فقہ شافعی سوال نمبر/ 0630 اگر کسی نے فرض حج یا عمرہ نہ کیا ہو اور اس کے پاس صرف اتنی رقم ہو جس سے یا تو فرض حج یا عمرہ ممکن ہے، یا پھر دعوتی واصلاحی سرگرمیوں میں لگایا جاسکتا ہو تو ایسی صورت میں اسے کیا کرنا چاہے؟
جواب:۔ اگر کسی شخص پر فرض عمرہ باقی ہو، اور عمرہ کے بقدر اس کے پاس رقم موجود ہو تو اسے ایک مرتبہ فرض عمرہ کرنا ضروری ہے , نیز اگر وہ کسی دینی و دعوتی سرگرمیوں میں اس رقم کو لگانا چاہتا ہے، تو اس کو پہلے فرض عمره ادا کرنا ہوگا، اس لئے کہ امربالمعروف ونہی عن المنکر فرض کفایہ ہے اور عمرہ زندگی میں ایک مرتبہ فرض عین ہے اس کے ادا نہ کرنے پر اس پر قضاء واجب ہوتی ہے اگر فرض عین اور فرض کفایہ دونوں ایک ساتھ پیش آئیں تو فرض عین کو ادا کرنا افضل ہے۔
ومن فروض الكفاية……… و الامر بالمعروف و النهي عن المنكر. (نهايه المحتاج ٨/٣٨) من حج حجة ادی فرضه….. وكذا العمره فرض في الاظهر لقوله تعالى (واتموا الحج والعمرة لله) (مغني المحتاج ٢/٦٤١) ان فرض العين افضل لشدة اعتنائه الشارع به يقصد حصوله من كل مكلف في الأغلب۔ (حاشية البناني ١/١٨٤) (الموسوعة الفقهيه ٣٢/٩٧) (الحاوي الكبير :٤/٢٣) (المهذب:١/٦٤٣)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0631 کیا عورت کو حج کے لیے شوہر کی اجازت ضروری ہے؟
جواب:۔ عورت شوہر کی اجازت کے بغیر حج میں نہیں جاسکتی اور اگر حج پر قدرت کے باوجود نہ جاسکے اور اس کا انتقال ہوجائے تو اس کے ترکہ میں سے اس کا حج بدل کروایا جائے گا اور اس صورت عورت گنہگار شمار نہ ہوگی۔
ليس للمرأة السفر إلى الحج إلا بإذن زوجها فإن منعها منه لم يجز لها الخروج فإن ماتت فى حال قدرتها ومنع الزوج لها قضي الحج من تركتها ولا تعد أثمة في ذلك. (الفقه المنهجي١٢٦/٢)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0632 اگر کسی نے قربانی کا جانور خریدا لیکن وہ جانور قربانی کے دنوں میں ذبح نہیں ہو سکا اب جانور کا کیا حکم ہے؟
جواب :۔ قربانی کا وقت عید اور اس کے بعد کے تین دن ہیں اگر جانور کو ان مخصوص دنوں میں ذبح نہ کرسکے تو قربانی کا وقت ختم ہو جاتا ہے، اگر وقت ختم ہونے کے بعد کوئی ذبح کرے تو وہ جانور بطور صدقہ شمار ہوگا۔
فإن ذبح المتطوع بالأضحية بعد فوات الوقت فهي صدقة إن تصدق بها فيثاب ثواب الصدقة لا الأضحية وإن ضحي بها في سنة أخري وقعت عنها لا عن الأولي۔(أسني المطالب 2/ 459) لا يجوز التضحية بعد ايام التشريق إلا في صورة واحدة وهي إذا أوجبها في ايام التشريق أو قبلها ولم يذبحها حتي فات الوقت فإنه يذبحها قضاء۔ (المجموع 8/ 218)
Fiqhe Shafi Question No/0632 If an individual buys an animal but it couldn’t be slaughtered in the days of eid then what is the ruling with regard to the animal?
