فقہ شافعی سوال نمبر/ 0555 اگر کوئی شخص بغیر وضو کے ہاتھ پر پٹی باندھی ہو تو کیا ایسا شخص نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں ؟
جواب:۔ اگر کسی شخص نے اعضاء وضو پر بغیر وضو کے پٹی باندھی ہو تو وہ اس حالت میں طہارت حاصل کرکے جتنی نمازیں ادا کریگا تمام نمازوں کا اعادہ واجب ہوگا۔
وجملته أن الماسح على الجبائر إذا صح وبرأ لم يخل حاله عند وضع الجبائر من أن يكون قد وضعها على وضوء أم لا؟ فإن كان وضعها على غير وضوء فعليه إعادة ما صلى الاحاوى الكبير ٢٧٩/١ ويبطل الاقتداء بمن تلزمه الإعادة ولو بمثله. (العباب ٢٦٢/١) ولو مسح على الجبائر وصلى أياما، ثم برأت جراحته لا يجب عليه إعادة ما صلى بالمسح، وهذا قول أصحابنا بدائع الصنائع ٩٢/١
Fiqhe Shafi Question No/0555 If a person wears bandage on a part of body that is used in ablution, without performing ablution can this person perform prayer?
Ans; If a person wears bandage on a part which is used in ablution then after attaining purity i
n this state how many ever prayer the person performs, repeating all those prayers will be compulsory…
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0556 مسافر امام كے پيچهے مقيم مقتدى بقيہ دو ركعت كيسے پوری کرئے گا؟
جواب:۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جب مکہ تشريف لائے تو دو رکعت نماز پرھائى پھر کہا اے اہل مکہ! تم لوگ اپنی نمازوں کو پورا کرو ہم لوگ مسافر ہیں۔ (موطا مالك باب صلاة المسافر) حدیثِ بالا سے یہ مسئلہ معلوم ہوا کہ مسافر امام كے پيچھے مقيم مقتدى نماز پڑھ رہا ہو تو ايسی صورت میں مسافر امام كى دو ركعت پوری ہونے کے بعد مقيم مقتدى كھڑے ہوكر اپنی بقيہ دو ركعت پوری کرے گا. البتہ مسافر امام کیلئے سنت ہے کہ اپنی نماز ہونے کے بعد مقيم مقتدى كو نماز كى مکمل کرنے کا حکم دے۔
إذا صلى مسافر بمسافرين ومقيمين جاز. ويقصر الإمام والمسافرون ويتم المقيمون. ويسن للإمام أن يقول عقب سلامه: أتموا فإنا قوم سفر. (المجموع ٢٩٦/٤)
Fiqhe Shafi Question No/0556 How will a resident muqtadi(follower) complete the remaining two rakahs behind the Imaam who is a traveller?
Ans; When Hazrat Umar bin khattab R.A visited Makkah, he lead two rakah prayer and said;” O people of Makkah! You may complete your prayer , we are travellers.. From the mentioned hadeeth we come to know that if a resident follower(muqtadi) prays behind the Imaam who is a traveller then after the Imaam has completed his prayer as two rakah,the follower should stand up and complete the rest of his two rakah.. However after the completion of prayer of the Traveller Imaam it is sunnah for him to order the resident followers to complete the rest of their two rakah..
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0557 جمعہ کی نماز میں خطبہ کو طویل کرنا اور نماز کو مختصر کرنا یا خطبہ کو مختصر اور نماز کو طویل کرنا ان دونوں صورتوں میں افضل صورت کیا ہے؟
جواب:۔ صحيح مسلم کی ورایات کو سامنے رکھتے ہوئے فقہائے کرام نے یہ مسئلہ بیان کیا ہے کہ جمعہ کی نماز میں خطبہ کو مختصر کرنا اور جمعہ کی نماز کو طویل کرنا افضل ہے۔ فقہاء نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نماز اور خطبہ دونوں مختصر ہونگے، البتہ جمعہ کا خطبہ نماز کے مقابلہ میں مختصر ہونا چاہیے ۔
Fiqhe Shafi Question No/0557 In friday prayer among the two methods of giving long sermon(khutba) and performing short prayer or giving short sermon(khutba) and performing long prayer ,Which is the best(Afzal) method?
