منگل _12 _اکتوبر _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1005
کرایہ پر لی ہوئی گاڑی خراب ہوجائے تو اس کی اصلاح و درستگی کا ذمہ دار کون ہوگا؟
کرایہ پر لی ہوئی چیزپر کرایہ دار کا قبضہ بطور امانت کے ہوگا اس اعتبار سےاگر وہ چیز کرایہ دار کی طرف سے بغیر کوتاہی کے تلف ہوجائے یا کوئی عیب پایا جائے تو کرایہ دار پر اس تاوان نہیں ہوگا خواہ یہ نقصان گاڑی چلانے کے دوران پیش آئے یا اس سے قبل بلکہ اس کی بھرپائی یا اس کی اصلاح ودرستگی گاڑی کے مالک کے ذمہ ہوگی اور اگر کرایہ پر لینے والے کی کوتاہی سے خر اب ہوگی تو لینے والے کے ذمہ ہوگی
ويد المكتري على الدابة والثوب يدُ أمانة مدةَ الإجارة) فيصدق في التلف، ولا يضمن ما تلف منها بلا تعد ولا تقصير بالإجماع، لأنه مستحق المنفعة (بداية المحتاج في شرح المنهاج:٢/٤١٤)
ويَدُ المُكْتَرِي عَلى) المُسْتَأْجَرِ مِن (الدّابَّةِ والثَّوْبِ) وغَيْرِهِما (يَدُ أمانَةٍ مُدَّةَ الإجارَةِ) جَزْمًا، فَلا يَضْمَنُ ما تَلِفَ فِيها بِلا تَقْصِيرٍ، إذْ لا يُمْكِنُ اسْتِيفاءُ حَقِّهِ، إلّا بِوَضْعِ اليَدِ عَلَيْها، وعَلَيْهِ دَفْعُ مُتْلَفاتِها كالمُودَعِ.تَنْبِيهٌ لَوْ قالَ: عَلى المُسْتَأْجَرِ كَما قَدَّرْتُهُ بَدَلَ عَلى الدّابَّةِ والثَّوْبِ، لَكانَ أخَصْرَ وأشْمَلَ،(وكَذا بَعْدَها) إذالَمْ يَسْتَعْمِلْها (فِي الأصَحِّ (مغني المحتاج:٣/٤٧٦)
تحفة المحتاج في شرح المنهاج٦/١٧٩ العزيز شرح الوجيز المعروف۔ ٦/١٤٥ عجالة المحتاج إلى توجيه المنهاج ٢/٩٣٩
بدھ _13 _اکتوبر _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1006
کرایہ پر لی ہوئی گاڑی پر اگر پولیس جرمانہ لگائے جبکہ سواری میں جگہ کے بقدر مسافرین کی متعینہ تعداد سے زیادہ لوگ سوار ہوں تو پھر اس جرمانہ کا ضامن کون ہوگا؟
کرایہ پر لی ہوئی گاڑی اگر غیر قانونی طریقہ پر چلائے اور پولیس جرمانہ عائد کرے تو اس کا ذمہ دار بھی کرایہ پر لینے والا شخص ہی ہوگا
أيّ ضرر يصيب العين المستأجرة بسبب سوء الاستعمال، كما لو استأجر سيارة للركوب وأسرع بها في السير في الأماكن المزدحمة أو الطرقات الوعرة، فنتج عن ذلك ضرر لها.وكذلك إذا قصر في الحفظ، كأن يضع العين المستأجرة في مكان لا توضع فيه عادة، كما إذا وضع السيارة في منتصف الطريق، أو مكان غير مأمون دون حراسة، فإنه يضمن ما يطرأ عليها من حوادث. أما لو وضعها في مكان مأمون يعتاد الناس وضعها فيه، ثم أصابها شيء، فإنه لا يضمنه. (الفقہ المنہجی:١٥٧)
(ولو اكترى لمئة فحمل مئةً وعشرة .. لزمه أجرة المثل للزيادة) مع المُسمّى؛ لتعديه بها، وإنما مثل بالعشرة للإشارة إلى أن محلَّ ذلك: إذا كانت الزيادة قدرًا لا يقع التفاوت به بين الكَيْلين (بداية المحتاج في شرح المنهاج ٢/٤١٨) السراج الوهاج/٢٢١ روضة الطالبين وعمدة المفتين ٥/٢٣٣ النجم الوهاج في شرح المنهاج ٥/٣٨٠
جمعرات _28 _اکتوبر _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1007
