اسلامی افکار

  • مركزی صفحہ
  • كچھ اپنے بارے میں
  • قرآن
    • عبدالرحمن بن عبدالعزیز السدیس
    • سعود بن ابراهيم بن محمد الشريم
    • ماهر بن حمد المعيقلي
    • محمد أيوب بن محمد يوسف
  • درس قرآن
    • مولانا عبدالباری ندوی صاحب
    • مولانا عبد الحسیب ندوی صاحب
  • درس حدیث
    • مولانا صادق اكرمی ندوی صاحب – سلطانی مسجد
    • مولانا صادق اكرمی ندوی صاحب – تنظیم مسجد
  • فقہی مسائل
    • لائیو سوالات جوابات
    • فقہ شافعی سوال و جواب
    • فقہ حنفی سوال و جواب
    • مولانا خواجہ اكرمی مدنی صاحب-حج و عمره
    • مولانا خواجہ اكرمی مدنی صاحب-زكواة
    • مولانا انصار خطیب مدنی صاحب – خرید وفروخت
    • مولانا انصار خطیب مدنی صاحب – قربانی
    • مولانا انصار خطیب مدنی صاحب – حج وعمرہ
    • مولانا انصار خطیب مدنی صاحب – وراثت
    • مولانا انصار خطیب مدنی صاحب – نکاح
    • مولانا انصار خطیب مدنی صاحب – زیادتی پر قصاص
    • مولانا انصار خطیب مدنی صاحب – مرتد کے مسائل
    • مولانا انصار خطیب مدنی صاحب-جھاد
    • مولانا انصار خطیب مدنی صاحب – زنا کے مسائل
  • خطبات الحرمین
    • مكۃ المكرمۃ
    • مدینۃ المنوّرۃ
  • خطبات الحرمین اردو
    • مكۃ المكرمۃ
    • مدینۃ المنوّرۃ
  • بھٹكل جمعہ خطبات
    • مولانا عبدالرب خطیبی ندوی صاحب
    • مولانا خواجہ اكرمی مدنی صاحب
    • مولانا عبدالعلیم خطیب ندوی صاحب
    • مولانا انصار خطیب مدنی صاحب
    • مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
    • مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب
    • مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
    • مولانا جعفر فقیہ صاحب ندوی
    • دیگر علماء
  • اہم بیانات
  • جمعہ بیانات
    • مولانا عبدالرب خطیبی ندوی صاحب
    • مولانا عبدالعلیم خطیب ندوی صاحب
    • مولانا خواجہ اكرمی مدنی صاحب
    • مولانا انصار خطیب مدنی صاحب
    • مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
    • مولانا اقبال نائطے صاحب ندوی
    • مولانا نعمت اللہ عسكری ندوی صاحب
    • مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب
    • مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
    • مولانا جعفر فقیہ صاحب ندوی
    • دیگر علماء
  • دیگر بیانات
    • مولانا مقبول احمد كوبٹے ندوی صاحب
    • مولا نا الیاس جاكٹی ندوی صاحب
    • مولانا خواجہ اكرمی مدنی صاحب
    • مولانا انصار خطیب مدنی صاحب
    • مولانا عبدالعلیم خطیب ندوی صاحب
    • مولانا اقبال نائطے صاحب ندوی
    • مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب
    • مولانا عبدالنور فكردے ندوی صاحب
    • دیگر علماء
  • مختصر اوڈیو
    • درسِ قرآن
    • درسِ حدیث
    • دیگر موضوعات
  • رمضان ایک منٹ كا سبق
    • مولاناعبدالباری ندوی – رمضان 2007
    • مولاناعبدالباری ندوی – رمضان 2011
    • مولاناعبدالباری ندوی – رمضان 2012
    • مولاناعبدالباری ندوی – رمضان 2013
    • مولانا عبدالرب خطیبی ندوی صاحب – رمضان 2010
  • دعائیں
    • مكۃ المكرمۃ – 1437 / 2016
    • 1438 / 2017
    • 1439 / 2018
    • 1441 / 2020
    • 1442 / 2021
    • 1443 / 2022
    • مدینۃ المنوّرۃ – 1437 / 2016
    • 1438 / 2017
    • 1439 / 2018
    • 1441 / 2020
    • 1442-2021
    • 1443 / 2022
  • اوقات الصلاۃ
  • ایمیل سروسس
  • فقہ شافعی سوالات
  • گروپ میں شامل ہونے كے لئے

