اسلامی افکار

  • مركزی صفحہ
  • كچھ اپنے بارے میں
  • قرآن
    • عبدالرحمن بن عبدالعزیز السدیس
    • سعود بن ابراهيم بن محمد الشريم
    • ماهر بن حمد المعيقلي
    • محمد أيوب بن محمد يوسف
  • درس قرآن
    • مولانا عبدالباری ندوی صاحب
    • مولانا عبد الحسیب ندوی صاحب
  • درس حدیث
    • مولانا صادق اكرمی ندوی صاحب – سلطانی مسجد
    • مولانا صادق اكرمی ندوی صاحب – تنظیم مسجد
  • فقہی مسائل
    • لائیو سوالات جوابات
    • فقہ شافعی سوال و جواب
    • فقہ حنفی سوال و جواب
    • مولانا خواجہ اكرمی مدنی صاحب-حج و عمره
    • مولانا خواجہ اكرمی مدنی صاحب-زكواة
    • مولانا انصار خطیب مدنی صاحب – خرید وفروخت
    • مولانا انصار خطیب مدنی صاحب – قربانی
    • مولانا انصار خطیب مدنی صاحب – حج وعمرہ
    • مولانا انصار خطیب مدنی صاحب – وراثت
    • مولانا انصار خطیب مدنی صاحب – نکاح
    • مولانا انصار خطیب مدنی صاحب – زیادتی پر قصاص
    • مولانا انصار خطیب مدنی صاحب – مرتد کے مسائل
    • مولانا انصار خطیب مدنی صاحب-جھاد
    • مولانا انصار خطیب مدنی صاحب – زنا کے مسائل
  • خطبات الحرمین
    • مكۃ المكرمۃ
    • مدینۃ المنوّرۃ
  • خطبات الحرمین اردو
    • مكۃ المكرمۃ
    • مدینۃ المنوّرۃ
  • بھٹكل جمعہ خطبات
    • مولانا عبدالرب خطیبی ندوی صاحب
    • مولانا خواجہ اكرمی مدنی صاحب
    • مولانا عبدالعلیم خطیب ندوی صاحب
    • مولانا انصار خطیب مدنی صاحب
    • مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
    • مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب
    • مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
    • مولانا جعفر فقیہ صاحب ندوی
    • دیگر علماء
  • اہم بیانات
  • جمعہ بیانات
    • مولانا عبدالرب خطیبی ندوی صاحب
    • مولانا عبدالعلیم خطیب ندوی صاحب
    • مولانا خواجہ اكرمی مدنی صاحب
    • مولانا انصار خطیب مدنی صاحب
    • مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
    • مولانا اقبال نائطے صاحب ندوی
    • مولانا نعمت اللہ عسكری ندوی صاحب
    • مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب
    • مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
    • مولانا جعفر فقیہ صاحب ندوی
    • دیگر علماء
  • دیگر بیانات
    • مولانا مقبول احمد كوبٹے ندوی صاحب
    • مولا نا الیاس جاكٹی ندوی صاحب
    • مولانا خواجہ اكرمی مدنی صاحب
    • مولانا انصار خطیب مدنی صاحب
    • مولانا عبدالعلیم خطیب ندوی صاحب
    • مولانا اقبال نائطے صاحب ندوی
    • مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب
    • مولانا عبدالنور فكردے ندوی صاحب
    • دیگر علماء
  • مختصر اوڈیو
    • درسِ قرآن
    • درسِ حدیث
    • دیگر موضوعات
  • رمضان ایک منٹ كا سبق
    • مولاناعبدالباری ندوی – رمضان 2007
    • مولاناعبدالباری ندوی – رمضان 2011
    • مولاناعبدالباری ندوی – رمضان 2012
    • مولاناعبدالباری ندوی – رمضان 2013
    • مولانا عبدالرب خطیبی ندوی صاحب – رمضان 2010
  • دعائیں
    • مكۃ المكرمۃ – 1437 / 2016
    • 1438 / 2017
    • 1439 / 2018
    • 1441 / 2020
    • 1442 / 2021
    • 1443 / 2022
    • مدینۃ المنوّرۃ – 1437 / 2016
    • 1438 / 2017
    • 1439 / 2018
    • 1441 / 2020
    • 1442-2021
    • 1443 / 2022
  • اوقات الصلاۃ
  • ایمیل سروسس
  • فقہ شافعی سوالات
  • گروپ میں شامل ہونے كے لئے

فقہ شافعی سوال نمبر – 0030

اتوار _11 _دسمبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

سوال نمبر/ 0030
بعض مساجد کا نام کسی شخصیت کی طرف نسبت کرکے رکھا جاتا ہے شرعا اس کی گنجائش ہے یا نہیں؟

جواب:۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک گھوڑوں کا مسابقہ کرایا۔(بخاری:420)
اس حدیث کی شرح میں حافظ ابن حجررحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسجدکی اس کے بانی یا مصلیوں کی طرف نسبت کرنا جائز ہے۔ (فتح الباری:2/258)
لہذا تعریف اور پہچان کے طور پر کسی مسجد کی نسبت کسی شخصیت کی طرف کرنا درست ہے۔

و لا باس ان یقال مسجد فلان و مسجد بنی فلان علی سبیل التعریف (المجموع:2/207)

Fiqhe Shafi Question no:0030
Some Mosques are named after
Certain people what does the shariah say with regard to this?
Ans;
Naming the Mosques after someone just to honour them and as a means of their identification is permissible…

https://islamiafkaar.com/podcast-player/5869/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-0030.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 0:53