Ans; There are four days for animal sacrifice ;the Eid day and the following three days of eid. If the animal is not slaughtered in these particular days then the time for animal sacrifice gets end.. if anyone slaughters it after the end of eid days then the sacrifice would be considered as sadqa…
فقہ شافعی سوال نمبر / 0633 اگر قربانی کے گائے کے پستان پر زخم ہو یا پستان ہی نہ ہو تو ایسی گائے کی قربانی درست ہوگی یا نہیں؟
جواب:۔ اگر قربانی کے گائے کے پستان پر زخم ہو تو اس کی قربانی درست نہیں ہوگی، اسی طرح اگر گائے کے پستان کو بھیڑیے وغیرہ نے کاٹ دیا ہو کسی دوسری چیز سے پستان کٹ گئے ہوں تو ایسی گائے کی قربانی بھی درست نہیں ہوگی، ہاں اگر پیدائشی طور پر پستان ہی نہ ہوں تو ایسی گائے کی قربانی درست ہے۔
Fiqhe Shafi Question No/0633 If there is an injury on the udders (breasts) of a sacrificing cow or there are no udders then is it permissible to slaughter this cow?
Ans; If there is an injury on the udders of a sacrificing cow then it is not appropriate to slaughter this animal.. Similarly, if an wolf bites the udders of the cow or if it is cut off due to some other means then slaughtering of this animal is not permissible.. However, if there are no udders by birth then it is permissible..
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0634 اگر کوئی ایک بکرا اپنے اور اپنے اہل وعیال کی طرف سے قربانی کرئے تو کیا سب کے ذمہ سے قربانی کی سنت ادا ہوگی؟
قربانی کرنا ہر اس شخص کے لیے سنت مؤکدہ ہے جو شخص قربانی کی استطاعت رکھتا ہو. لھذا تمام افراد کے لیے قربانی کرنے کی طاقت ہونے کی صورت میں اگر کوئی ایک شخص چھوٹے جانور پر سب کی طرف سے قربانی کرے تو یہ کافی نہیں ہوگا۔ چونکہ چھوٹے جانور پر ایک فرد ہی کی جانب سے قربانی ہوتی ہے۔ اور جن احادیث میں چھوٹے جانور پرگھروالوں کی طرف سے قربانی کرنے کا تذکرہ ملتا ہے اس کا تعلق ثواب میں شرکت سے ہے۔ لہذا اگر استطاعت والا صرف ایک شخص چھوٹے جانور پر قربانی کرے اور ثواب میں سب کو شریک کرنے کی نیت کرے تو سب کو ثواب ملے گا۔
امام خطیب شربینی رحمة الله فرماتے ہیں: تجزئ الشاۃ المعینة عن واحد. (مغنی المحتاج 119/7)
امام سلیمان بن عمر المعروف بالجمل فرماتے ہیں: وتجزئ شاة عن واحد۔ (حاشية الجمل211/8)
واستدل بهذا من جواز تضحية الرجل عنه وعن اهل بيته واشراكهم بالثواب وهو مذهبنا ومذهب الجمهور۔ (شرح النووي علی شرح المسلم 156,2)
علامہ شمس الدین رملی رح فرماتے ہیں: والشاۃ عن واحد فقط…… واما خبر مسلم اللھم ھذا عن محمد وامة محمد فمحمول علي ان المراد التشريك في الثواب لا في الاضحية۔ (نهاية المحتاج:126/8)
علامہ خطیب شربینی رحمة الله عليه فرماتے ہیں :قال في العدة: وهي سنة علي الكفاية ان تعدد اهل البيت فاذا فعلها واحد من اهل البيت كفي عن الجميع والا فسنة عين۔ (مغني المحتاج:111/7)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0635 اگر کوئی عورت حج تمتع کا احرام باندھے اور مکہ پہنچے اور حائضہ ہوجائے تو وہ کیا کرے گی اور عمرہ اور حج کیسے کرے گی؟
جواب:۔ اگر کوئی عورت عمرہ کے احرام کے بعد جس کو اس نے تمتع کی نیت سے باندھا تھا اور عمرہ شروع کرنے سے پہلے حائضہ ہوجائے تو وہ حج قران کرے گی۔یعنی اگر وہ آٹھ ذی الحجہ تک پاک نہ ہو تو عمرہ کو چھوڑ کر حج کی نیت سے حج کے اعمال شروع کرے گی اور طواف کے علاوہ حج کے تمام اعمال ادا کرے گی اور پاکی کے بعد طواف کرے گی، اور بطور دم ایک بکرا ذبح کرے گی۔ اگر طاقت نہ ہو تو عرفہ سے پہلے تین دن روزہ رکھے گی اور بقیہ سات روزے اپنے مقام واپسی کے بعد رکھے گی۔
