اتوار _25 _اگست _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0765
گناہ کبیرہ بار بار کرنے والا شخص اگر سلام کرے تو اسے جواب دینے کا کیا مسئلہ ہے؟
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس ایک شخص آیا اور کہا کہ فلاں شخص نے آپ کو سلام عرض کیا ہے، تو ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ وہ شخص نئی باتیں گڑھتا ہے اگر وہ ایسا ہى باتیں گڑھنے والا ہو تو میری طرف سے جواب نہ دینا۔ (سنن ترمذي:٢١٥٢) ایسا شخص جو بدعتی ہو، یا گناہ کبیرہ بار بار کرتا ہو اور توبہ بھی نہ کرتا ہو اگر کسی کو سلام کرے تو اس کے سلام کا جواب دینا واجب اور ضروری نہیں ہے۔ بلکہ ایسے لوگوں کے سلام کا جواب نہ دینا سنت ہے۔
ويلزمهم الرّد الا على فاسق بل يسن تركه على مجاهر بفسقه ومرتكب ذنب عظيم لم يتب منه و مبتدع إلا لعذر او خوف مفسدة. (تحفة المحتاج:٤/١٨٩) و في استحباب السلام على الفاسق ( المجاهر بنفسه) ووجوب الرد على المجنون والسكران اذا سلم وجهان. (العزيز شرح الوجيز:١١/٣٧٦) فرع:في استحباب السلام على الفاسق المجاهر بفسقه والمبتدع ومن ارتكب ذنباً عظيماً ولم يتب منه وجهان، اصحهما: لا. (عمدة المحتاج:١٤/٣٤)
اتوار _25 _اگست _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0766
اگر کوئی شخص السلام علیکم کے علاوہ صرف سلام مسنون یا سلام و تسلیم جیسے الفاظ کے ذریعہ کسی کو سلام کرے تو کیا اس طرح سلام کرنا درست ہے اور اس طرح سلام کرنے والے کو جواب دینا ضروری ہے ؟
سلام کا سنت طریقہ یہ ہے کہ آدمی پورا پورا سلام یعنی السلام علیکم ورحمة الله وبركاته اور اس کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته کہے ہاں اگر کوئی شخص سلام مسنون یا سلام تسلیم اس جیسے الفاظ کے ذریعہ سلام کرے تو اس طرح سلام کرسکتا ہے اور مخاطب کو اس کا جواب دینا بھی واجب ہوگا اس لیے کہ یہ الفاظ عجمی زبان میں سلام کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
قلت: الصواب صحة سلامة بالعجمية إن كان المخاطب يفهمها ، سواء قدر على العربية أم لا ، ويجب الرد ، لأنه يسمى تحية وسلاماً۔ (روضة الطالبين.كتاب السير :١٨٧/٤)
اتوار _25 _اگست _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0767
دوران نماز اگر کسی امام کا وضو ٹوٹ جائے تو مقتدی حضرات باقی نماز کیسے مکمل کریں ؟
