جو حضرات کشتی میں نوکری کرتے ہیں کیا وہ قصر کرسکتے ہیں اور ان کے حق میں جمعہ کاکیاحکم ہے؟
جواب: اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں : جب تم زمین میں سفر کرو تو پر کوئ حرج نہیں ہے کہ تم نماز کو قصر اداء کرو (سورہ نساء 101)
فقہاء کرام نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ طویل سفر میں قصر کرنا جائز ہے چاہے وہ سفر سمندری سفرہو یازمینی سفرہو، اگر سمندری سفرکرنے والوں کا کسی جگہ چار دن سے زیادہ ٹهرنے کا قصد ہو یاعام طورپر جہاز کسی ساحل پرچار دن سے زیادہ لنگرانداز ہوتا ہوتو قصر جائز نہیں ہے اس لئے کہ اس صورت میں وہ مسافرنہیں رہے گا،اور مسافر پر جمعہ ضروری نہیں ہے (البيان 2/450) (البيان 2/543)
وإذا كان ملاح في سفينة له، وكان فيها أهله، وماله، وولده، وهو يسافر في البحر، أحببت له ألا يقصر؛ لأنه في وطنه، وموضع إقامته، فإن قصر الصلاة جاز؛ لأنه مسافر). البيان(٢/٤٤٩)
اگرکسی شخص کے بال سرکی حدسے نکلے ہوے ہوں تووضومیں ان بالوں پرمسح درست ہوگایا نہیں؟
جواب: اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں : "اپنے سروں کا مسح کرو” (سوره مائدة :6)
اس آیت کی روشنی میں فقہاء نے وضومیں سر یا ان بالوں کا مسح واجب قرار دیا ہے. جو سرکی حد میں ہیں .لہذا اگرکسی کے بال طویل ہونے کی وجہ سے آگے یاپیچھے سے سرکی حدسے باہرنکلے ہوں اوروہ شخص سرپرمسح کے بجاے صرف سرکی حدکے باہران بالوں پرمسح کرے تووضودرست نہیں ہوگا. (مغني المحتاج 1/176)
اگرکتاکسی گھریامسجدمیں داخل ہوکرفورانکل جاے توکیااس جگہ کوپاک کرناضروری ہے یانہیں؟
جواب: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کسی کے برتن میں منہ ڈالے تو اسے سات مرتبہ دهوئے جس میں ایک مرتبہ مٹی کااستعمال کیاجاے (سنن ابی داود:71)
فقہاء کرام نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ اگر کتا کسی برتن میں منہ ڈال کرزبان سے پانی پیے یازبان سے کسی چیزکوچاٹے توسات مرتبہ دھوناضروری ہے جس میں ایک مرتبہ مٹی کے پانی سے دھوناضروری ہے.اس سے پتہ چلاکہ کتے کی نجاست کی بنیاد اوراعتباراس کے تراورگیلے ہونے پرہے.لہذااگر کسی کے گهر میں داخل ہوتو دیکها جائے گا اگر کتا اور گهر کی زمین دونوں خشک ہوتو اس صورت میں گهر کو دهویا نہیں جائے گا اور اگر دونوں میں سے کوئی بھی تر ہوتو ایسی صورت میں زمین کو پاک کرنا ضروری ہے.البتہ پانی بہالیاجاے توبہترہے.
فهكذا لو ماس الكلب ثوبا رطبا او ماس ببدنه الرطب ثوبا يا بسا اووطئ برطبة رجله على ارض او بساط كان كالولوغ في وجوب غسله سبعا فيهن مرة بالتراب . الحاوي الكبير (١/٣١٥)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0378 احرام کی حالت میں پردہ کرنے کا کیا طریقہ ہے؟
جواب:۔ احرام کی حالت میں عورتوں کو چہرے کو کهلا رکهنا ضروری ہے لہذا اگرکوئی عورت اس حالت میں پردہ کرنا چاہے توایسی ٹوپی وغیرہ پہن کراس پرنقاب اس طرح لٹکاے کہ وہ چہرے کو نہ لگے .نیز اس حالت میں کوئی فدیہ بهی واجب نہیں ہوگا۔ (روضة الطالبین وعمدة المفتين 3 / 127)
Fiqhe Shafi Question No/0378 What is the method of veiling oneself in the state of Ihram?
