فقہ شافعی سوال نمبر/ 0600 اگر کسی باغ کے اردگرد کمپاؤنڈ موجود ہو یا نہ ہو تو ایسے باغ کے گرے ہوئے پھلوں کے اٹھانے کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ کسی چیز کو اس کے مالک کی اجازت کے بغیر استعمال کرنا جائز نہیں ہے لہذا کسی باغ کے پھلوں کو مالک کی اجازت کے بغیر اٹھانا جائز نہیں ہے البتہ اضطرار یعنی بھوک شدت سے کھانے پینے کے لیے اس کے علاوہ کوئی چیز نہ ہو تب جائز ہے، مگر اس کا بدلہ ادا کرے گا اسی طرح گرے ہوئے پھلوں کا حکم درخت پر موجود پھلوں کی طرح ہے یعنی اگر درخت کمپاونڈ کے اندر ہوں تو ان پھلوں کا اٹھانا مالک کی اجازت کے بغیر درست نہ ہوگا اور اگر کمپاونڈ کے باہر پھل گرا ہو تو صحیح قول کے مطابق ایسے پھلوں کا اٹھانا اور کھانا اس وقت جائز ہے جب کہ یہ گمان ہو کہ اس کا مالک گرے پڑے پھل کھانے پر ناراض نہ ہوتا ہو، اگر درخت کا مالک ناراض ہوتا ہو یا منع کرتا ہو تو ایسے پھل اٹھانا اور کھانا جائز نہیں ہے۔
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0601 بہت سے لوگ خصوصیت کے ساتھ رمضان میں عمرہ کرنا پسند کرتے ہیں تو کیا رمضان میں عمرہ کرنے کی کوئی خاص فضیلت ہے؟
جواب:۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ماہ رمضان آئے تو عمرہ کرے کیونکہ رمضان میں عمرہ کرنا اجر و ثواب کے اعتبار سے حج کے برابر ہے۔ (صحیح بخاري:١٦٥٩) صحیح بخاری کی اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ رمضان المبارک میں عمرہ کرنا یہ فضیلت کی بات ہے کیونکہ رمضان المبارک میں عمرہ کرنے کا ثواب حج کے برابر ہوتا ہے اس لئے رمضان المبارک میں عمرہ کرنا غیر رمضان میں عمرہ سے زیادہ مستحب ہے۔
فقہ شافعی سوال نمبر/0602 اگر کسی علاقے میں پانی کیلئے کنواں کھودنے کی ضرورت ہو تو کیا زکات کی رقم سے کنواں بورنگ لگانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:۔ اگر کسی علاقے میں پانی کے کمی کی وجہ سے کنواں کھودنے کی ضرورت ہو تو اس کنویں کے کھودنے کیلئے زکات کی رقم خرچ کرنا جائز نہیں ہے ۔
وافتتحه المحرر بقوله تعالى إنماالصدقات الأية فعلم من الحصر بانما إنها لا تصرف لغيرهم . (مغني المحتاج:٤/٢٨٠) اتفق جماهير فقهاء المذاهب على أنه لا يجوز صرف الزكاة إلى غير من من ذكر الله تعالى من بناء المساجد والجسور والقناطير والسقايات وكرى الأنهار وإصلاح الطرقات وتكفين الموتى و قضاء الدين والتوسعة على الاضياف وبنا الاسوار…. (الفقه الإسلامي وأدلة. ٢/٨٧٥) فلا يجوز صرف الزكاة إلى هذه الوجوه لانه لم يوجد التمليك اصلا. (فتح المعين: ١٩٣)
Fiqhe Shafi Question NO: 0602 If in any area there is a need to dig a well for water then is it allowed to use the amount of zakat for the purpose of digging the well?
Answer: If in any area there is scarcity of water and it is a necessity to dig a well for this purpose then using the zakat money for this purpose is not allowed.