فقہ شافعی سوال نمبر – 0031

اتوار _11 _دسمبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

فقہ شافعی سوال نمبر/ ۳۱/ 0031
مسجد میں محفل نکاح منعقد کرنے کا شرعا کیا حکم ہے؟

جواب:۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا فرماتی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نکاح کا اعلان کرو، اور نکاح مسجد میں کیا کرو۔
نکاح ایک سنت عمل ہے اور ایمان کی تکمیل کا سبب ہے. اس عمل کو ہمیشہ بابرکت جگہ انجام دینا چاہیے.اور مسجد سب سے بابرکت جگہ ہے. اس لیے مسجد میں نکاح کرنا سنت ہے۔

علامہ دمیاطی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ویسن ان یکون العقد فی المسجد…. لامربه خبر….. و ھو اعلنوا ھذا النکاح واجعلوہ فی المساجد. (اعانة الطالبین:3/431)

Fiqha Shafi Question no;0031
What does the shariah say with regard to organizing Nikah ceremony in the Mosque?
Ans;
Hazrat Aaisha Radhiallahu anha taa’la narrates that the Prophet sallallahu alaihi wasallam said;” Announce the Marriage and do it in the Mosque”
Nikah is a sunnah act and as a means of fulfillment of belief(Imaan).. This act should be carried out in a blessed place and Mosque is the best place among all.. Therefore Organizing Nikah in the mosque is Sunnah..

https://islamiafkaar.com/podcast-player/5873/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-0031.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 0:47

فقہ شافعی سوال نمبر – 0032

منگل _13 _دسمبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

سوال نمبر/ 0032
مسجد میں معتکف کے علاوہ کسی دوسرے کے لئے سونے کا شرعا کیا حکم ہے؟

جواب:۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں غیر شادی شدہ ہونے کے باوجود مسجد نبوی میں سوتے تھے (بخاری:440)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ ایک موقع پر حضرت علی رضی الله عنہ کو آپ صلی اللہ علیه وسلم نے ان کے گھر میں نہیں پایا تو ایک صحابی کو تلاش کرنے کا حکم دیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مسجد میں سویا ہوا پایا تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اے ابو تراب اٹھو۔(بخاری:441)
ان دلائل کی بناء پر فقہاء فرماتے ہیں کہ اگرچہ مسجد نماز اور ذکرکی جگہ ہے لیکن اگر کوئی اس میں سونا چاہے تو بلا کراہت جائز ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ اعتکاف کی نیت کے ساتھ سوجائے، نیز دینی مصالح کی بناء پر بھی مسجد میں سونا بدرجہ اولی درست ہوگا۔لیکن اس بات کا ضرور خیال رہے کہ سونے سے کسی نمازی کو نماز پڑھنےمیں جگہ کی تنگی نہ ہو۔
————-
علامہ بیجوری رحمة الله عليه فرماتے ہیں
ولا باس بالنوم فی المسجد مالم یضیق علی مصل او یشوش علیه (حاشیۃ البیجوری:1/176)
امام نووی رح فرماتے ہیں:
یجوز النوم فی المسجد. ولا کراهة فیه عندنا نص علیه الشافعی فی الام واتفق علیه الاصحاب (المجموع:2/197)

Fiqha Shafi Question no: 0032
Is it permissible for others to sleep in the mosque except the one who performs Etikaaf?
Ans;
Hazrat Abdullah bin Umar Radhiallahu anhu states that in the time of the Prophet Sallallahu alaihi wasallam he used to sleep in the mosque ( Masjid Nabwi) inspite of being unmarried…
(Bukhari 440)
Hazrat Sahl bin Sa’d Radhiallahu anhuma states that one day The Prophet sallallahu alaihi wasallam did not find Hazrat Ali Radhiallahu anhu at his house so he asked one of his companion(sahabi) to look for him and found Hazrat Ali radhiallahu anhu sleeping in the Mosque then The Prophet sallallahu alaihi wasallam said:” Get up !O Abu Turab” ( literally means The father of dust)..
(Bukhari 441)

Based on these evidences , the Jurists(Fuqaha) say that though the Mosque is a place of prayer and remembrance of Allah(dhikr), if anybody wishes to sleep in the mosque then it is permissible without any dislike.. However, it is better to sleep with the Niyyah of Etikaaf.. Besides, even based on the islamic mAsaaleh , Sleeping in the Mosque is valid at a first degree.. But one should be careful that because of his sleep, the space should not be less for any person to pray in the Mosque..

https://islamiafkaar.com/podcast-player/5886/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-0032.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 1:44

فقہ شافعی سوال نمبر – 0033

منگل _13 _دسمبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

سوال نمبر/ 0033
اکثر علاقوں میں یہ رواج ہے کہ نیا گھر بنانے کے بعد رشتہ داروں اور محلہ کے لوگوں کو بلاکر کھانے کا نظام کیا جاتا ہےاور گھر اوپنگ کے نام سے پروگرام کیا جاتا ہے کیا شرعا اس کی اجازت ہے؟

جواب:۔ نیا گھر بنانےکے بعد اگر کوئی خوشی سے اپنے دوست احباب اور رشتہ داروں کو بلاکر دعوت طعام کا انتظام کرتا ہے تو شرعا اس کی گنجائش ہے۔
————–
الولیمۃ …. وھی تقع علی کل طعام یتخذ لسرور حادث من عرس واملاك غیرھما… وللولادۃ عقیقة وللسلامة من الطلق خرس وللقدوم من السفر نقیعة من النقع … وللبناء وکیرۃ والکل مستحب۔(مغنی المحتاج:3/245)