نماز کے دوران اگر کسی امام کا وضو ٹوٹ جائے تو اب مقتدیوں کے لیے اپنی نماز مکمل کرنے کے سلسلے میں دو طریقے ہیں۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ مقتدی اس امام سے الگ ہونے کی نیت کریگا اور اپنی بقیہ نماز مکمل کرے گا۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اسی وقت مقتدیوں میں سے کوئی ایک امامت کے لیے آگے بڑھے گا اور بقیہ نماز کی امامت کرے گا اور نماز مکمل کریگا۔
إذا بطلت صلاة الامام بحدث ونحوه ….. فانه يفارقه ولا يضر الماموم هذه المفارقة إذَا خَرَجَ الامام عن الصلاة بحديث تَعَمَّدَهُ أَوْ سَبَقَهُ أَوْ نَسِيَهُ أَوْ بِسَبَبٍ آخَرَ أَوْ بِلَا سَبَبٍ فَفِي جَوَازِ الِاسْتِخْلَافِ قَوْلَانِ مَشْهُورَانِ (الصَّحِيحُ) الْجَدِيدُ جَوَازُهُ۔ (المجموع:213/4)
بدھ _28 _اگست _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0768
سیلاب کی وجہ سے بہت سی جگہوں (کیرلا، آسام و غیرہ) پر بعض قیمتی اشیاء (سونا،چاندی، وغیرہ) ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوگئے ہیں، اب اگر یہ کسی کے ہاتھ لگ جائے تو کیا اس کا حکم لقطہ کی طرح ہوگا؟ اور اس کا مصرف کیا ہوگا؟
ہوا اور سیلاب وغیرہ کی وجہ سے جو اشیاء ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوجائے، تو وہ لقطہ کے حکم میں نہیں ہوگی، اس لیے کہ لقطہ میں مالک سے گرنے یا غفلت کی وجہ سے ضائع ہونا شرط ہے، لھذا ہوا اور سیلاب وغیرہ کی وجہ سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے والی اشیاء پر مال ضائع کا حکم ہوگا، اور وہ مال لقطہ کے حکم میں نہیں ہوگا، اور مال ضائع کا حکم یہ ہے کہ اس مال کو امام وقت یا حاکم و قاضی کے حوالے کیا جائے گا یا اگر بیت المال کا نظام ہو تو اسی بیت المال میں جمع کیا جائے گا اور ان دونوں کے مفقود ہونے کی صورت میں وہ خود اس مال کی حفاظت کرے گا یہاں تک کہ اس مال کا مالک مل جائے، اور اگر مالک ملنا دشوار ہو تو ان چیزوں کو رفاہی و ملی تنظیموں کے حوالے کیا جائے گا، تاکہ وہ مسلمانوں کے عمومی مصالح پر خرچ کیا جائے۔
قال الإمام النووي رحمه الله يشترط في اللقطة ثلاثة شروط غير ماسبق، أحدها: أن تكون شيئا ضاع من مالكه لسقوط أو غفلة ونحوهما ، فأما إذا ألقت الريح ثوبا في حجره، أو ألقى إليه هارب كيسا ولم يعرف من هو، فهو مال ضائع يحفظ ولايتملك. (روضة الطالبين:٤ / ٤٦٨) قال الإمام جمال الدين الأهدل رحمه الله: وما ألقاه نحو ريح أو هارب لايعرفه بنحو حجره أو داره، مال ضائع لالقطة، أمره للإمام يحفظه أو ثمنه إن رأى بيعه، أو يقترضه لبيت المال إلى ظهور مالكه إن توقعه، وإلا صرفه لمصارف بيت المال، وحيث لاحاكم أو كان جائرا … فعل من هو بيده فيه ذلك كما مر نظيره، ولمن هو بيده تملكه حيث كان له حق في بيت المال، و إلا فليس له ذلك. (عمدة المفتي والمستفتي:١ / ٧٢١)