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0603 اگر صاحب نصاب کا کسی دوسرے کے ذمہ قرض ہوتو زکات ادا کرتے وقت اس قرض کی بھی زکات ادا کرنا ضروری ہے؟
جواب:۔ اگر کوئی صاحب نصاب کا کسی دوسرے کے ذمہ قرض ہو تو زکات ادا کرتے وقت اس شخص کو اپنے قرض شدہ مال کی بھی زکات نکالنا واجب ہے۔ یعنی جو رقم بطور قرض کسی کو دیا ہو تو سال پورا ہونے پر اس قرض دیے ہوئے رقم کی زکات نکالی جائے گی۔
(فرع تجب الزكاة في كل دين لازم) ولو مؤجلا (لا ماشية) لامتناع سوم ما في الذمة۔ (أسنى المطالب:١٢١/٢) تجب الزكاة في كل دين اللازم من فقد وعرض تجارة يعتاض عنه۔ (العباب : ٣٧٦/٢) * الحاوي الكبير:١٧٦/٣
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0604 اگر ہم زکات کی نیت سے کسی کو پیسے دے اور ضرورت مند کو اس بات کا علم نہ ہو کہ یہ زکات کے پیسے ہے اس سے زکات ادا ہوگی یا نہیں؟
جواب:۔عام حالت میں پوشیدہ طور پر صدقہ دینا افضل ہے، اسلئے کہ اس میں ریاء نہیں ہوتا البتہ اگر علانیہ صدقہ دینے میں کوئی دینی مصلحت ہو مثلا لوگ بھی اس کی اقتدا کرینگے تو پھر علانیہ صدقہ دینا افضل ہوگا، البتہ زکات کی رقم دیتے وقت زکات لینے والے کو بتانا ضروری نہیں ہے۔
إذا دفع المالك أو غيره الزكاة إلى المستحق ولم يقل هي زكاة ولا تكلم بشئ أصلا أجزأه ووقع زكاة هذا هو المذهب الصحيح المشهور الذي قطع به الجمهور۔ (المجموع :٦ ٢٢٣) (التهذيب : ٣/٦٣) (روضة الطالبين٢/ ٢٠٧)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0605 رضاعی ماں کو زکات دینے یا رضاعی ماں اپنے رضاعی بچےکو زکات دے تو کیا زکات ادا ہوگی؟
جواب: اگر کوئی اپنی رضاعی ماں کو جو زکات کی مستحق ہو زکات دے تو اس کی زکات ادا ہوجائے گی، اسی طرح اگر رضاعی ماں اپنے دودھ پینے والے بچے کو زکات دے تب زکات ادا ہوگی اس لیے کہ رضاعی ماں پر رضاعی بچہ کا نفقہ واجب نہیں اور نہ رضاعی بیٹے پر رضائی ماں کا نفقہ واجب ہے۔
وأجمعت الأمة على تأثيره في النكاح، وثبوت المحرمية، وأظهر قولي الشافعي: أنه يؤثر في عدم نقض الوضوء، ولا يؤثر فيما عدا ذلك كالميراث والنفقة والعتق. (النجم الوهاج: ٨/١٩٩) شروط استحقاق الزكاة، ومن لا تدفع إليهم…..أن لا تكون نفقته واجبة على المزكي….فلا يجوز دفع الزكاة إلى الأب والأم أو الجد والجدة مهما علوا، لأن نفقتهم واجبة على الفروع، وكذلك لا يجوز دفع الزكاة إلى الأبناء والبنات وفروعهم إن كانوا صغارا، أو كبارا مجانين أو مرضى مزمنين، لأن نفقة هؤلاء واجبة على آبائهم. (الفقه المنهجي ١/٣٢٥) مغني المحتاج ٤/٢٩٠
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0606 اگر روزہ افطار کرنے کا وقت ہوجائے لیکن روزہ دار کے پاس افطاری کے لیے کوئی چیز نہ ہو تو ایسے شخص کے روزے کا کیا حکم ہے؟ کیا ایسے شخص کے لیے روزہ افطاری کی نیت کرنا کافی ہے ؟
جواب:۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات یہاں سے آئے اور دن یہاں سے جائے اور سورج غروب ہوجائے تو روزہ دار نے افطار کر لیا. (1) مذکورہ حدیث کی بناء پر فقہاء کرام نے استدلال کیا کہ فجر ثانی کے ذریعے آدمی روزے میں داخل ہوتا ہے اور غروب آفتاب کے ذریعے روزے سے نکلتا ہے لہذا اگر روزہ دار کے پاس افطار کے لیے کوئی بھی چیز نہ ہو تو ٹھیک غروب سے اس کا روزہ افطار ہوجائے گا نیت کرنا ضروری نہیں ہے.
