فقہ شافعی سوال نمبر/ 0585 اگر کوئی شخص قرآن مجید پڑھ رہا ہو تو اس کو سلام کرنے کا کیا حکم ہے ؟
جواب:۔ اگر کوئی شخص قرآن مجید پڑھ رہا تو دوران تلاوت اگر کوئی اس کے پاس سے گذر ے تو سلام کرنامستحب ہے اورتلاوت کرے والے کے لئے اس کا جواب دینا ضروری ہوگا کیوں کہ تلاوت ایک مسنون چیز ہے اور سلام کا جواب دینا واجب ہے۔
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0586 اگر کوئی برہنہ شخص نماز پڑھ رہا تھا دوران نماز اس کو کپڑا مل جائے تو نماز کے دوران ستر چھپانے کی شرعا اس کا کیا طریقہ ہے؟
جواب:۔ اگر کوئی شخص برہنہ نماز پڑھ رہا ہو اور دوران نماز اس کو کوئی کپڑا قریب میں نظر آئے تو اس کپڑے سے فوراً ستر کرنا چاہیے البتہ اس بات کا خیال رکھے کہ کپڑا لینے میں عملِ کثیر نہ ہو اور نہ ہی فصل طویل (بہت تاخیر ) ہو اور اگر بلاعذر تاخیر کرے اور تاخیر کرنے سے وہ کپڑا ضائع ہوجائے تو اس شخص برہنہ نماز باطل ہوگی۔
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0587 كيا قبرستان كى جگہ پر جہاں ابھی قبریں نہیں ہیں اسكول و اسپتال بنا سکتے ہیں ؟
جواب:۔ اگر قبرستان كى جگہ تدفين كے لئے وقف ہو تو ايسى صورت میں وہاں اسکول و اسپتال بنانا جائز نہیں ہے. اگر قبرستان کی زمین وقف شدہ نہ ہو بلکہ عام قبرستان ہو تب بھی اس جگہ پر گھر یا ہوسپتال وغیرہ کا بنانا بالکل درست نہیں ہے ۔
قال علامه الدميرى رحمة الله عليه: (ولو بني في مفبرة مسبلة .. هدم)؛ لأنه يضيق على المسلمين. قال الشافعي رضي الله عنه: رأيت من الولاة عندنا بمكة من بهدم ما بني فيها ولم أر الفقهاء يعيبون عليه ذلك.،،، وقد أفتى الشيخ بهاء الدين ابن الجميزي وتلميذه الظهير التزمنتي. بهدم ما بني بها.،،، فإن الموقوفة يحرم بالبناء فيها قطعًا, سواء كان البناء بيتًا أو قبة أو مسجدَا.(١) (١) نجم الوهاج : ١١١/٣ (٢) حواشي الشرواني : ٢٨٤/٦ (٣) اعانة الطالبين :٢٩٥/٣ (٤) فتح المعين : ٤١٥
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0588 فرض نماز کے بعد انگلیوں میں انگلیاں ڈال کر بیٹھنے کا شرعاً کیا حکم ہے؟
جواب :۔ فقہاء کرام نے یہ مسئلہ بیان کیا ہے کہ جو شخص نماز کے انتظار میں ہو یا جس کا نماز کا قصد ہو اس کے لیے بالاتفاق تشبیک مکروہ ہے تشبیک یعنی ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنا) کیونکہ نماز کا انتظار کرنے والا نماز ہی میں ہوتا ہے، البتہ نماز کے بعد انگلیوں میں انگلیاں ڈال کر بیٹھنا مکروہ نہیں ہے۔