Ans; It is necessary for women to keep their faces uncovered in the state of Ihram.. Therefore if a woman wishes to veil herself in this state then she must wear a cap to which she must attach a veil in such a way that it should not touch her face and she doesn’t have to pay fidya in this state..
مور اور اس جیسے جانور جو کهائے نہیں جاتے ان کے انڈے کهانے کا کیا حکم ہے؟
جواب: مور اور اس جیسے جانور جو کهائے نہیں جاتے راجح قول کے مطابق کے انڈے کهانا جائز ہے اس لئے کہ وہ پاک ہے اور ان کے کهانے میں کسی قسم کی گهن محسوس نہیں ہوتی ہے
وإذا قلنا بطهارة ببض مالا يؤكل لحمه جاز أكله بلا خلاف لأنه غير مستقذر (المجموع 2 / 556)
کیا نماز میں چهینکنے کے بعد الحمد للہ اوراس کےجواب میں یرحمک اللہ کہنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟
جواب: مسلم شریف اور طبرانی کی روایات کو سامنے رکھتے ہوئے فقہاء کرام نے استدلال کیا ہے کہ اگرکوئی نماز میں چھینک آنے پرالحمدللہ کہے تواس سے نمازباطل نہیں ہوگی. لیکن جواب میں یرحمک اللہ کہنادرست نہیں ہے.اس لیے کہ بات کرنے سے نماز ٹوٹ ہوجاتی ہے چوں کہ نماز میں چهینک کا جواب یرحمک اللہ کہنا سامنے والے سے بات کرنا کی طرح ہے البتہ اگر کوئی يرحمه اللہ کہے تو نماز باطل نہیں ہوگی۔واضح رہے سورہ فاتحہ کے دوران الحمدللّٰہ اور اسکے جواب میں یرحمہ اللہ نہیں کہنا چاہیے ورنہ سورہ فاتحہ دوبارہ پڑھنا لازم ہوگا
(مسلم :537) (طبرانی :4532) (تحفة المحتاج مع حواشي الشرواني 2 / 148) (نهاية المحتاج 2 / 47)
(و لا تبطل بالذكر والدعاء)…..(الا ان يخاطب)…..(كَقَوْلِهِ لِعاطِسٍ رَحِمَك اللَّهُ) لِأنَّهُ مِن كَلامِ الآدَمِيِّينَ حِينَئِذٍ كَعَلَيْك السَّلامُ بِخِلافِ رحمه الله وعَلَيْهِ لِأنَّهُ دُعاءٌ ويُسَنُّ لِمُصَلٍّ عَطَسَ أوْ سُلِّمَ عَلَيْهِ أنْ يَحْمَدَ بِحَيْثُ يَسْمَعُ نَفْسَهُ.
تحفة المحتاج:١/٢٣١,٢٣٢
والتَّشْمِيتُ بِقَوْلِهِ يَرْحَمُهُ اللَّهُ لِانْتِفاءِ الخِطابِ، ويُسَنُّ لِمَن عَطَسَ أنْ يَحْمَدَهُ ويُسْمِعَ نَفْسَهُ خِلافًا لِما فِي الإحْياءِ وغَيْرِهِ.
