سوال نمبر/ 0240 اگر کسی کی نصاب کے بقدر یا اس سے کم رقم کسی شخص کے ذمہ قرض ہو تو کیا اس رقم کی بھی زکات نکالنا ضروری ہے؟
جواب:۔اگر کسی کی رقم دوسرے کے ذمہ بطور قرض واجب الادا ہے تو مالک رقم پر اس کی زکات واجب ہوتی ہے. البتہ جس قرض کی واپسی کا وقت ہوا ہو اور واپسی ممکن بھی ہو تو فی الحال تواس کی زکاۃ نکالنا واجب ہے. چاہے وہ واپس نہ لے. کیونکہ وہ واپس لینے پر قادر ہے تو گویا کہ اسی کے ہاتھ میں ہے.اگر قرض کی ادائیگی کا وقت نہ ہوا ہو یا ہوگیا ہو لیکن فی الحال وصول کرنا ممکن نہ ہو یا قرض لینے والا انکار کررہا ہو تو آئندہ جب بھی قرض وصول ہو یعنی قبضہ اور حصول کے بعد گذشتہ سالوں کے ساتھ آئندہ سال گذرنے پر اس سالوں کی زکات واجب ہوگی ۔(روضۃ الطالبین 2/194)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0241 اگر کسی آدمی کا کسی پر قرض ہو اور مقروض ادابھی نہیں کر رہا ہے تو کیا اس پیسے پر ہم زکات کی نیت کرکے چھوڑ سکتے ہیں ؟ اور اس سے زکوۃ ادا ہوگی؟
جواب: اگر مقروض قرض ادا نہیں کر رہا ہے تو قرض دینے والا قرض کی رقم میں زکوۃ کی نیت سے اس قرض کو زکوۃ میں شمار نہیں کرسکتا. یہاں تک کہ وہ اس مال پر قبضہ کرے پھر دوبارہ اسی مقروض کوجب کہ وہ مستحق ہو یا کسی اور مستحق کو زکوۃ دے دے (الاقناع:1/332)
اگرکسی شخص کے پاس نصاب کے بقدر مال ہو لیکن وہ شخص مقروض بھی ہو تو کیا اس شخص پر زکات واجب نہیں ہوگی؟
جواب: کسی کے پاس بقدر نصاب مال ہو اور اس پر اتنا ہی یا اس سے زیادہ قرضہ ہو تو اس صورت میں موجودہ مال کی زکات ادا کرنا واجب ہے. قرض کی وجہ سے زکات ساقط نہیں ہوگی. اس لئے کہ موجودہ مال ہی سے قرض ادا کرنا کوئی متعین نہیں ہے۔
بعض بلڈر حضرات بڑی بڑی عمارتیں بناکر اس کے فلیٹ فروخت کرتے ہیں یا کبھی کرایہ پر دیتے ہیں تواس طرح کی عمارتوں کی زکاۃ نکالنا واجب ہے ؟
جواب: جو عمارتیں براے فروخت ہوتی ہیں جیسا کہ دور حاضر میں فلیٹ فروخت کئے جاتے ہیں ایسی عمارتوں کی قیمت نصاب کے بقدر ہو اور ایک سال گذر جائے تو مالک پر زکاۃ واجب ہوگی بشرط یہ کہ عمارت کی تعمیر براے فروخت مکمل ہوچکی ہو . لیکن وہ عمارتیں جن سے کرایہ کے طورپر آمدنی حاصل ہوتی ہے. جیسا کہ جہاز فیکٹری.اور کاریں جو برائے کرایہ ہوں اور جانوروں کے فارم یا پولٹری فارم ایسے آمدنی کے وسائل پر براہ راست زکوۃ واجب نہیں ہے بلکہ ان سے ہونے والی آمدنی پر زکوۃ واجب ہے بشرطیکہ وہ بقدر نصاب ہو.اور اس پراسلامی ایک سال مکمل گذر چکا ہو.اس صورت میں 5ء2 زکوۃ واجب ہوگی. (الفقہ الاسلامی وادلتہ:3/1948)
اگر کسی عورت کےپاس مہرکی رقم موجود ہو یا زیورات ہوں تو کیا اس پر زکوۃ واجب ہوگی؟
جواب:۔ اگرکسی عورت کے پاس بطور مہر نصاب زکوۃ کے بقدر رقم موجود ہو اوراس پر ایک سال مکمل ہوگیا ہو تو اس کی زکاۃ نکالنا واجب ہے. مہر اگر زیورات کی شکل میں ہے.اور ان زیورات کو پہننے کی نیت کے بغیر ذخیرہ اندوزی کی نیت سے اپنے پاس رکھی ہوئی ہے۔ تواس پر بھی زکوۃ واجب ہوگی. البتہ ان زیورات کو پہننے اور استعمال کی نیت سے رکھی ہوئی ہے تو اس میں زکوۃ واجب نہ ہوگی. اس لیے کہ استعمال کی نیت کی بناء پر وہ زیورات حلی مباح میں شمار ہوں گے. اور عندالشوافع حلی مباح میں زکوۃ واجب نہیں ہے. (مغني المحتاج 142/2)