فقہ شافعی سوال نمبر – 0345

پیر _30 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

سوال نمبر/ 0345

بعض لوگ موذی چیونٹی کو ختم کر نے کے لۓآگ کا استعمال کرتےہیں اور ان کا کہنا یہ ہوتا ہیکہ دوا سے خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوتا ہے؟

جواب: حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ نبیوں میں سے کسی نبی کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا تو انھوں نے سارے چیونٹیوں کو جلانے کا حکم دیاتو اللہ رب العزت نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ آپ کو ایک چیونٹی نے کاٹا تو آپ نے تمام تسبیح کرنے والی چیونٹیوں کو ہلاک کر دیا(صحیح مسلم ٢٢٤١)

امام نووی اس حدیث کے ضمن میں بیان کرتے ہیں کہ "واما فى شرعنا فلا يجوز الاحراق بالنار للحيوان… واما قتل النمل فمذهبنا انه لا يجوز واحتج اصحابنا فيه بحديث ابن عباس (شرح مسلم ٤٩٩/٧)

ان تمام احادیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہیکہ موذی چیونٹیوں کو آگ سے جلانایاالیکٹرانک شاک سے مارنا جائز نہیں ہے.جیسا کہ مذکورہ کتابوں کی عبارتوں سے واضح ہوتا ہے..الا یہ کہ جلانے یا الکٹرک شاک کے علاوہ کوی چارہ ہی نہ ہو تب ضرورتا اسکا استعمال کر سکتے ہیں (عون المعبود ١١٩/١٤) (نهایة المحتاج٣٣٤/٣)

https://islamiafkaar.com/podcast-player/2211/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-0345.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 1:36

فقہ شافعی سوال نمبر – 0346

پیر _30 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

سوال نمبر/ 0346

 آج کل بہت سے نوجوان اپنے ہاتھ میں چاندی کا یا لوہے کا کڑا پہنتے ہیں پوچہنے پر کہتے ہیں کہ یہ اسٹائل ہے لہذا مردوں کے لئے اس طرح کی کسی چیز کے استعمال کا کیا حکم ہے؟

جواب: حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت کی ہے جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں,اور ان عورتوں پر لعنت کی ہیں جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں(١)

📝اس روایت سے فقہاء کرام نے استدلال کیا ہے کہ مرد کو عورت کی اور عورت کو مرد کی مشابہت کرنا حرام ہے اور عورت کے مشابہت میں یہ بھی ہیکہ مرد اپنے ہاتھ میں کڑا پہنے چاہے چاندی کا ہو یا لوہے کا ہو یاچمڑےیاربڑ کاہو،یاکسی اورچیز کا ہو،اسکا مرد کے لۓ پہننا حرام ہے,البتہ چاندی اوردیگردھاتوں کی انگوٹھی پہننا مرد کے لۓ جائز ہے-

📕آج کل یہ چاندی یا لوہے کا کڑا پہننا غیرمسلموں کی علامات ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو جس قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ ان ہی میں سے ہے. لہذا ان چیزوں سے اجتناب ضروری ہے.

📌📖وَأَمَّا الْفِضَّةُ فَيَجُوزُ لِلرَّجُلِ التَّخَتُّمُ بِهَا وَهَلْ لَهُ مَا سِوَى الْخَاتَمِ مِنْ حُلِيِّ الْفِضَّةِ كَالدُّمْلُجِ وَالسِّوَارِ وَالطَّوْقِ وَالتَّاجِ فِيهِ وَجْهَانِ قَطَعَ الْجُمْهُورُ بِالتَّحْرِيمِ وَقَالَ الْمُتَوَلِّي وَالْغَزَالِيُّ فِي فَتَاوِيه يَجُوزُ لِأَنَّهُ لَمْ يَثْبُتْ فِي الْفِضَّةِ إلَّا تَحْرِيمُ الْأَوَانِي وَتَحْرِيمُ الْحُلِيِّ عَلَى وَجْهٍ يَتَضَمَّنُ التَّشَبُّهَ بِالنِّسَاءِ . (٢)