Fiqha Shafi Question no: 0033
In Most of the places there is a custom that Upon making a new house, the relatives and neighbourhood people are invited for an opening ceremony ? Is it permissible in shariah to organize these kind of events?
Ans;
Upon making a new house, if anyone happily invites his friends and relatives for feast( to have meal) then it is permissible in Shariah..

https://islamiafkaar.com/podcast-player/5891/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-0033.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 0:45

فقہ شافعی سوال نمبر – 0034

جمعرات _15 _دسمبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

سوال نمبر/ 0034
قضاء نماز کو جماعت کے ساتھ ادا کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب:۔ قضاء نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے۔ مسلم شریف کی روایت ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خیبر سے رات کے وقت واپس لوٹے، جب نیند کا غلبہ ہوا تو ایک مقام پر آرام فرمایا اور حضرت بلال سے فرمایا….. جب فجر کا وقت قریب ہوا تو حضرت بلال کی آنکھ لگ گئی نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو ئے اور نہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور نہ کوئی دوسرے صحابی بیدار ہوئے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے بیدار ہوئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا. حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اقامت کھنے کا حکم دیا اور تمام صحابہ کرام کو صبح کی نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی جب نماز مکمل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز کے وقت سو جائے اور بھول جائے تو جب یاد آجائے فورا نماز پڑھ لے (مسلم 309)
————–
قوله فصلي بهم الصبح فيه استحباب الجماعة في الفائتة وكذا قال اصحابنا (شرح مسلم2/309 )

Fiqha Shafi Question no; 0034
How about making up of Missed prayer(Qaza prayer) in congregation(Jamaat)
Ans;
Making up of missed prayer in congregation is Mustahab(Sunnah).. There is a narration in Muslim Shareef by Hazrat Abu huraira Radhiallahu anhu that the Prophet sallallahu alaihi wasallam returned from battle of khaybar at night and went to sleep at a place where they stopped on the way because he felt sleepy and ordered Hazrat Bilal to awaken them for morning prayer but when the time of fajr arrived , Hazrat Bilal also slept.. Neither The Prophet sallallahu alaihi wasallam woke nor Hazrat Bilal and not even the companions and the sun shone before they awakened..So The Prophet sallallahu alaihi wasallam woke up first and performed ablution(wudhu) and ordered Hazrat Bilal Radhiallahu anhu to call Iqamah and The Prophet sallallahu alaihi wasallam lead the fajr prayer to the companions by himself.. After the prayer The Messenger of Allah said,”
If a person falls asleep in the prayer time and forgets to perform it then let he performs it as soon as he remembers it”..6

(Sahih Muslim 309)

https://islamiafkaar.com/podcast-player/5901/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-0034.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 1:14

فقہ شافعی سوال نمبر – 0035

اتوار _18 _دسمبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

سوال نمبر/ 0035
چار رکعت والی فرض اور سنت نماز کی آخری دو رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد کوئی دوسری سورہ پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟

جواب:۔ حضرت ابو قتادہ رضي الله عنه کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور دو سورتیں پڑھتے تھے، اور آخری دو رکعت میں صرف سورہ فاتحہ پڑھتے، اور( کبھی کبھی ) کوئی آیت سنا دیتے، اور دوسری رکعت کے مقابلے میں پہلی رکعت میں لمبی قرآت کرتے. اور اسی طرح عصر اور فجر میں ہوتا تھا۔ رواه البخاري/(667)( مسلم/451)، بزيادة لفظ ” أحياناً
نماز میں پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے بعد کوئی دوسری سورہ پڑھنا سنت ہے. اور تیسری اور چوتھی رکعت میں صرف سورہ فاتحہ پڑھی جائے. البتہ کوئی اور سورہ یا آیت پڑھے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
—————
فَهَلْ يُسَنُّ قِرَاءَةُ السُّورَةِ فِي الرَّكْعَةِ الثَّالِثَةِ وَالرَّابِعَةِ فِيهِ قَوْلَانِ مَشْهُورَانِ
(أَحَدُهُمَا) وَهُوَ قَوْلُهُ فِي الْقَدِيمِ لَا يُسْتَحَبُّ قَالَ الْقَاضِي أَبُو الطَّيِّبِ وَنَقَلَهُ الْبُوَيْطِيُّ وَالْمُزَنِيُّ عَنْ الشَّافِعِيِّ
(وَالثَّانِي)
يُسْتَحَبُّ وَهُوَ نَصُّهُ فِي الْأُمِّ وَنَقَلَهُ الشَّيْخُ أَبُو حَامِدٍ وَصَاحِبُ الْحَاوِي عَنْ الْإِمْلَاءِ أَيْضًا وَاخْتَلَفَ الْأَصْحَابُ فِي الْأَصَحِّ مِنْهُمَا فَقَالَ أَكْثَرُ الْعِرَاقِيِّينَ الاصح الاستحباب ممن صحه الشَّيْخُ أَبُو حَامِدٍ وَالْمَحَامِلِيُّ وَصَاحِبُ الْعُدَّةِ وَالشَّيْخُ نَصْرُ الْمَقْدِسِيُّ وَالشَّاشِيُّ وَصَحَّحَتْ طَائِفَةٌ عَدَمَ الِاسْتِحْبَابِ وَهُوَ الْأَصَحُّ وَبِهِ أَفْتَى الْأَكْثَرُونَ وَجَعَلُوا الْمَسْأَلَةَ مِنْ الْمَسَائِلِ الَّتِي يُفْتَى فِيهَا عَلَى الْقَدِيمِ قُلْتُ وَلَيْسَ هُوَ قَدِيمًا فَقَطْ بَلْ مَعَهُ نَصَّانِ فِي الْجَدِيدِ كَمَا حَكَيْنَاهُ عَنْ الْقَاضِي أَبِي الطَّيِّبِ وَاتَّفَقَ أَصْحَابُنَا على انه إذا قلنا بالسورة في الثانية والرابعة تكون أَخَفَّ مِنْ الْأُولَى وَالثَّانِيَةِ لِحَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهَلْ يطول الأولى في القراءة على الثانية من كل الصلوات؛ فيه وجهان أصحهما عند المصنف و الأكثرين لا يطوَّل والثاني يستحب التطويل لحديث أبي قتادة۔المجموع (شرح المهذب 3/ 387)