اتفق الأصحاب على كراهة تشبيك الأصابع في طريقه إلى المسجد وفي المسجد يوم الجمعة وغيره…… فإن قيل أنه صلى الله عليه وسلم شبك بين أصابعه في المسجد بعد ما سلم من الصلاة عن ركعتين في قصة ذي اليدين وشبك في غيره، أجيب بأن الكراهة إنما هي في حق المصلي وقاصد الصلاة وهذا كان منه صلى الله عليه وسلم بعدها في اعتقادها. (ابوداؤد: 562) (بخارى :479) (مغنى المحتاج 506/1-507)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0589 اگر کوئی شخص غلطی سے یا نہ جانتے ہوئے سجدہ سہو دو سجدے کے بجائے تین مرتبہ سجدہ کرے تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ سجدہ سہو کے دو سجدے کرنا سنت ہے چاہے کتنے مرتبہ بھی سہو ہوجائے۔ لہذا اگر کوئی سہوا یا جہلا سجدہ سہو دو کے بجائے تین سجدے کرے تو اس کے لئے دوبارہ سجدہ سہو کرنے کی ضرورت نہیں لہٰذا اس صورت میں اس کی نماز بغیر سجدہ سہو کے ہو جائے گی۔
سُجُودُ السَّهْوِ سُنَّةٌ عِنْدَ تَرْكِ مَامُورٍ بِهِ، أَوْ فِعْلِ مَنْهِيٍّ عَنْهُ…..وَسُجُودُ السَّهْوِ وَإِنْ كَثُرَ سَجْدَتَانِ كَسُجُودِ الصَّلاَةِ. (إعانة الطالبين ٣١٢/١) وصورة جبره لما يحصل فيه من السهو أن يسجد له ثم يتكلم فيه بكلام قليل ناسيا فلا يسجد ثانيا لأنه لا يأمن من وقوع مثل ذلك في السجود الثاني، وهكذا فيتسلسل. وكذلك لو سجد ثلاث سجدات ناسيا فلا يسجد ثانيا للتعليل المذكور. (النجم الوهاج ٢٤٨/٢-٢٦٤)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0590 عورت رکعت میں ہاتھ کہاں باندھے گی سینے پر یا ناف کے اوپر؟
جواب:۔ عورت مرد کی طرح ہی نماز میں کھڑے ہوتے وقت داہنے ہاتھ کو بائیں پر اس طرح کہ سینے سے نیچے اور ناف کے اوپر باندھے گی اور فقہائے کرام نے نماز میں ہاتھ باندھنے کے سلسلے میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں لکھا ہے، لھذا مذکورہ طریقہ کے مطابق عورت رکعت باندھے گی واضح رہے کہ عورتوں کا سینے پر ہاتھ باندھنا جو مشہور ہے وہ احناف کے مسلک مطابق ہے۔
واستحب وضع اليمنى علي اليسرى بعد تكبيرة الإحرام ويجعلهما تحت صدره فوق سرته هذا مذهبنا المشهور. (شرح صحيح مسلم ٢/٨٧) فاذا فرغ من التكبير … ويضعهما تحت صدره ، وفوق سرته . (البيان: ٢/١٧٣)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0591 بیوی اگر خود اپنی مرضی سے اپنا مہر شوہر کو معاف کردے تو کیا دوبارہ اپنے مہر کا مطالبہ کرسکتی ہے؟
جواب:۔اگر بیوی پہاپنا مہر معاف کردے پھر دوبارہ شوہر سے اپنے مہر کا مطالبہ کرے تو شوہر کو مہر لہذا اس اعتبار سے اگر کوئی عورت (بیوی) معاف کیا ہوا مہر کا مطالبہ کرے تو اس کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے ۔
قال الماوردي: اذا خيرت الزوجةفي اعساره بنفقتها فاختارت المقام رضا بعسرته… والفرق بينهما أن الصداق يجب دفعه واحدة فإذا تقدم عفوا سقط خيارها. (الحاوي الكبير۔ ١١/٤٦٣)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0593 اگر کسی شخص نے نماز کی کسی رکعت میں سورء فاتحہ کو دو مرتبہ پڑھا تو اس صورت میں نماز کا کیا حکم ہے نیز اس کے حق میں سجدہ سہو بھی سنت ہوگا یا نہیں ؟