📚📚المراجع📚📚
١. (صحیح بخاری ٥٨٨٥)
٢.(المجموع شرح المهذب،٦/٣٢)

https://islamiafkaar.com/podcast-player/2212/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-0346.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 1:25

فقہ شافعی سوال نمبر – 0347

پیر _30 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

سوال نمبر/ 0347
 
اگر کوئ طبیب جسم کی رگوں کی تکلیف کے نجات کے لۓکبوتر یا کسی اور پرندے یا جانور کے خون کو لگانا متعین کرے تو کیا بطور علاج اس تکلیف سے نجات کے لۓخون کا لگانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب: حضرت ابوهريرة رض فرماتے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه و سلم نے خبيث اورناپاک چیزوں کے ذریعہ علاج سے منع فرمایا . (١)

📝اس حدیث سے پتہ چلا کہ نجس اشیاء سے علاج درست نہیں ہے.لہذاعام حالات سے ناپاک اشیاء سے علاج درست نہیں بلکہ بعض خاص صورتوں میں بطورمجبوری درست ہے.اس اعتبارسے
اگر کوئ طبیب جسم کی رگوں کی تکلیف کے نجات کے لۓکبوتر یا کسی اور پرندے یا جانور کے خون کو لگانا متعین کرے اور وہ طبیب مسلمان عادل ہو اور اس مریض کے لۓ اس کے علاوہ کوئ اور علاج نہ ہو یا خون کے زریعہ علاج کی وجہ سے مرض جلدی ٹھیک ہوتا ہوتو ان صورتوں میں ایسے مریض کے لۓکبوتر یا کسی اور جانور کا خون بطور علاج جسم کی رگوں میں لگانابدرجہ مجبوری جائز ہے .

📌📖إذا اُضْطُرَّ إلى شُرْبِ الدَّمِ أوْ البَوْلِ أوْ غَيْرِهِما مِن النَّجاساتِ المائِعَةِ غَيْرِ المُسْكِرِ جازَ لَهُ شُرْبُهُ بِلا خِلافٍ…………… وإنَّما يَجُوزُ ذَلِكَ إذا كانَ المُتَداوِي عارِفًا بِالطِّبِّ يَعْرِفُ أنَّهُ لا يَقُومُ غَيْرُ هَذا مَقامَهُ أوْ أخْبَرَهُ بِذَلِكَ طَبِيبٌ مُسْلِمٌ عَدْلٌ ويَكْفِي طَبِيبٌ واحِدٌ (٢)

📚📚المراجع📚📚
١.(سنن ابى داؤد ٣٨٧٠)
٢.(المجموع ٤٥,٤٦/٩)

https://islamiafkaar.com/podcast-player/2213/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-0347.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 1:34

فقہ شافعی سوال نمبر – 0348

پیر _30 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

سوال نمبر/ 0348

 کیا زوال کے بعد اور اذان سے پہلے ظہر کی سنت پڑھ سکتے ہے؟

جواب:حضرت عبداللہ بن عمروبن عاص رض سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ ہرنماز کا ابتدائی اورانتہائی وقت ہے.اورظہر کی نماز کا وقت زوال شمس سے شروع ہوتا ہے.اورعصرکا وقت داخل ہوتے ہی ختم ہوتا ہے(١)

📝 اس حدیث سے فقہاء نے استدلال کیا ہے کہ ظہرکی فرض نماز کا وقت زوال شمس سے شروع ہوتا ہے لہذا زوال شمس سے پہلے ظہر کی نماز ادا نہیں ہوگی.اسی طرح فرض نماز کے پہلے کی سنت کا وقت فرض نماز کے وقت سے شروع ہوتا ہے.لہذاظہرکی پہلی سنتوں کا وقت زوال شمس سے شروع ہوگا.چوں کہ اذان سنت ہے .اگر اذان نہ دئ جائے اور فرض پڑھے تو فرض پرھنا صحیح ہے اسی طرح سنت بھی صحیح ہوجائے گی.