Fiqha Shafi Question no:0035
What is the ruling on reciting any surah after surah fatiha in the last two rakah of sunnah and fardh prayer of four rakah??
Ans;
Hazrat Abu Qatada Radhiallahu anhu narrates that the Messenger of Allah sallallahu alaihi wasallam used to recite two surahs after surah fatiha in the first two rakahs of Zuhr prayer and only surah fatiha in the last two rakahs and sometimes he used to recite any verse of the Qura’n and used to prolonged the qirat in the first rakah than the second rakah .Hence, in the same way the fajr and asr salah were prayed..
(Bukhari 667) (Muslim 451)

Reciting any other surah after surah fatiha in the first two rakahs of the prayer is sunnah.. And only surah fatiha is to be recited in the third and fourth Rakah of the prayer.. Certainly, there is no harm in reciting any surah or ayah ..

https://islamiafkaar.com/podcast-player/5953/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-0035.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 1:10

فقہ شافعی سوال نمبر – 0036

پیر _19 _دسمبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

سوال نمبر/ 0036
نماز کے علاوہ اوقات میں مسجد بند رکھنے کا کیا حکم ہے؟

جواب :۔ مسجد میں نماز ادا کرنا گھر کے مقابلہ میں زیادہ افضل ہے۔ لہذا لوگوں کو نماز اور دیگر امور کی سہولیات کے خاطر مسجد کو کھلا رکھنا اگرچہ بہتر و مستحب ہے لیکن مسجد کی حفاظت اور اسکے سامان کی حفاظت کے خاطر اسی طرح مسجد کی بےحرمتی اور اسکی چیزوں کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں مسجد کو بند رکھنا بھی جائز ہے بلکہ آج کل کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مسجد کو بند رکھنا ہی مناسب ہے
————-
لا باس باغلاق المساجد فی غیر وقت الصلاۃ لصیانته او لحفظ آلاته ھکذا قالوہ وھذا اذا خیف امتھانھا ضیاع ما فیھا ولم یدع الی فتحھا حاجة فاما اذا لم یخف من فتحھا مفسدۃ لا انتھاك حرمتھا وکان فتحھا رفق بالناس فالسنة فتحھا کما لم یغلق مسجد رسول الله صلي الله عليه وسلم فی زمنه وبعدہ (المجموع:2/204)

Question No. 0036
What is the ruling on keeping the Masjid closed during times other than Prayer timings ?

Answer: Praying in the Masjid is better than praying at home. Therefore, although it is better & Mustahab to keep the Masjid open for the convenience of people for Prayers & other matters, but for the protection of the Masjid & its materials as well as due to the fear of desecration of the Masjid & losing its belongings, it is also permissible to keep the Masjid closed. Infact considering the current situation, it is only appropriate to keep the Masjid closed.

https://islamiafkaar.com/wp-content/uploads/2020/08/Fiqhe-Shaf-Question-0036.mp3
https://islamiafkaar.com/podcast-player/5964/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-0036.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 1:13

فقہ شافعی سوال نمبر – 0037

پیر _19 _دسمبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

سوال نمبر/ 0037
مسجدوں ميں گھر سے ناریل یا کوئی دوسری چیزیں لاکر نماز کے بعد نیلام کرنا درست ہے؟