مسلمان باورچی کے لیے کتے یا خنزیر کا گوشت کسی غیر مسلم کے لیے پکا کر دینے کا کیا حکم ہے؟
کتے یا خنزیر کا گوشت کھانا حرام ہے تو اسی طرح کسی دوسرے کے لیے کتے یا خنزیر کا گوشت پکا کر کھلانا بھی حرام ہے چونکہ قرآن کے مخاطب رہتی دنیا تک کے لوگ ہیں اس لیے حرام گوشت کھانا یا کھلانا مسلمان کے لیے جس طرح حرام ہے اسی طرح غیر مسلم کو پکا کر کھلانا بھی حرام ہے
وَلَا يَجُوزُ لِلْمُسْلِمِ إعَانَةُ الْكَافِرِ عَلَى مَا لَا يَحِلُّ عِنْدَنَا كَالْأَكْلِ وَالشُّرْبِ (حاشية البجيرمي على الخطيب:374)
علامہ محمد مصطفی الزحیلي فرماتے ہیں: الكفار مخاطبون بفروع الشريعة (الوجيز في أصول الفقه الإسلامي:١/٤٧٣)
لا تَجُوزُ لِلْمُسْلِمِ إعَانَةٌ لِكَافِرٍ عَلَى مَا لَا يَحِلُّ عِنْدَنَا كَالْأَكْلِ وَالشُّرْبِ فِي نَهَارِ رَمَضَانَ بِضِيَافَةٍ أَوْ غَيْرِهَا (أسنى المطالب في شرح روض الطالب ج١ص٤١٨)
ليس للمسلم خصوصية تجعل الحرام على غيره حلالًا له كلا ، إن الله رب الجميع ، والشرع سيد الجميع ، فما أحل الله بشريعته فهو حلال للناس كافة ، وما حرم فهو حرام على الجميع إلى يوم القيامة السرقة مثلا حرام ، سواء أكان السارق مسلما أم غير مسلم ، وسواء أكان المسروق منه مسلما أو غير مسلم (الحلال والحرام في الإسلام ليوسف القرضاوي:٤٥) فلا يجوز للمسلم أن يطبخ أو يقدم لحم الخنزير ولو لغيرالمسلمين، لما فيه من إعانتهم على فعل المحرم، والله تعالى يقول: ولا تَعاوَنُوا عَلى الأِثْمِ والعُدْوان (فتاوى الشبكة الإسلامية:١٣/١٦١٧٠)
منگل _19 _اکتوبر _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1008
علاج و معالجہ کے لیے ڈاکٹر کی تجویز کے مطابق ایسی دوا کا استعمال کرنا جس میں کتے یا خنزیر کا مادہ شامل ہو تو اس کے استعمال کا کیا مسئلہ ہے؟
کسی بھی مرض کے علاج کے لیے پاکیزہ اشیاء سے بنی ہوئی دوائی کو حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کرنا چاہیے البتہ مرض کے علاج مختلف قسم کے ہوتے ہیں اگر پاک چیزوں سے بنی دواء سے علاج ممکن ہی نہ ہو تو آخری درجہ میں کسی ماہر اور مسلمان عادل ڈاکٹرکے مشورہ سے حرام چیز سے علاج مجبورا کرسکتے ہیں۔
علامہ خطیب شربینی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: فَيَجُوزُ التَّداوِي بِهِ عِنْدَ فَقْدِ ما يَقُومُ مَقامَهُ مِمّا يَحْصُلُ بِهِ التَّداوِي مِن الطّاهِراتِ كالتَّداوِي بِنَجَسٍ كَلَحْمِ حَيَّةٍ وبَوْلٍ، ولَوْ كانَ التَّداوِي بِذَلِكَ لِتَعْجِيلِ شِفاءٍ بِشَرْطِ إخْبارِ طَبِيبٍ مُسْلِمٍ عَدْلٍ بِذَلِكَ أوْ مَعْرِفَتِهِ لِلتَّداوِي بِهِ.(مغنی المحتاج: ٥/ ٥١٨)
امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: فَهُوَ حَرامٌ عِنْدَ وُجُودِ غَيْرِهِ ولَيْسَ حَرامًا إذا لَمْ يَجِدْ غَيْرَهُ. قالَ أصْحابُنا وإنَّما يَجُوزُ ذَلِكَ إذا كانَ المُتَداوِي عارِفًا بِالطِّبِّ يَعْرِفُ أنَّهُ لا يَقُومُ غَيْرُ هَذا مَقامَهُ أوْ أخْبَرَهُ بِذَلِكَ طَبِيبٌ مُسْلِمٌ عَدْلٌ ويَكْفِي طَبِيبٌ واحِدٌ صَرَّحَ بِهِ البَغَوِيّ وغَيْرُهُ. (المجموع: ٩/ ٥١)
