فقہ شافعی سوال نمبر / 0840 گھر میں اکیلے فرض نماز پڑھتے وقت قرات بلند آواز سے پڑھنے کا کیا مسئلہ ہے؟ *اگر کوئی گھر میں اکیلے نماز پڑھتا ہو تو اس کو چاہیے کہ اپنی قرات کو جہری نمازوں فجر، مغرب اور عشاء کی شروع کی دو رکعتوں میں قرات آواز کے ساتھ پڑھنا سنت ہے۔ اور بقیہ نمازوں یعنی ظہر اور عصر میں (سرا) آہستہ آواز میں پڑھنا سنت ہے * فروع. يستحب للامام، والمنفرد الجهر في الصبح والاولين من المغرب والعشاء. والسنة. أن يجهر الامام، والمنفردفي. الصبح والاولين. من المغرب، والاولين من العشاء ويسر فيما سوى ذلك من الصلوات الخمس، لانه نقل ذلك من النبي.صلى الله عليه وسلم. نقلا متواترا وهو اجماع لا خلاف فيه. (مغني المحتاج:٣٦٢/١)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0841 ایک ملک سے دوسرے ملک بذریعہ بنک اکاونٹ روپیہ بھیجنے (ٹرانسفرنگ)کا کاروبار کرنا کیسا ہے؟ جس میں ٹرانسفر کرنے والا 1000 روپےنقد لیتا ہے اور اس کے اکاونٹ میں 10 روپیہ چارج لے کر منتقل کرتا ہے کیا یہ عمل جائز ہے؟
ایک ملک سے دوسرے ملک یا ایک شہر سے دوسرے شہر روپیہ بھیجنے ٹرانسفر کا کاروبار کرنا جائز ہے۔ اور روپیہ منتقل کرنے کے کام پر اجرت لینا بھی جائز ہے۔ خواہ روپیہ بھیجنے کے لیے بنک اکاونٹ یا گوگل پے، فون پے یا کسی اور طریقہ سے بھیجے تو اس کام پر اجرت لے سکتا ہے.
قال الإمام دبيان الدبيان رح : وما يأخذه المصرف في هذه الحالة مقابل خدماته جائز أيضًا كالعمولة التي تؤخذ من قبله في عملية التحويل (المعاملات المالية أصالة ومعاصرة:١٢/٤٥٢)
قال الأئمة رح : الحوالات التي تقدم مبالغها بعملة ما، ويرغب طالبها تحويلها بنفس العملة جائزة شرعا، سواء أكان بدون مقابل أم بمقابل في حدود الأجر الفعلي (فقه المعاملات:٢/٢١٢)
قال الإمام الشربيني رح : وإجارَةُ العَيْنِ لا يُشْتَرَطُ ذَلِكَ فِيها، ويَجُوزُ فِيها التَّعْجِيلُ والتَّأْجِيلُ (مغني المحتاج :٣/٤٤٣)
منهاج الطالبين وعمدة المفتين في الفقه: ١/١٥٩
نهاية المحتاج إلى شرح المنهاج :٥/٢٦٥
فقه التاجر المسلم :١/١٥٢
مجلة مجمع الفقه الإسلامي:٨/١٠٧١
فقہ شافعی سوال نمبر / 0842 کسی حائضہ یا نفاس والی عورت کو رمضان کے مہینہ میں روزہ کی نیت سے روزہ دارکی طرح کھانے پینے سے رکے رہنے کا کیا حکم ہے؟ *حيض و نفاس والی عورت کے لیے روزہ رکھنا درست نہیں ہے اسی طرح روزہ کی نیت سے روزہ توڑنے والے امور سے باز رہنا بھی جائز نہیں ہے اس لیے کہ جب شریعت نے اسے روزہ نہ رکھنے کی اجازت نہیں دی ہے اس کے باوجود ایسی عورت روزہ دار کی طرح بھوکے رہنا گویا شریعت کے حکم کی خلاف ورزی کرنا ہے۔ لہذا اگر کوئی عورت ایسا کرتی ہے تو وہ گنہگار ہوگی۔البتہ روزہ کی نیت کے بغیر روزہ دار کی طرح رہے تو وہ گنہگار نہیں ہوگی۔ * (ﺃﻣﺎ) ﺃﺣﻜﺎﻡ اﻟﻔﺼﻞ ﻓﻔﻴﻪ ﻣﺴﺎﺋﻞ (ﺇﺣﺪاﻫﺎ) ﻻ ﻳﺼﺢ ﺻﻮﻡ اﻟﺤﺎﺋﺾ ﻭاﻟﻨﻔﺴﺎء ﻭﻻ ﻳﺠﺐ ﻋﻠﻴﻬﻤﺎ ﻭﻳﺤﺮﻡ ﻋﻠﻴﻬﻤﺎ ﻭﻳﺠﺐ ﻗﻀﺎﺅﻩ ﻭﻫﺬا ﻛﻠﻪ ﻣﺠﻤﻊ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﻟﻮ ﺃﻣﺴﻜﺖ ﻻ ﺑﻨﻴﺔ اﻟﺼﻮﻡ ﻟﻢ ﺗﺄﺛﻢ ﻭاﻧﻤﺎ ﺗﺄﺛﻢ ﺇﺫا ﻧﻮﺗﻪ ﻭﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﻻ ﻳﻨﻌﻘﺪ . (المجموع:٦/ ٢٥٧) واما الحائض والنفساء فلا یصح صومھما۔ ولایجوز لھما ان یمسکا بنیة الصوم فان فعلتا اثمتالما روی ابوسعید الخدری رض ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: اذا حاضت المرآۃ لم تصم ولم تصل وذلك نقصان…. (البیان:3/472) ثم ذكر الشافعي بعد هذا: أن الحائض منهية عن الصوم، ولو قصدته وأوقعت الإمساك منويا عصت ربها (نھاية المطلب: ٤٩/٤)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0843 کیا نماز میں رکوع سے اٹھتے وقت یا مکمل اٹھنے کے بعد، اور اسی طرح سجدہ سے اٹھتے وقت یا مکمل اٹھنے کے بعد تکبیر کہنی چاہیے .؟ نماز پڑھنے والے کے لیے مستحب ہے کہ رکوع میں جاتے جاتے ہی تکبیر شروع کرے اور رکوع کو مکمل ہونے تک تکبیر کو جاری رکھے۔ اسی طرح سجدہ کی تکبیر میں بھی اعتدال میں ہی تکبیر شروع کرے اور مکمل ہونے تک تکبیر جاری رکھے۔ قال الإمام الرؤيانى رحمة الله عليه :المستحب أن يرفع يديه مع ابتداء التكبير ثم ينتهي رفعهما قبل انتهاء الكبير، وينبغي أن يكون في التكبير، وهو يهوي راكعاً حتى ينتهي التكبير مع انتهاء ركوعه….. (بحر المذهب:١٥٠/٢) قال الإمام البغوي رحمة الله عليه : ثم بعد ما اعتدل المصلي على الركوع، يجب عليه أن يهوي إلى السجود، ويبتدىء التكبير قائماً. (التهذيب:١١٢/٢) قال الإمام الشيرازي رحمة الله عليه : فصل: ثم يسجد وهو فرض لقوله عز وجل: {اركعوا واسجدوا} "الحج: ٧٧” ويستحب أن يبتدئ عند الهوي إلى السجود بالتكبير. (المهذب:١٤٤/١)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0844 روزے کی نیت کب کرنا چاہیے؟ فرض روزے کی نیت رات میں صبح صادق تک کرنا چاہیے، البتہ صبح صادق سے پہلے نیت نہ کرنے سے روزہ نہیں ہوگا اور نفل روزوں کی نیت دن کے وقت زوال سے پہلے کرنا کافی ہے۔ قال الامام الخطيب الشربيني رحمة الله عليه : وَيُشْتَرَطُ لِفَرْضِهِ) أَيْ الصَّوْمِ مِنْ رَمَضَانَ أَوْ غَيْرِهِ كَقَضَاءٍ أَوْ نَذْرٍ التَّبْيِيتُ) وَهُوَ إيقَاعُ النِّيَّةِ لَيْلًا لِقَوْلِهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – «مَنْ لَمْ يُبَيِّتْ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَلَا صِيَامَ لَهُ» رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيّ وَغَيْرُهُ وَصَحَّحُوهُ. (مغني المحتاج ١٦٠/٢-١٦٢) قال الامام النووي رحمة الله عليه: وَيَصِحُّ النَّفَلُ بِنِيَّتِهِ قَبْلَ الزَّوَالِ) لِلْخَبَرِ الصَّحِيحِ «أَنَّهُ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا-يَوْمًا فَقَالَ هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ غَدَاءٍ قَالَتْ: لَا، قَالَ: فَإِنِّي إذًا أَصُومُ» (المجموع:٩٥/٦)
Fiqhe Shafi Question No.0844
When should the intention (Niyyah) for fasting (Roza) be made ?
Answer: The intention for the obligatory (Fardh) fast can be made starting from night till early morning before Fajr Azan. Hence, if the intention is not made before the Fajr Azan, then the fast will not be accepted. But, for the Nafil fasts, it is enough to make intention before Noon (Zawal ka waqt).