جواب :۔ حضرت ابو ہریرہ رضي الله عنه سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : کہ جب تم مسجد میں کسی کو خرید و فروخت کرتے دیکھو، تو کہو کہ "اللہ کرے کہ تیری تجارت میں نفع نہ ہو” (رواه الترمذي/1321)
اگر کوئی شخص اپنے گھر سے ناریل یا کوئی دوسری چیزیں لاکر مسجد کو عطیہ کے طور پر دے ، تو ان سب چیزوں کو مسجد کے باہر نیلام کرنا درست ہے. مسجد میں نیلام کرنا یا خرید و فروخت کرنا مکروہ ہے۔
————–
الْبَيْعَ فِي الْمَسْجِدِ مَكْرُوهٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَغَيْرِهِ، عَلَى الْأَظْهَرِ۔ (روضة الطالبين النووی2/47)
عَدَّ الشَّيْخُ أَبُو حَامِدٍ وَطَائِفَةٌ رِحَابَ الْمَسْجِدِ مَعَ مَقَاعِدِ الْأَسْوَاقِ فِيمَا يُقْطَعُ لِلِارْتِفَاقِ بِالْجُلُوسِ فِيهِ لِلْبَيْعِ وَالشِّرَاءِ، وَهَذَا كَمَا يَقْدَحُ فِي نَفْيِ الْإِقْطَاعِ، يُخَالِفُ الْمَعْرُوفَ فِي الْمَذْهَبِ فِي الْمَنْعِ مِنَ الْجُلُوسِ فِي الْمَسْجِدِ لِلْبَيْعِ وَالشِّرَاءِ، إِلَّا أَنْ يُرَادَ بِالرِّحَابِ الْأَفْنِيَةُ الْخَارِجَةُ عَنْ حَدِّ الْمَسْجِدِ.
قُلْتُ: قَالَ الْمَاوَرْدِيُّ فِي «الْأَحْكَامِ» : إِنَّ حَرِيمَ الْجَوَامِعِ وَالْمَسَاجِدِ، إِنْ كَانَ الِارْتِفَاقُ بِهِ مُضِرًّا بِأَهْلِ الْمَسَاجِدِ، مُنِعَ مِنْهُ، وَلَمْ يَجُزْ لِلسُّلْطَانِ الْإِذْنُ فِيهِ، وَإِلَّا، جَازَ. وَهَلْ يُشْتَرَطُ فِيهِ إِذْنُ السُّلْطَانِ؟ وَجْهَانِ۔ روضة الطالبين -النووي (5/ 298)

Fiqha Shafi Question no:0037
Is it permissible to get coconut or something else from home and sell it in the Mosque after the prayer?
Ans;
Hazrat Abu Huraira Radhiallahu anhu narrates that The Messenger of Allah said;” When you see someone buying and selling in the mosque then say:’ May Allah not profit your business’

(Tirmidhi 1321)

If someone gets coconut or any other thing from his house and present it as a gift to the mosque then selling it outside the Mosque is Valid.. Therefore, it is makrooh to sell these things inside the Mosque..

https://islamiafkaar.com/wp-content/uploads/2020/08/Fiqhe-Shaf-Question-0037.mp3
https://islamiafkaar.com/podcast-player/5968/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-0037.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 1:08

فقہ شافعی سوال نمبر – 0038

منگل _20 _دسمبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

سوال نمبر/ 0038
بعض لوگ صلاۃ التوبہ کے نام دو رکعت نماز پڑھتے ہیں. کیا شرعا اس نام سے کوئی نماز ثابت ہے؟

جواب:- حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوے سنا. جس شخص سے کوئی گناہ ہوجاے پھر وہ اٹھ کر وضو کرکے نماز پڑھے اور اللہ سے معافی طلب کرے تو اللہ تعالی اسے معاف فرمادیں گے – (سنن ترمذی:406)
اس حدیث کی بناء پر فقہاء فرماتے ہیں کہ گناہ کے ارتکاب پر ندامت و شرمندگی اور آئندہ گناہ نہ کرنے کے عزم کے ساتھ توبہ کی نیت سے دو رکعت پڑھنا مستحب ہے.
—————
علامہ قلیوبی رحمة الله عليه فرماتے ہیں:
ورکعتان … و للتوبة قبلھا او بعدھا ولو من صغیرۃ- (حاشیۃ قلیوبی:1/607)
ومنه صلاة التوبة وهي ركعتان قبل التوبة ينوي بهما سنة التوبة وتصحان بعدها-(نهاية الزين 106/1)

Fiqha Shafi Question No. 0038
Some people offer two Rak’aats of Prayers in the name of Salat-ut-Tawbah. Is there any prayer with this name, according to Shari’ah ?
Answer: Hazrat Ali R.A says that Hazrat Abu Bakr R.A said to me: I heard the Messenger of Allah PBUH say: Whoever commits a sin, then he gets up, performs ablution, then prays & seeks forgiveness from Allah, then Allah will forgive him. (Sunan Al-Tirmidhi: 406)
On the basis of this Hadith, the Jurists say that it is Mustahab to pray two Rak’aats with the intention of repenting & not committing that sin again.

https://islamiafkaar.com/wp-content/uploads/2020/08/Fiqhe-Shaf-Question-0038.mp3
https://islamiafkaar.com/podcast-player/5972/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-0038.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 1:03

فقہ شافعی سوال نمبر – 0039

جمعرات _22 _دسمبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

فقہ شافعی سوال نمبر/ 0039
کیا سفر سے واپسی پر مسجد میں جاکر دو رکعت ادا کرنا شرعا ثابت ہے؟

جواب:حضرت کعب رضي الله عنه فرماتے ہیں کہ جب آپ صلي الله عليه وسلم سفر سے لوٹتے تو مسجد میں جاکر سب سے پہلے دو رکعت نماز ادا کرتے پھر لوگوں کی ملاقات کے لیے بیٹھ جاتے (بخاری:)
اس حدیث کی بنیاد پر فقہاء فرماتے ہیں کہ سفر سے واپسی پر مسجد میں جاکر دو رکعت ادا کرنا شرعا ثابت اور مسنون ہے. لہذا اس کی ترغیب دینے والے برحق ہیں-
—————–
السنة لمن قدم من السفر ان یصلی رکعتین فی المسجد اول قدومه (المجموع:4/59)

Fiqhe Shafi Question No/0039
Is it evidenced in shariah about performing 2 rakahs of prayer in the mosque upon returning from a journey?