جواب: حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو اپنے سروں کو حلق کرنے سے منع فرمایا ہے (ترمذی 914)
حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد أزواج مطهرات اپنے بالوں کو تراش کر کم کر دیا کرتی تھیں یہاں تک کہ وہ کانوں کی لو سے بهی اوپر ہوجاتے (مسلم 320)
فقہاء کرام نے ان احادیث سے استدلال کیا ہے کہ عورت کے لئے حلق کرنا مکروہ ہے البتہ ان کے لئے بالوں کوکسی عذر کی بناء پر باریک کرنے کی گنجائش ہےاسی طرح شوہر کی خاطر زینت کی غرض سے بالوں کوباریک کرنے کی گنجائش ہے۔
واضح رہے کہ اگر کوئ عورت فیشن یااہل مغرب کی تقلید میں بال کٹواتی ہے یا غیر شادی شدہ عورت زینت کے لیے باریک کرتی ہے تو اس کی گنجائش نہیں ہے. بلکہ یہ عمل حرام ہے۔ (المجموع 8 /210)
قبرکی زیارت کاکیاحکم ہے؟نیز احتلام کی حالت میں قبرستان جانا جائز ہے ؟
جواب : حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے تم کو قبرستان کی زیارت سے منع فرمایا تھا پس اب تم قبروں کی زیارت کرو (مسلم 997)
فقہاء کرام نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ مردوں کے لئے قبروں کی زیارت کرنا سنت ہے.نیز زیارت کے لئے طہارت مسنون ہے، لہذا اگر کوئ شخص احتلام کی حالت میں ہو تو اس کے لئے سنت ہے کہ طہارت حاصل کرکے چلا جائے البتہ جنابت کی حالت میں قبرستان جانا جائز ہے،لیکن بہترنہیں ہے-
سوال نمبر/ 0247 گلف میں بارش ہوتی ہے تو ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کر کے پڑھتے ہیں، کیا اس طرح بارش کی وجہ سے نمازوں کو جمع کرسکتے ہیں؟
جواب:۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر و عصر کو بغیر کسی خوف اور سفر کے دو نمازوں کو جمع کرکے پڑھا۔ (مسلم:٧٠٥)
فقہاء کرام نے اس حدیث سے استدلال کرتے ہوے اس بات کی صراحت کی ہے کہ بارش کے وجہ سے دو نمازوں کے درمیان جمع تقدیم کر سکتے ہیں، نہ کہ جمع تاخیر، اور اس طرح دو نمازوں کو جمع کرنے کے لیےدو شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ دونوں نمازوں کی ابتداء اور پہلی نماز کى انتہاء پر بارش کا جاری رہنا ضروری ہے، اور دوسری شرط یہ ہے کہ جمع نماز جماعت کے ساتھ کسی دور مسجد میں ہو، جہاں تک پہنچنے میں راستہ میں تکلیف ہوتی ہو، اور مسجد کے دور ہونے میں عرف کا اعتبار ہوگا، لہذا گلف میں بارش کی وجہ سے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو ان دونوں شرطوں کے پائے جانے پر جمع کرکے پڑھ گسکتے ہیں۔
قال الإمام الشربيني:
(ويجوز الجمع بالمطر تقديما، والجديد منعه تاخيرا، وشرط التقديم وجوده) أي المطر (أولهما) أي الصلاتين (والأصح اشتراطه عند سلام الأولى…والأظهر تخصيص الرخصة بالمصلي جماعة بمسجد بعيد) عن باب داره عرفا۔ مغني المحتاج:٤٦٩\١