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0846 گھر میں با جماعت نماز ادا کرنے کی صورت میں امام کو عورت لقمہ دینے کی ضرورت پڑے تو کیا عورت لقمہ دے سکتی ہے اور اس کا طریقہ کیا ہے؟ امام مرد ہو یا عورت محرم یا غیر محرم اگر مقتدی عورت امام کو کسی غلطی پر اگاہ کرنا چاہتی ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ عورت اپنے داہنے ہاتھ کی ہتھیلی کو اپنے بائیں ہاتھ کے پشت پر مارے اور اسے غلطی پر آگاہ کرے ایسا کرنے کو تصفیق کہتے ہیں اور عورت کو اس طرح کرنا مستحب ہے البتہ فتنہ کا اندیشہ نہ ہونے کی صورت میں عورت زبان سے لقمہ دے تو اس کی نماز باطل نہیں ہوگی۔ قال الإمام ابن حجر العسقلاني رحمة الله عليه: وكان منع النساء من التسبيح لأنها مأمورة بخفض صوتها في الصلاة مطلقا لما يخشى من الافتتان ومنع الرجال من التصفيق لأنه من شأن النساء. (فتح الباري بشرح صحيح البخاري؛٣ /٧٧) قال الإمام المبارکفوری رحمه الله : وفيه أن السنة لمن نابه شيء في صلاته كإعلام من يستأذن عليه وتنبيه الإمام وغير ذلك أن يسبح إن كان رجلا فيقول: سبحان الله، وأن تصفق – وهو التصفيح – إن كانت امرأة فتضرب بطن كفها الأيمن على ظهر كفها الأيسر۔ (تحفة الباری: ٤٢١) *قال الإمام النووی رحمه الله :وإِنْ كَلَّمَهُ إنْسَانٌ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَأَرَادَ أن يعلمه انه في الصلاة أو سهى الْإِمَامُ فَأَرَادَ أَنْ يُعْلِمَهُ السَّهْوَ اُسْتُحِبَّ لَهُ إنْ كَانَ رَجُلًا أَنْ يُسَبِّحَ وَتُصَفِّقُ إنْ كَانَتْ امْرَأَةً فَتَضْرِبُ ظَهْرَ كَفِّهَا الْأَيْمَنِ عَلَى بَطْنِ كَفِّهَا الْأَيْسَرِ لِمَا رَوَى سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ” إذَا نَابَكُمْ شئ فِي الصَّلَاةِ فَلْيُسَبِّحْ الرِّجَالُ وَلْيُصَفِّقْ النِّسَاءُ ” فَإِذَا فَعَلَ ذَلِكَ لِلْإِعْلَامِ لَمْ تَبْطُلْ صَلَاتُهُ لِأَنَّهُ مَأْمُورٌ بِهِ فَإِنْ صَفَّقَ الرَّجُلُ وَسَبَّحَتْ الْمَرْأَةُ لم تبطل الصلاة لانه ترك سنة *. (المجموع شرح المهذب: ٨٢/٤) قال الإمام الخطيب الشربيني رحمه الله : وقال الزركشي : وقد أطلقوا التصفيق للمرأة ، ولا شك أن موضعه إذا كانت بحضرة رجال أجانب ، فلو كانت بحضرة النساء أو الرجال المحارم فإنها تسبح كالجهر بالقراءة بحضرتهم ، والمعتمد اطلاق كلام الأصحاب . (مغني المحتاج :١/ ٤١٨)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0848 *حیض و نفاس کے علاوہ بیماری کا جو خون نکلتا ہے ایسے وقت میں عورت کو نماز ، روزہ، قرآن کی تلاوت اور تراویح کا کیا حکم ہے؟ * بسا اوقات عورتوں کوں حیض و نفاس کے علاوہ استحاضہ یعنی بیماری کا خون نکلتا ہے ایسے وقت میں عورت پر نماز پڑھنا روزہ رکھنا واجب ہے-البتہ ہر نماز کے موقع پر اسے چاہیے کہ وہ اس جگہ کو اچھی طرح دھوئے اور اس جگہ پر کپڑا یا پیڈ باندھ دے اور عین فرض نماز کے وقت میں وضو کرکے جلدی سے نماز پڑھے۔ لیکن نفل اور سنت نمازیں اور تراویح ایک ہی وضو سے مکمل پڑھ سکتی ہے اسی طرح اسے قرآن کو ہاتھ لگائے بغیر صرف تلاوت کی اجازت ہے۔ ایسی حالت میں قرآن کو ہاتھ لگانے کے لیے وضو کا ہونا ضروری ہے۔ والاستحاضة حدث دائم كسلس، فلا تمنع الصوم والصلاة. (مغني المحتاج: ٢٨٢/١) فتغسل المستحاضة فرجها وتعصبه، وتتوضأ وقت الصلاة، وتبادر بها فلو أخرت لمصلحة الصلاة كستر وانتظار جماعة لم يضر، وإلا فيضر على الصحيح. ويجب الوضوء لكل فرض، وكذا تجديد العصابة في الأصح (مغني المحتاج: ٢٨٢/١-٢٨٣) ﻭﻳﺠﻮﺯ ﻟﻠﻤﺤﺪﺙ ﺃﻥ ﻳﻘﺮﺃ، ﻷﻥ اﻟﻨﺒﻲ – ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ – ﻟﻢ ﻳﻜﻦ ﻳﺤﺠﺒﻪ ﻋﻦ ﻗﺮاءﺓ اﻟﻘﺮﺁﻥ ﺇﻻ ﺃﻥ ﻳﻜﻮﻥ ﺟﻨﺒﺎ ﻓﺪﻝ ﻋﻠﻰ ﺃﻥ اﻟﺤﺪﺙ ﻟﻢ ﻳﻤﻨﻌﻪ ﻭﻛﺬﻟﻚ اﻝﻣﺴﺘﺤﺎﺿﺔ ﻳﺠﻮﺯ ﺃﻥ ﺗﻘﺮﺃ ﻷﻧﻬﺎ ﻛﺎﻟﻤﺤﺪﺙ. الحاوي الكبير:١/ ١٤٩ الأحكام العامة للمستحاضة: تختلف المُستحاضة عن الحائض والنُفساء، فالمستحاضةُ يجب عليها ان تصلي، وصلاتها صحيحة ولا قضاءَ عليها وإذا حلَّ رمضانُ يجب عليها الصوم. التقریرات السدیدۃ:1/76
*فقہ شافعی سوال نمبر / 0849* *روزے کی حالت میں سخت دانت کا درد ہو تو ایس حالت میں کیا دانت میں کوئی دوائی رکھ سکتے ہیں؟*
*دانت درد کے لیے جو دوائیں استعمال ہوتی ہے عام طور پر وہ دوائیں ذائقہ دار ہوتی ہے اور روزے دار کے لیے بلا ضرورت شدیدہ کے ذائقہ دار چیزوں کا استعمال کرنا مکروہ ہے۔ ہاں اگر بہت زیادہ درد کے سبب دانت پر دوائی رکھ کر علاج ممکن ہو تو اس بات کا احتیاط کرتے ہوئے استعمال کرسکتے ہیں کہ دواء کا ذائقہ حلق میں نہ جائے اگر دوا لگانے کے بعد اس کا اثر پیٹ میں چلا جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔لہذا محض دوا کے استعمال کرنے سے روزہ فاسد نہیں ہوگا البتہ دواء لعاب کے ساتھ مل کر حلق کے نیچے اتر جائے تب بھی روزہ فاسد ہوجائے گا۔*