نهاية المحتاج إلى شرح المنهاج ٢/٤٧
اگر کسی شخص کا کسی پر قرضہ ہو اور وہ اس کو کہے کہ تم پر جو میرا قرضہ ہے وہ تم میری طرف سے زکوة سمجھ کر رکھ لو یا باقاعدہ زکوة کی رقم اسے دے اور کہے کہ اس کے ذریعہ میرا قرضہ ادا کرو تو اس صورت میں زکوة ادا ہوگی ؟
جواب: اگر کوئی شخص جسکا کسی پر قرضہ ہو اور وہ اس کو کہے کہ تم پر جو میرا قرضہ ہے وہ تم میری طرف سے زکاۃ سمجھ کر رکھ لو تویہ زکاۃ کی ادائیگی کےلیے کافی نہیں ہوگا لیکن اگرقرض دینے والا اس کو زکات دینے کے بعد قرض لینے والا اس زکات کی روپیوں کو بغیر شرط کے اپنے قرضہ کو اداء کرےتو اس صورت میں اس کی زکات اداء ہوجائے گی.(العباب:1/425) (فتح المعین:84).
من دفع زكاته لمديونه بشرط رده عن دينه.. لم يجهز….. وان جعل دينه عليه زكاة.. لم يجهزه.
العباب:١/٤٢٥
اجنبی عوررت کو سامنے یا واٹشپ اور فیس بک پر سلام کرنا اور سلام کا جواب دینے کا کیا حکم ہے؟
جواب: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے عائشہ یہ جبریل ہیں وہ کہے رہے ہیں عليك السلام حضرت عائشہ فرماتی ہیں میں نے کہا (وعليه السلام ورحمة الله ) (بخاری 6249)
اس حدیث سے علامہ ابن حجر عسقلانی رح نے استدلال کیا ہے کہ مردوں کا عورتوں کو سلام کرنا اور عورتوں کا مردوں کو سلام کرنا جائز ہے جبکہ فتنہ کا اندیشہ نہ ہو
لہذا اگر نوجوان عورت یا عورتوں کی جماعت کو سلام کرنے میں فتنہ کا اندیشہ نہ ہوتو اس کو سلام کرنا جائز ہے اور اگر فتنہ کا اندیشہ ہے تو جائز نہیں ہے اور عورت کا جواب دینا بهی جائز نہیں ہے البتہ مرد کو عورت کے سلام کا جواب دینا مکروہ ہے
جواب: اللہ تعالی کا فرمان ہے "والمطلقات يتربصن بانفسهن ثلاثة قروء” (البقرة : 228 )
مطلقہ اپنے آپ کو تین قروء مطلب تین طھر روکے رکھے. مذکورہ آیت مبارکہ کی روشنی میں فقہاء کرام نے یہ مسئلہ تحریر فرمایا ہے کہ مطلقہ کی عدت تین طھر ہے. اب رہی بات خلع کی عدت کی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہے "خلع لینے والی کی عدت مطلقہ کی عدت ہے (مصنف ابن ابی شیبہ18773)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ھے کہ خلع لی ہوئی عورت کی عدت مطلقہ یعنی طلاق دی ہوئی عورت کی عدت کی طرح ہے. نیز فقہاء کرام نے ان دلائل کو سامنے رکھتے ہوئےاس بات کی صراحت کی ہے کہ خلع اور طلاق کی عدت ایک ہی ہے (الوسیط 115/6) (اسني المطالب304/5)
اگر کوئ شخص ظہر کی نماز کا وقت شروع ہونے کے بعد مسافت قصر سے زائد سفر کرے. تو کیا وہ ظہر کی قصر کر سکتا ہے. اور کیا وہ عصر کوظہرکے ساتھ جمع کر سکتا ہے.؟
جواب: حضر (اقامت) کی حالت میں جب کسی نماز کا وقت شروع ہو جاۓ اور اس کے ادا کرنے پر بھی قادر ہو. پھر سفر کے لۓ نکلے تو اس کیلۓ اس نمازکودوران سفر قصراداکرنے کی اجازت ہے اس لۓکہ نماز میں حالت ادا کا اعتبار ہے نہ کہ حالت وجوب کا. اسی طرح ظہر و عصر کو دونوں میں سے کسی ایک کے وقت میں جمع کرنا بھی جائز ہے. لہذا اگر کوئ شخص ظہر کی نماز کا وقت شروع ہونے کے بعد مسافت قصر سے زائد سفر کرے تو وہ ظہر کی نماز قصر اور عصر کو ظہرکے ساتھ جمع کر سکتا ہے.البتہ بہتریہ ہےکہ اگرسفرشروع کرنے سے پہلے ظہرپڑھناممکن ہوتوحضرمیں ہی چاررکعت اداکرکے سفرشروع کرے.اس لئے کہ بعض علماء نے ایسی نمازکوقصرکرنے کی گنجائش نہیں دی ہے.
