فقہ شافعی سوال نمبر/ 0705 بچہ یا بچی کی پیدائش کے ساتویں دن کیا سر منڈانا اور اس کے وزن کے بقدر سونا يا چاندی صدقہ کرنا ضروری ہے ؟
جواب:۔ بچہ یا بچی کی ولادت کے ساتویں دن بال کٹوانا اور بچے کے بالوں کے وزن کے بقدر سونا یا چاندی صدقہ کرنا احادیث سے ثابت ہے۔ ہاں اگر کوئی شخص سونا چاندی کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو ایسا شخص بالوں کے وزن کے بقدر قیمت صدقہ کرے تو اس کا یہ عمل بھی ثواب سے خالی نہیں ہوگا.
امام ترمذی رحمة الله عليه ہیں: عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِب ، قَالَ : عَقَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَسَنِ بِشَاةٍ، وَقَالَ : ” يَا فَاطِمَةُ، احْلِقِي رَأْسَهُ، وَتَصَدَّقِي بِزِنَةِ شَعْرِهِ فِضَّةً ". قَالَ : فَوَزَنَتْهُ، فَكَانَ وَزْنُهُ دِرْهَمًا أَوْ بَعْضَ دِرْهَمٍ. (سَنَن ترمذي/1519) علامہ ابن الجوزی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: وَهُوَ قَوْله: ” أميطوا الْأَذَى عَنهُ ” وَيَعْنِي بالأذى ذَلِك الشّعْر. وَقَالَ غَيره: إِنَّمَا كَانَ ذَلِك الشّعْر أَذَى لِأَنَّهُ قد علق بِهِ دم الرَّحِم. (کشف المشکل علی حدیث الصحیحین 2392) امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: (واماطۃ الاذی) … والمراد بالاذي الشعر الذي عليه ذالك الوقت لانه شعر ضعيف. (المجموع:429/8) *(اسنی المطالب:549/1) *(بذل المجہود:2842)
Fiqhe Shafi Question No/ 0705
Is it necessary to shave head of a newborn baby (boy or girl) on the 7th day from his/her birth and also is it necessary to give gold or silver as charity (sadaqa) measuring equal to the weight of their hair??
Ans; Shaving head of a newborn baby (girl or boy) on the 7th day from their birth and giving gold or silver as sadaqa measuring equal to the weight of the hair is proven in hadeeth.. If an individual is not able to give gold or silver then the person should determine the weight of hair and give some money as sadaqah and by this he shall get the reward (sawab).
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0706 اگر پھوپھی اپنے بھائی کے بچوں کو ہاتھ لگائے تو کیا وضو ٹوٹے گا یا نہیں؟
جواب:۔ پھوپھی کا رشتہ محرمات میں شامل ہے اس لیے اگر وہ اپنے بھائی کے بچوں کو ہاتھ لگائے تو اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا۔ کسی بھی محرم رشتہ کا ہاتھ لگنے یا عمد ہاتھ ملانے سے وضو نہیں ٹوٹتا
حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ
( وبنات الأخ وبنات الأخت ) ويدخل فيهن بنات أولاد الأخ والأخت وإن سفلن ، وجملته : أنه يحرم على الرجل أصوله وفصوله وفصول أول أصوله وأول فصل من كل أصل بعده ۔ (تفسير البغوي /النساء: 43) ﻭﺍﻟﺮﺍﺑﻊ ﻣﻦ ﺍﻟﻤﺤﺮﻣﺎﺕ: ﻭﻫﻮ ﺃﺧﻮﺍﺕ ﺍﻟﺄﺏ ﻭﺳﻮﺍﺀ ﻛﻦ ﻟﺄﺏ ﻭﺃﻡ ﺃﻭ ﻟﺄﺏ ﺃﻭ ﻟﺄﻡ ﻭﻛﻠﻬﻦ ﻣﺤﺮﻣﺎﺕ ﺑﺎﻟﺎﺳﻢ ﺛﻢ ﻋﻤﺎﺕ ﺍﻟﺄﺏ ﻭﺍﻟﺄﻡ ﻭﻋﻤﺎﺕ ﺍﻟﺄﺟﺪﺍﺩ ﻭﺍﻟﺠﺪﺍﺕ ﻛﻠﻬﻦ ﻣﺤﺮﻣﺎﺕ كالعمات ۔ (الحاوي الكبير :197/9) *قوت المحتاج /377/5 *بداية المحتاج /80/3
Fiqhe Shafi Question No:0706 If the paternal aunt touches her nephews then does it break their ablution?
