جمعرات _23 _اگست _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0270
اگر کسی شخص کو ہدیہ میں قربانی کا گوشت مل جائے یا صدقہ میں دیا جائے تو اسکا بیچنا کیسا ہے؟
جواب :- قربانی کا گوشت اصلا نہیں بیچنا چاہیے ہاں فقراء اور مساکین کے لیے صدقہ میں ملا ہوا قربانی کا گوشت بیچنا جائز ہے، البتہ مالدار یا خوشحال کے لیے ہدیہ میں آیا ہوا قربانی کا گوشت بیچنا صحیح نہیں ہے۔
(لَا تَمْلِيكُهُمْ) مِنْهَا شَيْئًا، فَلَا يَجُوزُ بَلْ يُرْسَلُ إلَيْهِمْ عَلَى سَبِيلِ الْهَدِيَّةِ وَلَا يَتَصَرَّفُوا فِيهِ بِالْبَيْعِ وَغَيْرِهِ، وَاسْتَثْنَى الْبُلْقِينِيُّ أُضْحِيَّةَ الْإِمَامِ مِنْ بَيْتِ الْمَالِ فَيَمْلِكُ الْأَغْنِيَاءُ مَا يُعْطِيهِمْ مِنْهَا. أَمَّا الْفُقَرَاءُ فَيَجُوزُ تَمْلِيكُهُمْ مِنْهَا وَيَتَصَرَّفُونَ فِيمَا مَلَكُوهُ بِالْبَيْعِ وَغَيْرِهِ. (مغني المحتاج235/1) ويهدي ثلثها لأصحابه وجيرانه وإن كانوا أغنياء. إلا أنّ ما يعطي للغني منها ما يكون على سبيل الهدية للأكل، فليس لهم أن يبيعوها، وما يعطي للفقير يكون على وجه التمليك، يأكلها أو يتصرف بها كما يشاء. (الفقه المنهجي)
Question no/ 0270
If a person gets the meat of qurbani as hadiya or if a person gets meat as sadqah then how about selling or buying this meat?
Ans; It is permissible for beggars or needy people to sell the meat of sacrifice which they received as sadqah..However,For the rich people or satisfied ones it is not acceptable to sell the meat of sacrifice which they had received as hadiya..
پیر _31 _اکتوبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0271
پیمپر (pamper) بندھا ہوا بچہ نماز کی حالت میں اگر کسی عورت کی گود میں بیٹھ جائے تو کیا اس صورت میں اس کی نماز پر کوئی اثر پڑیگا ؟
جواب پیمپر (pamper) پہنا ہوا بچہ اگر نماز کی حالت میں کسی عورت کی گود میں آکر بیٹھ جائے اور اس نے نجاست کی ہو تو اس عورت کی نماز باطل ہوجائے گی، اگر نجاست موجود نہ ہو تو پھر اس عورت کی نماز پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔
اما اذا حمل قارورة مصممة الرأس برصاص او نحوه فيها نجاسة، فلا تصح الصلاته علي الصحيح۔ (المجموع:153/3)
ولو حمل قارورة فيها نجاسة، فان لم يكن رأسها مضموما او كان ضمَّا ضعيفا فصلاته باطلة، لانه حامل نجاسة ظاهرة ، وان كان رأسها مضموما ضمَّا وثيقا برصاص وما في معناه فمذهب للشافعي صلاته أيضا باطلة۔ (الحاوي الكبير:365/2)
اتوار _30 _اکتوبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0272
اگر کسی شخص کو ایسی چیز گری پڑی مل جائے جسکے گم ہونے کی مالک کو کوئی پرواہ نھیں ہوتی. ایسی چیز کو اٹھانے کا کیا حکم ہے اور اسکی دلیل کیا ہے؟
جواب :۔ حضرت مقدام بن معدیکرب سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "سنو دانت والے چیر پھاڑ کرنے والے درندے اور پالتو گدھے حلال نھیں ہے اور نہ معاھد کا لقطہ حلال ہے مگر یہ کہ صاحب لقطہ اس سے بےنیاز ہو (ابو داود:3804)