*أَوْ ابْتَلَعَ رِيقَهُ مَخْلُوطًا بِغَيْرِهِ) الطَّاهِرِ كَصِبْغِ خَيْطٍ فَتَلَهُ بِفَمِهِ (أَوْ) ابْتَلَعَهُ (مُتَنَجِّسًا)بِدَمٍ أَوْ غَيْرِهِ وَإِنْ صَفَا (أَفْطَرَ)۔* (تحفة المحتاج في شرح المنهاج.٤٠٥٤٠٦/٣) *وشرط الواصل كونه من منفذ مفتوح فلا يضر وصول الدهن بتشرب المسام*. (منهاج الطالبين.٧٥) *امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ﻳﻜره ﻣﻀﻎ اﻟﺨﺒﺰ ﻭﻏﻴﺮﻩ ﻣﻦ ﻏﻴﺮ ﻋﺬﺭ ﻭﻛﺬا ﺫﻭﻕ اﻟﻤﺮﻕ ﻭاﻟﺨﻞ ﻭﻏﻴﺮﻫﻤﺎ ﻓﺈﻥ ﻣﻀﻎ ﺃﻭ ﺫاﻕ ﻭﻟﻢ ﻳﻨﺰﻝ ﺇﻟﻰ ﺟﻮﻓﻪ ﺷﺊ ﻣﻨﻪ ﻟﻢ ﻳﻔﻄﺮ.* (ألمجموع: ٣٥٤/٦) *علامہ سلیمان جمل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ﻭﻛﺬا اﻟﺬﻭﻕ ﻣﻜﺮﻭﻩ ﺃﻳﻀﺎ اﻩـ ﺭﺷﻴﺪﻱ ﻭﻫﺬا ﺇﺫا ﻛﺎﻥ ﻟﻐﻴﺮ ﺣﺎﺟﺔ ﺃﻣﺎ ﻟﻬﺎ ﻓﻼ ﻳﻜﺮﻩ ﻛﺄﻥ ﻳﺬﻭﻕ اﻟﻄﻌﺎﻡ ﻣﺘﻌﺎﻃﻴﻪ ﻟﻐﺮﺽ ﺇﺻﻼﺣﻪ ﻓﻼ ﻳﻜﺮﻩ*
ش (حاشیة الجمل: ٣٢٩/٢)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0850 *بہت سے لوگ واٹس ایپ وغیرہ پر گروپ سلام لکھ کر یا وائز میسج بھیجتے ہیں تو اس کا جواب زبان سے دینا کافی ہیں یا اسے لکھ کر بھیجنا ضروری ہے؟
*سلام کا جواب دینا واجب ہے اور اس اصول یہ ہے اگر کوئی شخص کسی جماعت کو سلام کرے تو ان میں سے کسی ایک کا جواب دینا تمام کی طرف سے کافی ہے اگر کوئی بھی جواب نہ دے تو سارے لوگ گنہگار ہونگے اسی طرح واٹس ایپ گروپ میں اگر کوئی سلام کرے تو کسی ایک کا جواب دینا کافی ہے ہاں اگر کوئی شخص سلام لکھ کر دوسروں کو بھیجے دے اور وہ لوگ پڑھ کر اس پر مطلع ہوجائیں تو ان پر (لفظا) زبان سے جواب دینا کافی ہے لکھ کر سلام کا جواب بھیجنا ضروری نہیں۔*
*علامہ نووی رحمة الله علیه فرماتے ہیں: ﻭﺇﻥ ﺳﻠﻢ ﻋﻠﻰ ﺟﻤﺎﻋﺔ، ﻓﺎﻝﺭﺩ ﻓﻲ ﺣﻘﻬﻢ ﻓﺮﺽ ﻛﻔﺎﻳﺔ، ﻓﺈﻥ ﺭﺩ ﺃﺣﺪﻫﻢ، ﺳﻘﻂ اﻟﺤﺮﺝ ﻋﻦ اﻟﺒﺎﻗﻴﻦ، ﻭﺇﻥ ﺭﺩ اﻟﺠﻤﻴﻊ، ﻛﺎﻧﻮا ﻣﺆﺩﻳﻦ ﻟﻠﻔﺮﺽ، ﺳﻮاء ﺭﺩﻭا ﻣﻌﺎ ﺃﻭ ﻣﺘﻌﺎﻗﺒﻴﻦ، ﻓﺈﻥ اﻣﺘﻨﻌﻮا ﻛﻠﻬﻢ، ﺃﺛﻤﻮا* (روضة الطالبين: ۱۰/٢٢٦) *قال الله تعالى: واذا حييتم بتحية فحيوا باحسن منها او ردوها*۔ سورة النساء( ٨٤) *ﻭﻳﺠﺐ ﺭﺩ ﺟﻮاﺏ ﻛﺘﺎﺏ اﻟﺘﺤﻴﺔ ﻛﺮﺩ اﻟﺴﻼﻡ.* (روح المعاني:٣/٩٣) *مزید صاحب فتح المعین فرماتے ہیں: ﻭﻳﻠﺰﻡ اﻟﻤﺮﺳﻞ ﺇﻟﻴﻪ اﻟﺮﺩ ﻓﻮﺭا ﺑﺎﻟﻠﻔﻆ ﻓﻲ اﻹﺭﺳﺎﻝ ﻭﺑﻪ ﺃﻭ ﺑﺎﻟﻜﺘﺎﺑﺔ ﻓﻴﻬﺎ.* (فتح المعين:١/٥٩٧)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0851 *لاک ڈاؤن کی وجہ سے مردوں کے لیے گھروں میں اعتکاف کرنے کا کیا مسئلہ ہے؟*
*اعتکاف کے صحیح اور درست ہونے کے لیے شرعی مسجد کا ہونا ضروری ہے مسجد کے علاوہ کسی اور جگہ اعتکاف کرنا درست نہیں، کرونا وائرس کی وجہ سے ملک میں اکثر جگہوں پر لاک ڈاؤن ہے جس کی وجہ سے مساجد میں جمع ہونا قانوناً جرم ہے۔ اس لیے محلہ یا گاؤں میں سے اگر کوئی ایک یا دو افراد مسنون اعتکاف کرلے تو یہ سنت ادا ہوگی۔ چونکہ اعتکاف کا اہم مقصد لیلۃ القدر کی تلاش اور جستجو ہے اس لیے بقیہ تمام لوگ اپنے اپنے گھروں میں عبادتوں میں مشغول رہیں۔ واضح رہے کہ اگر کوئی مرد گھر میں اعتکاف کی نیت کرے تو اس کا اعتکاف درست نہیں ہوگا۔*