Ans; The paternal aunt is considered among mehrams so if she touches her nephews the ablution doesnot invalidate.. Therefore touching any of the mehram relative or intentionally shaking hands with them doesnot invalidate ablution..
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0707 اگر کوئی شخص نماز میں بھول کر بات کرے تو اسکی نماز باطل ہوگی یا نہیں؟
جواب:۔ اگر کوئی شخص نماز میں بغیر ارادے کے سبقت لسانی کی وجہ سے بات کرے، یا ہنسی اور کھانسی کا غلبہ ہو جس کی وجہ سے دو حرف ظاہر ہوجائے یا بھول کر یا اس کی حرمت کا علم نہ ہونے کی وجہ سے بات کرے تو اس وقت اسکی نماز باطل نہیں ہوگی، البتہ سلام سے پہلے سجدہ سہو کرلے، اس کے بر عکس اگر وہ بھول کر یا سبقت لسانی سے دو حرف سے زیادہ بات کرے تو نماز باطل ہوجائے گی.
من سبق لسانه إلى الكلام من غير قصد، أو غلبة الضحك ، أو السعال، فبان منه حرفان أو تكلم ناسيا أو جاهلا بتحريم الكلام: فإن كان ذلك يسيرا لم تبطل صلاته، وإن كثرت بطلت صلاته على الأصح۔ (روضة الطالبين :٢٩٠/١) وَإِذا تكلم فِي الصَّلَاة عَامِدًا بطلت وَإِن تكلم نَاسِيا لَهَا بنى مَا لم يَتَطَاوَل الْكَلَام وَسجد للسَّهْو قبل السَّلَام۔ (الاقناع :٤٥/١)
Fiqhe Shafi Question No/ 707 If one speaks while praying due to forgetfulness then does it invalidate his salah?
Ans; If one speaks in the prayer unintentionally due to slip of tongue or he utters two letters due to prevalence of laughing and coughing or by forgetfulness or out of ignorance of the ruling then his salah doesnot invalidate..However, he should perform the prostration of forgetfulness (sajdah suhu) before salam.. On the other hand if he utters more than two letters due to slip of tongue or by forgetfulness, then his is salah invalid..
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0708 انسان کے بال پاک ہیں یا ناپاک؟ اور انسانوں کے بالوں کو خریدنا اور بیچنا کیسا ہے؟ جواب:۔ انسان کے بال پاک ہیں، البتہ انسان کے بالوں کو بیچنا اور خریدنا دونوں جائز نہیں۔ اسلیے کہ انسان کے بال اور اس کے اجزاء سے فائدہ اٹھانا اس کے اکرام کی وجہ سے حرام ہے۔
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0709 مسجد کو رنگ برنگي لائٹنگ لگا کر سجانے کا کیا حکم ہے؟ جواب:۔ مسجد کے اندرون میں نقش و نگاری اور تزئین کاری سے احادیث مبارکہ میں نمازوں میں خشوع سے روکاوٹ ہونے کی وجہ سے منع کیا گیا ہے اور ہاں مسجد کے باہر تزئین کی اجازت ہے، لیکن تزئین فخر کی غرض سے نہ ہو. اور تزئین کے اخراجات مسجد کے مال سے نہ ہو.نیز تزئین کا عمل سنت سمجھ کر نہ کرے، اور تزئین میں اسراف سے کام نہ لیا گیا ہو۔ زکریا الانصاری رحمة الله فرماتے ہیں: ويكره نقش المسجد واتخاذ الشرافات له) للأخبار المشهورة في ذلك ولئلا يشغل قلب المصلي۔ (فقه الاسلام شرح بلوغ المرام:218/1) امام قسطلانی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: واستنبط منه كراهية زخرفة المساجد لاشتغال قلب المصلي بذلك أولصرف المال في غير وجهه نعم إذا وقع ذلك على سبيل التعظيم للمساجد ولم يقع الصرف عليه من بيت المال فلا بأس به۔ (اسنی المطالب:185/1) عبد القادر شیبه رحمة الله عليه فرماتے ہیں: أن من السنة ترك الغلو فى تزيين المساجد (شرح القسطلاني لصحيح البخاري:440/1)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0710 اسلام لانے کے بعد نام تبدیل کرنا کیا ضروری ہے؟ جواب:۔ نام کا تبدیل کرنا اسلام میں داخل ہونے کے لیے کوئی شرط نہیں ہے، ہاں اگر کسی شخص کا نام اسلامی عقیدے کے خلاف ہو یا معنوی اعتبار سے غلط ہو تو ایسے ناموں کو تبدیل کرنا واجب ہے۔ جس کا ثبوت احادیث سے ملتا ہے۔
اتفق اهل السنة من المحدثين و الفقهاء والمتكلمين علي ان المؤمن الذي يحكم بانه من اهل القبلة ولا يخلد في النار لا يكون الا من اعتقد بقلبه دين الاسلام اعتقادا جازما خاليا من الشكوك ونطق بالشهادتين …،فانه يكون مؤمنا.(المنهاج: ١٢٥/١) ويجب تغيير الاسم الحرام۔ (المجموع:٣٢٨/٨) يستحب تحسين الاسم …قال النبي صلي:ان اخنع اسم…، قالوا والتسمية بهذا الاسم حرام, السنة تغيير الاسم القبيح. (بجيرمي علي الخطيب:٣٤٣/٤) (صحيح مسلم :٢١٤٣) (صحيح مسلم: ٢١٣٩)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0711 کیا عورت کا عورت سے مصافحہ کرنا سنت ہے؟ جواب:۔ جامع الترمذي کی روایت نمبر2727 سے صاف طور پر یہ مسئلہ معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح مرد کا مرد سے ملاقات کے وقت مصافحہ کرنا سنت ہے اسی طرح عورت کا عورت سے ملاقات کے وقت مصافحہ کرنا بھی سنت ہے۔ علامه خطيب شربيني رحمة الله عليه فرماتے ہیں: وَتُسَنُّ مُصَافَحَةُ الرَّجُلَيْنِ وَالْمَرْأَتَيْنِ لِخَبَرِ: «مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَلْتَقِيَانِ يَتَصَافَحَانِ إلَّا غُفِرَ لَهُمَا قَبْلَ أَنْ يَتَفَرَّقَا» رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَغَيْرُهُ۔ (مغني المحتاج :4/ 218) (حاشية البجيرمي علي الخطيب 3/ 385)(تحقة المحتاج مع حاشيتيه :7/ 208) (حاشية الجمل :4/ 126) (الفقه الاسلامي وادلته: 4/ 2660)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0712 کسی بھی فرض نماز سے پہلے والی سنت کو نماز کے بعد پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ جواب:۔ فرض نماز سے پہلے والی سنت کو اسی وقت کرنا چاہیے ہاں اگر پہلے نہ پڑھ سکے تو اس سنت کو بعد میں بھی پڑھ سکتے ہیں جس طرح سے سنن ابي داود/1267 میں فجر سے پہلے والی سنت کو فجر کی نماز کے بعد پڑھنے پر اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم خاموشی رہے منع نہیں فرمایا اس معلوم ہوا کہ فرض نمازوں سے پہلے والی سنتوں کو بعد میں پڑھ سکتے ہیں۔ عظیم آبادی رحمة الله عليه فرماتے ہیں:(فسكت رسول الله صلى الله عليه وسلم) قال الخطابي: فيه بيان أن لمن فاتته الركعتان قبل الفريضة أن يصليهما بعدها قبل طلوع الشمس، وأن النهي عن الصلاة بعد الصبح حتى تطلع الشمس إنما هو فيما يتطوع به الإنسان إنشاء وابتداء دون ما كان له تعلق بسبب۔ (عون المعبود:2/ 557) امام نووي رحمة الله عليه فرماتے ہیں: رَاتِبَةٌ تَسْبِقُ الْفَرِيضَةَ فَيَدْخُلُ وَقْتُهَا بِدُخُولِ وَقْتِ الْفَرِيضَةِ، وَيَبْقَى جَوَازُهَا مَا بَقِيَ وَقْتُ الْفَرِيضَةِ. وَوَقْتُ اخْتِيَارِهَا مَا قَبْلَ الْفَرِيضَةِ. (روضة الطالبين 1/ 439) علامہ سليمان الجمل رحمة الله عليه فرماتے ہیں : وَسُنَّ قَضَاءُ نَفْلٍ مُؤَقَّتٍ ” إذَا فَاتَ كَصَلَاتَيْ الْعِيدِ وَالضُّحَى وَرَوَاتِبِ الفرائض كما تقضي الفرائض بجامع التَّأْقِيتِ۔ (حاشية الجمل:2/ 259) ★مرعاة المفاتيح: 3/ 466