أما) أحكام الفصل ففيه مسائل (إحداها) ينقضي الصوم ويتم بغروب الشمس بإجماع المسلمين لهذين الحديثين وسبق بيان حقيقة غروبها في باب مواقيت الصلاة قال أصحابنا ويجب إمساك جزء من الليل بعد الغروب ليتحقق به استكمال النهار وقد ذكر المصنف هذا في كتاب الطهارة في مسألة القلتين . (2) ﻭﻳﺪﺧﻞ ﻓﻲ اﻟﺼﻮﻡ ﺑﻄﻠﻮﻉ اﻟﻔﺠﺮ اﻟﺜﺎﻧﻲ، ﻭﻳﺨﺮﺝ ﻣﻨﻪ ﺑﻐﺮﻭﺏ اﻟﺸﻤﺲ. (3) (1)السنن الصغير للبيهقي :1321 (2)المجموع 304/6
Fiqhe Shafi Question No/0606 If the time for breaking the fast approaches but the fasting person does not have anything with which he can break his fast, then what is the ruling with regard to the fast of this person? is it enough for such a person to only make the intention of breaking the fast?
Ans: Hazrat Umar Razi Allahu anhu narrates that the prophet Sallallahu Alaihi Wasallam said that when the night comes from this side and the day goes from that side and when the sun sets then a fasting person breaks his fast. Based on this hadith the Scholars of fiqh have reasoned that through the morning daybreak a person enters his fast and through the setting of the sun a person comes out of his past. Therefore, if a person does not have anything with which he can break his fast then exactly after the sun sets his fast will break and making the intention is not necessary.
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0608 دوکان کے فرنیچر اور سامان لانے کے لئے متعین شدہ گاڑیوں پر کیا زکوة واجب ہے؟
جواب:۔ دوکان کے فرنیچر اور سامان لانے کے لئے متعین شدہ گاڑیوں پر زکوة واجب نہیں ہے۔
لا يدخل في الأمور التجارية التي يجب تقويمها الأثاث وما في معناه والأجهزة الموجودة في المحل لقصد الاستعانة بها لا لقصد بيعها فلا زكاة عليهما مهما بلغت قيمتها۔ (الفقه المنهجى ۱/٣٠٤)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0609 بس یا کسی سواری پر سے سفر کرتے وقت نماز کا وقت ہوجائے ہے اور ہم بغیر وضو کے ہوں اور بس چل رہی ہو وضو و تیمم نہیں کر سکتے ہوں اور نماز کا وقت بھی قضا ہو رہا ہو تو کیا کریں؟
جواب:۔ بسا اوقات آدمی سرکاری گاڑی بس یا ٹرین میں یا اپنی گاڑی میں سفر کرتا ہے اور فرض نماز کا وقت ہوچکا ہوتا ہے اور اس کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ گاڑی کو روک نہیں سکتا کہ وضوء یا تیمم کر کے نماز پڑھے تو ایسا شخص( پانی اور مٹی کو تلاش کرنے کے بعد اسے دونوں بھی نہ ملے )وقت کی حرمت کا لحاظ کرتے ہوئے فی الحال نماز ادا کرے گا تاکہ نسبتا اس کی نماز ادا ہوجائے اور پھر جب سفر میں پانی یو مٹی اسے مل جائے تو وضوء یا تیمم کر کے اس نماز کا اعادہ کرےگا۔ اگرسفرمیں موقع نہ ملے توسفر ختم ہونے کے بعد وضو کرکے اس نماز کا اعادہ کرےگا
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0610 بعض لوگ مور کا پَر یا پنکھ زینت کے لئے گھروں میں یاکتابوں میں رکھتے ہیں شرعا مور کے پَر /پیس کو زینت کے لئے رکھنے کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ دراصل مور ان جانوروں میں سے ہے جن کو کھایا نہیں جاتا۔ اگر اس کی زندگی میں اس کے بدن سے اس کا پنکھ جدا ہوجائے یا اس کی موت کے بعد دونوں صورتوں میں وہ نجس ہے۔ اس لئے مور یا ان جیسے نہ کھائے جانے والے جانوروں کا کوئی حصہ یا پنکھ ان کی زندگی میں ان کے بدن سے جدا کرکے یا ان کی موت کے بعد حاصل کرکے زینت اختیارکرنا یا بغیر کسی شدید ضرورت کے استعمال کرنا شرعا درست نہیں ہے۔ اس لئے کہ شریعت نے طہارت اور پاکیزگی کا حکم دیا ہے اور نجس چیزوں سے دور رہنے کی تاکید کی ہے۔
ال: (إلا شعر المأكول؛ فطاهر)، وكذا صوفه ووبره؛ لقوله تعالى: {ومِنْ أَصْوَافِهَا وأَوْبَارِهَا وأَشْعَارِهَا أَثَاثًا ومَتَاعًا إلَى حِينٍ}.