Ans; According to the Narrations of sahih muslim giving short sermon(khutba) and performing long prayer on friday is considered to be the best(afzal) method.. The jurists(fuqaha) have written in the explanation of this as both the sermon and the prayer should be short.. However, the sermon(khutba) of friday should be short compared to the friday prayer…
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0558 بعض لوگ حلال جانوروں کا گوشت بغیر پکائے کچہ ہی کھا لیتے ہیں کیا کچہ گوشت کھانا جائز ہے؟
جواب:۔ اگر کوئی شخص حلال جانور کا گوشت بغیر پکائے کچہ کھا لیتا ہے تو اس طرح کچہ گوشت کھانا جائز ہے۔ ہاں اگر کچہ گوشت کھانے میں نقصان کا اندیشہ ہو تو نہیں کھانا چاہیے۔
ولا فرق فیما یحنث باکله من اللحم بین أن یاکله مشویا او مطبوخا او نئیا….. أن حقیقة الاکل ما لاکه مضغا بفمه وازدردہ الی جوفه وهذا موجود فی النیء کوجودہ فی المطبوخ والمشوی. (الحاوي الكبير ٥١٧/١٥) ھل یجوز اکل اللحم نئیا؟ الجواب : نعم ۔ (فتاوى الإمام النووي ١٦٢/١)
Fiqhe Shafi Question No/0558 Some people consume the meat of lawful animals as raw without cooking them, is it permissible in shariah to consume the raw meat?
Ans; If an individual consumes the meat of lawful animal as raw without cooking them then it is permissible but if there is any harm in consuming the raw meat then one must not consume it..
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0559 اگر کسی شخص کی یاداشت اور لوگوں کی پہچان چلی جائے یہاں تک کہ وہ اپنی اولاد کو بھی نہیں پہچانتا ہو ہاں صرف پیشاب پاخانہ کرنا جانتا ہو تو ایسے شخص کے لیے فرض نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ سنن ابوداؤد کی حدیث نمبر4398 کے حوالے سے یہ مسئلہ بیان کیا ہے کہ سویا ہوا شخص، مجنون آدمی اور بچہ یہ شریعت کے مکلف نہیں ہے اور فقہاء کرام نے مجنون میں اس شخص کو بھی شمار کیا ہے جس کی عقل کسی سبب کی وجہ سے چلی گئی ہو لہذا اگر کسی شخص کی یاداشت چلی جائے اس طور پر کہ وہ لوگوں کو پہچان نہیں پا رہا ہو یہاں تک کہ اپنی اولاد کو بھی نہیں پہچان رہا ہو تو ایسے شخص پر نماز واجب نہیں ہوگی، اور اسی طرح یاداشت لوٹنے کے بعد ان نمازوں کی قضاء کرنا بھی ضروری نہیں.
الأمور المانع من وجوب الصلاة… وخرج بالعاقل غيره، فلا تجب على من زال عقله بجنون أو إغماء. (فتح العلام 70/2) ولا قضاء…. (ذي جنون أو إغماء) إذا أفاق…. وقيس عليه كل من زال عقله بسبب يعذر فيه. مغني المحتاج 223/1 والاغماء زوال الاستشعار مع فتور الأعضاء. (المجموع 29/2)
Fiqhe Shafi Question No/0559 If a person have lost his memory or he cannot recognise anybody even he donot recognise his own children but knows just to urinate and excrete then what is the ruling of prayer on this person?