فقہ شافعی سوال نمبر / 0713 کیا لوکی کھانا سنت عمل ہے؟ جواب:۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سبزیوں میں لوکی بہت پسند فرماتے تھے۔ اور لوکی اگر نبی کی پسندیدہ چیز سمجھ کر اسی نیت سے کھانا سنت عمل شمار ہوگا. جس کا ذکر صحیح بخاری میں بھی ملتا ہے اور بغیر نیت کے یوں ہی کھانے سے سنت کا اجر و ثواب حاصل نہیں ہوگا ۔ (صحیح البخاری:2092) وھبة زھیلی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: مندوب زائد: کالامور العادیة التی فعلھا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم بحسب العادۃ کالاقتداء باکل الرسول وشربه واتباعه فی مشیه ونومه ولبسه ونحو ذلك ویسمی ھذا القسم سنة زائدۃ وادبا وفضیلة لان ھذہ الامور لیست تشریعا. (الوجيز في أصول الفقه١٣٠) حافظ ابن حجر رحمة الله عليه فرماتے ہیں۔فقال كان الطعام مشتملا على مرق ودباء وقديد فكان يأكل مما يعجبه وهو الدباء ويترك ما لا يعجبه وهو القديد۔ (فتح الباري :٥٢٤/٩)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0714 کیا وارث کے لیے وصیت کرسکتے ہیں اور اس کی کیا صورت ہوگی؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں مسئلہ واضح فرمائیں جواب:۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں ہے، اگر وارث کے لیے وصیت کرے تو اس کے درست ہونے کے لیے دیگر ورثہ کا راضی ہونا ضروری ہے۔ اگر ورثہ میں سے کوئی بھی راضی نہ ہو تو وہ وصیت نافذ نہیں ہوگی۔ امام دارقطنی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: عن ابن عباس قال قال رسول الله علیه وسلم لا یجوز لوارث وصیة الا ان یشاء الورثة. (سنن دار قطنی:4259) امام ماوردی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: والوارث لا وصية له الا ان يجيز ذلك الورثة.(الحاوی الکبیر:277/4) امام شافعی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: فلما کان الاقربون ورثة وغير ورثة ابطلنا الوصية للورثة من الاقربين… واجزنا الوصية للاقربين ولغير الورثة. (كتاب الام:188/4) # المھذب:342/2 # الوسیط:412/4
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0715 انتقال کے بعد کیا میت کا چہرہ دیکھنا ضروری ہے ؟ اگر کوئی خاص رشتہ دار /یا بیٹا وغیرہ ملک سے باہر ہو تو کیا ویڈیو کال پر میت کا دیدار کر سکتے ہیں؟ جواب:۔ میت کو اپنے محارم کا آخیری دیدار کرنا جائز ہے۔ اگر کوئی میت کا انتہائی قریبی رشتہ دار مثلا (اولاد،وغیرہ) اس کے دیدار کا خواہشمند ہو تو اسے ویڈیو کال سے دیدار کرایا جاسکتا ہے۔ البتہ اس سلسلے میں احتیاط بہتر ہے اس لیے کہ شریعت نے میت کے انتقال پر اس کے جنازہ کی نماز میں شرکت اور قبرستان میں ساتھ چل کر تدفین میں شامل ہونے پر دو قیراط اجر کی بشارت دی ہے۔ قال السندي رحمه الله: قوله ( لا تدرجوه ) من الإدراج أي لا تدخلوه والحديث يدل على أن من يريد النظر فلينظر إليه قبل الإدراج فيؤخذ منه أن النظر بعد ذلك لا يحسن ويحتمل أنه قال ذلك لأن النظر بعده يحتاج إلى مؤنة الكشف۔ (حاشية السندي علي ابن ماجه /1475) قال الرملي رحمه الله: وَيَجُوزُ لِأَهْلِ الْمَيِّتِ وَنَحْوِهِمْ) كَأَصْدِقَائِهِ (تَقْبِيلُ وَجْهِهِ) لِخَبَرِ «أَنَّهُ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – قَبَّلَ وَجْهَ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ بَعْدَ مَوْتِهِ» وَلِمَا فِي الْبُخَارِيِّ ” أَنَّ أَبَا بَكْرٍ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ – قَبَّلَ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – بَعْدَ مَوْتِهِ ".وَيَنْبَغِي نَدْبُهُ لِأَهْلِهِ وَنَحْوِهِمْ كَمَا قَالَهُ السُّبْكِيُّ، وَجَوَازُهُ لِغَيْرِهِمْ، وَلَا يَقْتَصِرُ جَوَازُهُ عَلَيْهِمْ، وَفِي زَوَائِدِ الرَّوْضَةِ فِي أَوَائِلِ النِّكَاحِ: وَلَا بَأْسَ بِتَقْبِيلِ وَجْهِ الْمَيِّتِ الصَّالِحِ فَقَيَّدَهُ۔ (نهاية المحتاج :3/ 19) ★عجالة المحتاج 1/ 448 ★النجم الوهاج 3/ 95
فقہ شافعی سوال نمبر / 0716 واشنگ مشین میں ناپاک کپڑے الگ دھونا ضروری ہے یا پاک کپڑوں کے ساتھ دھو سکتے ہیں؟ جواب:۔ ناپاک کپڑوں کو الگ دھونا مناسب ہے، تاکہ ان کپڑوں کی ناپاکی کی وجہ سے دوسرے کپڑے بھی ناپاک نہ ہوجائے۔ البتہ پاک کپڑوں کے ساتھ دھونے میں اس وقت حرج نہیں جب اسپن (spin) میں تمام کپڑوں پر اچھی طرح پانی ڈال دے تو سب کپڑے پاک ہوجائیں گے۔ امام نووي رحمة الله عليه فرماتے ہیں: قَالَ الْمُتَوَلِّي،وَغَيْرُهُ: لِلْمَاءِ قُوَّةٌ عِنْدَ الْوُرُودِ عَلَى النَّجَاسَةِ، فَلَا يَنْجُسُ بِمُلَاقَاتِهَا، بَلْ يَبْقَى مُطَهَّرًا، فَلَوْ صَبَّهُ عَلَى مَوْضِعِ النَّجَاسَةِ مِنْ ثَوْبٍ فَانْتَشَرَتِ الرُّطُوبَةُ فِي الثَّوْبِ، لَا يُحْكَمُ بِنَجَاسَةِ مَوْضِعِ الرُّطُوبَةِ۔ (روضة الطالبين: 1/ 141) قال اصحاب الفقه المنهجي : التطهر من النجاسة المتوسطة: وهي نجاسة ما عدا الكلب والخنزير، والصبي الذي لم يطعم، وهذه النجاسة إنما تطهر إذا جرى الماء عليها وذهب بأثرها، فزالت عينها وذهبت صفاته من لون أو طعم أو ريح، سواء كانت عينية أم حكمية، وسواء كانت على ثوب أم جسم أم مكان، ولكن لا يضر بقاء لون عسر زواله، كالدم مثلاً. (الفقه المنهجي:1/ 42) ★العزيز شرح الوجيز 1/ 64 ★المجموع 2/ 600 ★الدين الخالص 1/ 486
فقہ شافعی سوال نمبر / 0717 حکومت کی کسی اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے محکمہ کے افسران سے سیٹنگ کرکے اپنا کام کروانا کیسا ہے؟ جواب:۔ شریعت اسلامیہ میں ہر کام کو سچائی اور امانت داری سے کرنے کا حکم دیا گیا ہے صورت مذکورہ میں سرکاری اسکیم ہو یا اس طرح کی کوئی اور چیز الغرض کسی طرح کی سیٹنگ اور دھوکا دے کر فائدہ اٹھانا جائز نہیں۔ (صحيح مسلم /101) علامہ قرطبي رحمة الله عليه فرماتے ہیں۔ وَفِي الْحَدِيثِ” مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا” أَيْ لَيْسَ مِنْ أَصْحَابِنَا وَلَا عَلَى طَرِيقَتِنَا وَهَدْيِنَا (تفسير قرطبي: 3/ 252) امام بغوي رحمة الله عليه فرماتے ہیں: التدليس في البيع حرام، ويأثم به الرجل. وهو أن يكون بالمبيع عيب؛ فيكتم أو يكذب في الثمن. (التهذيب:3/ 468) علامہ دميري رحمة الله عليه فرماتے ہیں: تجب طاعة الإمام في أمره ونهيه ما لم يخالف حكم الشرع، سواء كان عادلًا أو جائرًا. (النجم الوهاج: 9/ 69) فتاوی اللجنة الدائمه میں ہے: إملاء المراقبين الأجوبة على الطلاب في الاختبار من الغش والخيانة، وفيه مفسدة للأخلاق، ومضرة للأمة في نهضتها الثقافية، وهبوط في مستوى التعليم، وضعف في تحمل المسئولية، والقيام بواجبها، وذلك حرام كسائر أنواع الغش؛ لعموم حديث:«من غشنا فليس منا.(فتاوي اللجنة الدائمة:12/ 203)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0718 کیا مسافر ایک ہی تیمم سے دو فرض نمازوں کو جمع کرکے پڑھ سکتا ہے؟ جواب:۔ مسافر کے لیے ایک تیمم سے دو فرض نمازوں کو جمع کرکے پڑھنا جائز نہیں ہوگا۔ امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: مَذْهَبُنَا أَنَّهُ لَا يَجُوزُ الْجَمْعُ بَيْنَ فَرِيضَتَيْنِ بِتَيَمُّمٍ، سَوَاءٌ كَانَتَا فِي وَقْتٍ أَوْ وَقْتَيْنِ، قَضَاءً أَوْ أَدَاءً (المجموع :2/ 293) علامہ عمراني رحمةالله عليه فرماتے ہیں: وجملة ذلك: أنه لا يجوز للمتيمم أن يصلي بتيمم واحد فريضتين من فرائض الأعيان، سواء كان ذلك في وقت أو وقتين. (البيان :1/ 314)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0719 جنبی شخص (یعنی جس پر غسل واجب ہوا ہو) بسم الله الله اکبر پڑھ کر جانور ذبح کرنا کیسا ہے؟ جواب:۔ جنبی آدمی کا بِسْم الله الله اكبر کہہ کر جانور کو ذبح کرنا جائز ہے اسلیے کہ بِسْم الله الله اكبر ذکر ہے نہ کہ تلاوت ہے. اور اس کا ذبح شدہ جانور حلال ہے ۔ امام نووي رحمة الله عليه فرماتے ہیں: نَقَلَ ابْنُ الْمُنْذِرِ الِاتِّفَاقَ علی ذَبِيحَةِ الْجُنُبِ قَالَ وَإِذَا دَلَّ الْقُرْآنُ عَلَى حِلِّ إبَاحَةِ ذَبِيحَةِ الْكِتَابِيِّ مَعَ أَنَّهُ نَجِسٌ فَاَلَّذِي نَفَتْ السُّنَّةُ عَنْهُ النَّجَاسَةَ أَوْلَى قَالَ والحائض كالجنب۔ (المجموع :9/ 77) امام رافعي رحمة الله عليه فرماتے ہیں: أما إذا قرأ شيئاً منه لا على قصد القرآن فيجوز كما لو قال: باسم الله الرحمن الرحيم على قصد التبرك والابتداء، أو الحمد لله في خاتمة الأمر، أو قال: "سُبْحَانَ اللَّهِ الذِي سَخَّرَ لَنَا هذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ” على قصد إقامة سنة الركوب، لأنه إذا لم يقصد القرآن لم يكن فيه إخلال بالتعظيم ولو جرى على لسانه ولم يقصد هذا ولا ذاك فلا يحرم أيضاً. (العزيز شرح الوجيز :1/ 185) امام نووي رحمة الله عليه فرماتے ہیں: أَمَّا أَحْكَامُ الْفَصْلِ فَإِذَا أَرَادَ الرَّجُلُ الْغُسْلَ مِنْ الْجَنَابَةِ سَمَّى اللَّهَ تَعَالَى وَصِفَةُ التَّسْمِيَةِ كَمَا تَقَدَّمَ فِي الْوُضُوءِ بِسْمِ اللَّهِ فَإِذَا زَادَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ جَازَ وَلَا يَقْصِدُ بِهَا الْقُرْآنَ وَهَذَا الَّذِي ذَكَرْنَاهُ مِنْ اسْتِحْبَابِ التَّسْمِيَةِ هُوَ الْمَذْهَبُ الصَّحِيحُ وَبِهِ قَطَعَ الْجُمْهُورُ۔ (المجموع:2/ 181)