📌📖إذا دخل عليه وقت الصلاة في الحضر، وتمكن من أدائها، ثم سافر فله أن يقصر،………
لأن الاعتبار في الصلاة بحال الأداء، لا بحال الوجوب (١)
ایک حاجی پر دم واجب ھو گیاہے لیکن اس کےپاس جانور ذبح کرنے کےلئے پیسہ نہیں ہے لہذا اپنے گھر فون کر کے ایک جانور ذبح کرادیا ہے ایسی صورت میں اس کا یہ دم معتبر ہو گا یا نہیں؟
جواب: الله تعالي كا ارشاد ہے هديا بالغ الكعبة .(١)
نیاز کےطور پرجوجانور ہوتے ہیں،ان کو کعبہ تک پہنچائے جائیں.
📕علامہ ابن کثیر رح اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس بات پر جمہور علماء کا اتفاق ہے کہ دم کے جانورکو حرم پہچانے سے مراد جانورکوحرم میں ذبح کرکے حرم کے فقراء پر تقسیم کرناضروری ہے. (٢)
📝مذکورہ تفسیرسے یہ بات واضح ہوگی کہ اگر کسی حاجی پر دم واجب ہوجائے اور اپنے گھر پر جانور ذبح کرے تو یہ جانور دم کی طرف سے کافی نہیں ہوگا بلکہ اس کو حرم میں ذبح کرنا ضروری ہے.
اگر کوئی ویزیٹ ویزا پر جدہ آئے اور عمرہ ادا کرنا چاہے تو اس کا شرعی حکم کیا ہے؟
جواب: جو کوئی شخص عمرہ اور حج کے ارادے سے حدود حرم میں داخل ہونا چاہتا ہو تو اس کے لیے میقات یا محاذات میقات سے احرام باندھنا ضروری ہے. احرام نہ باندھنے کی صورت میں میقات جاکر احرام باندھنا یا تو پھر دم کی ادائیگی کے ساتھ عمرہ ادا کرنے کی گنجائش ہے
لیکن اگر کوئی شخص جدہ (سعودی عربیہ) وغیرہ تجارت کی غرض ہی سے داخل ہواور عمرہ کی نیت نہ ہو اور بعد میں عمرہ کی ادائیگی کی سبیل پیدا ہوجائے تو جدہ ہی سے احرام باندھ کر عمرہ ادا کرنے کی گنجائش موجود ہے۔
سوال نمبر/ 0387 کسی غیرمکی کے لیے ایک عمرہ کرنے کے بعد دوسرا عمرہ مقام تنعیم (مسجدعائشہ) سے کرنے کاکیاحکم ہے؟
جواب: ایک روایت میں ہےکہ حضرت عائشہ ارشاد فرماتی ہے کہ ہم حجۃالوداع میں اللہ کے نبی کے ساتھ تھے ہم نے عمرہ کا احرام باندھا پھر اللہ کے نبی نے ارشاد فرمایا جس کے ساتھ ہدی کا جانور ہو وہ عمرہ کے ساتھ حج کا بھی احرام باندھے پھر وہ حلال نہ ہو یہاں تک کہ دونوں سے حلال ہو جاۓ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں حالت حیض میں مکہ آئی اور نہ ہی میں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور نہ صفا و مروۃ کے درمیان سعی کی پس میں نے اسکی اللہ کے نبی سے شکایت کی تو آپ نے فرمایا تم اپنے سر کے بال کم کرو اور کنگھی کرو اور تم حج کا احرام باندھو اور عمرہ کو چھوڑ دو میں نے ایسا ہی کیا جب ہم حج سے فارغ ہو گۓ تو اللہ کے نبی نے مجھے عبد الرحمن ابن ابوبکر کے ساتھ مقام تنعیم بھیجا پس میں نے عمرہ کیا اور یہ تمھارے عمرہ کا احرام باندھنے کی جگہ ہے(١)
📝اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مکی وغیر مکی حضرات عمرہ کا احرام مقام تنعیم سے باندھ سکتے ہیں.اگرچہ ان کے لیے مقام جعرانہ اور حدیبیہ سے احرام باندھ کرعمرہ کرناافضل ہے.