📌📖ويدخل وقت هذه السنن – التي تفعل قبل الفرض – بدخول وقت الفرض، ويكون ذلك وقت الاختيار لها، فإذا فعل الفرض.. ذهب وقت الاختيار لها، وبقي وقت الجواز لها إلى خروج وقت الفرض.(٢)

📌📖(ويَدْخُلُ وقْتُ الرَّواتِبِ) اللّاتِي (قَبْلَ الفَرْضِ) بِدُخُولِ وقْتِ الفَرْضِ (و) يَدْخُلُ وقْتُ اللّاتِي (بَعْدَهُ بِفِعْلِهِ)(٣)

📚📚المراجع📚📚
١.(سنن ترمذی:١٥١)
٢.البيان ٢/٢٦
٣.نهاية المحتاج ٢/٧٧

https://islamiafkaar.com/podcast-player/2214/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-0348.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 1:19

فقہ شافعی سوال نمبر – 0349

پیر _30 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

سوال نمبر/ 0349

 اذان سے پہلے اوراذان کے بعد درود شریف پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟

جواب: حضرت عبداللہ بن عمروبن عاص رض سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم مؤذن کوآذان دیتے ہوئے سنوتواس کاجواب دواورآخیر میں مجھ پردرود پڑھواس لئے کہ جس نے مجھ پرایک مرتبہ درود پڑھا اللہ تعالی اس پردس رحمتیں نازل فرماتے ہیں(١)

📝اس حدیث سے فقہاء نے استدلال کیا ہے کہ اذان کے جواب کی طرح آہستہ اذان کے بعد درود پڑھنامسنون ہے.

📕لیکن اذان سے پہلے درود پڑھنے کا تذکرہ اکثرعلماء نے نہیں کیا ہے .البتہ بعض علماء نےاذان سے قبل آہستہ درود پڑھنے کا تذکرہ کیا ہے

📕لہذااذان کے بعد دعا اوردرود پڑھنا سب کے لئے مستحب ہے،اوراذان سے قبل مؤذن کے لئے آہستہ درود پڑھنے کی گنجائش ہے

📌📖يُسْتَحَبُّ لِلْمُؤَذِّنِ أنْ يَقُولَ بَعْدَ فَراغِ أذانِهِ هَذِهِ الأذْكارَ المَذْكُورَةَ مِن الصَّلاةَ عَلى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وسُؤالِ الوَسِيلَةِ(٢)

📌📖(و) سن (لكل) من مؤذن ومقيم وسامعهما (أن يصلي) ويسلم (على النبي) (ص) (بعد فراغهما)، أي بعد فراغ كل منهما إن طال فصل بينهما(٣)

📚📚المراجع📚📚
١.(مسلم :٨٤٩)
٢.المجموع ٣/ ١٢٤
٣.إعانة الطالبين على حل ألفاظ فتح المعين، ١/٣٨٢

https://islamiafkaar.com/podcast-player/2215/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-0349.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 1:06

فقہ شافعی سوال نمبر – 0350

پیر _30 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

سوال نمبر/ 0350
 مسبوق کے لئے پہلی سلام کے بعد کھڑا ہونا ہے یا پھر امام کے دونوں سلام پھیرنے کے بعد کھڑا ہونا ہے؟

جواب: حضرت عتبان ابن مالک رض فرماتے ہیں کہ ہم نےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی توجب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیری تو ہم نے بھی سلام پھیری .(١)

📝اس حدیث سے پتہ چلا کہ امام کا پہلی سلام پھیرتے ہی مقتدی ومسبوق اس کی اقتداء سے نکل جاتے ہیں ،اورچوں کہ دوسری سلام سنت ہے ،اس اعتبار سے مسبوق امام کی پہلی سلام کے بعد ہی بقیہ رکعت کی ادائیگی کے لیے کھڑا ہوسکتا ہے،البتہ دوسری سلام کے مکمل ہونے کے بعد کھڑا ہونا مستحب ہے،اس لئے کہ حضرت انس رض فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا امام اس لئے بنایا گیا ہے تاکہ اس کی متابعت کی جاے .(٢)

📕اورمتابعت کا تقاضہ یہ ہے کہ امام کی دوسری سلام کے بعدکھڑاہونا سنت ہے تاکہ امام کی مکمل متابعت ہو جائے.اس لئے کہ دوسری سلام بھی نماز کا حصہ ہے.