Ans;With reference to the hadeeth of sunan abu dawood i.e hadeeth number 4398 the topic here is explained as a sleeping person , mentally disabled and a child are not bounded in shariah and the jurists (fuqaha) have considered the person (who have lost his memory for some reason) among the mentally disabled.. Therefore, if a person loses his memory in such a way that he do not recognise the people not even his own children then the prayer is not compulsory (wajib) for this person and so it is not necessary for him to make up the missed prayer after retaining of his lost memory…
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0560 اگر بیٹھے بیٹھے ہلکی سی نیند لگ جائے مثلاً مسجد میں بیان سنتے وقت تو کیا اس سے وضو ٹوٹ جائے گی؟
جواب:۔ شرح مسلم میں امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی اپنی سرین کو زمین سے ٹیکا کر بیٹھے بیٹھے سوئے تو وضو نہیں ٹوٹے گا اور اگر سرین زمین سے ٹیکی ہوئی نہ ہو تو وضو ٹوٹ جائے گا چاہےدیر تک سوئے یا ذرہ سا سوئے دونوں برابر ہے، نماز کے اندر سوئے یا باہر. لہذا اگر کسی کو مسجد میں بیان وغیرہ سنتے وقت ہلکی سی نیند لگ جائے اور اس کی سرین زمین سے لگی ہوئی ہو تو وضو نہیں ٹوٹے گا اور اگر سرین زمین سے لگی ہوئی نہ ہو تو وضو ٹوٹ جائے گا. البتہ اونگھنے سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے اور اسی طرح اگر کسی کو شک ہو سونے اور اونگھنے کے درمیان تو وضو نہیں ٹوٹے گا. لیکن احتیاطاً وہ شخص وضو کرلے تو بہتر ہے ۔
أنه إذا نام جالساً ممكناً مقعدته من الأرض لم ينتقض، وإلا انتقض سواءً قل أو أكثر سواءً كان في الصلاة أو خارجها، هذا مذهب الشافعي. (شرح مسلم:57/2) أن نوم الممكن لا ينقض وغيره ينقض…… قال الشافعي في الأم والأصحاب :لا ينتقض الوضوء بالنعاس وهو السنة، وهذا لا خلاف فيه…… ولو شك أنام أم نعس وقد وجد أحدهما لم ينتقض قال الشافعي في الأم، والاحتياط أن يتوضأ (المجوع۱۹-۲۰/۲)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0561 عام طور پر آج کل کھانے کے مسالوں میں خوشبو کے طور پر جائفل (Nutmeg) استعمال کرتے ہیں اس کے کھانے کا کیا حکم ہے؟
جواب :۔ کھانے کے مسالوں میں جائفل کا استعمال خوشبو اور ذائقہ کے لیے ہوتا ہے اگر قلیل مقدار میں جائفل استعمال کرنے کی صورت نشہ نہیں آتا ہے تو جائز ہے ، لیکن جائفل کے اندر ایک قسم کا نشہ ہوتا ہے لہذا جائفل کا اتنا استعمال جائز ہے جس سے نشہ پیدا نہ ہو، نیز اسے بچوں کے پیٹ کی صفائی کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے اور اتنا زیادہ استعمال کرنا جس سے نشہ پیدا ہوتا ہو تو جائز نہیں ہے۔
جاء في حاشية الشرواني: "ما حرم من الجمادات لا حد فيها وإن حرمت وأسكرت، بل التعزير؛ لانتفاء الشدة المطربة عنها، كالجوزة…فهذا كما ترى دال على حل القليل الذي لم يصل إلى حد الإسكار كما صرح به غيره . ومما يدل على حله عبارة الشارح: أما الجامد فطاهر، ومنه جوزة الطيب، فيحرم تناول القدر المسكر من كل ما ذكر كما صرحوا به. وعبارة الكردي: أما القدر الذي لا يسكر فلا يحرم؛ لأنه طاهر غير مضر ولا مستقذر۔حاشية الشرواني ٢٨٩/۱ عن اكل جوز الطيب ..يجوز إن كان قليلا، ويحرم إن كان كثيرا۔ (فتاوى الرملي ٧١/٤) ولا حرج في استعمال جوزة الطيب ونحوها في إصلاح نكهة الطعام بمقادير قليلة لاتؤدي إلى التفتير أو التخدير۔ (الفقه الاسلامي وأدلته ٥٢٦٦/٧)
Fiqhe ShafiQuestion No/0561 Nowadays Usually nutmeg is used as a flavouring substance in the Masala of food? What is the ruling on using this?