قال أصحاب الفقه المنهجي:
ﻭﻳﺸﺘﺮﻁ ﻟﻬﺬا اﻟﺠﻤﻊ اﻟﺸﺮﻭﻁ اﻟﺘﺎﻟﻴﺔ:
1ـ ﺃﻥ ﺗﻜﻮﻥ اﻟﺼﻼﺓ ﺟﻤﺎﻋﺔ ﺑﻤﺴﺠﺪ ﺑﻌﻴﺪ ﻋﺮﻓﺎ، ﻳﺘﺄﺫﻯ اﻟﻤﺴﻠﻢ ﺑﺎﻟﻤﻄﺮ ﻓﻲ ﻃﺮﻳﻘﻪ ﺇﻟﻴﻪ
2ـ اﺳﺘﺪاﻣﺔ اﻟﻤﻄﺮ ﺃﻭﻝ اﻟﺼﻼﺗﻴﻦ، ﻭﻋﻨﺪ اﻟﺴﻼﻡ ﻣﻦ اﻷﻭﻟﻰ۔. الفقه المنهجي:١٩١\١. النجم الوهاج:٤٣٧\٢. حاشية الجمل:٤٤٥\٢
Question No/0247 In Gulf countries, zuhr and Asr prayers and maghrib and Isha prayers are combined due to rain, Is it permissible to combine two prayers due to rain?
Ans; Hazrat Ibn Abbas R.A narrated that the Messenger of Allah(peace and blessings of Allah be upon him)combined prayers of zuhr and asar in Madina without being in a state of fear or a state of journey..(Sahih muslim 705)
By the evidence of this hadeeth The jurists(fuqaha)elucidated that due to rain two prayers can be combined together as Jama e taqdim and not Jama e takhir..And there are two conditions for combining two prayers together.. The first condition is that while the begining of two prayers and the end of first prayer the rain must be continous and the second condition is that the combined prayers must be prayed with congregation in a distant masjid to which the route possess difficulty and the distance of masjid will be considered based on the Alias.. Therefore in gulf countries it is permissible to combine two prayers of zuhr and asr or maghrib and Isha only if these two conditions are found..
اگر کوئ شخص میت کی طرف سے بطور ثواب کوئی چیزیارقم مسجد کو دے رہا ہے تو مسجد کے لئے اسےاستعمال کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب انسان مرجاتا ہے تو اسکے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں سوائے تین اعمال کے .صدقہ جاریہ یا ایسا علم جس کے ذریعہ سے لوگ فائدہ اٹھائے یا نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرے (مسلم 1631)
فقہاء کرام نے مذکورہ حدیث سے استدلال کیا ہے کہ میت کی طرف سے صدقہ جاریہ کرنا جائز ہے اور اس کا ثواب میت کو مل جاتا ہے،مثلامیت کی طرف سے وقف کرنا،کنواں بنانا یا مسجد بنانا جائز ہے،لہذامیت کی طرف سے ثواب کی نیت سےدی ہوئی رقم کومسجدکے کسی کام میں خرچ کرنادرست ہے- (مغني المحتاج 4/110)
جواب: حضرت جابر بن عبد الله رضي الله عنه فرماتے ہیں: رسول الله صلي الله عليه وسلم نے ہمیں خیبر کے گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا اور گھوڑے کا گوشت کھانے کی اجازت دی (بخاری 5524)
مذکورہ حدیث سے فقہاء کرام یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ گھوڑ ے کا گوشت کھانا حلال ہے
جواب : کیکڑے کی دو قسمیں ہیں جو کیکڑا پانی کے باہر زندہ نہیں رہتا تو اس طرح کے کیکڑوں کو کھانا جائز ہے ۔ اور جو پانی کے اندر اور باہر بھی زندہ رہتا ہے تو اس کا کھانا جائز نہیں ہے ۔