ومحل الوفاق إذا قص في حال الحياة، فإن تناثر أو نتف .. فالأصح: طهارته أيضا، وقيل: نجس، وقيل: المتناثر طاهر، والمنتتف نجس. والريش في معنى الشعر، واحترز المصنف عن شعر ما لا يؤكل لحمه كالحمار، فإنه إذا أبين .. نجس على المشهور قال: (والجزء المنفصل من الحي كميتته) أي: كميتة ذلة الحي؛ لأن الحياة قد زالت منه. وروى الترمذي [١٤٨٠] وأبو داوود [٢٨٥٢] عن أبي واقد الليثي قال: قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة، وهم يجبون أسمنة الإبل، ويقطعون أليات الغنم، فقال: (ما يقطع من البهيمة وهي حية .. فهو ميت)، وهو حديث حسن عليه العمل عند أهل العلم.ونقل ابن المنذر عليه الإجماع.و مخل الخلاف في المنفصل في الحياة. أما المنفصل بعد الموت .. فحكمه حكم ميتته بلا شك.النجم الوهاج 1/14
فقہ شافعی سوال نمبر / 0611 اگر کوئی شخص چاہے منفرد ہو یا امام بھول کر تیسری یا چوتھی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ پڑھ لے تو سجدہ سھو کرنا ہے یا نہیں؟
جواب:۔ تین اور چار رکعت والی نماز میں ابتدائی دو رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد کوئی دوسری سورت پڑھنا بالاتفاق مسنون ہے۔ البتہ تیسری اور چوتھی رکعت میں سورت پڑھنے کے بارے میں مفتی بہ قول سنت نہ ہونے کا ہے البتہ کوئی پڑھ لے تو جائز ہے اس لئے کہ بسا اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بیان جوازکے لئے پڑھنا ثابت ہے لہذا اگر کوئی تیسری یا چوتھی رکعت کے قیام میں کوئی سورت پڑھ لے تو سجدہ سہو سنت نہیں ہے اس لئے کہ سجدہ سہو کے اسباب میں یہ صورت داخل نہیں ہے۔ہاں اگر سورت کو اس کے محل سے منتقل کرکے سجدہ رکوع یا تشہد میں پڑھ لے تو سجدہ سہو کرنا سنت ہے۔
وَقَوْلُهُ سَمِعْنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا أَيْ فِي نَادِرٍ مِنْ الْأَوْقَاتِ وَهَذَا مَحْمُولٌ عَلَى أَنَّهُ لِغَلَبَةِ الِاسْتِغْرَاقِ فِي التَّدَبُّرِ يَحْصُلُ الْجَهْرُ بِالْآيَةِ مِنْ غَيْرِ قَصْدٍ أَوْ أَنَّهُ فَعَلَهُ لِبَيَانِ جَوَازِ الْجَهْرِ وَأَنَّهُ لا تبطل الصلاة ولا يقضي سُجُودَ سَهْوٍ أَوْ لِيُعْلِمَهُمْ أَنَّهُ يَقْرَأُ أَوْ أَنَّهُ يَقْرَأُ السُّورَةَ الْفُلَانِيۃ المجموع 3/386 أَمَّا الْأَحْكَامُ فَهَلْ يُسَنُّ قِرَاءَةُ السُّورَةِ فِي الرَّكْعَةِ الثَّالِثَةِ وَالرَّابِعَةِ فِيهِ قَوْلَانِ مَشْهُورَانِ (أَحَدُهُمَا) وَهُوَ قَوْلُهُ فِي الْقَدِيمِ لَا يُسْتَحَبُّ قَالَ الْقَاضِي أَبُو الطَّيِّبِ وَنَقَلَهُ الْبُوَيْطِيُّ وَالْمُزَنِيُّ عَنْ الشَّافِعِيّ