📌📖والسُّنَّةُ لِلْمَسْبُوقِ أنْ يَقُومَ بَعْدَ تَسْلِيمَتَيْ الإمامِ لِأنَّ الثّانِيَةَ مَحْسُوبَةٌ مِن الصَّلاةِ هَكَذا صَرَّحَ بِهِ القاضِي حُسَيْن والمُتَوَلِّي والبَغَوِيُّ وآخَرُونَ ويَجُوزُ أنْ يَقُومَ بَعْدَ تَمامِ الأُولى . (٣)

📚📚المراجع📚📚

١.(بخاری ٨٣٨)
٢.(بخاری ٣٧٨)
٣.المجموع ٤/١٩٠

https://islamiafkaar.com/podcast-player/2216/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-0350.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 1:51

فقہ شافعی سوال نمبر – 0351

پیر _30 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

سوال نمبر/ 0351

 بعض لوگ دعائیہ سجدہ کے نام سے نماز کے باہرسجدہ کرکے سجدہ میں دعا مانگتے ہیں،شرعا یہ درست ہے یا نہیں؟

جواب: نماز کے باہرصرف دوہی سجدہ منقول ومشروع ہیں،ایک سجدہ تلاوت اوردوسرا سجدہ شکر،ان دو سجدوں کے علاوہ دعائیہ سجدہ کے نام سے کوئی سجدہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ سے ثابت نہیں،بلکہ نماز کے باہرخالص سجدہ کو فقہاء نے حرام اور مکروہ لکھا ہے.واضح رہے کہ شوافع کی طرح احناف کے یہاں بھی دعائیہ سجدہ کا ثبوت نہیں ہے.لہذااس طرح کے سجدہ میں دعا مانگنے کے بجاےسنت نمازوں کے سجدہ میں عربی میں دعا مانگنا درست ہے .

📌📖جرت عادة بعض الناس يسجدون بعد الفراغ من الصلاة فيدعو فيها وتلك سجدة لا يعرف لها أصل ولم تنقل عن الرسول – ﷺ – والصحابة ﵃.

📚📚المراجع 📚📚

١. بحر المذهب ٢/١٩٨
*کتاب الفتاوی:٢/٤٦١

https://islamiafkaar.com/podcast-player/2227/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-0351.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 2:10

فقہ شافعی سوال نمبر – 0352

پیر _30 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

سوال نمبر/ 0352

 برہنہ غسل کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب: حضرت معاویہ بن حیدہ رض سے روایت ہے کہ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہم کس قدرستر کریں اورکس قدرچھوڑدیں توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اپنی بیوی اورباندی کے علاوہ ہرایک سے ستر کروتوانھوں نے پوچھا اے اللہ کے رسول جب میں تنہا رہوں تواس وقت ستر کے بارے میں کیاخیال ہے توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ ان سے حیا کی جاے. (١)

📕اس حدیث کی روشنی میں فقہاء نے غسل کے دوران سترکوافضل قرار دیاہے.لہذاغسل کے دوران جس قدرممکن ہوسکے سترپوشی کا اہتمام کرنابہتر اورمناسب ہے.اوراس کی کوشش بھی کرنی چاہی . (٢)

📝البتہ لوگوں کی عدم موجودگی کی صورت میں برہنہ غسل کرنے کاجواز نقل کیا ہے.اس لئے کہ حضرت ابوہریرہ رض آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت موسی علیہ السلام برہنہ غسل کررہے تھے .

📕واضح رہے کہ لوگوں کے سامنے برہنہ یاستر کا بعض حصہ چھپاکربقیہ ستر کھول کر غسل کرناحرام ہے.اس سے اجتناب ضروری ہے.

📌📖لا يَجُوزُ الغُسْلُ بِحَضْرَةِ النّاسِ إلّا مَسْتُورَ العَوْرَةِ فَإنْ كانَ خالِيًا جازَ الغُسْلُ مَكْشُوفَ العَوْرَةِ والسَّتْرُ أفْضَلُ.(٣)

📚📚المراجع📚📚
١.(ترمذی:٢٧٦٩)
٢.(بخاری:٢٧٨)
٣.المجموع ٢٢٦/٢, ٢٢٧

https://islamiafkaar.com/podcast-player/2228/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-0352.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 1:30

فقہ شافعی سوال نمبر – 0353

پیر _30 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

سوال نمبر/ 0353

اگر کوئ شخص جہری نماز کو سرا پڑھے یا سری نماز کو جھرا پڑھے تو کیا حکم ہے؟

جواب: حضرت قتادہ رض فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور دو سورتیں پڑھتے. پہلی رکعت کو دوسری رکعت کی بہ نسبت طویل کرتے اور کبھی کبھی کوئ آیت درمیان میں سے سنا دیتے تھے .(١)

