذا عورت کے لیے سونے کا ہار ،کنگن نیز پازیب (سونے کی چین )کاپیرمیں پہننااوران جیسی اشیاء کا استعمال جایز ہے.البتہ زیورات کے استعمال میں اسراف سے احتیاط کرنا ضروری ہے.اور عرف میں جتنی مقدارکے زیورات استعمال ہوتے ہیں اسی طرح کے زیورات استعمال کرنا چاہیے.
سوال نمبر/ 0301 اگر کسی معذور شخص کو کوئی آدمی وضو کرا رہا ہو تو وضو کرنے والے پر نیت کرنا فرض ہے یا وضو کرانے والے کو بھی نیت کرنا ہے؟
جواب:۔ اگر کوئی شخص خود وضو کرنے سے عاجز ہو تو اسکو چاہیے کہ وہ کسی دوسرے کو اپنا نائب بنائے،اس صورت میں وضو کی نیت کرنا وضو کرانے والے پر ضروری نہیں ہے بلکہ عاجز انسان پر وضو کی نیت کرنا واجب ہے۔
Question No/0301 If a person is washing the parts of a handicap person for ablution then is it obligatory for the handicapped person to make niyyah of ablution(wudhu) or should the other person also make the niyyah of wudhu?
Ans; If a person himself is unable to do ablution(wudhu)then he must assist some other person to wash away his parts of wudhu for ablution..In this situation it is not necessary for the other person to make niyyah but it is compulsory(wajib)for the unable person to make niyyah of ablution..
عورتوں کے لیے دوران نماز اپنے پیروں میں موزے پہننا ضروری ہے؟
جواب: حضرت ام سلمہ رض نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا ایسی عورت جس کے پاس ازار نہ ہو وہ صرف قمیص پہن کراوردوپٹہ اوڑھ کر نماز پڑھ سکتی ہے توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! جب کہ وہ قمیص اتنا لمبا ہوکہ وہ قدم کے ظاہری حصہ کو بھی چھپالے, (سنن ابی داود:630)
اس حدیث کی روشنی میں امام شافعی رح نے یہ استدلال کیا ہے کہ عورت کے قدم کا ظاہری حصہ بھی نماز کے لیے ستر میں شامل ہے.اسی بناء پر عورت کے لیے نماز میں اپنے قدم کے اوپری حصہ کوچھپانا ضروری ہے چاہے موزہ پہن کرچھپاے یا کپڑا لپیٹ کرچھپاے.
البتہ بہتر یہ ہے کہ مکمل قدم کوچھپالیا جاے جس کے لیے عورت نماز سے قبل موزے پہن لے تاکہ اس کے دونوں قدم چھپ جاے.
فقہ شافعی سوال نمبر / 0303 *جنازہ کی نماز میں امام کہاں کھڑا رہیگا؟*
*میت اگر عورت کی ہو تو نماز جنازہ پڑھاتے وقت امام میت کی کمر کے پاس اور میت اگر مرد کی ہو تو سر کے پاس کھڑا ہوکر نماز پڑھانا مستحب ہے۔*
*عن أبي غالب، قال: صليت مع أنس بن مالك على جنازة رجل، فقام حيال رأسه، ثم جاءوا بجنازة امرأة من قريش، فقالوا: يا أبا حمزة صل عليها، فقام حيال وسط السرير، فقال له العلاء بن زياد: هكذا رأيت النبي صلى الله عليه وسلم قام على الجنازة مقامك منها ومن الرجل مقامك منه؟ قال: نعم. فلما فرغ قال:احفظوا.* (جامع الترمذي/٢٥/: ١٠٣٤ ) *قال الإمام النووي رحمه الله: السنة أن يقف الإمام عند عجيزة المرأة بلا خلاف للحديث، وفي الرجل وجهان :(الصحيح) باتفاق المصنفين وقطع به كثيرون وهو قول جمهور أصحابنا المتقدمين : أنه يقف عند رأسه .* (المجموع :٥ / ١٧٩) *قال الخطيب الشربيني رحمه الله : ويقف المصلي ندبا من إمام ومفرد عند رأس الذكر (الرجل) أو الصغير وعجزها أي الأنثى* (مغني المحتاج :٢/ ٣٧)
عورت کے لیے سجدہ کی حالت میں اپنے ہاتھ کس طرح رکھناچاہیے؟
جواب: حضرت انس رض سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم میں سے کویی سجدہ میں اپنے ہاتھ کتے کے ہاتھ بچھانے کی طرح نہ بچھاے (بخاری:822)
اس حدیث کی روشنی میں مرداورعورت کے لیے اپنے ہاتھ سجدہ میں زمین سے اٹھاے رکھنا سنت ہے .اس لئے سجدہ کے دوران اپنے ہاتھ زمین پربچھانے سے احتیاط کرنا چاہیے تاکہ سنت کے خلاف ورزی نہ ہوسکے.