بدھ _20 _اکتوبر _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1009
عید کی نماز میں اگر امام خطبہ پہلے دے اور نماز عید بعد میں پڑھائے تو کیا مسئلہ ہے؟
عید کی نماز کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے نماز ہو پھر خطبہ اگر کسی نے ترتیب بدل کر پہلے خطبہ دیا تو اس خطبہ کا اعتبار نہیں ہوگا.البتہ نماز ہوجائے گی
علامہ اسنوی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: فقال: لو بدأ بالخطبة قبل الصلاة، رأيت أن يعيد الخطبة بعد الصلاة، فإن لم يفعل لم يكن عليه إعادة صلاة….. قال النووي في «شرح المهذب» و«زيادات الروضة»، وغيرهما: الصواب -وهو ظاهر نص الشافعي: أنه لا يعتد بها. (المھمات:٣/ ٤٣٤) *المجموع :٥/ ٢٥ *الام :١/ ٢٧٠ *بحر المذھب :٢/ ٤٦٨
اتوار _24 _اکتوبر _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1010
نماز میں سورہ فاتحہ کے بعد امام سورہ یا آیات پڑھتا ہے کیا مقتدی امام کے ساتھ ان آیات کی تلاوت کرنے کا کیا مسئلہ ہے؟
نماز میں سورہ فاتحہ کے بعد امام جن آیات کی تلاوت کرتا ہے اور اس کی آواز مقتدی تک پہنچتی ہو تو مقتدی کے لیے امام کے پیچھے تلاوت کرنا مکروہ ہے بلکہ امام کی تلاوت کو خاموشی سے سنے اگر امام کی تلاوت کی آواز مقتدی تک نہ پہنچ رہی ہو یا مقتدی بہرہ ہو تو مقتدی کے لیے امام کے پیچھے قرات کرنا درست ہے۔ اسی طرح سری نماز میں مقتدی کے لیے سورہ پڑھنا سنت ہے
علامہ دمیری رحمۃ الله علیہ فرماتے ہیں: (ولا سورة للمأموم، بل يستمع) لقوله تعالى: ﴿وإذا قرئ القرءان فاستمعوا له﴾. وقال ﷺ: (إذا كنتم خلفي .. فلا تقرؤوا إلا بأم القرآن) (النجم الوهاج :٢/١٢٧)
علامہ رملی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: (ولا سُورَةَ لِلْمَأْمُومِ) فِي جَهْرِيَّةٍ (بَلْ يَسْتَمِعُ) وتُكْرَهُ لَهُ قِراءَتُها كَما هُوَ ظاهِرٌ لِلنَّهْيِ الصَّحِيحِ عَنْ قِراءَتِها خَلْفَهُ، والأصْلُ فِي ذَلِكَ قَوْله تَعالى ﴿وإذا قُرِئَ القُرْآنُ فاسْتَمِعُوا لَهُ وأنْصِتُوا﴾ [الأعراف ٢٠٤] والِاسْتِماعُ مُسْتَحَبٌّ لا واجِبٌ، فَإنْ) لَمْ يَسْتَمِعْ قِراءَتَهُ كَأنْ (بَعُدَ) عَنْ إمامِهِ أوْ كانَ أصَمَّ أوْ سَمِعَ صَوْتًا لَمْ يَفْهَمْهُ (أوْ كانَتْ) صَلاتُهُ (سِرِّيَّةً) وأسَرَّ فِيها إمامُهُ أوْ جَهْرِيَّةً ولَمْ يَجْهَرْ فِيها كَما مَرَّ (قَرَأ) المَأْمُومُ السُّورَةَ (فِي الأصَحِّ) إذْ سُكُوتُهُ لا مَعْنى لَهُ (نهاية المحتاج: ١/٣٠٣)
پیر _25 _اکتوبر _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1011
امام اگر نماز کے بعد اعلان کرے کہ تمام مقتدی کو نماز کا اعادہ کرنا ہوگا حدث لاحق ہونے کی وجہ سے تو ایسا شخص جسے امام کے ساتھ دو یا تین رکعت ملی ہو اور وہ امام کی سلام کے بعد اپنی بقیہ رکعت مکمل کرنے کے لیے کھڑا ہوگیا ہو تو کیا ایسا شخص اپنی بقیہ نماز کو مکمل کرے گا یا اپنی نماز توڑ کر امام کے ساتھ اعادہ کرے گا؟