Ans; Hazrat Ka’ab R.A reported that The Messenger of Allah(peace and blessings of Allah be upon him)used to offer two rakah of prayer upon returning from a journey and then he used to sit and meet people ..(Bukhari)
Based on this hadees the jurists(fuqaha)say upon returning from a journey offering 2 rakah prayer in the mosque is evidenced in shariah and is Sunnah..Therefore the people who motivate others for this act are indeed right..

https://islamiafkaar.com/wp-content/uploads/2017/12/Fiqhe-Shaf-Question-0039.mp3
https://islamiafkaar.com/podcast-player/5981/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-0039.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 0:47

فقہ شافعی سوال نمبر – 0040

اتوار _25 _دسمبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

سوال نمبر/ 0040
مسجد میں داخل ہونے والے کے لئے تحیۃ المسجد پڑھنا کب مکروہ ہے؟

جواب:۔ مسجد میں داخل ہوتے وقت اگر امام فرض نماز شروع کرچکا ہو یعنی جماعت کھڑی ہوگئ ہو تو اس وقت اور مسجد حرام میں داخل ہونے والے کے لئے طواف چھوڑ کر تحیۃ المسجد پڑھنا مکروہ ہے.( واضح رہے کہ اوقات مکروہہ میں تحیۃ المسجد پڑھنا مکروہ نہیں ہے)
—————
تکرہ التحیة فی الحالتین احداھما:اذادخل والامام فی المکتوبة … الثانی: اذا دخل المسجد الحرام فلا یشغل عن الطواف (المجموع:4/57)

https://islamiafkaar.com/wp-content/uploads/2020/08/Fiqhe-Shaf-Question-0040.mp3

Answer: When entering the mosque, if the Imam has started the Obligatory Prayers, i.e., the Prayer Congregation has been started, then it is Makrooh to Pray Tahiyyatul Masjid at that time & also Makrooh for the one who enters Masjid Al-Haram, to leave the Tawaf & Pray Tahiyyatul Masjid.
(It should be noted that Praying Tahiyyatul Masjid at Makrooh times though is not Makrooh).

https://islamiafkaar.com/podcast-player/6004/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-0040.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 1:08

فقہ شافعی سوال نمبر – 0041

پیر _26 _دسمبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

سوال نمبر/ 0041
تصویر اور نقش ونگاری کے کپڑوں میں نماز پڑھنے کا کیاحکم ہے؟

جواب:- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک چادر تھی جس پر نقش تھا جس کی بناء پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں خلل واقع ہوتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چادر ابوجہم کو دے کر ان کے پاس سے ایک انبجانی چادرلے لی (مسلم :1240)
اس حدیث کی بناء پرفقہاء فرماتے ہیں کہ نمازی کے لئےا یسے کپڑے جس میں کسی جاندار کی تصویر یا نقش و نگاری ہو اور خودد نمازی یا دوسرے نمازی کے دل کو اپنی طرف کھیچے رکھے جس کی وجہ سے خشوع اور خضوع باقی نہ رہے تو اس طرح کے کپڑے پہن کر نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ لہذا ایسے کپڑوں پر نماز پڑھنے سے احتیاط کرنا چاہیے. روضة الطالبين (٣٩٤/١)
قال الإمام النووي رحمه الله:

ويُكْرَهُ أنْ يُصَلِّيَ فِي ثَوْبٍ فِيهِ صُوَرٌ (١)
_____________
(١) روضة الطالبين (٣٩٤/١)

https://islamiafkaar.com/wp-content/uploads/2020/08/Fiqhe-Shaf-Question-0041.mp3

Answer: Hazrat Ayesha R.A says that the Prophet PBUH had a blanket with engravings on it, due to which the Prayers of the Prophet PBUH used to get disturbed, hence, the Prophet PBUH gave that blanket to Abu Jahm and took an Anbujani (plain) blanket from him. (Muslim: 1240)

On the basis of this Hadith, the Jurists say that the clothes for the worshipers which have pictures or images of a living being on them & it attracts the attention of the worshiper himself towards it or the attention of other worshipers while Praying, such that the attention & rememberance of God (humility & submission) do not remain, then it is Makrooh to offer Prayers wearing such clothes. Therefore, one should be cautious about praying on such clothes.
(روضة الطالبين 982/1)

https://islamiafkaar.com/podcast-player/6012/%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-0041.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 1:29

فقہ شافعی سوال نمبر – 0042

منگل _27 _دسمبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

سوال نمبر/ 0042
اگر کسی شخص کے والدین (مسلمان ہو یا کافر) کا انتقال ہو جائے تو ان کی طرف سے صدقہ کرنے کا کیا حکم ہے؟ اور اس کی کیا دلیل ہے؟