جواب:۔ اگر کوئی شخص نماز کی کسی رکعت میں بھول کر یا جان بوجھ کر دو مرتبہ سورہ فاتحہ پڑھے تو اس صورت میں اس کی نماز پر کچھ اثر نہیں ہوگا یعنی اس کی نماز باطل نہیں ہوگی البتہ اگر بھول کر دو مرتبہ سورہ فاتحہ پڑھے تو اس کے لئے سجدہ سہو کرنا سنت ہے اور عمدا سورہ فاتحہ دو مرتبہ پڑھنے کی صورت میں سجدہ سہو کرنا بدرجہ اولی سنت ہوگا ۔۔
فَإِنْ قَرَأَ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ مَرَّتَيْن عَامِدًا فَالْمَنْصُوصُ أَنَّهُ لَا تَبْطُلُ صَلَاتُهُ لِأَنَّهُ تَكْرَارُ ذِكْرٍ فَهُوَ كَمَا لَوْ قَرَأَ السُّورَةَ بَعْدَ الْفَاتِحَةِ مَرَّتَيْنِ۔ المجموع ١٠٢/٤ والذي في شرح العباب أيضا أنه يسجد للسهو أيضا في تكرير الفاتحة كما نقله الزركشي عن الرافعي وهو متجه وان جزم بعض المتأخرين بخلاف لكن ان كررها عمدا للجريان وجه ببطلان الصلاة بذلك فالسجود له أولى منه لنقل نحو السورة الفتاوى الكبرى الفقيه ٢٦٢/١
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0594 اگر کسی شخص نے ایک ہی رکعت میں سورہ فلق اور سورہ ناس پڑھے اور دوسری رکعت میں پھر سے سورہ فلق پڑھے تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے ؟
جواب:۔ نماز کی ابتدائی دو رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد کوئی سورت پڑھنا سنت ہے اور ایک رکعت میں ایک سے زائد سورت پڑھنا جائز ہے اور سورتوں کے پڑھنے میں ترتیب کا لحاظ کرنا مستحب ہے، لہذا اگر کوئی شخص مصحف میں سورتوں کے ترتیب کے خلاف کرے تو ایسا شخص سنت کی مخالفت کرنے والا ہوگا اور اس پر سجدہ سھو کرنے کی ضرورت نہیں۔ لہٰذا مذکورہ صورت میں ترتیب کی مخالفت کرنے سے نماز پر کچھ اثر نہیں ہوگا بلکہ اس کی نماز درست ہو جائے گی۔
وتُسَنُّ سُورَةٌ بَعْدَ (الْفَاتِحَةِ) إِلاَّ فِي الثَّالِثَةِ وَالرَّابِعَةِ فِي الأَظْهَرِ ويجوز أن يجمع بين سورتين فأكثر في ركعة واحدة، والسنة أن يقرأ على ترتيب المصحف، فإن خالف ذلك .. خالف السنة ولا شيء عليه۔ (النجم الوهاج 126/2)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0596 مؤذن کے لئے اذان دیتے وقت ستر کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ اگر کوئی شخص ستر کو چھپائے بغیر اذان دے تو اس کی اذان صحیح ہوگی اس لئے کہ ستر کا چھپانا اذان کے شرائط میں سے نہیں ہے لیکن مسجد کے آداب کے خلاف ہے۔
Fiqhe Shafi Question No/0596 What is the ruling on a muazzin to cover himself (doing satr) while calling adhaan?
Ans: If a person gives adhaan without covering satr then his adhaan will be valid because covering satr is not among the conditions of adhaan but the act is against the etiquette of masjid..