Ans; Nutmeg is used in the masala to impart flavour and taste in the food.. If nutmeg is used in smaller quantity which doesnot initiates its drug activity then its use is permissible but nutmeg contains a type of drug.. Therefore use of nutmeg is permissible only to that extent where it doesnot begin its drug activity.. Nutmeg is also used for cleansing the stomach of children and use of nutmeg in such a large quantity where it begins its drug activity is not permissible…
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0562 اگر کسی مسجد ميں نماز كا وقت ہونے پر اذان كے لیے ايسا سسٹم بنايا گیا ہو اور وقت ہونے میں مائيك سے پہلے ٹيپ ريكارڈ شده اذان پورے گاوں ميں پہنچ جاتی ہے اس طرح كرنے سے اذان كی سنيت حاصل ہوگی یا نہیں؟
جواب:۔ اگر کسی مسجد ميں نماز كا وقت ہونے پر اذان كےلیے ٹيپ ريكارڑ شده اذان كا سسٹم كيا گيا ہے جس کی وجہ سے اذان پورے بستی میں پہچ جائے، لہذا ايسى اذان اگر وقت پر بھی ہوجائے تب اذان كی سنت ادا نہیں ہوگی اسلئے اذان ايک مستقل عبادت ہے اور اسکے شرائط ميں سے اذان كے وقت اذان كا قصد ہونا بھی شرط ہے اور موذن کا مسلمان ہونا عاقل ہونا شرط ہے , لہذا يہ تمام شرائط ٹيپ ريكارڑ ميں مفقود ہوجاتے ہيں اس لئے ٹیپ ریکارڈر کی اذان درست نہیں ہوگی۔
قال الزحيلى وتشترط النية عند الفقهاء الاخرين فان أتى بالالفاظ المخصوصة بدون قصد الاذان لم يصح۔ الفقه الاسلامى وادلة٥٤٢/١ الاذان فرض كفاية بالاضافة الى كونه اعلاما بدخول وقت الصلاة ودعوة اليها فلا يكفى عن انشائه عند دخول وقت الصلاة اعلانه مما سجل به من قبل وعلى المسلمين فى كل جهة تقام فيها الصلاة ان يعينوا من بينهم من يحسن أداء عند دخول وقت نبالصلاة۔ (فتاوى اللجنة٦٦/٦) (الفقه المنهجى ١١٥/١)
Fiqhe Shafi Question No/0562 If there is a recorder system for adhan in a masjid and upon the arrival of adhan time, before giving the adhan through the mic, the call of recorded adhan reaches all over the city then Can the reward of sunnah be attained by this act?
Ans; If there is a recorder system for adhan in a masjid by which the call of recorded adhan reaches all over the city during the prescribed time of adhan , therefore if this kind of adhan is called at its prescribed time even then the reward of sunnah cannot be attained.. Because adhan is a permanent worship and among its conditions, intention for giving adhan during the prescribed time of adhan is one of its condition and even the sensibleness of muazzin is also one of its condition.. Therefore all these conditions are absent in the tape recorder so the adhan of tape recorder is not valid..