اس حدیث سے فقھاء نے استدلال کیا ہے کہ اگر کوئی شخص ایسی گری پڑی چیز پالے جس کی جانب سے اس کا مالک مستغنی ہو یعنی شیئ یسیر ہو معمولی چیز اور اسکے طلب کرنے کا وہ ارادہ نہ رکھتا ہو یا کوئی جستجو نہ ہو تو ایسی صورت میں وہ اس چیز کا استعمال کرسکتا ہے
امام عمرانی فرماتے ہیں
فان كانت يسيرة بحيث يعلم أن صاحبها لو علم أنها ضاعت منه لم يطلبها كزبيبة أو تمرة وما أشبهها لم يجب تعريفها، له أن ينتفع بها في الحال لما روي انس "ان النبي صلى الله عليه وسلم مر بتمرة مطروحة في الطريق فقال لو لا ان تكون من تمر الصدقة لاكلتها (بخاري: 2431)(البيان 7/438/39)
منگل _1 _نومبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0273
قبر کی کھدوائی پر اجرت لینے کا حکم کیا ہے ؟
جواب :۔ قبر کی کھدوائی پر اجرت لینا جائز ہے۔
امام غزالی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں
وحفرالقبور و دفن الموتي …فان الاستاجار علي جميع ذالك….يجوز (الوسيط:363/2 )
بدھ _2 _نومبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0274
عورت کے لیے شوہر یا محرم مردوں کے ساتھ گھر میں نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟
جواب:۔ مرد کا اپنی بیوی کے ساتھ یا محرم عورتوں کے لیے امامت کرانا بغیر کسی کراہت کے جائز ہے، اس لیے کہ نماز کے علاوہ میں ان لوگوں کے ساتھ خلوت اختیار کرنا مباح ہے اس لیے عورت کا اپنے شوہر یا محرم مردوں کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ہے۔
قال أصحابنا : اذا ام الرجل بامرأته او محرم له وخلا بها جاز بلا كراهة، لانه يباح له الخلوة بها في غير الصلواة. المجموع 241/4
ويصلي الرجل بالنساء ومن وزات محارمه بحرالمذهب 418/2
اتوار _6 _نومبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0275
اگر کسی عورت کا انتقال ہوجائے تو اس کی تجہيز و تکفین کس کے ذمہ ہوگی ؟
جواب:۔ اگر کسی عورت کا انتقال ہوجائے تو اس کی تجہیز و تکفین اس کے شوہر کے ذمہ ہوگی، اگر اس کے شوہر کے پاس مال نہ ہو تو میت کے مال سے ہی اس کی تجہیز و تکفین کی جائے گی۔ اگر میت کے پاس کچھ مال نہ ہو اور اس کا شوہر اور جس کے ذمہ اس کا نفقہ ہو وہ بھی تنگدست ہو تو پھر مسلمانوں کے بیت المال سے یا مالدار مسلمانوں کے ذمہ اس کی تجہیز و تکفین ہوگی ۔
قال الامام النووي رحمة الله عليه ويجب علي الزوج كفنها ومونة تجهيزها علي الأصح، فعلي هذا لو لم يكن للزوج مال ففي مالها ، وأما اذا لم يترك الميت مالا ،ولا كان له من يلتزمه نفقته، فيجب كفنه ومونة تجهيزه في بيت المال، وإذا لم يكن في بيت المال مال فعلي عامة المسلمين الكفن ومونة التجهيز۔ (روضة الطالبين 625/1)
اتوار _6 _نومبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0276
قرآن کریم کی تلاوت کے وقت قبلہ رخ بیٹھنے کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔اللہ تعالی کا ذکرکرتے وقت قبلہ رخ ہونا مستحب ہے۔اور چونکہ قرآن کریم کی تلاوت بھی افضل ذکر ہے۔ اس لئے تلاوت کے وقت قبلہ رخ بیٹھنا مستحب ہے، اگر کوئی بلا عذر چھوڑدے تو مکروہ نہیں ہے البتہ افضلیت کو چھوڑنے والا شمار ہوگا۔
و ينبغي ان يكون الذاكر على اكمل الصفات فإن كان جالسا فى موضع استقبل القبلة و جلس متذللا متخشعا بسكينة و وقار مطرقا رأسه ولو ذكر على غير هذه الاحوال جاز ولا كراهة في حقه لكن إن كان بغير عذر كان تاركا للأفضل۔(الأذكارللنووي/ 13 )