اگرکسی نے ایسے شخص کوصدقہ دیا جومستحق نہیں تھا تواس کاصدقہ درست ہوگا یانہیں؟نیز اس کوثواب ملے گا یانہیں؟
جواب: حضرت ابوہریرہ رض فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص نے کہاکہ میں رات میں صدقہ کروں گا تووہ صدقہ لے کرنکلا اورایک مالدار کے ہاتھ صدقہ کیاتوصبح لوگ کہنے لگے کہ رات مالدار کوصدقہ دیاگیا لیکن اس سے کہا گیا کہ تیرا صدقہ قبول کیا گیا (مسلم :1022)
اس حدیث کی شرح میں امام نووی رح فرماتے ہیں:کہ مالدار کوبھی صدقہ دینے کی صورت میں ثواب ملے گا (شرح مسلم:3/91)
لہذا نفل صدقہ جس طرح کسی فقیرکودینا درست ہے اسی طرح کسی غیرمستحق بھی دیا جاے تب بھی درست ہے.اوراس صورت میں اس کوثواب بھی ملے گا.البتہ زکاۃ کی رقم کسی غیرمستحق کودینے سے ادا نہیں ہوگی.لہذا زکوۃ اداکرتے وقت مستحق کی صحیح چھابین کرکے ہی دینا چاہیے.
فقہ شافعی سوال نمبر / 0307 *اسلام میں مرد کے لیے سر کے کسی حصے کے بال کو کاٹ کر بالکل چھوٹا کرنا اور کسی حصے کے بال کو بڑا رکھنے کا کیا حکم ہے؟*
*مرد کا سر کے کسی حصے کے بال کو بالکل چھوٹا کرنا اور کسی حصے کے بال کو بڑا کرنے کو قزع کہتے ہیں اور ایسا کرنا منع ہے اگر اس طرح کرنے سے غیروں كے ساتھ مشابہت ہوتی ہے تو ایسا کرنا حرام ہے۔*
*قال الإمام النووي رحمه الله : يكره القزع وهو حلق بعض الرأس لحديث بن عمر رضي الله عنهما في الصحيحين.* (المجموع :١/ ٢٩٥) *قال الإمام العمراني رحمه الله: ويكره أن يترك على بعض رأسه الشعر؛لما روي: عن ابن عمر قال: نهى رسول الله -صلى الله عليه وسلم-عن القزع في الرأس.* (البيان: ٤ / ٤٦٧) *الصحيح لمسلم/٢١٢٠* * سنن أبي داود/٤٠٣١*
فقہ شافعی سوال نمبر / 0308 *نئے اسلامی سال کے موقع پر ایک دوسرے کو مبارکباد دینے کا کیا حکم ہے؟*
نئے اسلامی سال کی آمد پر مبارکباد دینا سنت نہیں ہے بلکہ ایک مباح اور جائز عمل ہے لہذا اگر کوئی نئے اسلامی سال کی آمد پر سنت اور مستحب عمل نہ سمجھتے ہوئے صرف مبارکباد دیتا ہے یا *کل عام وانتم بخیر* کے الفاظ کہتا ہے تو اس کی گنجائش ہے۔
(خاتمة) قال القمولي لم أر لأحد من أصحابنا كلاما في التهنئة بالعيد والأعوام والأشهر كما يفعله الناس لكن نقل الحافظ المنذري عن الحافظ المقدسي أنه أجاب عن ذلك بأن الناس لم يزالوا مختلفين فيه والذي أراه مباح لا سنة فيه ولا بدعة وأجاب الشهاب ابن حجر بعد اطلاعه على ذلك بأنها مشروعة واحتج له بأن البيهقي عقد لذلك بابا فقال باب ما روي في قول الناس بعضهم لبعض في العيد تقبل الله منا ومنكم وساق ما ذكره۔ (تحفة المحتاج في شرح المنهاج وحواشي الشرواني والعبادي :3/56) وسئل رحمه الله: فضيلة الشيخ:لابن عثیمن ما رأيكم في تبادل التهنئة في بداية العام الهجري الجديد؟ الجواب: أرى أن بداية التهنئة في قدوم العام الجديد لا بأس بها ولكنها ليست مشروعة بمعنى: أننا لا نقول للناس: إنه يسن لكم أن يهنئ بعضكم بعضاً، لكن لو فعلوه فلا بأس، وإنما ينبغي له أيضاً إذا هنأه في العام الجديد أن يسأل الله له أن يكون عام خيرٍ وبركة فالإنسان يرد التهنئة. هذا الذي نراه في هذه المسألة، وهي من الأمور العادية وليست من الأمور التعبدية. (لقاء الباب المفتوح:93)