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0597 تصوير والے کپڑوں کی تجارت کا شرعا کيا حكم ہے؟
جواب:۔ كپڑوں ميں بيل بوٹے اور نقش نگاری کا عمل قديم ہے ليكن دور حاضر ميں نفع كثير كو ملحوظ ركھتے ہوئے فلم استار وكھلاڑی اور مشہور شخصيات كى تصويریں کپڑوں پر ہی بناتےہيں اور انہی کپڑوں کو زیادہ قميت دے کر نوجوان شوقيہ خريدتے ہيں بلا ضرورت صرف شوق كى تكميل كے لئے ايسے کپڑوں کا استعمال كرنا منع ہے کيونكہ شريعت نے جاندار کی تصوير والے کپروں کو پہنے سے منع كيا ہے جہاں تک ایسے کپڑوں کی تجارت کا مسئلہ تو يہ کراہت کے ساتھ جائز ہے۔
قال اصحاب الفقه المنهجى اما تصوير ما لا روح فيه كا لشجر والبنات والجماد فليس بحرام "””” لايصح استئجار لتصوير ذى روح۔ (الفقه المنهجى : ١٠٥/ ١٢٤/٣) قال اصحاب علماء البلد الحرام لا يجوز للانسان ان يلبس ثيابا فيها صورة حيوان او انسان ولا يجوز۔ (فتاوى علماء البلد الحرام :٧٧٣) قال امام سليمان رحمة الله عليه ويصح بيع الا طباق والثياب والفراش المصورة بصورة الحيوان ۔ (حاشية الجمل ٢٦/ ٣)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0598 اگر کسی میت پر باقی روزے اس کے اولیاء نہیں رکھ رہے ہوں تو کیا کسی اجنبی کو اجرت دے کر ان روزوں کو رکھوانے کی گنجائش ہے؟
جواب:۔ اگر کسی شخص کے رمضان کے روزے چھوٹ گئے ہوں اور قضاء کرنے سے پہلے اس کا انتقال ہوجائے مثلا روزے چھوٹنے کے بعد سے وہ برابر موت تک مسافر یا بیمار ہو تو قضاء اور کفارہ کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ قضاء کرنا ممکن ہونے کے بعد اس کا انتقال ہوجائے تو پھر میت کے اولیاء اس کی جانب سے روزے رکھیں گے اور اگر اولیاء روزے نہ رکھیں بلکہ کسی اجنبی شخص کو میت کی جانب سے روزے رکھنے کے لئے اجرت دیں تو اس طرح اجرت پر میت کی طرف سے روزے رکھوانے کی گنجائش ہے ۔
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0599 اگر کوئی شخص رمضان کا روزہ جماع کے علاوہ کسی اور طریقہ سے جان بوجھ کر بغیر کسی شرعی عذر کے روزہ توڑ دے تو اس روزے کا صرف قضا کرنا ہوگا یا قضا کے ساتھ کفارہ بھی ادا کرنا ہوگا ؟
جواب:۔ رمضان المبارک کا روزہ اگر کوئی شخص جماع کے علاوہ کسی اور طریقہ سے جان بوجھ کر بغیر کسی شرعی عذر کے توڑ دے تو ایسے شخص پر صرف اس روزے کی قضا کرنا لازم ہوگا کفارہ کی ضرورت نہیں۔ البتہ بغیر شرعی عذر روزہ توڑنے کا گناہ ہوگا ۔
قال الإمام النووي رحمة الله عليه:
ولو أفسد صومه بغير الجماع كالأكل، والشرب، والاستمناء، والمباشرات المفضية إلي الإنزال فلا كفارة لان النص ورد في الجماع. (روضة الطالبين وعمدة المفتين:٢/٣٧٧) قال الإمام النووي رحمة الله عليه: قد ذكرنا أنه إذا استمنى متعمدا بطل صومه ولا كفارة. (المجموع ٦/٣٥٤) * الأم ٣/٢٥٢ * مغنى المحتاج ٢/١٩٣ * بحر المذهب ٤/٢٩١ * نهاية المطلب ٣/٥١٤