پیر _7 _نومبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0277
بدن کا رنگ دکھائے دینے والے چست اور باریک کپڑوں میں عورت کے لیے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ اگر کپڑا ایسا ہو جس سے بدن کا رنگ نظر آرہا ہو تو ایسے کپڑے میں نماز پڑھنا درست نہیں ہے اس لیے کہ نماز صحیح ہونے کے لیے ستر کا ایساہونا بھی شرط ہے جس سے چمڑی کا رنگ نظر نہ آتا ہو ، لھذا ایسے کپڑے پر نماز پڑھنا جس سے بدن کا رنگ اور جسم کی ساخت پوری طرح معلوم ہو جس سے ستر کا مقصود فوت ہو تو ایسےکپڑے میں نماز پڑھنا صحیح نہیں ہے۔ اگر جسم کی ساخت پوری طرح ظاہر ہوتی ہولیکن رنگ ظاہرنہ ہو تو ایسے کپڑے میں عورت کے لیے نماز پڑھنا مکروہ ہے اور مرد کے لیے خلاف اولی ہے ۔
علامہ خطیب شر بنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
شروط الصلاة خمسة….. وستر العورة والعورة ما سوي الوجه والكفين، وشرطه اَي الساتر ما اَي جرم منع لون ادراك البشرة لا حجمها، فلا يكفي ثوب رقيق ولا مهلهل ولا يمنع ادراك اللون، ولا زجاج يحكي اللون لان مقصود الستر لا يحصل بذالك، أما ادراك الحجم فلا يضره لكنه للمرأة مكروه ۔(مغنی المحتاج 1/317-319)
منگل _8 _نومبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0278
اگر کسی میت کی نماز جنازہ صرف عورتیں ادا کرے تو کیا مردوں کی طرف سے بھی فرض کفایہ ساقط ہوجائے گا ؟
جواب:۔ حضرت عایشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ جب حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو نبی کریم صلی الله عليه وسلم کی ازواج مطہرات نے یہ بیغام بھیجا کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے جنازے کو مسجد میں سے گذارا جاے تاکہ وہ (عورتیں) ان پر نمازے جنازہ پڑھے صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین نے ایسا ہی کیا۔ لہذا جنازے کو نماز کیلے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کے حجرے کے پاس رکھا گیا پھر عورتوں نے ان پر نماز جنازہ پڑھی (مسلم: 100)
اس حدیث کی روشنی میں مردوں کی طرح عورتوں کے لیے بھی نمازجنازہ مشروع ہے۔ البتہ اگر مرد حضرات میت پر موجود ہیں تو صرف عورتوں کے نماز پڑھنے سے فرض کفایہ ساقط نہیں ہوگا، لیکن مرد حضرات موجود نہیں ہیں تو صرف عورتوں کے نماز پڑھنے سے فرض ساقط ہوجائے گا۔
ولا تسقط بالنساء وهناك رجال أما إذا لم يكن غيرهن فتلزمهن وتسقط بفعلهن ولھن تسن الجماعة (حاشية الجمل 3/193-94)
بدھ _9 _نومبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0279
اگر کوئی شخص پاک ہو اور وضو کے ساتھ تلاوت کر رہا ہو، دوران تلاوت ریح خارج ہو جائے تو کیا اس کے لئے تلاوت روک کر وضو کرنا ضروری ہے یا وہ تلاوت جاری رکھ سکتا ہے؟
جواب:۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ہر حال میں قرآن سکھاتے تھے مگر یہ کہ آپ جنبی ہو۔(ترمذی:146)
اس حدیث سے فقھاء نے استدلال کیا ہے کہ جنبی کے لئے ہر حالت میں قرآن کو چھونا یا پڑھنا حرام ہے، البتہ غیر جنبی کے لئے بغیر وضو کے قرآن کو ہاتھ لگائے بغیر تلاوت کی گنجائش ہے نیز باوضو پڑهنا مستحب ہے ، مگر قرآن کو چھونے لئے وضو شرط ہے.
