سوال نمبر/ 0310 بعض لوگ نماز میں سورہ فاتحہ زبان کو حرکت دیئے بغیر دل ہی میں پڑھتے ہیں کیا اس طرح پڑھنا صحیح ہے؟
جواب:۔ نماز میں سورہ فاتحہ صرف دل ہی دل میں پڑھنے سے فرضیت ساقط نہیں ہوتی لھذا اس طرح نماز نہیں ہوگی، بلکہ زبان کی حرکت اور آہستہ آواز سے سورہ فاتحہ کو اسکے صحیح مخارج کی ادائیگی کے ساتھ پڑھنا بھی واجب ہے۔
صحیح بخاری کی روایت ہے۔ حضرت ابو معمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ظھر اور عصر میں قرات کرتے تھے؟ تو حضرت خباب نے فرمایا جی ہاں ہم نے عرض کیا یہ آپ کو کیسے معلوم ہوا ؟ تو خباب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی داڑھی کی حرکت سے ہم نے جانا۔ (بخاری/760)
————-
علامہ عمراني رحمة الله عليه لکھتے ہیں :
ولا يجزئه أن ينطق بصدره ولا ينطق به لسانه لأن عليه أن يحرك بالقراءة لسانه ويسمع نفسه (البيان..2/187)
امام هيتمى رحمة الله عليه لکھتے ہیں:
ويجري ذلك في كل واجب قولي وعلى أخرس يحسن تحريك لسانه على مخارج الحروف كما بحثه الأذرعي ومن تبعه فتحريك لسانه وشفتيه ولهاته قدر إمكانه لأن الميسور (تحفة المحتاج/1/182)
امام نووی رحمة الله عليه لکھتے ہیں :
أبي هريرة رضي الله عنه:أقرأ بها نفسك فمعناه أقرأها سرا بحيث تسمع نفسك (شرح مسلم 2/78)
Question No/0310 Some people recite surah al fatiha silently in the heart without the movement of the lips and tongue ?
Ans; Reciting surah al fatiha silently in the heart without the movement of the lips and tongue doesn’t fulfill the obligations of salah.. Indeed it is compulsory(wajib) to recite surah al fatiha in a low volume with the movements of the tongue along with the accurate articulation points (makharij)..
Narrated in Sahih Bukhari;
Hazrat Abu Mu’mar R.A reported; We asked the Hazrat Khabbab R.A if the Messenger of Allah(peace and blessings of Allah be upon him) recited the Qirat during Zuhr and Asr prayers?
Hazrat Khabbab R.A said yes, and then we asked, how did you know that?
then Hazrat Khabbab R.A said that We came to know by the movement of his beard…
سوال نمبر/ 0312 اگر کسی عورت کو اس کی عادت کے مطابق دم حیض آکر بند ہوجائے پھر سولہ یا سترہ دن گذرنے کے بعد اسی مہینے میں دوبارہ خون شروع ہوجائے تو یہ خون حیض کا شمار ہوگا یا نہیں؟
جواب:۔ اگر کسی عورت کو اس کی عادت کے مطابق 5/یا6/دن دم حیض آکر بند ہوجائے پھر سولہ (۱٦) یا سترہ (۱۷) دن گذرنے کے بعد اسی مہینے دوبارہ خون شروع ہو جائے تو پھر یہ خون حیض کا کا شمار ہوگا کیونکہ حیض اول اور حیض ثانی کے مابین ایک طہر کامل پایا جارہا ہے اور وہ کم سے کم طہر کامل پندرہ دن کا گزرنا ہے۔
امام نووی رحمة الله عليه لکھتے ہیں:
ﻭﻟﻮ ﺭﺃﺕ ﺧﻤﺴﺔ ﺳﻮاﺩا ﺛﻢ ﻃﻬﺮﺕ ﺧﻤﺴﺔ ﻋﺸﺮ ﺛﻢ ﺭﺃﺕ ﺧﻤﺴﺔ ﺻﻔﺮﺓ ﻓﻌﻠﻰ اﻟﻤﺬﻫﺐ اﻟﺼﻔﺮﺓ ﺣﻴﺾ ﺛﺎني ﻭﺑﻴﻨﻪ ﻭﺑﻴﻦ اﻟﺴﻮاﺩ ﻃﻬﺮ ﻛﺎﻣﻞ. (المجموع:391/2)
امام ماودي رحمة الله عليه لکھتے ہیں:
ﻓﺮﺃﺕ ﺧﻤﺴﺔ ﺃﻳﺎﻡ ﺩﻣﺎ ﺃﺳﻮﺩ، ﺛﻢ ﺧﻤﺴﺔ ﻋﺸﺮ ﻳﻮﻣﺎ ﻃﻬﺮا ﺛﻢ ﺧﻤﺴﺔ ﺃﻳﺎﻡ ﺩﻣﺎ ﺃﺻﻔﺮ، ﻛﺎﻧﺖ اﻟﺨﻤﺴﺔ اﻟﺼﻔﺮﺓ ﻋﻠﻰ ﻣﺬﻫﺐ اﻟﺸﺎﻓﻌﻲ ﺣﻴﻀﺎ؛ ﻟﻮﺟﻮﺩﻫﺎ ﻓﻲ ﺯﻣﺎﻥ ﻳﺠﻮﺯ ﺃﻥ ﻳﻜﻮﻥ ﺣﻴﻀﺎ. الحاوى الكبير400/1)
أمام غمراوي رحمة الله عليه لکھتے ہیں:
ﻭﺃﻗﻞ ﻃﻬﺮ ﺑﻴﻦ اﻟﺤﻴﻀﺘﻴﻦ ﺧﻤﺴﺔ ﻋﺸﺮ ﻳﻮﻣﺎ۔ (السراج الوهاج/38)
Question No/0312 If a woman stops bleeding after her regular days of menses and starts bleeding again after 16 or 17days in the same month, Is this blood considered as menses?
Ans; If a woman stops bleeding after 5 or 6 days of her regular menstruation and then starts bleeding again after 16 or 17 days of the same month then this blood is considered as Menstruation(Haiz) because there she attains a complete gap of purity between first and second menstruation and that is the gap of atleast 15 days of purity…
جواب: حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی انگار پربیٹھے،پھراس کے کپڑے جل جاے یہاں تک کہ اس کی چمڑی نکل جاے یہ اس کے لیے بہتر ہے قبرپر بیٹھنے کے گناہ کے مقابلہ میں (مسلم:2248)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں پربیٹھنے سے منع فرمایا (مسلم:2245)
ان دلائل کی روشنی میں فقہاء نے قبروں پربیٹھنے .کھڑے رہنے اور روندنے کومکروہ قرار دیا ہے.البتہ اگرکوئی عذرہومثلا کسی میت تک پہچنے کے کسی قبرپرسے گذرناناگزیز ہوتوپھراس کی بدرجہ مجبوری گنجائش ہے.(مغنی المحتاج:2/48)
بیوہ عدت میں ہے اسی درمیاں اس کے والد کی وفات ہوگئی توکیا وہ اپنے والدکی زیارت کےلئے میکہ یاکسی اورجگہ جاسکتی ہے ؟
جواب: اللہ تعالی کا ارشاد یے کہ طلاق کی عدت گذارنے والی عورتوں کوگھروں سے باہرمت نکالواورعدت گذارنے والیاں گھروں سے باہرنہ نکلیں (طلاق :1)
امام شافعی فرماتے ہیں کہ جس طرح اس آیت میں طلاق کی عدت گذارنے والی عورتوں کے لیے گھرسے باہرنکلنا جائز نہیں اسی طرح جو عورتیں شوہرانتقال ہونے پرعدت گذاررہی ہوں ان کے لیے بھی گھر سے باہر نکلنا درست نہیں ہے(الام:6/576)
حضرت فریعہ بنت مالک کے شوہر کا انتقال ہونے پرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تم اسی گھرمیں رہو جہاں تمہارےشوہر کی لاش آیی تھی یہاں تک کہ تم عدت مکمل کرلو.فرماتی ہیں کہ میں نے اس گھرمیں چارماہ دس دن عدت مکمل کی (سنن ابن ماجہ:2031)
ان دلائل کی روشنی میں فقہا ء نےعدت گذارنے والی عورت کے لیے بغیر کسی ضرورت کے گھر سے باہر نکلنا ممنوع قرار دیا ہے .اورایک حدیث کی بناء پر ضرورت اورحاجت کی بناء پرگھرسے باہرنکلنے کی گنجایش دی ہے .اب سوال یہ ہے کہ والد کے انتقال پردیدار کے لیے گھرسے باہرنکناحاجت اورضرورت میں داخل ہے یا نہیں؟اس سلسلہ میں فقہاء نے اس کوحاجت میں شامل نہیں کیا ہے .لہذا عدت گذارنے والی عورت کے لیے والد کے انتقال پردیدار کی خاطر گھرسے باہرنکلنے سے گریزکرنا چاہیے اس لیے کہ شرعا اس کی ممانعت ہے (بجیرمی علی الخطیب:2/62)
اگرکوئی عورت اپنے والدکا دیدار کرناہی چاہتی ہے تومیت کواس کے گھر پرلانے میں کوئی حرج نہیں ہے.
