فقہ شافعی سوال نمبر / 0750 حاجی یا عمرہ کرنے والا حالت طواف میں تین چار پھیروں کے بعد تھکان محسوس کرے تو کیا ایسا شخص بقیہ طواف دوسرے دن کر سکتا ہے؟ حالت طواف میں کسی شخص کو تین چار پھیروں کے بعد (بیماری/ضعف) کی وجہ سے تھکان محسوس کرے جس کی بنا پر اس نے بقیہ طواف کو دوسرے دن ادا کیا تو اس کا طواف درست ہوگا، البتہ بہتر یہی ہے کہ طواف پے در پے کر کے جلد مکمل کرلے۔ الواجب الثامن: مختلف فيه، وهو الموالاة بين الطوفات السبع، وفيها قولان.اظهرهما انها سنة، فلا تبطل بالتفريق الكثير. (روضة الطالبين:٨٤/٣) فلو أحدث فيه توضا و بنى، وفى قول يستانف. (السراج الوهاج:١٢٣/١)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0751 طواف کے فوراً بعد اگر فجر کی جماعت کھڑی ہوجائے تو کیا فجر کی دو رکعت کے ساتھ صلاة الطواف کی دو رکعت کی نیت کرنا درست ہے؟ طواف کے فوراً بعد اگر فجر کی جماعت کھڑی ہوجائے تو فجر کی فرض دو رکعت کے ساتھ صلاة الطواف کی دو رکعت نماز کی نیت کرنا درست ہے.وأن يصلي بعد الطواف ركعتين ، وأن يقرأ في الأولى (الكأفرون)وفي الثانية (الإخلاص) وأن يجهر حيث يجهر في المكتوبة، ويجزئ الفرض أو الراتبة عنهما. (العباب.كتاب الحج:٤٩٤/١)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0752 اوقات مكروه میں طواف کرنے کا کیا حكم ہے؟ سنن ابی داود کی روایت جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی بھی شخص کو دن یا رات کے کسی بھی وقت طواف سے منع مت کرو جس کو جب چاہیے طواف کی اجازت ہے لھذا نماز کے مکروہ اوقات میں بھی طواف کرنا درست ہے۔ ابن حجر الھیتمی رحمة الله عليه: وأن يطوف سبعا للإتباع فلو شك في العدد أخذ بالأقل كالصلاة… ولايكره في الوقت المنهي عن الصلاة فيه للخبر السابق۔ (تحفة المحتاج :٣٣/٢) شیخ زکریا الانصاری رحمة الله عليه: أن يطوف سبعا، ولو في الأوقات المنهي عن الصلاة فيها۔ (أسني المطالب :٣٤٩/٢)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0753 *حالت حمل میں نکلنے والے خون کے سلسلہ میں شوافع کا کیا مسئلہ ہے؟* *حالت حمل میں نکلنے والے خون کے سلسلہ میں شوافع کا مسئلہ یہ ہے کہ اسکو حیض کا خون شمار کیا جائے گا جبکہ وہ اس کے ایام حیض میں نکلے اگر ایام حیض کے علاوہ میں خون نکلے تو استحاضہ مانا جائے گا* إمام رافعي رحمة الله عليه فرماتے ہیں : ما تراه الحامل على ترتيب أدوار الحيض، وقال في الجديد هو حيض وإن قلنا أنه حيض حرم فيه الصلاة والصوم والوطئی ويثبت جميع أحكام الحيض. إمام ابن حجرالهيتمي رحمة الله عليه: فالدم الذي قبل الولادة حيض على الأصح بناءا على أن الحامل تحيض، وما بعدها نفاس وما بينهما طهر قطعا. (الفتاوى الفقهية الكبرى:١/ ١٤٤)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0754 حالت احرام میں قمیض کو پہنے بغیر صرف اوپر سے بدن پر رکھنا کیسا ہے؟ حالت احرام میں قمیض یا پاجامہ پہنے بغیر صرف بدن کے اوپر اوڑھنا جائز ہے، اور اس طرح صرف بدن پر رکھنے یا اوڑھنے سے فدیہ بھی لازم نہیں ہوگا اس لیے کہ اس طرح بدن پر کپڑا اوڑھنے یا رکھنے صورت میں کپڑا پہننے کا اطلاق نہیں ہوتا۔ فأما اللبس فهو مرعي في وجوب الفدية على مايعتاد في كل ملبوس، إذ به يحصل الترفه والتنعم فلو إرتدى بقميص أو قباء، أو التحف فيهما أو اتزر بسراويل فلا فدية عليه، كما لو اتزر بإزار خيط عليه رقاع (العزيز شرح الوجيز/كتاب الحج.٤٥٩/٣) *مغني المحتاج/كتاب الحج/الإحرام :٤٤/٣ *السراج الوهاج/كتاب الحج:١٣١