جواب:۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں: مال خرچ کرنے میں فضول خرچی نہ کرو . بیشک اللہ تعالی اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتے۔ (١)
🗂️حضرت ابن عمررض فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے تو وہ اس میں سے ہے۔ (٢)
🗂️حضرت مغیرہ بن شعبہ رض فرماتے ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالی نے تمہارے لئے تین چیزوں کو ناپسند کیا ہے. لایعنی باتیں کرنا ,مال کو ضائع کرنا اور کثرت سے سوال کرنا (٣)
📝مذکورہ دلائل کی روشنی میں آتش بازی (پٹاخہ پھوڑنا) میں سب سے پہلی خرابی
بےجا مال کا خرچ کرنا ہے اور مال کا ضائع کرنا لازم آتاہے، اور یہ دونوں ممنوع ہے اور دوسری خرابی کفار کی مشابہت اختیار کرنا ہے اس لئے کہ پٹاخہ بجانا ہندووں کے تہوار دیوالی وغیرہ میں عبادت کا حصہ ہے اور ایک خرابی بسا اوقات اس میں جلنے کا اندیشہ ہوتا ہے کیونکہ اس میں آگ ہوتی ہے.ان اسباب کی بنیاد پر اتش بازی (پٹاخہ پھوڑنا) ناپسند اور ممنوع ہے۔
📌📖 أن يكون منتفعًا به شرعًا وعرفًا: أي أن تكون له منفعة مقصودة عرفًا ومباحة شرعًا، فلا يصح بيع الحشرات أو الحيوانات المؤذية التي لا يمكن الانتفاع بها أو لا تقصد منفعتها عادة، وكذلك آلات اللهو التي يمتنع الانتفاع بها شرعًا، لأن بذل البدل مقابل مالا نفع به إضاعة للمال، وقد نهى رسول الله – ﷺ – عن إضاعة المال. (٤)
کسی سودی بینک میں کام کرنے والا شخص بینک کی آمدنی سے عمرہ کرے تو اسکا عمرہ درست ہوگا یا نہیں ؟
جواب:۔ عمرہ یہ حلال اور پاکیزہ کمائ سے کرنا چاہۓ.اس لئے کہ اللہ کی ذات پاک ہے اوراللہ تعالی پاکیزہ مال ہی کوقبول کرتاہے.نیزحرام مال دعاکی قبولیت کے لیے بھی مانع ہے.چوں کہ حج وعمرہ دعاکی قبولیت کابہترین ذریعہ ہے.اس لیے اس سفرکوحرام مال سے پاک وصاف بنانا چاہیے. یہ بات دوسری ہے کہ اگر کوئ سودی بینک میں کام کرنے والا شخص بینک کی آمدنی سے عمرہ کرے تو عمرہ کافریضہ اداہوگا.لیکن اس کایہ عمرہ کامل نہیں ہوگا. نیز کسب حرام (حرام کمائی) کا گناہ ہوگا..
ويسقط فرض من حج او اعتمر بمال الحرام كمغصوب وان كان عاصيا (١)