قوله (يقرئنا القرآن) اي يعلمنا (على كل حال ) اي متوضئا كان او غير متوضئي (مالم يكن جنبا ) قوله: (قالوا يقرأ الرجل القرآن علي غير وضوء ) اي يجوز له ان يقرأ علي غير وضوء، والستدلوا على ذلك بحديث الباب ولا يقرأ في المصحف اي اخذا بيده وما شابه فانه اذا لم يمسه ويقرأ ناظرا فيه فهو جائز (الا وهو طاهر ) اي متوضئ (تحفة الاحوذي 1/401/402
قال الروياني :۔واما ما يستحب له الطهارة ولا تجب كقراءة القرآن۔(بحر المذهب 1/87)
ہفتہ _12 _نومبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0280
اگر کوئی شخص نماز کا وقت شروع ہوجانے کے بعد تنہا نماز پڑھنا چاہتا ہو تو کیا وہ آذان دیے بغیر تنہا نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں ؟
جواب:۔ اگر نماز کا وقت شروع ہو چکا ہو اور وہ کسی وجہ سے تنہا نماز پڑھنا چاہتا ہو تو آذان دئیے بغیر بھی تنہا نماز پڑھ سکتا ہے اور اس کی نماز بھی صحیح ہوجائے گی اس لیے کہ آذان کا دینا سنت ہے واجب نہیں ہے۔
مذهبنا المشهور إنهما سنة لكل الصلوات في الحضر والسفر للجماعة والمنفرد ولا يجبان بحال فان تركها صحت صلوة المنفرد والجماعة ۔(المجموع ٩٠/٣)
پیر _14 _نومبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0281
اگر کسی علاقے میں ایک سے زیادہ آذانین ایکے بعد دوسری سنائی دے رہی ہو تو آذان کا جواب دینے کا کیا طریقہ ہے؟
جواب:۔ اگر کسی علاقے میں ایک سے زائد آذان کی آوازیں سنائی دیتی ہو تو آذان کا آواز سننے والے کو چاہیے کہ وہ ہر آذان کا جواب دے، البتہ پہلے سنائی دینے والی آذان کا جواب دینا زیادہ بہتر ہے۔
علامه زکریا انصاری فرماتے ہیں
وان تعتدوا اي المؤذنون وترتبوا في أذانهم اجاب السامع الكل والاول اولى بالاجابة لتاكره لانه يكره تركه۔(اسنی المطالب 1/273)
پیر _14 _نومبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0282
اگر کوئی شخص عمامہ پہنا ہو اور وہ سر کے کسی حصہ میں مسح کرے تو کیا اس کے سر کا مسح صحیح ہوگا یا نہیں؟
جواب:۔ اگر کوئی شخص عمامہ پہنا ہو اور وہ سر کے پچھلے حصہ کا مسح کرے اور عمامہ پر مسح نہ کرے تب بھی سر کے مسح کا فرض ادا ہوجائے گا اس لیے کہ سر کے مسح میں شرط یہ ہے کہ جن بالوں پر وہ مسح کر رہا ہو وہ بال سر کے حدود سے باہر نہ ہو، نہ آگے کی جانب سے سر سے باہر نہ ہو اور نہ پیچھے کی جانب سے بھی سر کے حصہ سے باہر نہ ہو۔ البتہ اگرکوئی بالوں پر مسح کے بغیر صرف عمامہ پر مسح کرے تو فرض ادا نہیں ہوگا۔ جس کی بناء پر وضو درست نہیں ہوگا۔
علامه عمرانی رحمة الله عليه فرماتے ہیں۔
فان كان علي راْسه عمامة ولَم يرد نزعتها فالمستحب، وان يمسح بناصيته ويتمم المسح على العمامة،لما روي المغيرة بن شعبة: ان النبي صلى الله عليه وسلم مسح بناصيته وعلى عمامته،فان اقتصر على مسح العمامة لم يجزئه (البيان 1/227)
علامہ کردی رحمة الله عليه فرماتے ہیں