"مايعيش في الماء وإذا خرج منه كان عيشه عيش المذبوح كالسمك بانواعه فهو حلال لا حاجة الي ذبحه بلا خوف ” (المجموع شرح المهذب29/9)
"مايعيش فيه وإذا اخرج منه كان عيشه عيش المذبوح كالسمك بانواعه فهو حلال وأما ماليس علي صورة السمك المشهورة ففيه ثلاثة أوجه أصحها يحل مطلقا ” (روضة الطالبين 271/3)
نوٹ : اس جواب کو دارالافتاء جامعہ اسلامیہ بھٹکل سے لے کر لیا گیا ہے
*فقہ شافعی سوال نمبر/ 0251
اگر حیض و نفاس کی وجہ سے طواف وداع چھوٹ جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
اگر طواف وداع حیض یا نفاس کی وجہ سے چھوٹ جائے تو اس عورت پر دم واجب نہیں ہوگا اور گناہ بھی نہ ہوگا. اس لیے کہ حالت حیض و نفاس میں طواف وداع واجب نہیں ہے. اعانة الطالبين:277/2
بشري الكريم:521/6
Question no/ 0251
If tawaf e wada or any farz tawaf get missed because of some reason then What does the shariah say regarding this?
Ans: If tawaf e wada get missed due to some reasons like menstruation or nifaas or the wounds that pollute the mosque then they dont have to pay any atonement(Dam) nor will it be a sin.. If a person misses any farz tawaf then his/her hajj will not be valid and he/she must be in the state of ehram unless he/she performs farz tawaf…
سوال نمبر/ 0252 ایک عورت حج کو جانے والی تھی اور اسی ماہ اسکے شوہر کا انتقال ہو گیا. کیا اب اس عورت کیلئے سفر حج کی اجازت ہے؟
جواب : اللہ رب العزت کا ارشاد گرامی ہے "جو لوگ تم میں سے فوت ہو جائے اور بیویاں چھوڑدیں تو وہ بیویاں اپنے آپ کو چار ماہ دس دن روکے رکھیں
آیت کریمہ میں عورت کیلئے شوہر کے انتقال کے بعد چار ماہ دس دن عد ت گذارنے کا حکم دیا گیا ہے.اور اس عدت میں عورت کیلئے گھر سے باہر نکلنا ممنوع ہے.لہٰذا کسی عورت پر عدت واجب ہونے کے بعد حج وعمرہ کا احرام باندھ کر حج وعمرہ کے سفر پر جانا بھی ممنوع ہے, البتہ احرام کے بعد عدت واجب ہو جائے تو ایسی عورت کیلئے سفر حج و عمرہ کی گنجائش ہے.ایسی عورت اپنا حج و عمرہ پورا کرے گی.اور یہ عدت سفرکے لئے مانع نہیں ہوگی، اسلئے کہ احرام کے بعد عدت واجب ہوگی ہے.
امام نووی فرماتے ہیں: اذا احرمت ثم وجبت العدة بوفاة زوج او طلاقه لزمها المضي في الاحرام واعمال النسك ولا تكون العدة مانعة لان الاحرام سابق. (المجموع 242/8)
اما اذا وجبت ثم احرمت با الحج فقد لزمہ القعود للعدۃ لاحول لا یمکن الجمع بینھما.ثم ان العدة سبقت الاحرام فقدمت العدۃ علی الاحرام . (المجموع:19/258)
Question no/ 0252
A woman was about to go for hajj pilgrimage but her husband died this month, is it permissible for her to go for hajj?
Ans: Allah says; And those of you who die and leave wives behind them, they ( the wives) shall wait( as regards their marriage ) for four months and ten days..