أَنَّهَا قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ، ثُمَّ لَا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا ". قَالَتْ : فَقَدِمْتُ مَكَّةَ، وَأَنَا حَائِضٌ لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ، وَلَا بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : ” انْقُضِي رَأْسَكِ، وَامْتَشِطِي، وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ، وَدَعِي الْعُمْرَةَ ". قَالَتْ : فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَاعْتَمَرْتُ، فَقَالَ : ” هَذِهِ مَكَانُ عُمْرَتِكِ ". فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ، وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ حَلُّوا، ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ، وَأَمَّا الَّذِينَ كَانُوا جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا.(صحيح مسلم۔كتاب الحج /١٢١١ ) والثاني: أن يحرم بالعمرة، ثم يدخل الحج عليها حجا فيصير قارنا، لما روى عن عائشة قالت: كنت ممن أخرم بعمرة، فلما دخلت مكة حضت، فدخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا أبكي، فقال: "ما لك، أنفست”؟ أي حضت، قلت: نعم، قال: "ذلك شيء كتبه الله تعالى على بنات آدم، فاغتسلي وامتشطي [٣٣/ب] وارفضي عمرتك۔ (بحر المذهب /٥/٤٨) (صحيح البخاري/١٦٥١) (البيان :٢٩٤/٤) و يجب على القارن دم۔ (البيان :٩٤/٤) وروت عائشة رض ان النبي صلى الله عليه وسلم أهدى عن نسائه بقرة وكن قارنات (بخاري /١٧٠٩ كتاب الحج)
سوال نمبر / 0636 اگر کسی شخص کو فجر کی جماعت چھوٹ جائے تو ایسا شخص فجر کی فرض دو رکعت پہلے پڑھے گا یا پہلے سنت پڑھے گا؟ اگر کسی کو فجر کی جماعت چھوٹ جائے اور ابھی فجر کا وقت اتنا باقی ہو کہ مختصرا دو رکعت فجر سے پہلے کی سنت پڑھ کر پھر بعد میں فرض کی دو رکعت اطمینان سے پڑھ سکتا ہے تو وہ پہلے سنت پڑھ لے اگر وقت میں گنجائش نہ ہو تو فرض نماز ہی پڑے گا۔
Fiqhe Shafe Question No.0636 If any Muslim misses the congregation of Fajr Prayer, then should he offer the Fardh 2 Rakaats of Fajar first or the 2 Sunnah Rakaats first ? Answer: If any Muslim misses the congregation of Fajar Prayer & there is still so much time available to him that he can pray 2 short Rakaats of Sunnah before the Fardh Fajar Prayer first & then he can comfortably offer the Fardh Prayer, then he should offer the Sunnah Prayer first. But, if there is no enough time available, then he should offer the Fardh Prayer first.
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0637 ملازمین کی تنخواہ وقت پر نہ دیتے ہوئے اس میں تاخیر کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب :۔ تنخواہ ملازمین کی محنت کی اجرت ہے اس کا بلا وجہ تاخیر کرنا جائز نہیں اسلئے کہ حدیث شریف میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ اجیر کی اجرت کو اس کے پسینہ خشک ہو نے سے پہلے ادا کرو(۱) حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے (۲) ان حدیثوں کی روشنی میں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ بلاوجہ ٹال مٹول کرنا ظلم اور ناجائز ہے اگر کسی عذر کی وجہ سے تاخیر ہو رہی ہو تو اس کی گنجائش ہے۔ البتہ وقت پر ادائیگی کی کوشش کرنی چاہیے۔