📝حافظ ابن حجررح فرماتے ہیں کہ مذکورہ حدیث سری نماز میں جہرا قرات کرنے کے جواز اور اس میں سجدہ سھو نہ کرنے پردلیل ہے. (٢)

📕لہذااگر امام نے کبھی جھری نماز میں سرا(آہستہ ) قرآت کی یا اس کے بر عکس سری نمازمیں جھرا قرآت کی تو اس نماز کی صحت متاثر نہیں ہوگی اور نہ ہی سجد سھو کی ضرورت ہوگی کیونکہ نماز میں قرات سرا(آہستہ) اور جھرا(بلندآوازمیں )پڑھنایہ سنن ہیات میں شامل ہے جس کے ترک پر سجد سھو کی ضرورت نہیں ہے البتہ اس قسم کی سنن ہیئات کوترک کرنا مکروہ تنزیہی ہے .

📌📖قوله : (في موضعه ) اي الجهر و اذا اسر في موضع الجهر او جهر في موضع الاسرار كره الا لعذر.(٣)

📚📚المراجع📚📚

١.بخاری ٧٧٨
٢.فتح الباری ١/٣١١
٣.حاشية البيجوري ١/٢٤٩

https://islamiafkaar.com/podcast-player/2229/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-0353.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 1:56

فقہ شافعی سوال نمبر – 0354

پیر _30 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

سوال.نمبر/ 0354

اگرکوئی حائضہ عورت عصرکے وقت پاک ہوگئی تواسے عصرکے ساتھ ظہربھی ادا کرناضروری ہے؟

جواب: حضرت عبدالرحمن بن عوف ایک حدیث میں نقل کرتے ہیں کہ حایضہ عورت طلوع فجر سے ایک رکعت کی اداییگی کے بقدرپہلے پاک ہوجاے تواس پرمغرب اورعشاء دونوں لازم ہیں اورغروب آفتاب سے پہلے ایک رکعت کے بقدرپہلے پاک ہوجاے تواس پرعصروظہرواجب ہے.(١)

📝اس حدیث کی روشنی میں فقہاء نے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ عصرکے وقت حیض سے پاک ہونے والی عورت پرعصرکی نماز کے ساتھ ظہرکی نمازکی قضاء ضروری ہے جب کہ عصرکے وقت میں سے اتناوقت پہلے وہ پاک ہوگی ہوکہ غسل کرکے عصرکی نماز میں سے کم ازکم ایک رکعت وقت کے اندرپڑھ سکے،جیساکہ جس مسافرکوظہرسفرکی وجہ سے اس کے وقت میں پڑھنا ممکن نہ ہوتواس کے لئےعصر کے وقت میں عصرکے ساتھ ظہرکی ادائیگی جمع تاخیرکی صورت میں ادا کرناضروری ہوجاتا ہے.

📌📖لا تلزمه الصلاة الأولى، إلا إذا أدرك من وقت الصلاة الثانية قدر ركعة، وهو الأصح؛ (٢)

📚📚المراجع📚📚

١.(سنن دارمی:١/٦٤٥)
٢.البيان ٢/٤٤

https://islamiafkaar.com/podcast-player/2230/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-0354.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 2:07

فقہ شافعی سوال نمبر – 0355

اتوار _12 _مارچ _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

سوال نمبر/ 0355
اگر کسی کے بدن پر نجاست لگی ہو اور نجاست دور کرنے کے لیے پانی نہ ہو اور نماز کا وقت بھی ختم ہو رہا ہو تو اس حالت میں نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

جواب:۔امام نووی رحمة الله عليه مسلم شریف کی حدیث (1337) کی شرح میں فرماتے ہیں کہ جو شخص نماز کے بعض شرائط سے عاجز ہو اور بعض پر قادر ہو تو جن پر قدرت ہے اس کوکرے۔ (شرح مسلم:3/464)
مذکورہ تفصیل کی روشنی میں فقہاء نے استدلال کیا ہے کہ جس شخص کوبدن سے نجاست دور کرنے کے لیے پانی نہ ملے اور نماز قضاء ہونے کا ڈر ہو تو اسی حالت میں نماز ادا کرے۔ لیکن پانی ملنے پر نجاست دور کرکے اس نماز کا اعادہ یعنی دوبارہ پڑھنا ضروری ہے۔