*علامہ خطیب شربيني رحمة الله علیه فرماتے ہیں: وَالِاعْتِكَاف سنة مُؤَكدَة وَهِي (مُسْتَحبَّة) أَي مَطْلُوبَة فِي كل وَقت فِي رَمَضَان وَغَيره بِالْإِجْمَاع ولإطلاق الْأَدِلَّة* (الاقناع في حل الفاظ ابي شجاع٢٤٦/١) *علامہ ابن نقیب رحمة الله علیه فرماتے ہیں: الاعتكافُ سُنَّةٌ في كلِّ وقتٍ، ورمضانُ آكدُ، والعشرةِ الأخيرةِ آكدُ لطلبِ ليلةِ القدرِ، ويمكنُ أنْ تكونَ في جميعِ رمضانَ، وفي العشرةِ الأخيرةِ أرْجى، وفي أوتارهِ أرْجى، وفي الحادي والثالثِ والعشرينَ أرجى، ويُكثِرُ في ليلةِ القدْرِ: "اللهمَّ إنكَ عفوٌّ تحبُ العفوَ فاعفُ عني”.* عمدة السالك وعدة الناسك/١٢٠ *علامہ ابن حجر الہیتمی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: قَوْلُ الْمَتْنِ (وَالْجَدِيدُ أَنَّهُ لَا يَصِحُّ إلَخْ) وَالْقَدِيمُ يَصِحُّ؛ لِأَنَّهُ مَكَانُ صَلَاتِهَا كَمَا أَنَّ الْمَسْجِدَ مَكَانُ صَلَاةِ الرَّجُلِ وَأَجَابَ الْأَوَّلُ بِأَنَّ الصَّلَاةَ لَا تَخْتَصُّ بِمَوْضِعٍ بِخِلَافِ الِاعْتِكَافِ وَعَلَى الْقَوْلِ بِصِحَّةِ اعْتِكَافِهَا فِي بَيْتِهَا يَكُونُ الْمَسْجِدُ لَهَا أَفْضَلَ خُرُوجًا مِنْ الْخِلَافِ نِهَايَةٌ وَمُغْنِي.* (تحفة المحتاج و حواشي الشيرواني :٤٦٦/٣) *امام شیرازی رحمة الله علیه فرماتے ہیں: ولا يصح الاعتكاف من الرجل إلا في المسجد لقوله تعالى: {وَلا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ} [البقرة:187] فدل على أنه لا يكون إلا في المسجد ولا يصح الاعتكاف من المرأة إلا في المسجد لأن من صح اعتكافه في المسجد لم يصح اعتكافه في غير المسجد كالرجل*. المهذب في فقه الامام الشافعي.٣٥٠/١ *علامہ بجیرمی رحمة الله علیه فرماتے ہیں: إنَّ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَعْتَكِفَ فِي الْمَحَلِّ الَّذِي هَيَّأَتْهُ لِلصَّلَاةِ فِي بَيْتِهَا بِخِلَافِ الرَّجُلِ وَالْخُنْثَى۔* *شیخ عظیم آبادی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: وَأَمَّا الرَّجُلُ فَلَمْ يَخْتَلِفُوا أَنَّ اعْتِكَافَهُ فِي بَيْتِهِ غَيْرُ جَائِزٍ وَإِنَّمَا شُرِعَ الِاعْتِكَافُ فِي الْمَسَاجِدِ وَكَانَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ يَقُولُ لَا يَكُونُ الِاعْتِكَافُ إِلَّا فِي الْمَسَاجِدِ الثَّلَاثَةِ مَسْجِدِ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَبَيْتِ الْمَقْدِسِ۔* (عون المعبود وحاشية ابن القيم:٩٩/٧)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0852 *کیا عید کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے یا تنہا گھر پر پڑھ سکتے ہیں ؟*