وقال الأزهري. المطل المدافعة، والمراد هنا تأخير مااستحق أداءه بغير عذر …والمعني أنه يحرم علي الغني القادر أن يمطل بالدين بعد إستحقاقه بخلاف العاجز(۳) (مطل الغني) أي تأخيره أداء الدين من وقت إلي وقت، قوله ظلم. فإن المطل منع لأداء مااستحق أداءه وهو حرام من المتمكن ولو كان غنيا، ولكنه ليس متمنكا جاز له التأخير إلي الإمكان، ذكره النووي(۴) (۱)سنن ابن ماجہ رقم الحدیث ۲۴۴۳ (۲)صحیح البخاری رقم الحدیث ۲۲۸۷ (۳)فتح الباری ۶/ ۳۵۷ (۴)عون المعبود ۵/ ۴۴۲ ★سنن الدارمی رقم الحدیث ۲۶۲۸
فقہ شافعی سوال/ 0638 کھڑے ہو کر استنجاء کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ اگر کسی شخص کو بیٹھ کر پیشاب پاخانہ کرنے میں تکلیف ہوتی ہو تو اس کے لیے کھڑے ہوکر کرنا جائز ہے ہاں اگر کھڑے ہوکر کرنے سے چھینٹے اڑنے کا اندیشہ ہو تو پھر پیالہ یا مخصوص پیشاب کے لیے بنائے گئے باتل یا کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کے لیے بنائے گئے بیسن میں پیشاب یا پاخانہ کرے گا۔ ہاں اگر کھڑے ہوکر استنجاء کرنے سے ناپاکی کے چھینٹے اڑنے کا اندیشہ ہو تو اس جگہ سے ہٹ کر استنجاء کرے گا، اس کے باوجود بھی اگر نجاست لگ جائے تو استنجا کے بعد اس کو دھونا ضروری ہے۔
ولا يبول قائما…….. الا لعذر فلا يكره فلا يكره له ذلك، ولاء خلاف اولی فقد ثبت انه النبي صلى الله عليه و سلم أتى. سباطه قوم فبال قائما۔ (مغني المحتاج:136/1) ولاء يستنجي بماء في مجلسه بل ينتقل لانه تحصل له رشاش ينجسه ،قال في الروضه: الا في الاخلية المعدة لذلك، فلا ينتقل، لانه لا يناله فيها رشاش۔ (كنز الراغبين/ 41) لاباس بالبول في إناء (النجم الوهاج1/291)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0639 اگر کوئی شخص کسی ادارے میں ملازم ہو تو اس کی ڈیوٹی کے اوقات میں کوئی ذاتی کام یا ادارے کے کسی ذمہ دار کا کام کرانے کی گنجائش ہے یا نہیں؟
جواب:۔ اگر کوئی شخص کسی ادارے میں ملازم ہو تو اس کے ذمہ دار یا مینیجر کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ ڈیوٹی کے اوقات میں اپنا کوئی ذاتی کام یا دوسرے کا کام اس ادارے کے ملازم سے کرائے۔
فأما الاجير المنفرد وهو إذا إستأجر رجلا شهرا ليعمل له عملا فمنفعته في هذه المدة صارت مستحقة لهذا المستأجر وليس له أن يعمل فيها لغيره۔ (بحرالمذهب 9/ 322) وإن كان الاجير منفردا وهو الذي يعمل له ولا يعمل لغيره (المهذب 2/ 622) ★البيان 7/ 337 ★المجموع 15/ 427 ★التهذيب 4/ 467
فقہ شافعی سوال نمبر 0640 حالت حمل میں کیا عورت بچے کو دودھ پلا سکتی ہے؟
جواب:۔ حالت حمل میں دودھ پلانا جائز ہے۔ صحیح مسلم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے حالت حمل میں بچوں کو دودھ پلانا سے منع کرنے کا ارادہ تھا لیکن میں نے دیکھا کہ رومی اور ایرانی لوگ اس طرح حالت حمل میں اپنے بچوں کو دودھ پلاتے ہیں اور ان کے لیے کوئی نقصان نہیں ہوتا اس لیے میں نے اس سے منع کرنے کا ارادہ ترک کر دیا۔
إختلف العلماء في المراد بالغيلة في هذا الحديث وهي الغيل. فقال مالك في المؤطا واالاصماعي وغيره من اهل اللغة. أن يجامع إمرأته وهي مرضع. وقال إبن السكيت .هو أن ترضع المرأة وهي حامل. قال العلماء رحمهم الله. سبب همه صلي الله عليه وسلم بالنهي عنها أنه يخاف منه ضرر الولد الرضيع قالو. والأطباء يقولون إن ذلك اللبن داء والعرب تكرهه وتتقيه. وفي الحديث جواز الغيلة فإنه صلي الله عليه وسلم لم ينه عنها وبين سبب ترك النهي۔ (شرح المنهاج :4/ 16) وتجوز الغيلة. وهي إرضاع الحامل. وتركهاأولي إن لم يتحقق مرض الرضيع وإلا منعت (الموسوعة الفقهية 31/ 344) (مسلم شريف/1442)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0641 بچے کو دودھ پلانے کی کتنی مدت ہے؟ اور متعین مدت کے بعد دودھ پلانا کیسا ہے؟