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0563 اگر کوئی مؤذن "أشهد أن لا إله” کو "اشد” پڑھتا ہے تو کیا اس سے معنی میں کوئی تبدیلی ہوگی اور ایسے شخص کی اذان درست ہوگی یا نہیں؟
جواب:۔ اذان کے الفاظ میں کسی حرف میں مد بڑھانا یا لفظ میں کمی زیادتی کرنا مکروہ ہے جبکہ معنی میں کوئی تبدیلی نہ ہو اور اگر معنی میں تبدیلی ہو تو حرام ہے لہذا اگر کوئی مؤذن "أشهد أن لا إله” کو أشد”پڑھتا ہے تو اس سے لفظ أشهد کے معنی باقی نہیں رہتے ہے اس بناء پر یہ تبدیلی حرام ہوگی اور ایسے شخص کی اذان درست نہ ہوگی.
ويكره أذان فاسق وصبي وأعمى، لأنهم مظنة الخطأ والتمطيط والتغني فيه ما لم يتغير به المعنى وإلا حرم. تحفة المحتاج 168/1 أنه لو أتى بكلمة منه على وجه يخل بمعناها لم يصح أنه إذا خفف مشدداً بحيث يخل بمعنى الكلمة لم يصح أذانه. حاشية الجمل 475/1
Fiqhe ShafiQuestion No/0563 If a muazzin recites اشد instead of "أشهد أن لا إله” then does its meaning change and does the adhan of this person become valid?
Ans; Raising madd (stretch) in the letters of adhan or making alterations (addition or reduction) in the words of adhan is makrooh while there occurs no change in its meaning and if the meaning changes then it is forbidden (haram).. Therefore if a muazzin recites اشد instead of أشهد أن لا إلہ then the meaning of اشہد doesnot remain so based on this the alteration will be forbidden (haram) and the adhan of this person will be invalid…
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0564 بعض لوگ بلغم اور تھوک کو قبلہ کی سمت تھوک ديتے ہيں شرعا اس سلسلے ميں كيا رہنمائی ہے؟
جواب:۔ بعض لوگ بلغم اور تھوک کو قبلہ کی سمت تھوک ديتے ہیں شرعا قبلہ کی جانب تھوکنا مکروہ ہے اس لئے کہ قبلہ تمام سمت میں افضل اور مكرم سمت ہے۔
ويكره البصاق عن يمينه وأمامه وهو في غير الصلاة أيضا كما قاله المصنف خلافا لما رجحه الأذرعي تبعا للسبكي من أنه مباح، لكن محل كراهة ذلك أمامه إذا كان متوجها إلى القبلة كما بحثه بعضهم إكراما لها. (مغنى المحتاج :٣٤٧/١) قال علامه الزحيلى ويكره البصاق أيضا وهو في غير الصلاة عن يمينه وأمامه إذا كان متوجها إلى القبلة، إكراما لها. (نهاية المحتاج:٦٠/٢) (الفقه الاسلامي وادلة:٩٦٧/٢) (حاشيتا قيلوبي:٥٤٥/١)
Fiqhe Shafi Question No/0564 Some people spit saliva and phelgm in the direction of qiblah, what does the shariah say with regard to this?
Ans; Some people spit saliva and phelgm in the direction of qiblah, according to the shariah spitting in the direction of qiblah is makrooh because the direction of qiblah is a virtuous and honourable direction among all the directions…
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0565 بعض لوگ دوران نماز بلغم اور سردي كو تيشو پيپر سے صاف كرنے کےبعد اسکو لپيت كر جيب میں ركھ ديتے ہيں کيا حديث میں آپ صلى الله عليه وسلم اسكى رہنمائی فرمائی ہے اور اسں طرح كرنے سے نماز کا کيا حكم ہے؟
جواب:۔ صحيح بخارى کی حديث نمبر ٤١٧ سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص كا نماز كی حالت ميں بلغم اور سردی كو تيشو سے صاف كرکے جيب ميں ركھنا جائز ہے اور اس طرح كرنے سے نماز بھی درست ہوگی اسلئے کہ بلغم اور سردى پاک ہے۔
فان كان فيه بصق في ثوبه في الجانب الأيسر وحك بعضه ببعض، ولا يبصق فيه فإنه حرام (٢). قال علامه محمد المرصيفى أما الخارج من الصدر أو الحلق وهو النخامة، ويقال النخاعة والنازل منالدماغ فطاهر (٣) (٢) مغني المحتاج :٣٤٧/١ (٣) حاشية البجير مى :١٠٥/١ (٤) حواشي الشروانى:١٦٤/ ٢(٥) نهاية المحتاج:٦١/٢
fiqhe Shafi Question No/0565
Some people clean their mucus from the nose and phelgm using tissue paper while praying salah and keep it in their pocket by folding it.. Have The messenger of Allah( peace and blessings of Allah be upon him) showed guidance with this regard in the hadeeth and what is the ruling with regard to salah?