*دراصل عید کی نماز سارے علاقہ والوں کا ایک جگہ جمع ہو کر پڑھنا مسنون ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے اگر عید کی نماز مساجد یا عیدگاہ میں ادا کرنے پر حکومت کی طرف سے پابندی رہی تو اس صورت میں لوگوں کو چاہیے کہ موجودہ قانون کے مطابق بقیہ فرض نمازوں کی طرح گھروں میں چار پانچ افراد مل کر جماعت کے ساتھ پڑھنے کی کوشش کریں، اگر گھر میں صرف دو لوگ ہوں یا صرف میاں بیوی ہو تب بھی عید کی نماز باجماعت ادا کرنے کی گنجائش ہے۔ اور اگر امام خطبہ دے سکتا ہو تو نماز کے بعد دو خطبہ دینا سنت ہے۔ اگر کوئی عید کی نماز تنہا ادا کر رہا ہو تو اس وقت خطبہ دینامشروع نہیں ہے۔*
*امام بجیرمی رحمة الله علیه فرماتے ہیں: قَوْلُهُ: سُنَّةٌ مُؤَكَّدَةٌ أَيْ فَيُكْرَهُ تَرْكُهَا …. وَتُسَنُّ جَمَاعَةً وَفُرَادَى، وَيُسْتَحَبُّ الِاجْتِمَاعُ لَهَا فی مکان واحد۔* (حاشیة البجیرمی علی شرح المنھج.423/1) *امام نووی رحمة الله علیه فرماتے ہیں: تُسَنُّ صَلَاةُ الْعِيدِ جَمَاعَةً وَهَذَا مُجْمَعٌ عَلَيْهِ لِلْأَحَادِيثِ الصَّحِيحَةِ الْمَشْهُورَةِ فَلَوْ صَلَّاهَا الْمُنْفَرِدُ فَالْمَذْهَبُ صِحَّتُهَا .* (ألمجموع شرح المھذب:19/5) *قال الامام الدميري رحمة الله عليه: إذا قلنا: يصلي المنفرد ..لا يخطب على الأصح* (النجم الوھاج:2/537) *(ﻭﺳﻦ ﺧﻄﺒﺘﺎﻥ ﺑﻌﺪﻫﻤﺎ) ﺑﻘﻴﺪ ﺯﺩﺗﻪ ﺑﻘﻮﻟﻲ (ﻟﺠﻤﺎﻋﺔ) ﻻ ﻟﻤﻨﻔرد قال الإمام سليمان الجمل ﻗﻮﻟﻪ ﻟﺠﻤﺎﻋﺔ) ﺃﻱ ﻭﻟﻮ ﺻﻠﻮا ﻓﺮاﺩﻯ ﻷﻥ اﻟﻤﻘﺼﻮﺩ اﻟﻮﻋﻆ ﻭﺃﻗﻞ اﻟﺠﻤﺎﻋﺔ اﺛﻨﺎﻥ ﻛﻤﺎ ﻣﺮ ﻓﻠﻮ ﻛﺎﻥ اﺛﻨﺎﻥ ﻣﺠﺘﻤﻌﺎﻥ ﺳﻦ ﻷﺣﺪﻫﻤﺎ ﺃﻥ ﻳﺨﻄﺐ ﻭﺇﻥ ﺻﻠﻰ ﻛﻞ ﻣﻨﻬﻤﺎ ﻣﻨﻔﺮﺩا اﻩـ. ..* (حاشية الجمل على شرح المنهج: فتوحات الوهاب بتوضيح شرح منهج الطلاب ٢/٩٦)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0853
*کیا کوئی اجنبی شخص کسی کی طرف سے یا داماد اپنے سسرال والوں کی طرف سے صدقہ فطر ادا کر سکتا ہے ؟*
*اس سلسلے میں فقہائے کرام نے یہ اصول مرتب کیا ہے کہ صدقہ فطر ہر اس شخص پر ان لوگوں کی جانب سے ادا کرنا ضروری ہے جن کا نان نفقہ اس کے ذمہ ہو جیسا کہ باپ، بیٹا وغیرہ، اگر کوئی اجنبی شخص یا داماد اپنے سسرال والوں کی طرف سے ان کی اجازت کے ساتھ صدقہ فطر نکالنے تو اس صورت میں صدقہ فطر ادا ہوجائے گا، اس کے برخلاف اگر اجازت کے بغیر نکالے تو صدقہ فطر ادا نہیں ہوگا۔*