سوال نمبر/ 0309 اگر کسی شخص کا آپریشن ہوا ہو جسکی وجہ سے ایک مہینے تک ڈاکٹر پانی استعمال کرنے سے منع کیا ہو، اگر ایسے شخص کو فرض غسل لاحق ہوجائے تو وہ طہارت کے لئے تیمم کرسکتا ہے؟
جواب: اگر کوئی ایسا شخص جسکا آپریشن ہوا ہو، اگر ایسے آدمی کو فرض غسل لاحق ہوجائے اور کوئی عادل مسلمان ڈاکٹر اگر یہ کہے کہ پانی کا استعمال نقصان دہ ہے تو وہ شخص تیمم کر سکتا ہے۔
Question No/0309 If a person had an operation due to which the doctor has adviced to refrain from the use of water until one month, if fardh ghusl becomes compulsory on this person then can he perform tayammum to attain purity?
Ans; If a person had an operation and if fardh ghusl becomes compulsory on this person but the righteous muslim doctor had adviced that using water would be troublesome for the patient then in this situation he can perform tayammum to attain purity..
سوال نمبر/ 0310 بعض لوگ نماز میں سورہ فاتحہ زبان کو حرکت دیئے بغیر دل ہی میں پڑھتے ہیں کیا اس طرح پڑھنا صحیح ہے؟
جواب:۔ نماز میں سورہ فاتحہ صرف دل ہی دل میں پڑھنے سے فرضیت ساقط نہیں ہوتی لھذا اس طرح نماز نہیں ہوگی، بلکہ زبان کی حرکت اور آہستہ آواز سے سورہ فاتحہ کو اسکے صحیح مخارج کی ادائیگی کے ساتھ پڑھنا بھی واجب ہے۔
صحیح بخاری کی روایت ہے۔ حضرت ابو معمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ظھر اور عصر میں قرات کرتے تھے؟ تو حضرت خباب نے فرمایا جی ہاں ہم نے عرض کیا یہ آپ کو کیسے معلوم ہوا ؟ تو خباب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی داڑھی کی حرکت سے ہم نے جانا۔ (بخاری/760)
————-
علامہ عمراني رحمة الله عليه لکھتے ہیں :
ولا يجزئه أن ينطق بصدره ولا ينطق به لسانه لأن عليه أن يحرك بالقراءة لسانه ويسمع نفسه (البيان..2/187)
امام هيتمى رحمة الله عليه لکھتے ہیں:
ويجري ذلك في كل واجب قولي وعلى أخرس يحسن تحريك لسانه على مخارج الحروف كما بحثه الأذرعي ومن تبعه فتحريك لسانه وشفتيه ولهاته قدر إمكانه لأن الميسور (تحفة المحتاج/1/182)
امام نووی رحمة الله عليه لکھتے ہیں :
أبي هريرة رضي الله عنه:أقرأ بها نفسك فمعناه أقرأها سرا بحيث تسمع نفسك (شرح مسلم 2/78)
Question No/0310 Some people recite surah al fatiha silently in the heart without the movement of the lips and tongue ?