Ans; From the hadeeth number 417 of sahih bukhari we come to know that it is permissible for an individual to clean his mucus of nose and phelgm with tissue paper while praying and keep it in pocket and by doing this his salah will also be valid because the mucus from the nose and phelgm are considered to be clean..
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0566 كسی کے انتقال کے بعد تین دن غم اور سوگ منانے کی مدت تدفین کے بعد سے شروع ہوگی یا انتقال کے وقت سے؟
جواب:۔ حضرت ام حبیبہ رضي الله عنها فرماتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ مومن عورت کے لیے کسی مرنے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں سوائے مرنے والے کی بیوی کے، اس لیے کہ بیوی پر اسکے شوہر کے انتقال پر چار مہینے دس دن سوگ منانا واجب ہے۔ (بخاری/5339) فقہاء نے مذکورہ حدیث سے استدلال کیا کہ اگر کسی شخص کا انتقال ہوجائے اور مرنے والا اس عورت کا شوہر ہو تو اس پر چار مہینے اور دس دن سوگ منانا واجب ہے اور اگر سوگ منانے والے میت کے بیوی کے علاوہ ہو تو ان کے لئے تین دن سوگ منانا جائز ہے اور تین دن کی مدت کا اعتبار میت کی موت سے ہوگا تدفین سے نہیں۔
ولھا احداد علی غیر زوج ثلاثة أيام فأقل وتحرم الزيادة علیھا بقصد الاحداد ۔۔۔ قال البرلسی وقد مر فی التعزية اعتبار الثلاثة من الموت أو الدفن أن فينبغي أن یاتئ مثل ذلك ھنا قال بعضهم ینبغی ھنا اعتبارها من وقت العلم بالموت علی قیاس الغائب فالموت۔ (حاشیةالبجیرمی۔ 4/60)
Fiqhe Shafi Question No/0566 Upon the death of an individual from which day the period of mourning (of 3days) begins? Does it begin after the burial of the deceased or after the occurence of death?
Ans; Narrated by Hazrat Umme Habiba R.A that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said,” It is not lawful for a muslim woman who believes in Allah and the last day to mourn for more than three days, except for her husband, for whom she should mourn for four months and ten days” (Sahih bukhari 5339) The jurists (fuqaha) based their opinion from the mentioned hadeeth that if an individual dies and he is a husband of a woman then it is compulsory (wajib) for the woman to mourn for four months and ten days.. Except his wife it is permissible for the other people to mourn for 3 days and the period of mourning (of 3days) begins from the day in which the death occured..
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0567 میت کو غسل دیتے وقت اس کے بغل اور زیر ناف بالوں کو صاف کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ میت کو غسل دیتے وقت اس کے ناخن کانٹنا بغل کے بال اور موئے زیرناف نکالنا اور مونچھ کترنا مکروہ ہے اور یہی قول مختار ہے. کیونکہ اس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے کوئی چیز منقول نہیں اور میت کے اجزاء قابل احترام ہیں تو ان کی بےحرمتی نہ ہونے پائے.
امام نووی رحمة الله عليه. فحصل أن المذهب أو الصواب : ترك هذه الشعور والاظفار ، لأن أجزاء الميت محترمة فلا تنتهك بهذا، ولم يصح عن النبي صلى الله عليه وسلم والصحابة رضي الله عنهم في هذا شيء فكره فعله .وإذا جمع الطريقان حصل ثلاثة أقوال( المختار )يكره. (المجموع ٥/١٣٨)
Fiqhe Shafi Question No/0567 What is the ruling on shaving the pubic hair and armpit hair of the deceased while giving bath(ghusl)?