بدھ _28 _اگست _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0769
*نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ کے بعد کوئی سورہ پڑھنا کیسا ہے؟
*جنازہ کی نماز میں سورۃ فاتحہ کے بعد کوئی سورہ نہ پڑھنا بہتر ہے اگر کوئی سورہ فاتحہ کے بعد سورہ پڑھے تو نماز پر کوئی اثر نہیں ہوگا البتہ اگرمقتدی کی سورہ فاتحہ امام سے پہلے ختم ہوجائے اور سورہ پڑھنے کا موقع ہو تو خاموش رہنے کے بجائے کوئی مختصر سورہ پڑھنا مسنون ہے۔*
أما قراءة السورة.. فلا تستحب في الأصح بل نقل الإمام فيه الإجماع وقيل: تستحب سورة قصيرة. (النجم الوهاج:٤٥/٣) وينبغي أن المأموم إذا فرغ من الفاتحة قبل امامه تسن له السورة لأنها أولى من وقوفه ساكنا. (إعانة الطالبين:١٩٦/٢) وفي القراءة السورة وجهان: أحدهما: يقرأ سورة قصيرة لأن كل صلاة قرأ فيها الفاتحة قرأ فيها السورة كسائر الصلوات.والثاني: أنه لا يقرأ لأنها مبنية على الحذف والاختصار۔ (المهذب للشيرازى:٢٤٧/١)
جمعرات _29 _اگست _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0770
شرابی شخص اگر نشہ کی حالت میں اگر کوئی سلام کرے تو اس کے سلام کا جواب دینے کا کیا حکم ہے؟
نشے کی حالت میں اگر کوئی سلام کرے تو اصح قول کے مطابق شرابی کے سلام کا جواب دینا واجب نہیں ہے۔ البتہ جواب دینا جائز ہے
اذا سلم مجنون او سكران هل يجب الرد عليهما ؟ فيه وجهان اصحهما انه لا يجب (المجموع: ٥٠٧/٤)
اتوار _1 _ستمبر _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0771
نماز جنازہ دو مرتبہ پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ نیز اگر کوئی ایک بار جنازے کی نماز پڑھائے تو دوسری مرتبہ بھی امامت کرے تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟
دو مرتبہ نماز جنازہ پڑھنا مندوب نہیں ہے۔ لیکن اگر کوئی دوسری مرتبہ نماز جنازہ کی امامت کرے تو مقتدیوں کی نماز ہوجائے گی۔ البتہ ایسے شخص کو چاہیے کہ وہ نماز نہ پڑھائے۔