According to this verse, A woman must observe iddah of four months and ten days after the death of her husband.. During this period, she must not go out of the house.. Therefore it is prohibited for the woman to wear ehram of hajj and umrah or go for hajj pilgrimage if the iddah had been obligatory(wajib) for her… however if the iddah becomes obligatory for the woman in the state of ehram then she can go to hajj pilgrimage.. Such woman can complete her hajj and umrah And also this iddah will not be prohibited for the journey because the iddah had become obligatory(wajib) after ehram…
فقہ شافعی سوال نمبر / 0253 اگرکوئی شخص کسی وجہ سے میقات سے حج وعمرہ کی نیت کرکے سلے ہوے کپڑے کے ساتھ حرم پہنچ جاے توایسے شخص کیا کریگا ؟
جواب:۔ مذکورہ شخص نے محرمات احرام میں سے ایک سلے ہوے کپڑے پہننے کا ارتکاب کیا ہے لہذا ایسے شخص پر فدیہ واجب ہوگا. اور فدیہ میں یا تو ایک بکری ذبح کرئے جس کی قربانی جائز ہو، یا تین صاع ( تقریبا۔ 7-کلو200-گرام) اناج مسکینوں کو تقسیم کرے. یا تین روزے رکھے. واضح رہے کہ ان تینوں چیزوں میں جو بسہولت کرسکتا ہے، اس کو کر لے.
ویتخیر فی فدیة الحلق….وفی التطیب واللبس …ذبح شاۃ تجزی فی الاضحیة … وبین التصدق بثلاثة آصع .. لستة مساکین لکل مسکین نصف صاع و بین صوم ثلاثة ایام (مغنی المحتاج:1/337)
Fiqhe Shafi Question no/ 0253 If a person makes niyyah of hajj and umrah from miqat because of some reason and reaches haram by wearing sewn garments.. What the person have to do?
Ans: The person wore sewn garments and committed one of the forbidden acts of ehram Therefore fidya will be obligatory on him..He must either slaughter a goat(which is enough to use for animal sacrifice) or distribute 3 Saa (Approximately 7 kilo 200 grams) grains among the poor or fast for 3 days..He must perform whichever he finds easy among these 3 actions..
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0254 بہت سے حضرات حالت احرام میں سلیپر کے علاوہ چمڑے کے ایسے چپل پہنتے ہیں جس میں پیر کا پچھلا حصہ کھلا رہتا ہے ۔ ایسے چپل پہننے کی گنجائش ہے یا نہیں؟
جواب:۔ حالت احرام میں ایسے چپل پہننا جائز ہے جو پیر کو ڈھانک رہے ہوں لیکن پیر کا پچھلا حصہ اور اُنگلیاں کھلی ہوئ ہوں اس لئے کہ یہ چپل پیروں کو چھپانے میں عام چپلوں کی طرح ہی ہے البتہ اگر وہ چپل ٹخنوں سے نیچے تک کا حصہ چھپائے ہوئے ہوں ایڑیاں مکمل طور پر چھپ گئ ہوں تو ایسے چپلوں کا استعمال صرف اس وقت جائز ہے جب کہ عام چپل میسر نہ ہوں اگر عام چپلوں کے ہوتے ہوئے بھی استعمال کرے تو دم لازم ھوگا.
قال ابن حجر الهيتمي. فالحاصل ان ما ظهر منه العقب ورؤوس الاصابع یحل مطلقا.لانہ کالنعلین سواء ومایسترالاصابع فقط او العقب فقط لا يحل الا مع فقد الاوليين.[تحفة المحتاج.٦٥/٢
Fiqhe Shafi Question No/254 Many people in the state of Ehram tend to wear a kind of leather sandals (other than slippers ) that leave the back part of their foot uncovered. Is it permissible to use these kind of footwear?
Ans; It is permissible to wear slippers that cover the foot but leave the fingers and back part of the foot uncovered because these footwears are similar to the common footwears that covers the foot.. However if the footwear covers the area below ankle and the entire heel is covered completely then it is permissible to wear such footwears only if normal slippers are not available.. Inspite of availablity of normal footwears, if he uses these kind of footwears then atonement (dam) will be obligatory on him…