Ans; Removing nails and shaving pubic hair and armpit hair while giving ghusl to the deceased is makrooh and this is the selected description..Because there is no narration with regard to this by the Messenger of Allah(peace and blessings of Allah be upon him) and his companions (R. A) and the body parts of deceased are venerable so it should not be dishonoured…
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0568 بعض لوگ نماز میں دو سجدوں کے درمیان انگلیوں کے بل پیروں کو کھڑا کرکے بیٹھے ہیں کیا یہ طریقہ درست ہے ؟
جواب:۔ نماز میں دو سجدوں کے درمیان پیروں کو انگلیوں پر کھڑا کرکے اس پر بیٹھنا مستحب ہے اور حدیث میں اس طرح بیٹھنے کو “اقعاء” کہتے ہیں۔
فَذَلِكَ الْإِقْعَاءُ أَنْ يَضَعَ أَلْيَتَيْهِ عَلَى عَقِبَيْهِ قَاعِدًا عَلَيْهَا وَعَلَى أَطْرَافِ أَصَابِعِ رِجْلَيْهِ وَقَدْ اسْتَحَبَّهُ الشَّافِعِيُّ فِي الْجُلُوسِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ فِي الْإِمْلَاءِ۔ (المجموع : ٤٠٠/٣) ومن الإقعاء نوع مستحب… وهو: أن يفرش رجليه، ويضع أليتيه على عقبيه، (النجم الوهاج:١٠١/٢) (صحيح مسلم :٥٣٦)
Fiqhe Shafi Question No/0568 Few people sit on their legs with both the feets raised towards qiblah between two sajdah of salah?
Ans: In between the two sajdah of salah, sitting on their legs with both the fingers raised towards qiblah is recommended (mustahab) and sitting in such a position is named as “Iq’aa”in hadeeth…
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0569 بعض لوگ قرآن كريم كےصفحات كو انگليوں سے پلٹتے وقت تھوک کا استعمال کرتے ہيں شرعا اسكا كيا حكم ہے؟
جواب:۔ بعض حضرات قرآن مجيد كی تلاوت كے وقت ايک دوسرے سے ملے ہوئے صفحات كو كھولنے کيلئے انگليوں پر تھوک کا استعمال کرتے ہيں لہذا اسقدر تھوک کا استعمال کرنا جسکی وجہ سے قرآن مجيد كو تھوک لگ جائے حرام ہے ليكن اگر تھوک انگلی پر خشک ہوجائے اور مصحف كو نہ لگے تو ايسی صورت ميں جائز ہے۔
قال عبد الحميد الشرواني يحرم مس المصحف بإصبع عليه ريق إذ يحرم إيصال شيء من البصاق إلى شيء من أجزاء المصحف. (حواشي الشرواني:١٥٣/١) قال صاحب بشري الكريم ويحرم : محو ما كتب من القرآن بالريق لانه مستقذر ،،، ومسه بمستقذر ولو ريق في نحو قلب ورقة وكتابته به. (بشري الكريم :٧٧) قال علامه محمد بن سليمان اما اذا جف الريق بحيث لا ينفصل منه شئ يلوث الورقة فلاحرمة. الحواشي المدينة:١٦٦
Fiqhe Shafi Question No/0569 Few people use saliva on their fingers before turning the pages of the holy Qura’n.. What does the shariah say with regard to this?
Ans; Few people use saliva on their fingers to open up the attached pages of the holy Qura’n.. Therefore, using saliva on their fingers to the extent where the pages of the holy Qura’n gets wet with saliva then it is forbidden (haram) but if the saliva gets dried on ones finger and doesnot wet the holy Qura’n then it is permissible..