دوران سفر اگر کوئی شخص بغیر عذر کے بیٹھ کر فرض نماز پڑھتا ہے تو کیا اس نماز کا اعادہ ضروری ہے؟
جواب :کھڑے ہو کر نماز پڑھنا یہ نماز کا ایک رکن ہے،اس کا چھوڑنا صحیح نہیں ہے سوائے عذر کے.اگر کوئی شخص قدرت کے باوجود بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے تو اس کی نماز صحیح نہیں ہوگی.بلکہ اس نماز کا اعادہ ضروری ہوگا.حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں مجھے بواسیر کی بیماری تھی،تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’ تم کھڑے ہوکر نماز پڑھو، اگر قدرت نہیں تو بیٹھ کر پڑھو، اگر بیٹھ کر بھی نہیں پڑھ سکتے تو لیٹ کر پڑھو’ (البخاری:1117)
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ‘امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ فرض نماز کھڑے ہوکر پڑھنا فرض ہے،استطاعت کے باوجود کھڑے ہوکر نہ پڑھنے سے اس کی نماز باطل ہوجائے گی. اور جو شخص کھڑے ہوکر نماز نہیں پڑھ سکتا وہ بیٹھ کر پڑھے،اور اس پر اعادہ کی ضرورت نہیں. (المجموع شرح المھذب)
لہذادوران سفراگرکھڑے رہ کرنماز پڑھنا ممکن ہوتوپھربیٹھ کرنماز اداکرنا درست نہیں لیکن بسا اوقات ٹرین.پلین اوربس وغیرہ میں قیام پرقادرشخص کے لئے بھی کھڑے رہ کرنماز پڑھنا ممکن نہیں ہوتا.اس لئے کہ قیام کی صورت میں سواری کے ہلنے کی بناء پرگرنے کا اندیشہ ہوتا ہے تواس صورت میں بیٹھ کرنماز ادا کرنا درست ہے جیسا کہ فقہاء نے کشتی اورجہاز میں کھڑے رہ کرنماز پڑھنے کی صورت میں چکرانے یاگرنے کا اندیشہ ہوتوبیٹھ کرنماز پڑھنے کی گنجایش دی ہے.الغرض کوئی مسافر ان اعذار کی بناء پربیٹھ کرنماز پڑھے تواس کی نماز درست ہے اوراس نماز کا اعادہ بھی ضروری نہیں ہے. واللہ اعلم
سوال نمبر/ 0316 اگر کوئی شخص حالت جنابت میں ذبح کرے تو کیا یہ ذبح درست ہوگا؟
جواب:۔ "وطعامُ الّذين اُوتُوا الكتابَ حلٌ لّكُم وطَعامُكُم حِلٌ لّهُم” اس ایت کی تفسیر میں مفسرین لکھتے ہیں کہ اہل کتاب کا ذبیحہ باوجود ان کے نجس ہونے کے جائز ہے۔
اور سنن ابن ماجہ (535) کی روایت میں مسلمان حالت جنابت میں نجس نہ بتایا گیا ہے، تو اس اعتبار سے مسلمان کا ذبیحہ حالت جنابت میں بدرجہ اولی جائز ہونا چاہیے۔
قال ابن کثیر رحمہ اللہ قال ابن عباس۔۔۔
يعنى ذبائحهم (تفسيرابن كثير 2/29)
امام نووی رحمة الله عليه لکھتے ہیں:
نقل ابن المنذر الاتفاق على ذبيحة الجنب قال وإذا دل القرآن على حل إباحة الكتابي مع أنه نجس فالذي نفت السنة عنه النجاسة أولى قال والحائض كالجنب۔(المجموع:9/74)
خطیب الشربينى رحمة الله عليه لکھتے ہیں :
حل ذكاة المرأة المسلمة بطريق الأولى وان كانت حائضا (مغني المحتاج6/135)
Question No/0316 If a person sacrifices an animal in the state of janabah then will this sacrifice be valid?