Ans; Reciting surah al fatiha silently in the heart without the movement of the lips and tongue doesn’t fulfill the obligations of salah.. Indeed it is compulsory(wajib) to recite surah al fatiha in a low volume with the movements of the tongue along with the accurate articulation points (makharij)..
Narrated in Sahih Bukhari;
Hazrat Abu Mu’mar R.A reported; We asked the Hazrat Khabbab R.A if the Messenger of Allah(peace and blessings of Allah be upon him) recited the Qirat during Zuhr and Asr prayers?
Hazrat Khabbab R.A said yes, and then we asked, how did you know that?
then Hazrat Khabbab R.A said that We came to know by the movement of his beard…
سوال نمبر/ 0312 اگر کسی عورت کو اس کی عادت کے مطابق دم حیض آکر بند ہوجائے پھر سولہ یا سترہ دن گذرنے کے بعد اسی مہینے میں دوبارہ خون شروع ہوجائے تو یہ خون حیض کا شمار ہوگا یا نہیں؟
جواب:۔ اگر کسی عورت کو اس کی عادت کے مطابق 5/یا6/دن دم حیض آکر بند ہوجائے پھر سولہ (۱٦) یا سترہ (۱۷) دن گذرنے کے بعد اسی مہینے دوبارہ خون شروع ہو جائے تو پھر یہ خون حیض کا کا شمار ہوگا کیونکہ حیض اول اور حیض ثانی کے مابین ایک طہر کامل پایا جارہا ہے اور وہ کم سے کم طہر کامل پندرہ دن کا گزرنا ہے۔
امام نووی رحمة الله عليه لکھتے ہیں:
ﻭﻟﻮ ﺭﺃﺕ ﺧﻤﺴﺔ ﺳﻮاﺩا ﺛﻢ ﻃﻬﺮﺕ ﺧﻤﺴﺔ ﻋﺸﺮ ﺛﻢ ﺭﺃﺕ ﺧﻤﺴﺔ ﺻﻔﺮﺓ ﻓﻌﻠﻰ اﻟﻤﺬﻫﺐ اﻟﺼﻔﺮﺓ ﺣﻴﺾ ﺛﺎني ﻭﺑﻴﻨﻪ ﻭﺑﻴﻦ اﻟﺴﻮاﺩ ﻃﻬﺮ ﻛﺎﻣﻞ. (المجموع:391/2)
امام ماودي رحمة الله عليه لکھتے ہیں:
ﻓﺮﺃﺕ ﺧﻤﺴﺔ ﺃﻳﺎﻡ ﺩﻣﺎ ﺃﺳﻮﺩ، ﺛﻢ ﺧﻤﺴﺔ ﻋﺸﺮ ﻳﻮﻣﺎ ﻃﻬﺮا ﺛﻢ ﺧﻤﺴﺔ ﺃﻳﺎﻡ ﺩﻣﺎ ﺃﺻﻔﺮ، ﻛﺎﻧﺖ اﻟﺨﻤﺴﺔ اﻟﺼﻔﺮﺓ ﻋﻠﻰ ﻣﺬﻫﺐ اﻟﺸﺎﻓﻌﻲ ﺣﻴﻀﺎ؛ ﻟﻮﺟﻮﺩﻫﺎ ﻓﻲ ﺯﻣﺎﻥ ﻳﺠﻮﺯ ﺃﻥ ﻳﻜﻮﻥ ﺣﻴﻀﺎ. الحاوى الكبير400/1)
أمام غمراوي رحمة الله عليه لکھتے ہیں:
ﻭﺃﻗﻞ ﻃﻬﺮ ﺑﻴﻦ اﻟﺤﻴﻀﺘﻴﻦ ﺧﻤﺴﺔ ﻋﺸﺮ ﻳﻮﻣﺎ۔ (السراج الوهاج/38)
Question No/0312 If a woman stops bleeding after her regular days of menses and starts bleeding again after 16 or 17days in the same month, Is this blood considered as menses?