واذا کان علی بدنه نجاسة غیر معفو عنھا و عجز عن ازالتھا وجب ان یصلی بحاله لحرمة الوقت لحدیث ابی ھریرة ان رسول الله صلی الله عليه وسلم قال واذا امرتکم بشی فاتوا منه ما استطعتم وتلزمه الاعادۃ (المجموع:3/142)
ھذامن جوامع الکلم و قاعد الاسلام .ویدخل فیه کثیر من الاحکام کالصلاۃ لمن عجز عن رکن منھا او شرط فیاتی بالمقدور (فتح الباری:17/77)

Question No/0355
If some impurity is stained on someone’s body and there is no water around to wash it off and the time of prayer is about to end then what is the ruling on praying in this situation?

Ans; Imaam nawai rehmatullah alaihi says in the explanation of hadees of Sahih muslim that
Whoever is unable to perform some rulings of Salah and capable of performing some rulings of salah then he must perform the rulings which he is able to perform ..(Sharah muslim 3/464)
In the light of the mentioned explanation, the jurists(fuqaha) say that Whoever has impurity stained on his body and there is no water to wash it off and there is a fear of missing the salah (Qaza)..then he must perform the salah in this situation and later after getting the water he must repeat the prayer..

https://islamiafkaar.com/podcast-player/6827/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-0355.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 0:59

فقہ شافعی سوال نمبر – 0356

پیر _30 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

سوال.نمبر/ 0356
مرد کے لے کس دھات کی انگوٹھی پہننا درست ہے؟اوراس کے پہننے کی کیفیت کیا ہے؟

جواب: حضرت انس رض فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اوراس کانگینہ بھی چاندی کا تھا (بخاری:5870)

حضرت سہل بن سعدرض فرماتے ہیں کہ ایک شخص سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نکاح کرواگرچہ بطورمہرلوہے کی ایک انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو (بخاری :515)

ان احادیث کی روشنی میں مرد کے لئے چاندی لوہا,پیتل,اورسیسہ, کی ایک انگوٹھی یاایک سے زائد انگوٹھی پہننا جائز ہے. جب کہ ایک سے زیادہ انگوٹھی پہننے کارواج ہو اورلوگوں کی عادت ہو، اورانگوٹھی دائیں ہاتھ کی چھوٹھی انگلی میں پہننا افضل ہے.چھوٹھی انگلی سے متصل انگلی اورانگوٹھے میں پہننا جائز ہے. شہادت کی انگلی اوراس سے متصل درمیانی انگلی میں پہننا مکروہ تنزیہی ہے ۔
قوله: يجوز للرجل) ومثله الخنثى، بل أولى.
(قوله: بخاتم فضة)……… ومثل خاتم الفضة: خاتم حديد، أو نحاس، أو رصاص، لخبر الصحيحين: التمس ولو خاتما من حديد. …(قوله: في خنصر يمينه) متعلق بيسن، ويصح تعلقه بيجوز. وخرج بالخنصر: غيره، فيكره وضع الخاتم فيه (اعانة الطالبين.. 243/2)

https://islamiafkaar.com/podcast-player/2231/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-0356.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 1:15

فقہ شافعی سوال نمبر – 0357

پیر _30 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

سوال نمبر/ 0357
بیوی کے انتقال پر شوہر بیوی کو غسل دے سکتا ہے؟

جواب: حضرت اسماء بنت عمیس رض سے مروی ہے کہ حضرت فاطمہ رض کے انتقال کے بعد انھیں غسل دینے میں حضرت علی رض شریک تھے (معرفۃ السنن والاثار:7357)

اس دلیل کی بناء پرفقہاء نے کسی عورت میت کوغسل دینے کے لئے اس کے شوہرکوغسل کی اجازت دی ہے.لہذاشوہرکے لئے اپنی بیوی کوغسل میت دینا جائز ہے.البتہ بہتر یہ ہے کہ عورت میت کوعورتیں ہی غسل دیں.
وَيُغَسِّلُ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إذَا مَاتَتْ، وَالْمَرْأَةُ زَوْجَهَا إذَا مَاتَ، وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: تُغَسِّلُ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا، وَلَا يُغَسِّلُهَا، (الأم 1/311)

https://islamiafkaar.com/podcast-player/2232/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-0357.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 0:52