جواب:- حضرت سعد بن عبادۃ رضي اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میری ماں کا انتقال ہو چکا ہے کیا میں ان کی جانب سے صدقہ کروں؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ضرور کرو، میں نے کہا کون سا صدقہ افضل ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی پلانا (نسائ.3694)
اس حدیث سے فقہاءِ کرام نے استدلال کیا ہے کہ میت کی جانب سے صدقہ کرنا جائز ہے اور اس کا ثواب میت کو پہنچتا ہے جبکہ میت مسلمان ہو اور جب میت کافر کی ہو تو اس کی جانب سے صدقہ کرنا جائز نہیں ہے اس لئے کہ اسکو اس کا نفع نہیں پہنچتا یہانتک کہ جو کچھ اس نے اچھے اعمال کئے ہوں اس کا ثواب بھی اس کو آخرت میں نہیں پہنچتا،
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:۔
إن الذين كفروا وماتوا وهم كفار فلن يقبل من أحدهم ملأ الأرض ذهبا ولو افتدى به اولئك لهم عذاب اليم وما لهم من نصرين۔(سورہ ال عمران:91)
جو لوگ کفر کریں اور حالت کفر میں مرجائیں ان میں سے کوئی اگر زمین بھر سونا فدیے میں اللہ کے راستے میں دیں تو بھی ان کا فدیہ ہر گز قبول نہیں کیا جائے گا یہی لوگ ہیں جن کے لئے تکلیف دہ عذاب ہے اور جن کا کوئ مددگار نہیں،
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:۔
ما کان للنبي والذين آمنوا أن يستغفروا للمشركين (التوبة:113)
پیغمبر اور دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ مشرکین کے لئے مغفرت کی دعاء مانگیں۔
ان آیات سے استدلال کرتے ہوئے فقہاء فرماتے ہیں کہ کافر میت کی طرف سے صدقہ دینا و استغفار کرنا درست نہیں ہے
—————-
قال الامام النووى
أما الصدقة عن الميت فتنفعه بلا خلاف…(المجموع:440/16)
قال الامام إبن حجر العسقلانى
(ما من مسلم يغرس غرسا…. فيأكل منه طير أو إنسان أو بهيمة إلا كان له به صدقة……) أخرج الكافر لأنه رتب على ذالك كون ما أكل منه يكون له صدقة والمراد بالصدقة الثواب فى الآخرة وذالك يختص بالمسلم.(فتح الباري:408/6)(البيان:289/8)

Question No. 0042
If a person’s parents (whether Muslim or non-Muslim) die, what is the ruling on giving charity on their behalf & what is the proof of this ?

Answer: It is narrated on the authority of Hazrat Saad bin Ubadah R.A that he said: O Messenger of Allah PBUH, my mother has passed away, can I give charity on her behalf ?
So the Prophet PBUH said, ‘Give it.’ I asked, ‘Which type of charity is the best ?’
So the Prophet PBUH said: Giving water to drink. (Nasaii: 3694)
On the basis of this Hadeeth, the jurists say that, it is permissible to give charity on behalf of the deceased and its reward goes to the deceased if he is a Muslim & it is not permissible to give charity on behalf of the deceased if he is a disbeliever, since it does not benefit him & even the reward of what he has done does not reach him in the Hereafter.
Allah says, ‘Those who disbelieve & die while they are disbelievers, even if they give so much of gold that it fills the whole earth as a ransom in the path of Allah, even then their ransom will not be accepted at all. These are only the ones for whom there is a painful chastisement & have no helpers’. (Surah Aal-Imran: 91)
Allah says: It is not permissible for the Prophet and other Muslims to ask forgiveness for the polytheists. (Surah At-Tawbah: 113)
On the basis of these verses, the jurists say that it is not right to give charity and seek forgiveness on behalf of a deceased who died as a disbeliever.

https://islamiafkaar.com/wp-content/uploads/2020/09/Fiqhe-Shaf-Question-0042.mp3
https://islamiafkaar.com/podcast-player/6020/%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-0042.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 1:32

فقہ شافعی سوال نمبر – 0043

منگل _27 _دسمبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

سوال نمبر/ 0043
نماز کے بعد تسبيحات داہنے ہاتھ ميں ہی پڑهنا چاہئے يا داہنے ہاتھ کے ساتھ بائیں ہاتھ پر بھی پڑھ سكتے ہے؟

جواب:۔ حضرت عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہے كہ ميں نے رسول الله صلي الله عليه وسلم كو ديكها كہ آپ ہاتھ سے تسبيح كر رہے ہیں، ابن قدامه فرماتے ہے كہ یہاں داياں ہاتھ مراد ہے۔(ابو داود:1592)
حضرت عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں كہ ميں نے آپ صلی الله علیہ و سلم کو ہاتھ سے تسبيح كرتے ہوئے دیكها۔(ترمذي:3411)
حضرت عائشه رضی اللہ عنھا فرماتي ہےكہ آپ صلي الله عليه و سلم كا داياں ہاتھ پاكی اور کھانے وغيره کے لئے استعمال ہوتا اور باياں ہاتھ استنجاء اور ناپسندیده چيزوں كے لئے۔(ابوداود:33)
ان احاديث سے فقهائے كرام نے يہ استدلال كيا ہے كہ نماز کے بعد تسبيح داہنے ہاتھ سے كرنا افضل ہےالبتہ بائیں ہاتھ سے بھی گنجائش ہے۔
————
قال الإمام المزجد:۔
و يسن بعد السلام اكثار ذكر الله والدعاء سرا… ويسن التسبيح والذكر الوارد أول النهار وآخره ليلا و عند النوم و اليقضة وثبت أنه صلي صلى الله عليه وسلم كان يقعد التسبيح بيمينه۔(العباب:212/1)
قال محمد بن عمر سالم بازمول:۔
هل يقعد التسبيح بيده اليمنى فقط او بيديه اليمني واليسري ؟
الجواب: دلت رواية ابي داود علي ان المشروع عقد اليمني فقط في التسبيح۔(الترجيح في مسائل الطهارة والصلاة/354)

Fiqha Shafi Question no:0043
After the prayer, Should one do tasbeeh using right hand or can he use left hand as well?
Ans; Hazrat Abdullah bin Amr( May Allah be pleased with him) said,” I saw the Messenger of Allah( peace and blessings of Allah be upon him)counting the tasbeeh on his hand”.. Ibn Qudama says that here it refers to the right hand..
(Abu Dawood 1592)