فقہ شافعی سوال نمبر / 0755 حالت احرام میں رومال یا ٹیشو سے ناک صاف کرنے کا کیا مسئلہ ہے؟ حالت احرام میں اگر کوئی ناک صاف کرنے یا پسینہ پوچھنے کے لیے رومال یا ٹیشو کا استعمال کرنا درست ہے اس لیے کہ رومال کا استعمال کپڑا پہننے کی طرح نہیں اور اس سے فدیہ بھی لازم نہیں ہوگا فأما اللبس فهو مرعي في وجوب الفدية على مايعتاد في كل ملبوس، إذ به يحصل الترفه والتنعم فلو إرتدى بقميص أو قباء، أو التحف فيهما أو اتزر بسراويل فلا فدية عليه، كما لو اتزر بإزار خيط عليه رقاع (العزيز شرح الوجيز/كتاب الحج.٤٥٩/٣) (مغني المحتاج/كتاب الحج/الإحرام :٤٤/٣ (السراج الوهاج/كتاب الحج:١٣١)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0756 قربانی کے جانور کا کچھ گوشت زخم کی وجہ سے کاٹ دیا گیا ہو تو ایسے جانور پر قربانی درست ہوگی یا نہیں؟ قربانی کے جانور کے عضو کا کوئی حصہ (دُم، تھن، کان گوشت) اس طور پر کٹ جائے جس سے قربانی کے جانور کے گوشت میں نقص ہوجائے یا عیب نظر آئے یا کسی پرانے زخم کی وجہ سے کوئی عضو خراب ہوجائے تو ایسے جانور کی قربانی کرنا درست نہیں۔ شيخ زكريا الأنصاري رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ولو فقذت الضرع والألية أوالذنب خلقا أجرأت.. لاإن كان الفقد لذالك بقطع ولو لبعض منه أو بقطع بعض لسانها لحدوث ما يؤثر في نقص اللحم۔ (أسني المطالب:٤٥٦/٢) إمام نووي رحمة الله عليه فرماتے ہیں: وقطع بعض الألية أو الضرع لقطع كله، ولا تجزيء مقطوعة بعض اللسان۔ (المجموع :٢٩٥/٨) ☆مغنى المحتاج ١٢٣/٧ ☆عمدة المحتاج ٣٣١/١٤ ☆حاشية الترمسي ٦٣٢/٦
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0757 قربانی کے جانور کو ذبح کرتے وقت بسم اللہ یا تکبیر نہ پڑھے تو اس جانور کے ذبیحہ کاکیا حکم ہے؟ جانور کو ذبح کرتے وقت اصل میں بسم الله پڑھنا اور ذبح کرنے سے پہلے اور ذبح کے بعد تین مرتبہ تکبیر پڑھنا سنت ہے۔ اگر کوئی جانور ذبح کرتے وقت کچھ بھی نہ پڑھے تب بھی ذبیحہ صحیح اور درست ہوگا۔ ويكره ترك التسمية و لا تحرم……. ويسن و يكبّر في الاضحية ثلاثا قبل التسمية وثلاثا بعدها. (الديباج:٤/٣٢٥) وفي "مراسيل ابي داؤد” عن الصلت مرفوعاً:(ذبيحة المسلم حلال ذكر اسم الله أو لم يذكر) (عمدة المحتاج: ١٤/٢٤٧,٢٦٨)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0758 اگر کسی غیر مسلم کی دکان میں مسلمان شخص مرغی یا بکرے کو ذبح کرتا ہو یا ذبح کرنے کے سلسلے میں شک ہو تو ایسی دکان سے گوشت خریدنا کیسا ہے؟ جانور کا ذبیحہ صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ذبح کرنے والا مسلمان ہو، دکان مالک کے مسلمان ہونے یا نہ ہونے سے کچھ فرق نہیں، ہاں اگر کسی دکان کے سلسلہ میں یہ شک ہو کہ مسلمان نے ذبح کیا ہے یا غیر مسلم نے تو ایسی صورت میں اس دکان سے گوشت خریدنا جائز نہیں چونکہ غیر مسلم کا ذبیحہ حلال نہیں۔ ہاں اگر یقین ہو کہ مسلمان ہی نے ذبح کیا ہے تو اس دکان سے گوشت خریدنا جائز ہے۔ "و” شُرِطَ ” فِي الذَّابِحِ ” الشَّامِلِ لِلنَّاحِرِ وَلِقَاتِلِ غَيْرِ الْمَقْدُورِ عَلَيْهِ بِمَا يَأْتِي لِيَحِلَّ مَذْبُوحُهُ ” حِلَّ نِكَاحِنَا لِأَهْلِ مِلَّتِهِ ” بِأَنْ يَكُونَ مُسْلِمًا أَوْ كِتَابِيًّا بِشَرْطِهِ السَّابِقِ فِي النِّكَاحِ ذَكَرًا أَوْ أُنْثَى وَلَوْ أَمَةً كِتَابِيَّةً قَالَ تَعَالَى: {وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ } بِخِلَافِ الْمَجُوسِيِّ وَنَحْوِهِ۔ (فتح الوهاب: ٢/٢٢٧)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0759 حالت احرام میں اگر کسی کو احتلام ہوجائے تو کیا اس پر فدیہ یا دم واجب ہوگا ؟ حالت احرام میں اگر کسی کو نیند میں یا حالت بیداری میں احتلام ہوجائے تو اس کے احرام پر کوئی اثر نہیں ہوگا اور نہ فدیہ واجب ہوگا۔ چاہے شہوت کے ابھرنے سے احتلام ہوا ہو یا کسی طرح غور و فکر کرنے یا بیوی کو چھونے کی وجہ سے احتلام ہوجائے۔ البتہ احرام کی حالت میں شہوت کے ساتھ بیوی کو دیکھنا اور چھونا حرام ہے۔ والنظر بشهوة واللمس بشهوة مع الحائل كل منهما حرام ولا تجب فيه الفدية و إن أنزل، والنظر بشهوة فيحرم لكن لا تجب الفدية (حاشية البيجوري :٤٨٥/١)
فقہ شافعی سوال نمبر /0760 اگر کسی شخص کی طرف سے قربانی کی جارہی ہو تو اس کے لیے قربانی کے اس گوشت میں سے کچھ حصہ کھانا ضروری ہے؟ اگر وہ پورا کا پورا گوشت غرباء میں تقسیم کردے تو کیا اس کی طرف سے قربانی ادا ہو جائے گی ؟ قربانی کے گوشت میں سے کچھ حصہ قربانی کرنے والے کے لیے کھانا سنت ہے۔ اگر کوئی پورا کا پورا گوشت غرباء میں صدقہ کردے تب بھی اس کی طرف سے قربانی ادا ہوجائے گی گوشت کا کھانا ضروری نہیں، البتہ اپنی طرف سے ہونے والی قربانی کے گوشت میں سے کم از کم ايک لقمہ تبرکاً کھانا افضل ہے۔ (وله) أي : المضحي عن نفسه (الاكل من اضحية تطوع) وهديه ، بل يسن ، … (وياكل ثلاثاً) أي: يسن ذلك لمن يضحي عن نفسه ، (وفي قول) قديم : ياكل (نصفاً) أي: يسن الا يزيد عليه، و يتصدق بالباقي …..(والأفضل) ان يتصدق (بكلها) لانه اقرب للتقوى (إلا لقماً يتبرك بها)۔ (الديباج في شرح المنهاج:٣٤٤/٤- ٣٤٥)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0761 اگر کوئی مرد احرام باندھتے وقت بنیان نکالنا بھول جائے پھر کچھ دیر بعد یاد آجائے اور نکال دے تو کیا اس صورت میں کیا فدیہ لازم ہوگا؟ احرام کی حالت میں اگر کوئی شخص بنیان نکالنا بھول گیا ہو تو ایسے شخص پر بھول کی وجہ سے کوئی فدیہ لازم نہیں ہوگا اس لیے کہ نسیان یعنی بھول معاف ہے۔ البتہ یاد آنے پر نکالنا ضروری ہے ۔ وان لبس او تطيب او دهن راسه او لحيته ناسيا او جاهلا بالتحريم فلا فدية عليه۔ (البیان ۱۸۷/٤) (سنن ابن ماجہ :٢٩٢/٢٠٤٣ )
سوال نمبر / 0762 تمتع کرنے والا حاجی عمرہ سے فارغ ہوجائے اور ابھی حج کے دن شروع نہیں ہوئے ہوں تو کیا اس عمرہ کے بعد اس کے لیے تمتع کا دم دینا کافی ہوگا؟ حج تمتع کرنے والا عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد جب حج کا احرام باندھے تو اس وقت اس پر دم تمتع واجب ہوتا ہے۔ البتہ عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد اس کے لیے دم دینا جائز ہے، عمرہ سے پہلے جائز نہیں ہے۔ نیز یوم النحر (١٠/ ذوالحجہ) کو دم دینا افضل ہے۔ (ووقت وجوب الدم احرامه بالحج)….. ولا تتأقت إراقته بوقت،….. (والأفضل: ذبحه يوم النحر، (ويجوز قبل الإحرام) بالحج بعد التحلل من العمرة في الازهر، ولا يجوز قبل التحلل منها في الاصح. (كنز الراغبين:١/٥٦١) (ووقت وجوب الدم) عليه (احرامه بالحج) لانه حينئذٍ يصير متمتعاً بالعمرة الى الحج ، والأصح جواز ذبحه اذا فرغ من العمرة، ولا يتأقت ذبحه بوقتٍ كسائر دماء الجبرانات (و) لكن (الافضل وذبحه يوم النحر). (نهاية المحتاج:٣/٣٢٧)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0763 اگر کسی کے ذمہ قرض ہو تو اس کے لیے قربانی کرنا بہتر ہے یا قرض اداء کرنا افضل ہے؟ قرض کی ادائیگی ایک واجب عمل ہے اور قربانی ایک مسنون عمل ہے۔ لہذا اگر کسی پر قرض ہو اور قرض کی ادائیگی کا وقت ہوگیا ہو نیز اس کے پاس موجود رقم اگر قربانی کے لیے خرچ کرے تو قرض کی ادائیگی کے لیے دوسری رقم موجود نہ ہو تو اس صورت میں قربانی کرنا درست نہیں ہے۔بلکہ اس رقم سے قرض ادا کرنا ضروری ہے۔ ہاں اگر قرض کی ادائیگی کا کوئی معقول نظم موجود ہو یا قرض متعینہ وقت کے اندر ادا کرنا ممکن ہو تو پھر قرض کی اس رقم سے قربانی کرنے میں کوئی حرج نہیں، بلکہ اس کے لیے سنت یہ ہے کہ وہ پہلے قربانی کرے پھر جتنی جلد ہوسکے قرض کی رقم ادا کرے۔ (ﻭﺗﺤﺮﻡ) اﻟﺼﺪﻗﺔ (ﺑﻤﺎ ﻳﺤﺘﺎﺟﻪ) ﻣﻦ ﻧﻔﻘﺔ ﻭﻏﻴﺮﻫﺎ (ﻟﻤﻤﻮﻧﻪ) ﻣﻦ ﻧﻔﺴﻪ ﻭﻏﻴﺮﻩ ﻫﻮ ﺃﻋﻢ ﻣﻦ ﻗﻮﻟﻪ ﻟﻨﻔﻘﺔ ﻣﻦ ﺗﻠﺰﻣﻪ ﻧﻔﻘﺘﻪ (ﺃﻭ ﻟﺪﻳﻦ ﻻ ﻳﻈﻦ ﻟﻪ ﻭﻓﺎء) ﻟﻮ ﺗﺼﺪﻕ ﺑﻪ؛ ﻷﻥ اﻟﻮاﺟﺐ ﻣﻘﺪﻡ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﺴﻨﻮﻥ، ﻓﺈﻥ ﻇﻦ ﻭﻓﺎءﻩ ﻣﻦ ﺟﻬﺔ ﺃﺧﺮﻯ ﻓﻼ ﺑﺄﺱ ﺑﺎﻟﺘﺼﺪﻕ ﺑﻪ۔ (حاشية الجمل 4/113) ﺃﻣﺎ ﺇﺫا ﻇﻦ ﻭﻓﺎءﻫ ﻣﻦ ﺟﻬﺔ ﻇﺎﻫﺮﺓ ﻭﻟﻮ ﻋﻨﺪ ﺣﻠﻮﻝ اﻟﻤﺆﺟﻞ .. ﻓﻼ ﺑﺄﺱ ﺑﺎﻟﺘﺼﺪﻕ، ﺑﻞ ﻗﺪ ﻳﺴﻦ (شرح المقدمة الحضرمية:1/538)
Fiqhe Shafi Question No :0763 If a person owes money as debt then Is it better for him to perform animal sacrifice or is it afzal to pay off the debt?? Answer; Repayment of debt is a compulsory act (wajib) and animal sacrifice is a sunnah act.. Therefore if a person is indebted and the given time for repayment has ended and the amount he has is sufficient to perform either of the both acts that is, if he performs animal sacrifice he shall have no money to repay the debt then in this situation slaughtering the animal is not valid.. Rather he should pay off his debt by this amount..However if there is a reasonable step to repay the debt or it is possible for him to repay the debt within the determined period then there is nothing wrong with performing animal sacrifice.. Rather it is sunnah for him to perform animal sacrice first and then repay the debt as soon as possible…
فقہ شافعی سوال نمبر / 0764 ایک حاجی حج کے فورا بعد سفر کرنا چاہتا ہے کیا وہ طواف زیارت کے ساتھ ہی طواف وداع کی نیت کر سکتا ہے؟ طواف زیارت اور طواف وداع دونوں مستقل اور الگ الگ طواف ہیں٬ اس ليے طواف زیارت کے ساتھ طواف کی نیت کرنا کافی نہیں ہوگا، لہذا دونوں کو الگ الگ کرنا چاہیے۔ طواف الوداع لا یدخل تحت طواف آخر، حتی لو اخر طواف الإفاضة وفعله بعد ایام منی و اراد السفر عقبه … لم یکفه (البیان :2/549) *مغنی المحتاج:1/676