جواب:۔ قرآن میں اللہ تعالی کا فرمان ہے۔مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں۔ (سورة البقرة /233) رضاعت کے ثبوت کے لیے بچے کو دودھ پلانے کی اصل مدت دو سال تک ہے، اگر ماں دو سال کے بعد بھی اپنے بچے کو دودھ پلانا چاہیے تو پلانا جائز ہے اس لئے کہ وہ بچوں کے حق میں بہتر ہے، لہذا ماں اپنے بچے کو جب تک دودھ پلا سکتی ہے پلائے اسلئے کہ ماں کا دودھ بچے کے حق میں بہتریں غذا ہے۔
فذكر أن تمام الرضاع في الحولين فعلم أنه لم يرد أنه لا يجوز أكثر منه لأن ذالك يجوز۔ (البيان 11/ 122) فإن استمر رضاع بعد الحولين لضعف الطفل فلا مانع منه للحاجة ولكن لايترتب عليه احكامه من التحريم۔ (الفقه الإسلامي وأدلته :7/ 710) وقوله تعالي (حولين كاملين لمن أراد أن يتم الرضاعة) يدل علي أن هذا تمام الرضاعة ومابعد ذالك فهو غذاء من الأغذية۔ (مجموع الفتاوي/34) ★فتاوي اللجنة الدائمة 21/ 60
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0642 اگر کسی شخص کی پیشانی پر زخم ہو جس کی وجہ سے سجدہ میں پیشانی کو زمین پر ٹیکنا مشکل ہو تو کیا اس صورت میں پیشانی کو زمین پر ٹیکے بغیر سجدہ کرنا درست ہوگا ؟
جواب:۔ پیشانی پر اگر زخم ہو اور زخم پر پٹی بندھی ہو تو اس کے لیے جائز ہے کہ زمین پر پیشانی ٹیکے بغیر زخم کی اس پٹی پر ہی سجدہ کرے اور اس نماز کا اعادہ بھی نہیں ہوگا۔
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0643 اگر کوئی شخص اس قدر معذور ہو کہ سجدہ میں جاتے وقت اس کا سینہ ذرہ سا قبلہ سے ہٹ جاتا ہو تو ایسے شخص کی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔نماز میں قبلہ رخ ہونا واجب ہے، البتہ معذور بہت زیادہ بیمار یا نہایت کمزور و لاغر شخص جو قبلہ رخ نہیں ہوسکتا ہو یا قبلہ کی طرف رخ کرنے کی صورت میں ڈوبنے کا خوف ہو تو ایسے شخص کو جس طرح ممکن ہو نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔ اگر عذر عارضی ہو تو وہ شخص نماز کا اعادہ کرے گا۔ اگر عذر دائمی ہو، اور بیٹھنے کی صورت میں قبلہ رخ ہونا ممکن ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز ہے اسلیے کہ قبلہ رخ ہونا قیام کے مقابلہ میں زیادہ اہم ہے ۔
علامہ رملی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: واحترز المصنف بالقادر عن العاجز كمريض عجز عمن يوجهه ومربوط على خشبة وغريق على لوح يخاف من استقباله الغرق، ومن خاف من نزوله عن دابته على نفسه أو ماله أو انقطاعا عن الرفقة فإنه يصلي على حسب حاله ويعيد على الأصح لندرته….فلو أمكنه أن يصلي إلى القبلة قاعدا وإلى غيرها قائما وجب الأول، لأن فرض القبلة آكد من فرض القيام بدليل سقوطه في النفل مع القدرة من غير عذر۔ (نهاية المحتاج427/1) علامہ ابن حجر ہیتمی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ولو تعارض هو، والقيام قدمه؛ لأنه آكد إذ لا يسقط في النفل إلا لعذر بخلاف القيام. (تحفة المحتاج:172/1) (سورة البقرة/144)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0644 اذان کے کلمات کو خوب کھینچ کر اذان دینا یعنی جہاں پر مد نہ ہو وہاں مد کے ساتھ زیادہ کھینچنا کیسا ہے ؟
جواب:۔ اذان کے کلمات کو حد سے زیادہ کھینچنا اس وقت مکروہ ہے جب تک کہ اذان کے معنی میں کوئی تبدیلی نہ ہو اگر معنی میں تبدیلی ہوتی ہو تو جیسا کہ الله اکبر میں لفظ الله کے الف کو کھینچنا حرام ہے۔
ويكره التمطيط والتغني فيه مالم يتغير به المعني وإلا حرم۔ (تحفة المحتاج 1/ 168) (قوله التمطيط والتغني فيه) أي تمديد الأذان والتطريب به (قوله مالم يتغير به المعني) قال إبن عبدالسلام يحرم المتلحين أي إن غير المعني المعني أو أوهم محذورا كمد همزة أكبر ونحوها حاشية الشرواني وابن قاسم العبادي 1/ 473 ويكره تمطيط الأذان أي تمديده والتغني به۔ (نهاية المحتاج 1/ 416)