فاراد من صلى اولاً ان يصلى ثانيا مع الطائفة الثانية ففيه اربعة اوجه: اصحها: باتفاق الاصحاب لا يستحب له الإعادة بل المستحب تركها. (المجموع:٦/٢٤٠). (ايضا وهذه لا يتنفل بها) بمعنى انه لا يعيدها مرة ثانية لعدم ورود ذلك شرعا بخلاف الفرائض فانها تعاد ان وقعت الاولى نفلاً. (حاشية الجمل:٣/١٩٦)
منگل _3 _ستمبر _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0772
اگر کسی نے نماز جنازہ پہلی جماعت کے ساتھ نہ پڑھی ہو تو کیا دوسری جماعت بناکر پڑھ سکتے ہیں؟
اگر ایک سے زائد لوگ کسی وجہ سے نماز جنازہ کی پہلی جماعت میں شریک نہ ہو سکے ہوں تو اسی میت پر دوسری جماعت بناکر نماز پڑھ سکتے ہیں۔ ﻭاﺫا ﺻﻠﻰ ﻋﻠﻴﻪ ﺃﻯ اﻟﻤﻴﺖ ﻓﺤﻀﺮ ﻣﻦ ﻟﻢ ﻳﺼﻞ ﺻﻠﻰ. (السراج الوهاج: ١١٢/١)
منگل _3 _ستمبر _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0773
میت پر عطر ڈالنے کا کیا حکم ہے؟
میت پر عطر یا خوشبو دار چیز ڈال سکتے ہیں نیز کفن کی چادروں درمیان کافور کے ساتھ مشک اور دوسری خوشبو دار چیزیں استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے البتہ اس بات کا خیال رہے کہ خوشبو اور عطر کا استعمال اسراف کی حد تک نہ پہنچے
ﻓﻘﺎﻝ اﻟﺸﺎﻓﻌﻲ ﻭاﻷﺻﺤﺎﺏ ﻳﺴﺘﺤﺐ ﺃﻥ ﻳﺒﺴﻂ ﺃﻭﺳﻊ اﻟﻠﻔﺎﺋﻒ ﻭﺃﺣﺴﻨﻬﺎ ﻭﻳﺬﺭ ﻋﻠﻴﻬﺎ ﺣﻨﻮﻁ ﺛﻢ ﻳﺒﺴﻂ اﻟﺜﺎﻧﻴﺔ ﻋﻠﻴﻬﺎ ﻭﻳﺬﺯ ﻋﻠﻴﻬﺎ ﺣﻨﻮﻁ ﻭﻛﺎﻓﻮﺭ ﻭﺇﻥ ﻛﻔﻦ اﻟﺮﺟﻞ ﺃﻭ اﻟﻤﺮﺃﺓ ﻓﻲ ﻟﻔﺎﻓﺔ ﺛﺎﻟﺜﺔ ﺃﻭ ﺭاﺑﻌﺔ ﻛﺎﻧﺖ ﻛﺎﻟﺜﺎﻧﻴﺔ ﻓﻲ ﺃﻧﻬﺎ ﺩﻭﻥ اﻟﺘﻲ ﻗﺒﻠﻬﺎ ﻭﻓﻲ ﺫﺭ اﻟﺤﻨﻮﻁ ﻭاﻟﻜﺎﻓﻮﺭ ﻭاﺗﻔﻖ اﻟﺸﺎﻓﻌﻲ ﻭاﻷﺻﺤﺎﺏ ﻋﻠﻰ اﺳﺘﺤﺒﺎﺏ اﻟﺤﻨﻮﻁ ﻛﻤﺎ ﺫﻛﺮﻧﺎ. (المجموع:١)
منگل _3 _ستمبر _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0774
میت کی تدفین سے پہلے کیا نماز غائبانہ پڑھ سکتے ہیں؟
میت کی تدفین سے پہلے دوسرے علاقوں میں غائبانہ نماز جنازہ پڑھنے کے لیے اس بات کا علم ہونا ضروری ہے کہ میت کو غسل دیا جاچکا ہوگا یعنی میت کا پاک ہونا شرط ہے میت کی نماز جنازہ اور دفن ہونا ضروری نہیں۔
علامہ رملی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ﻗﺎﻝ اﻷﺫﺭﻋﻲ: ﻭﻳﻨﺒﻐﻲ ﺃﻧﻬﺎ ﻻ ﺗﺠﻮﺯ ﻋﻠﻰ اﻟﻐﺎﺋﺐ ﺣﺘﻰ ﻳﻌﻠﻢ ﺃﻭ ﻳﻈﻦ ﺃﻧﻪ ﻗﺪ ﻏﺴﻞ: ﺃﻱ ﺃﻭ ﻳﻤﻢ ﺑﺸﺮﻃﻪ. ﻧﻌﻢ ﻟﻮ ﻋﻠﻖ اﻟﻨﻴﺔ ﻋﻠﻰ ﻃﻬﺮﻩ ﺑﺄﻥ ﻧﻮﻯ اﻟﺼﻼﺓ ﻋﻠﻴﻪ ﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﻗﺪ ﻃﻬﺮ ﻓﺎﻷﻭﺟﻪ اﻟﺼﺤﺔ ﻛﻤﺎ ﻫﻮ ﺃﺣﺪ اﺣﺘﻤﺎﻟﻴﻦ اﻷﺫﺭﻋﻲ۔ (نهایة المحتاج:٢/٤٨٥) علامه دمیاطی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ﻭﻻ ﺑﺪ- ﻓﻲ ﺻﺤﺔ اﻟﺼﻼﺓ ﻋﻠﻰ اﻟﻐﺎﺋﺐ -ﺇﻥ ﻳﻌﻠﻢ -ﺃﻭ ﻳﻈﻦ- ﺃﻧﻪ ﻗﺪ ﻏﺴﻞ، ﻭﺇﻻ ﻟﻢ ﺗﺼﺢ.ﻧﻌﻢ: ﺇﻥ ﻋﻠﻖ اﻟﻨﻴﺔ ﻋﻠﻰ ﻏﺴﻠﻪ، ﺑﺄﻥ ﻧﻮﻯ اﻟﺼﻼﺓ ﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﻏﺴﻞ، ﻓﻴﻨﺒﻐﻲ ﺃﻥ ﺗﺼﺢ – ﻛﻤﺎﻫﻮ ﺃﺣﺪ اﺣﺘﻤﺎﻟﻴﻦ ﻟﻷﺫﺭﻋﻲ۔ (اعانة الطالبین:٢/٢٠٧)