الرابع مسح شيء … من شعرة الرأس .. اومن شعرہ …. في يده بحيث لا يخرج الممسوح من الرأس بالمد من جهة نزوله من اَي جانب كان۔(شرح المقدمة الحضرمية على الحواشي المدنية 1/69)
منگل _15 _نومبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0283
سلام پھیرنے کے بعد امام کے لیے بیٹھنے کا کیا طریقہ ہے؟
جواب:۔ نماز کے بعد امام کے لیے دائیں جانب رخ کرکے بیٹھنا افضل ہے البتہ امام اگر بائیں جانب یا مقتدیوں کی طرف رخ کرکے بیٹھنا چائیے تو بھی جائز ہے لیکن افضل طریقہ پرعمل کرتے ہویے امام نماز مکمل کرنے کے بعد دائیں جانب رخ کرکے بیٹھے۔
حضرت سدی سے روایت ہے میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ جب میں نماز پڑوں تو سلام کے بعد کس طرف رخ کرکے بیٹھوں؟ دائیں جانب یا بائیں جانب ؟ تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر دائیں جانب رخ کرکے بیٹھتے ہوئے دیکھا ہے۔(مسلم /١٦٧٤)
اسی طرح بخاری کی روایت میں راوی حدیث حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر اوقات نماز مکمل کرنے کے بعد اپنی بائیں جانب مڑ کر بیٹھے ہوے دیکھا۔(بخاری٨٥٢)
(ﻗﺎﻝ اﻟﺸﺎﻓﻌﻲ) ﻓﺈﺫا ﻗﺎﻡ اﻟﻤﺼﻠﻲ ﻣﻦ ﺻﻼﺗﻪ ﺇﻣﺎﻣﺎ، ﺃﻭ ﻏﻴﺮ ﺇﻣﺎﻡ ﻓﻠﻴﻨﺼﺮﻑ ﺣﻴﺚ ﺃﺭاﺩ ﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﺣﻴﺚ ﻳﺮﻳﺪ ﻳﻤﻴﻨﺎ، ﺃﻭ ﻳﺴﺎﺭا، ﺃﻭ ﻣﻮاﺟﻬﺔ ﻭﺟﻬﻪ، ﺃﻭ ﻣﻦ ﻭﺭاﺋﻪ اﻧﺼﺮﻑ ﻛﻴﻒ ﺃﺭاﺩ ﻻ اﺧﺘﻴﺎﺭ ﻓﻲ ﺫﻟﻚ ﺃﻋﻠﻤﻪ ﻟﻤﺎ ﺭﻭﻱ ﺃﻥ اﻟﻨﺒﻲ – ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ – ﻛﺎﻥ ﻳﻨﺼﺮﻑ ﻋﻦ ﻳﻤﻴﻨﻪ ﻭﻋﻦ ﻳﺴﺎﺭﻩ ﻭﺇﻥ ﻟﻢ ﻳﻜﻦ ﻟﻪ ﺣﺎﺟﺔ ﻓﻲ ﻧﺎﺣﻴﺔ، ﻭﻛﺎﻥ ﻳﺘﻮﺟﻪ ﻣﺎ ﺷﺎء ﺃﺣﺒﺒﺖ ﻟﻪ ﺃﻥ ﻳﻜﻮﻥ ﺗﻮﺟﻬﻪ ﻋﻦ ﻳﻤﻴﻨﻪ ﻟﻤﺎ «ﻛﺎﻥ اﻟﻨﺒﻲ – ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ – ﻳﺤﺐ اﻟﺘﻴﺎﻣﻦ» ﻏﻴﺮ ﻣﻀﻴﻖ ﻋﻠﻴﻪ ﻓﻲ ﺷﻲء ﻣﻦ ﺫﻟﻚ ﻭﻻ ﺃﻥ ﻳﻨﺼﺮﻑ ﺣﻴﺚ ﻟﻴﺴﺖ ﻟﻪ ﺣﺎﺟﺔ ﺃﻳﻦ ﻛﺎﻥ اﻧﺼﺮاﻓﻪ۔(کتاب الام:98)
ﺇﺫا ﺃﺭاﺩ ﺃﻥ ﻳﻨﻔﺘﻞ ﻓﻲ اﻟﻤﺤﺮاﺏ ﻭﻳﻘﺒﻞ ﻋﻠﻰ اﻟﻨﺎﺱ ﻟﻠﺬﻛﺮ ﻭاﻟﺪﻋﺎء ﻭﻏﻴﺮﻫﻤﺎ ﺟﺎﺯ ﺃﻥ ﻳﻨﻔﺘﻞ ﻛﻴﻒ ﺷﺎء ﻭﺃﻣﺎ اﻷﻓﻀﻞ ﻓﻘﺎﻝ اﻟﺒﻐﻮﻱ اﻷﻓﻀﻞ ﺃﻥ ﻳﻨﻔﺘﻞ ﻋﻦ ﻳﻤﻴﻨﻪ۔(المجموع:3/454)
بدھ _16 _نومبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0284
حیض اور نفاس والی عورت یا جنبی کے لیے قرآن مجید کی ایات لکھنے یا کمپوزنگ کرنے کا کیا حکم ہے ؟
جواب:۔ اگر حیض اور نفاس والی عورت یا جنبی شخص کسی ایسی چیز یعنی کاغذ یا تختی پر قرآن مجید لکھ رہا ہو جسے چھونے اور اٹھا نے کی ضرورت پیش آتی ہو تو ایسی صورت میں حیض اور نفاس والی عورت کے لیے قرآن مجید کی آیات لکھنا جائز نہیں ہے اگر ایسی چیز پر لکھ رہا ہو جسے ہاتھ سے چھونے یااٹھانے کی ضرورت پیش نہ آتی ہوجیسے کمپوزنگ کرنا تو ایسی صورت میں حیض اور نفاس والی عورت اور جنبی شخص کے لئے قرآن مجید لکھنے یا کمپوزنگ کرنے کی اجازت ہے ۔
اذا كتب المحدث او الجنب مصحفًا نظر ان حمله و مسه في حال كتابته حرم، وإلا فصحيح جوازه لانه غير حامل ولا ماس ۔(المجموع ٧٨/٢)