فقہ شافعی سوال نمبر – 0358

پیر _30 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

سوال نمبر/ 0358

احرام کی حالت سر مندھانے سے پہلے اگر کسی کا انتقال ہوجائے تو اس شخص کا سر مندھانا ضروری ہے ؟

جواب: حضرت ابن عباس رضی اللہ فرماتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ تھے ایک شخص اونٹ پر سے گڑا اور مرگیا تو اللہ کے نبی نے فرمایا اسکے سر کو نہ ڈھاکو (بخاري 1265)

فقہاء نے اس حدیث کی روشنی میں یہ مسئلہ بیان کیا ہے اگر کسی کا احرام کی حالت میں انتقال ہوجائے تواسکے بالوں میں سے کچھ بھی بال نکالنا حرام ہے۔
لہذااس کو بغیرسر مندھائے ہی دفن کیا جاے گا.نیز کفن پہناتے وقت اسکے سر کو کھلا رکھنا ضروری ہے.
إذَا مَاتَ المحرم والمحرمة حرم تطييبه وأخذ شئ مِنْ شَعْرِهِ أَوْ ظُفْرِهِ وَحَرُمَ سَتْرُ رَأْسِ الرجل (المجموع 5/ 162)

https://islamiafkaar.com/podcast-player/2233/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-0358.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 1:29

فقہ شافعی سوال نمبر – 0359

پیر _30 _مئی _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

سوال نمبر/ 0359

کیا اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کرنا ضروری ہے ؟

جواب: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کا شانہ کهائے پهر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کئی (مسلم 354)

فقہاء کرام نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ بکری اور اونٹ وغیرہ کا گوشت کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا لیکن وضو کرنا مستحب ہے اور جس روایت میں اونٹ کا گوشت کهانے سے وضو کاتذکرہ ہے اس سے مراد ہاتھ وغیرہ کا دهونا ہے یعنی وضو لغوی مراد لیا ہے (البيان 1/194) (المھذب مع المجموع:2/69)

https://islamiafkaar.com/podcast-player/2234/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-0359.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 1:03

1 … 22 23 24 25 26 … 88

↓↓↓ براہِ راست سننے كے لئے كلك كریں ↓↓↓


↓↓↓ براہِ راست سننے كے لئے كلك كریں ↓↓↓
Islamiafkaar is on Mixlr
بھٹکل آذان ٹائم جمعہ 29 Shawwal 1447ﻫ

٢٩ شَوَّال ١٤٤٧

Suhoor End 4:55 am
Iftar Start 6:48 pm
Prayer Begins
Fajr5:00 am
Sunrise6:17 am
Zuhr12:37 pm
Asr3:44 pm
Maghrib6:48 pm
Isha7:54 pm

تازہ اِضافے

  • نئے تعلیمی سال کی مناسبت سے کچھ گزارشات – 17-04-2026
  • الإيمان وطيب العيش – 17-04-2026
  • التعامل مع القضاء والقدر – 17-04-2026
  • ابراہیم علیہ السلام کی قربانیاں اور حج بیت اللہ – 17-04-2026
  • موجودہ پیش آنے والے حالات – 17-04-2026
  • بھٹكل خلیفہ جامع مسجد عربی خطبہ – 17-04-2026
  • اسلام میں پردہ پوشی کا مقام – 17-04-2026
  • بھٹكل جامع مسجد عربی خطبہ – 17-04-2026
  • درس قرآن نمبر 0557
  • درس قرآن نمبر 0556

ہماری نئی معلومات كے لئے

  • مركزی صفحہ
  • كچھ اپنے بارے میں
  • قرآن
  • درس قرآن
  • درس حدیث
  • فقہی مسائل
  • خطبات الحرمین
  • خطبات الحرمین اردو
  • بھٹكل جمعہ خطبات
  • اہم بیانات
  • جمعہ بیانات
  • دیگر بیانات
  • مختصر اوڈیو
  • رمضان ایک منٹ كا سبق
  • دعائیں
  • اوقات الصلاۃ
  • ایمیل سروسس
  • فقہ شافعی سوالات
  • گروپ میں شامل ہونے كے لئے

Copyright © 2014 • اسلامی افکار • Finch Theme