جمعرات _5 _ستمبر _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0775
اگر کوئی شخص ایسا قمیص (short shirt) پہن کر نماز پڑھائے جس سے ستر کا حصہ سجدہ یا رکوع کی حالت میں کھل جاتا ہو تو ایسے شخص کے پیچھے نماز درست ہوگی یا نہیں ؟
جو لوگ ایسے چھوٹے قمیص یا پاجامہ پہن کر نماز پڑھتے ہیں اور جب وہ سجدے میں جاتے ہیں تو ان کا ستر کھل جاتا ہے تو اس صورت میں ان کی نماز باطل ہوجاتی ہے۔ اگر ایسا شخص امامت کرے تو مقتدی اس امام سے الگ ہونے کی نیت کر کے اپنی نماز مکمل کرے گا اور اس کو اعادہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی ۔
وثالثها ستر العورة صلّی في الخلوة او غیرها فان ترکه مع القدوة لم یصح صلاته۔ (كنز الراغبين:١/ ٢٤٨-١٦٦) فصل إذا خرج الامام من صلاته بحدث او غیره انقطعت القدوة به فان لم یخرج وقطعها الماموم بأن نوی المفارقة جاز۔ (الديباج: ١/ ٣٦٠ -٢٦١)
اتوار _22 _ستمبر _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0776
مردوں کا گھٹنے کھول کر گھومنا کیسا ہے یا گھر میں ہی گھٹنے سے اوپر کا ٹاوزر (چڈی) پہننے کا کیا مسئلہ ہے؟
✍️ مردوں کا گھٹنے کھول کر بائر گھومنا درست نہیں ہے اس لیے کہ چلنے اور بیٹھنے کی حالت میں گھوٹنے کے اوپر کا حصہ یعنی ستر کھل جاتا ہے ہاں اگر گھر میں تنہا ہو تو ضرورتا ستر کھولنے کی اجازت ہے۔
قال الإمام زكريا الأنصاري: السرة والركبة فليستا بعورة، لكن يجب ستر بعضهما ليحصل ستره۔ (اسنى المطالب، للزكريا الأنصاري:٣٦١/١) قال الإمام النووي رحمة الله عليه: ﻭﻳﺠﻮﺯ ﻛﺸﻒ اﻟﻌﻮﺭﺓ ﻓﻲ اﻟﺨﻠﻮﺓ ﻓﻲ ﻏﻴﺮ ﺻﻼﺓ ﻟﻠﺤﺎﺟﺔ. (روضة الطالبين وعمدة المفتين:٢٨٢/١) (سنن دارقطنى:٨٧٨/٣٢٦/١) (سنن أبي داود/٣١٤٠ص ٤٦٠)
اتوار _22 _ستمبر _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0777
اگر ایک گھر یا کمرہ میں چند آدمی ایک ساتھ رہتے ہوں تو کھانے کا سنت طریقہ کیا ہے؟
ایک سے زیادہ لوگ ہوں تو افضل اور سنت طریقہ یہ ہے کہ ایک ساتھ ہی کھانا کھائے چونکہ یہ برکت کا باعث ہے۔