(وَالثَّانِي) يُسْتَحَبُّ وَهُوَ نَصُّهُ فِي الْأُمِّ وَنَقَلَهُ الشَّيْخُ أَبُو حَامِدٍ وَصَاحِبُ الْحَاوِي عَنْ الْإِمْلَاءِ أَيْضًا وَاخْتَلَفَ الْأَصْحَابُ فِي الْأَصَحِّ مِنْهُمَا فَقَالَ أَكْثَرُ الْعِرَاقِيِّينَ الاصح الاستحباب ممن صحه الشَّيْخُ أَبُو حَامِدٍ وَالْمَحَامِلِيُّ وَصَاحِبُ الْعُدَّةِ وَالشَّيْخُ نَصْرُ الْمَقْدِسِيُّ وَالشَّاشِيُّ وَصَحَّحَتْ طَائِفَةٌ عَدَمَ الِاسْتِحْبَابِ وَهُوَ الْأَصَحُّ وَبِهِ أَفْتَى الْأَكْثَرُونَ (المجموع 386 /387) إلا إن قرأ* الفاتحة أو السورة *في غير محل للقراءة [كالركوع]* وجلوس التشهد………. *فيسجد لذلك* وإن لم يبطل عمده…… *سواء فعله سهوا أو عمدا* بشرى الكريم 237 وقضية كلام المصنف أن التسبيح ونحوه من كل مندوب قولي مختص بمحل لا يسجد لنقله إلى غير محله واعتمده بعضهم لکن اعتمدہ الاسنوی وغیرہ انہ لافرقال منهاج القويم: ١٣٠
فقہ شافعی سوال نمبر / 0612 *کسی حائضہ اور جنبی شخص کے لئے قرآن مجید پڑھے بغیر صرف اسے دیکھنے اور اس میں غور و فکرکرنے کا شرعا کیا حکم ہے؟*
*کسی حائضہ اور جنبی شخص کے لئے قرآن مجید کی تلاوت کے بغیر صرف قرآن کو دیکھنا اور اس کے معنی میں تدبر کرنا شرعا درست ہے۔ اسی طرح حائضہ اور جنوبی شخص کے سامنے کسی دوسرے کا قرآن مجید کی تلاوت کرنا بھی درست ہے۔*
*ﻭﻫﻜﺬا ﻟﻮ ﻧﻈﺮا ﻓﻲ اﻟﻤﺼﺤﻒ ﺃﻭ ﻗﺮﺉ ﻋﻠﻴﻬﻤﺎ اﻟﻘﺮﺁﻥ ﻛﺎﻥ ﺟﺎﺋﺰا ﻟﻬﻤﺎ "* (الماوردي في الحاوي الكبير : 149/1) *ﻭﻟﻪ ﺃﻥ ﻳﻨﻈﺮ ﻓﻲ اﻟﻤﺼﺤﻒ ﻣﻦ ﻏﻴﺮ ﺗﻼﻭﺓ، ﻭﺃﻥ ﻳﻘﺮﺃ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﻫﻮ ﺳﺎﻛﺖ؛ ﻷﻧﻪ ﻓﻲ ﻫﺬﻩ اﻟﺤﺎﻟﺔ ﻻ ﻳﻨﺴﺐ ﺇﻟﻰ اﻟﻘﺮاءﺓ.* (الفقه الاسلامي وادلته للزحيلي 1/539)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0613 بسا اوقات عین نماز کے وقت اس قدر شدید بارش شروع ہوجاتی ہے کہ مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا دشوار ہوجاتا ہے تو کیا ایسی صورت میں جماعت چھوڑنے کی اجازت ہے ؟
جواب:۔ حضرت نافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے سخت ٹھنڈی اور ہوا کے وقت نماز کے لئے آذان دئی اور کہا کہ اپنے گھروں میں نماز اداء کرو ۔ پھر فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم موذن کو حکم دیا کرتے تھے کہ جب سخت ٹھنڈی یا ہوا چلے تو کہا کرو کہ آپنے گھروں میں نماز پڑھو۔