Ans;
"وطعامُ الّذين اُوتُوا الكتابَ حلٌ لّكُم وطَعامُكُم حِلٌ لّهُم”
The commentators (mufassireen) presented explanation of this verse in Exegesis (Tafseer) that though the jews and christians (ahle kitab) are impure(najis), their slaughtered animal is acceptable..
There is a narration in Ibn Majah(535) that a Muslim is not najis in state of Janabah.. So the slaughtered animal of a muslim in state of janabah is highly acceptable..
Tafseer Ibn kaseer (2/29)
جواب: اگرخریدنے والے کواس بات کی خبرنہیں ہے کہ یہ چیز چوری کی ہے بلکہ وہ حلال سمجھ کرخرید رہا ہے تواس چیز کاخریدنا درست ہے.اس کے برخلاف اگراس بات کاعلم ہوکہ یہ چیز چوری کی ہے ہےتوپھراس کاخریدنا درست نہیں ہوگا.اس لیے کہ مبیع کے شرایط میں سے یہ شرط ہے کہ بائع مبیع کا مالک ہو.اورچوراس چیز کامالک نہیں ہوتا ہے.نیزاس صورت میں معاصی اورگناہ پرتعاون ہے اس لیے فقہاء نے ان جیسے معاملات کودرست نہیں مانا ہے.
واضح رہے کہ اگرکسی چیز کے بارے میں صرف یہ گمان بھی ہوکہ یہ چیزحلال چوری کی ہے تواس صورت میں بھی اس چیزکے خریدنے سے بچنا ضروری ہے
جواب: حضرت عمران بن حصین رض فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سنت نماز کھڑے رہ کر پڑھنا یہ افضل ہے.اورجوسنت نماز بیٹھ کرپڑھے اس کے لئے کھڑے رہ کرنماز ادا کرنے والے کے مقابلہ میں نصف اجر ملے گا(بخاری: 1116)
اس حدیث سے استدلال کرتے ہوے فقہاء نے نقل کیا کہ نفل نماز بغیرعذر کے بھی بیٹھ کر پڑھ سکتے ہیں. مگر ثواب کے اعتبار سے کھڑے ہو کر نماز پڑھنا بیٹھ کر نماز پڑھنے کے مقابلے میں افضل ہے.اس لیے کہ قیام پرقدرت کے باوجود بیٹھ کرنماز پڑھنے میں نصف ثواب ملتا ہے.البتہ اگرکوئی کسی عذرکی بناء پربیٹھ کرسنت نماز اداکرتا ہے تواسے نماز کاپورا ثواب ملے گا. مگر سستی کسی عذرمیں داخل نہیں.
اس لیے سنت نمازیں بغیرعذر کے بیٹھ کرپڑھنامناسب نہیں ہے.اس لیے کہ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کھڑے ہو کر پڑھتے تھے یہاں تک کہ آپ کے قدم سوجھ جاتے توآپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ آپ کی مغفرت ہوچکی ہے توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں شکرگذار بندہ نہ بنوں (بخاری:1078)
لهذا بغیرعذر نوافل وسنن کوبیٹھ کرنہ پڑھنا بہتر ہے.