امام ابن کثیر رحمه اللہ فرماتے ہیں ﻟﻴﺲ ﻋﻠﻴﻜﻢ ﺟﻨﺎﺡ ﺃﻥ ﺗﺄﻛﻠﻮا ﺟﻤﻴﻌﺎ ﺃﻭ ﺃﺷﺘﺎﺗﺎ ﻓﻬﺬﻩ ﺭﺧﺼﺔ ﻣﻦ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﻓﻲ ﺃﻥ ﻳﺄﻛﻞ اﻟﺮﺟﻞ ﻭﺣﺪﻩ ﻭﻣﻊ اﻟﺠﻤﺎﻋﺔ ﻭﺇﻥ ﻛﺎﻥ اﻷﻛﻞ ﻣﻊ اﻟﺠﻤﺎﻋﺔ ﺃﺑﺮﻙ ﻭﺃﻓﻀﻞ. (تفسیر ابن کثیر:٨٠/٣) امام خطیب شربینی رحمه الله فرماتے ہیں وَتُسَنُّ الْجَمَاعَةُ وَالْحَدِيثُ غَيْرُ الْمُحَرَّمِ كَحِكَايَةِ الصَّالِحِينَ عَلَى الطَّعَامِ۔ (مغني المحتاج إلى معرفة معاني ألفاظ المنهاج,4/411) امام زکریا الانصاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (وَيُسْتَحَبُّ الْجَمَاعَةُ وَالْحَدِيثُ غَيْرُ الْمُحَرَّمِ عَلَى الطَّعَامِ)…(وَ) يُسْتَحَبُّ (مُؤَاكَلَةُ عَبِيدٍ وَصِغَارِهِ) وَزَوْجَاتِهِ (وَأَنْ لَا يَخُصَّ نَفْسَهُ بِطَعَامٍ إلَّا لِعُذْرٍ۔ (أسنى المطالب في شرح روض الطالب٢٢٨/٣ (سنن ابن ماجه:٣٣٨٦)
اتوار _22 _ستمبر _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0778
مساجد میں خوشبو کے لیے لوبان یا اگربتی وغیرہ جلانے کا کیا حکم ہے؟
📝 سنت یہ ہے کہ مساجد کو پاک و صاف اور معطر رکھا جائے اور اس کے لیے بہتر سے بہتر خوشبو والی اشیاء استعمال کریں لوبان اور اگربتی اگر نجس اشیاء سے نہ بنی ہوں تو مساجد میں خوشبو پیدا کرنے کے لیے ان کا جلانا پسندیدہ اور مستحب عمل ہے۔
عن عائشه رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمر بالمساجد أن تبني في الدور وأن تطهر و تطييب. (سنن الترمذي: ٥٩٤) قال ابن أرسلان: ويجوز أن يحمل التطييب على التجمير في المسجد بالبخور. (عون المعبود :٤٩٣/١) فقد كان عبدالله يحمر المسجد إذا قعد عمر رضي الله عنه على المنبر.واستحب بعض السلف التخليق بالزعفران والطيب (تحفة الاحوذي:٣٩٧/٢) قال ابن حجر في المرقاة: وبه يعلم أنه يستحب تجمير المسجد بالبخور. (المرقاة) (سنن ابن ماجه:٧٥٨) (سنن ابي داود:٤٥٥)
اتوار _22 _ستمبر _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر / 0779
اگر جماعت کی صف میں دو آدمیوں کے درمیان کچھ جگہ خالی ہو تو کیا نماز کی حالت میں قریب والے نماز کو کھینچ کر جگہ کو پُر کرسکتے ہیں یا نہیں؟
*نماز میں جماعت کی صف میں اگر ایک آدمی یا اس سے کم کی جگہ خالی ہو یا بعد میں آنے والا شخص صف میں ہٹ کر کھڑا ہوجائے تو قریب والے نماز ی کو نماز ہی کی حالت میں کھینچ کر صف سے جوڑنا جائز ہے۔ *قال البجيرمي رحمة الله عليه: ويؤخذ من انه لو فعل احد احد من المقتدين خلاف السنه استحب للامام ارشاده اليها بيده او غيرها من واثق منه بالامتثال ولا يبعد ان يكون الماموم في ذلك مثله في الارشاد المذكور۔ (بيجيرمي على الخطيب ١٣٥/٢) (صحيح البخاري:١٣٧)