Ans; If a woman stops bleeding after 5 or 6 days of her regular menstruation and then starts bleeding again after 16 or 17 days of the same month then this blood is considered as Menstruation(Haiz) because there she attains a complete gap of purity between first and second menstruation and that is the gap of atleast 15 days of purity…
جواب: حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی انگار پربیٹھے،پھراس کے کپڑے جل جاے یہاں تک کہ اس کی چمڑی نکل جاے یہ اس کے لیے بہتر ہے قبرپر بیٹھنے کے گناہ کے مقابلہ میں (مسلم:2248)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں پربیٹھنے سے منع فرمایا (مسلم:2245)
ان دلائل کی روشنی میں فقہاء نے قبروں پربیٹھنے .کھڑے رہنے اور روندنے کومکروہ قرار دیا ہے.البتہ اگرکوئی عذرہومثلا کسی میت تک پہچنے کے کسی قبرپرسے گذرناناگزیز ہوتوپھراس کی بدرجہ مجبوری گنجائش ہے.(مغنی المحتاج:2/48)
بیوہ عدت میں ہے اسی درمیاں اس کے والد کی وفات ہوگئی توکیا وہ اپنے والدکی زیارت کےلئے میکہ یاکسی اورجگہ جاسکتی ہے ؟
جواب: اللہ تعالی کا ارشاد یے کہ طلاق کی عدت گذارنے والی عورتوں کوگھروں سے باہرمت نکالواورعدت گذارنے والیاں گھروں سے باہرنہ نکلیں (طلاق :1)
امام شافعی فرماتے ہیں کہ جس طرح اس آیت میں طلاق کی عدت گذارنے والی عورتوں کے لیے گھرسے باہرنکلنا جائز نہیں اسی طرح جو عورتیں شوہرانتقال ہونے پرعدت گذاررہی ہوں ان کے لیے بھی گھر سے باہر نکلنا درست نہیں ہے(الام:6/576)
حضرت فریعہ بنت مالک کے شوہر کا انتقال ہونے پرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تم اسی گھرمیں رہو جہاں تمہارےشوہر کی لاش آیی تھی یہاں تک کہ تم عدت مکمل کرلو.فرماتی ہیں کہ میں نے اس گھرمیں چارماہ دس دن عدت مکمل کی (سنن ابن ماجہ:2031)
ان دلائل کی روشنی میں فقہا ء نےعدت گذارنے والی عورت کے لیے بغیر کسی ضرورت کے گھر سے باہر نکلنا ممنوع قرار دیا ہے .اورایک حدیث کی بناء پر ضرورت اورحاجت کی بناء پرگھرسے باہرنکلنے کی گنجایش دی ہے .اب سوال یہ ہے کہ والد کے انتقال پردیدار کے لیے گھرسے باہرنکناحاجت اورضرورت میں داخل ہے یا نہیں؟اس سلسلہ میں فقہاء نے اس کوحاجت میں شامل نہیں کیا ہے .لہذا عدت گذارنے والی عورت کے لیے والد کے انتقال پردیدار کی خاطر گھرسے باہرنکلنے سے گریزکرنا چاہیے اس لیے کہ شرعا اس کی ممانعت ہے (بجیرمی علی الخطیب:2/62)
اگرکوئی عورت اپنے والدکا دیدار کرناہی چاہتی ہے تومیت کواس کے گھر پرلانے میں کوئی حرج نہیں ہے.