*علامہ بجیرمی رحمة الله علیه فرماتے ہیں: كُلُّ مَنْ لَزِمَهُ نَفَقَةُ شَخْصٍ لَزِمَتْهُ فِطْرَتُهُ۔* (حاشیة البجیرمی علی الخطیب ٣٥٣/٢) *امام نووی رحمة الله علیه فرماتے ہیں: قَالَ أَصْحَابُنَا لَوْ أَخْرَجَ إنْسَانٌ الْفِطْرَةَ عَنْ أَجْنَبِيٍّ بِغَيْرِ إذْنِهِ لَا يُجْزِئُهُ بِلَا خِلَافٍ لِأَنَّهَا عِبَادَةٌ فَلَا تَسْقُطُ عَنْ الْمُكَلَّفِ بِهَا بِغَيْرِ إذْنِهِ وَإِنْ أَذِنَ فَأَخْرَجَ عَنْهُ أَجْزَأَهُ كَمَا لَوْ قَالَ لِغَيْرِهِ اقْضِ دَيْنِي وَكَمَا لَوْ وَكَّلَهُ فِي دَفْعِ زَكَاةِ مَالِهِ…..لَوْ تَبَرَّعَ إنْسَانٌ بِالنَّفَقَةِ عَلَى أَجْنَبِيٍّ لَا يَلْزَمُهُ فِطْرَتُهُ بِلَا خِلَافٍ عِنْدَنَا۔* (ألمجموع شرح المھذب:١٣٦/٦)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0854 *اگر کسی شخص سے دوران سفر معصیت کا ارتکاب ہوجائے تو کیا ایسی صورت میں مسافر کے لیے سفر کی رخصت باقی رہے گی یا نہیں؟*
*اگر کوئی شخص جائز اور مباح سفر پر نکلے لیکن دوران سفر کوئی گناہ کا ارتکاب ہوجائے تو ایسی صورت میں سفر کی تمام رخصتیں (قصر و جمع بین الصلاتین اور روزہ چھوڑنا اور جمعہ کا نہ پڑھنا) باقی رہے گی۔*
*علامہ نووی رحمة الله علیه فرماتے ہیں: واما العاصي في سفره، وهو الذي/ يكون وسفره مباحا، لكنه يرتكب في طريقه معصية، كشرب خمر وغيره، فتباح له الرخص۔* (الاصول والضوابط: ٤٤) *علامہ سلیمان الشافعی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ﻭﺧﺮﺝ ﺑﺎﻟﻌﺎﺻﻲ ﺑﺴﻔﺮه اﻟﻌﺎﺻﻲ ﻓﻴﻪ، ﻭﻫﻮ ﻣﻦ ﻳﻘﺼﺪ ﺳﻔﺮا ﻣﺒﺎﺣﺎ ﻓﺘﻌﺮﺽ ﻟﻪ ﻓﻴﻪ ﻣﻌﺼﻴﺔ ﻓﻴﺮﺗﻜﺒﻬﺎ ﻓﻠﻪ اﻟﺘﺮﺧﺺ ﻷﻥ ﺳﺒﺐ ﺗﺮﺧﺼﻪ ﻣﺒﺎﺡ ﻗﺒﻠﻬﺎ ﻭﺑﻌﺪﻫﺎ.* (حاشيةالجمل:١/٥٩٩) *علامہ خطیب شربینی رحمة الله علیه فرماتے ہیں: ﻭاﺣﺘﺮﺯ ﺑﻘﻮﻟﻪ: ﺑﺴﻔﺮه ﻋﻦ اﻟﻌﺎﺻﻲ ﻓﻲ ﺳﻔﺮه ﺑﺄﻥ ﻳﻜﻮﻥ اﻟﺴﻔﺮ ﻣﺒﺎﺣﺎ ﻭﻳﻌﺼﻲ ﻓﻲ ﺳﻔﺮه ﻓﻴﺘﺮﺧﺺ؛ ﻷﻥ اﻟﺴﻔﺮ ﻣﺒﺎﺡ*. (مغني المحتاج:١/٥٢٥) *صاحب بشری کریم رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ﻭﺧﺮﺝ ﺑـاﻟﻌﺎﺻﻲ بسفره) اﻟﻌﺎﺻﻲ ﻓﻲ ﺳﻔﺮہ ﻛﺄﻥ ﺳﺎﻓﺮ ﺳﻔﺮا ﻣﺒﺎﺣﺎ، ﺛﻢ ﻓﻲ ﺃﺛﻨﺎﺋﻪ ﺳﺮﻕ ﻣﺜﻼ ﻓﻴﺘرخص.* (شرح المقدمه الحضرمي المسمى البشري الكريم: ١/٣٧١)
Fiqhe Shafi Question No.0854
If a person commits a sin during the journey, then will all the leaves granted to a traveller remain or not ?
Answer: If a person embarks on a permissible & a legitimate journey, but commits a sin during the journey, then all the leaves granted during the journey (shortening & gathering of Prayers, excuse from keeping the fast & regarding Friday Prayers) will remain.