Hazrat Abdullah bin Amr( May Allah be pleased with him) said;” I saw the Messenger of Allah( May peace and blessings of Allah be upon him) counting the tasbeeh on his hand.”
( Tirmidhi 3411)

Hazrat Aaisha (May Allah be pleased with her) says that The Messenger of Allah( peace and blessings of Allah be upon him) uses his right hand for pure activities and eating etc and uses his left hand for Istinja( purification with water after urinating and defecating ) and also for undesirable things..
( Abu Dawood :33)

On the basis of this hadeeth, The Jurists(Fuqaha) evidenced that after the prayer, Counting tasbeeh on right hand is Afzal.. However, performing it with left hand is also valid…

https://islamiafkaar.com/podcast-player/6024/%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-0043.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 1:14

فقہ شافعی سوال نمبر – 0044

جمعرات _29 _دسمبر _2016AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

سوال نمبر/ 0044
جمعہ کی رات یا جمعہ کے دن یا سال کے کسی قابلِ احترام دن میں جیسے رمضان ،عاشوراء وغیرہ میں کسی کا انتقال ہو جائے تو لوگ اسے مرنے والے کے حق میں باعثِ فضیلت سمجھتے ہیں اور عذابِ قبر کی سختی میں تخفیف کا سبب سمجھتے ہیں شرعاً اس کی کیا حقیقت ہے؟

جواب:۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! جو بھی مسلمان جمعہ کے دن یا رات میں وفات پاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو قبر کے فتنے سے محفوظ فرماتے ہیں.(ترمذی:1074)
اس حدیث میں اس بات کی صریح دلیل ہے کہ جس شخص کا جمعہ کے دن یا رات میں انتقال ہو جائے وہ عذابِ قبر سے محفوظ رہتا ہے،اسی طرح علماء فرماتے ہیں کہ جس شخص کا انتقال رمضان ،عاشوراء اور یومِ عرفہ میں ہوجائے تو اللہ کی ذات سے امید ہے کہ وہ بهی ان شاء الله فتنہ قبر سے محفوظ رہے گا،اس لئے کہ جیسے افضل مکان کی فضیلت ہوتی ہے اسی طرح افضل اور مکرم اوقات کی بھی ایک فضیلت ہوتی ہے۔
————
قال الشيخ الرؤيانى: يستحب إذا مات فى ليلة الجمعة أو يوم الجمعة أو يوم عاشوراء أو فى يوم عرفة أن يتفاؤل له خيرا و يرغب فى حضور جنازته لما روي عبدالله ابن عمرو (بحرالمذهب:384/3)
قال الامام المباركفوري:
أن شرف الزمان له تأثير عظيم كما أن فضل المكان له أثر جسيم: (160/4)

Fiqha Shafi Question no:0044
If a person dies on the night of thursday or the day of friday or any sacred day like Ramadhan , aashura l(10th of Muharram) etc then people regard the day as virtuous for the deceased and reduction of punishment in the grave.. What does the shariah say with regard to this?
Ans;
Hazrat Abdullah bin Amr ( May Allah be pleased with him ) said; ‘Whoever dies on the day of friday or the night of friday, Allah protects him from the trials of the grave..’
(Tirmidhi :1074)

It is evidenced in this hadeeth that whoever dies on the day of friday or the night of friday will be safe from the punishment of the grave.. Similarly, the scholars says that whoever dies in the month of Ramadhan or Aashura or the day of Arafah( 9th of zil hijja) then it is hoped from Allah that the deceased will be saved from the trials of the grave In shaa allah.. Because just how a prominent house has its virtue in the same way the noble and sacred days are also virtuous…

https://islamiafkaar.com/podcast-player/6030/%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-0044.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 1:30

1 2 3 4 5 … 88

↓↓↓ براہِ راست سننے كے لئے كلك كریں ↓↓↓


↓↓↓ براہِ راست سننے كے لئے كلك كریں ↓↓↓
Islamiafkaar is on Mixlr
بھٹکل آذان ٹائم منگل 26 Shawwal 1447ﻫ

٢٥ شَوَّال ١٤٤٧

Suhoor End 4:57 am
Iftar Start 6:48 pm
Prayer Begins
Fajr5:02 am
Sunrise6:19 am
Zuhr12:38 pm
Asr3:47 pm
Maghrib6:48 pm
Isha7:54 pm

تازہ اِضافے

  • درس قرآن نمبر 0554
  • درس قرآن نمبر 0553
  • درس حدیث نمبر 0636
  • درس قرآن نمبر 0552
  • فقہی دروس نمبر 020– 11-04-2026
  • درس قرآن نمبر 0551
  • اسلام میں علم کا مقام – 10-04-2026
  • فقه الأسماء الحسنى – 10-04-2026
  • اتعظ – 10-04-2026
  • اولاد کی تعلیم و تربیت 2 – 10-04-2026

ہماری نئی معلومات كے لئے

  • مركزی صفحہ
  • كچھ اپنے بارے میں
  • قرآن
  • درس قرآن
  • درس حدیث
  • فقہی مسائل
  • خطبات الحرمین
  • خطبات الحرمین اردو
  • بھٹكل جمعہ خطبات
  • اہم بیانات
  • جمعہ بیانات
  • دیگر بیانات
  • مختصر اوڈیو
  • رمضان ایک منٹ كا سبق
  • دعائیں
  • اوقات الصلاۃ
  • ایمیل سروسس
  • فقہ شافعی سوالات
  • گروپ میں شامل ہونے كے لئے

Copyright © 2014 • اسلامی افکار • Finch Theme