(بخاری:666) اس حدیث کی روشنی میں فقہاء فرماتے ہیں کہ دن یا رات میں ایسی سخت بارش ہو یا رات کی تاریکی میں تیز ہوا چل رہی ہو یا شدید کیچڑ ہو کہ جماعت کے ساتھ مسجد میں نماز ادا کرنا دشوار ہو تو ان اعذار کی بناء پر جماعت کے چھوڑنے کی اجازت ہے۔ البتہ اگر سواری کا معقول نظم ہو جس سے بآسانی جماعت کے ساتھ نماز کی ادائیگی کے لئے پہنچنا ممکن ہو تو جماعت ترک نہیں کرنی چاہیے۔
(في حديث عمرو بن العاص) عبارة لما روي عنه أنه قال: احتلمت في ليلة باردة في غزوة ذات السلاسل فأشفقت أي خفت أن أغتسل فأهلك فتيممت وصليت بأصحابي الصبح فذكروا ذلك للنبي – صلى الله عليه وسلم – فقال: «يا عمرو صليت بأصحابك وأنت جنب فأخبرته الذي منعني من الاغتسال وقلت: إني سمعت الله يقول: {ولا تقتلوا أنفسكم إن الله كان بكم رحيما} [ النساء: 29] فضحك -صلى الله عليه وسلم- ولم يقل شيئا» . اهـ قال حج، قوله – صلى الله عليه وسلم – لعمرو: صليت صريح في تقريره على إمامته ﻳﺠﻮﺯ ﺗﺮﻙ اﻟﺠﻤﺎﻋﺔ ﻟﻠﻌﺬﺭ، ﺳﻮاء ﻗﻠﻨﺎ: ﺇﻥ اﻟﺠﻤﺎﻋﺔ ﻓﺮﺽ ﻋﻠﻰ اﻟﻜﻔﺎﻳﺔ، ﺃﻭ ﺳﻨﺔ. ﻭاﻟﻌﺬﺭ ﻓﻲ ﺫﻟﻚ ﺿﺮﺑﺎﻥ: ﻋﺎﻡ، ﻭﺧﺎﺹ. ﻓﺄﻣﺎ اﻟﻌﺎﻡ: ﻓﻤﺜﻞ: اﻟﻤﻄﺮ، ﻭاﻟﺮﻳﺢ ﻓﻲ اﻟﻠﻴﻠﺔ اﻟﻤﻈﻠﻤﺔ (البيان 2/368) ﺃﻥ اﻟﻤﻄﺮ ﻭﺣﺪﻩ ﻋﺬﺭ ﺳﻮاء ﻛﺎﻥ ﻟﻴﻼ ﺃﻭ ﻧﻬﺎﺭا ﻭﻓﻲ الوﺣﻞ ﻭﺟﻬﺎﻥ (اﻟﺼﺤﻴﺢ) اﻟﺬﻱ ﻗﻄﻊ ﺑﻪ اﻟﻤﺼﻨﻒ ﻭاﻟﺠﻤﻬﻮﺭ ﺃﻧﻪ ﻋﺬﺭ ﻭﺣﺪﻩ ﺳﻮاء ﻛﺎﻥ ﺑﺎﻟﻠﻴﻞ ﺃﻭ اﻟﻨﻬﺎﺭ (المجموع4/204) ﻗﺎﻝ اﻟﻤﺼﻨﻒ رحمة الله عليه ﻭﺗﺴﻘﻂ اﻟﺠﻤﺎﻋﺔ ﺑﺎﻟﻌﺬﺭ ﻭﻫﻮ ﺃﺷﻴﺎء ﻣﻨﻬﺎ اﻟﻤﻄﺮ ﻭالوﺣﻞ ﻭاﻟﺮﻳﺢ اﻟﺸﺪﻳﺪﺓ ﻓﻲ اﻟﻠﻴﻠﺔ اﻟﻤﻈﻠﻤﺔ ﻭاﻟﺪﻟﻴﻞ ﻋﻠﻴﻪ ﻣﺎ ﺭﻭﻯ اﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻬﻤﺎ ﻗﺎﻝ ” ﻛﻨﺎ ﺇﺫا ﻛﻨﺎ ﻣﻊ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻓﻲ ﺳﻔﺮ ﻭﻛﺎﻧﺖ ﻟﻴﻠﺔ ﻣﻈﻠﻤﺔ ﺃﻭ ﻣﻄﻴﺮﺓ ﻧﺎﺩﻯ ﻣﻨﺎﺩﻳﻪ اﻥ ﺻﻠﻮا ﻓﻲ ﺭﺣﺎﻟﻜﻢ۔ (المجموع 4/203)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0614 اگر مرض یا سردی کی وجہ سے کوئی شخص تیمم کرکے امامت کرے تو اس کی اقتداء میں وضو کرکے نمازپڑھنے والوں کی نماز درست ہوگی یا نہیں؟
جواب:۔ اگر کوئی امام کسی عذر یا مرض کی بناء پر تیمم کرکے ایسے لوگوں کو نماز پڑھانے جو وضو یا تیمم کرکے نماز ادا کر رہے ہیں تو ایسی صورت میں مقتدیوں کی نماز درست ہوجائے گی۔
ويجوز أن يصلي المتوضئ خلف المتيمم. وقال علي بن أبي طالب رضي الله عنه
(إنه لا يجوز ذلك) دليلنا:حديث عمرو بن العاص الذي ذكرناه في (التيمم) (البيان 2/403) قال المصنف رحمة الله عليه: ويجوز للمتوضئ ان يصلى خلف المتيمم لانه اتى عن طهارته ببدل فهو كمن غسل الرجل (المجموع : 263/4)