اگر کسی شخص کو امام کے سلام پھیرنے کے بعد امام کو حدث ہونے کا علم ہوجائے تو اس پر اس نماز کا اعادہ لازم نہیں ہے اسی طرح اگر نماز کے دوران علم ہوجائے اور مقتدی امام سے الگ ہونے کی نیت کرے اور اپنی نماز مکمل کرے تب بھی اس مقتدی کی نماز ہوجائے گی۔ لہذا وہ شخص جس نے امام کے ساتھ دو یا تین رکعت پالیا ہو اور وہ امام کی سلام کے بعد اپنی بقیہ رکعت مکمل کرنے کے لیے کھڑا ہوگیا ہو اور امام کی اقتداء سے نکلنے کے بعد اسکے محدث ہونے کا علم ہوجائے تو ایسا مقتدی اپنی بقیہ رکعتیں مکمل کرنے سے اس کی نماز ہوجائے گی نماز توڑ کر اعادہ کرنے کی ضرورت نہیں
قال الإمام الشيرازي رحمه الله: ولا تجوز خلف المحدث لأنه ليس من أهل الصلاة فإن صلى خلفه غير الجمعة ولم يعلم ثم علم فإن كان ذلك في أثناء الصلاة نوى مفارقته وأتم وإن كان بعد الفراغ لم تلزمه الإعادة لأنه ليس على حدثه أمارة فعذر في صلاته خلفه (المهذب :١٨٤/١) *المجموع: ٢٥٦/٤ *نهاية الزين :١٢٩ *التنبية :٢٩ *تحرير الفتاوى:٣٣٥/١
بدھ _27 _اکتوبر _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1012
قران مجید کی تلاوت کے دوران کھانے پینے کا کیا مسئلہ ہے؟
دوران تلاوت آدمی کھانے پینے میں مصروف ہوجائے تو یہ قران کی بے ادبی ہے اس سے بچنے کی ضرورت ہے
يُسْتَحَبُّ الوُضُوءُ لِقِراءَةِ القُرْآنِ، لأِنَّهُ أفْضَل الأْذْكارِ….. ويُسْتَحَبُّ أنْ يَجْلِسَ القارِئُ مُسْتَقْبِلًا القِبْلَةَ فِي خُشُوعٍ ووَقارٍ مُطْرِقًا رَأْسَهُ، ويُسَنُّ أنْ يَسْتاكَ تَعْظِيمًا وتَطْهِيرًا (الموسوعة الفقهية الكويتية. ٢٥٢/١٣)
وينبغي أن يكون شأن القارئ التدبر) أي لما يقرؤه والتفهم له، حاضر القلب معه (إعانة الطالبين: ٢٨٤/٢)
وأما شرب الماء باردًا أو ساخنًا فلا حرج فيه عند التلاوة، كما لا حرج في رد السلام أو إجابة سائل عن شيء معين، وذلك لعدم وجود دليل يمنع من ذلك (فتاوی الشبكة الإسلامية. رقم: ٢٤٤٣٧)
پیر _1 _نومبر _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1013
عقیقہ میں جانور ذبح کرنے کے بجائے جانور کی رقم کو تقسیم کرنا کیسا ہے؟
عقیقہ میں جانور کو ذبح کرنے کے بجائے اس جانور کی اتنی رقم کو اپنے رشتہ داروں اور کچھ حصہ غریبوں میں صدقہ کے طور پر دینا بھی درست نہیں۔ یہ سنت صرف جانور کو ذبح کرکے اس کا گوشت کھانے کھلانے سے ہی ادا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ کسی بھی طرح سے اس کی گنجائش نہیں
امام ابن حجر ہیتمی تحریر فرماتے ہے:قَوْلُهُ أنَّها كالعَقِيقَةِ قَدْ يُفَرَّقُ بِأنَّ أقَلَّ ما يَجْرِي عَنْ العَقِيقَةِ شاةٌ ولا يُجْزِئُ ما دُونَها ولا غَيْرُ الحَيَوانِ ولا كَذَلِكَ (تحفة المحتاج في شرح المنهاج وحواشي الشرواني والعبادي:٧/٤٢٥)
فإن العقيقة سنة على القول الراجح من أقوال أهل العلم، ويبدأ وقتها من اليوم السابع للمولود……. كما أنه لا بأس بالأكل منها والتصدق على الفقراء والمساكين. أما دفعها قيمة فلا يجوز (فتاوی الشبکة الاسلامية ۱۵۸۷۷/۱۳ مجموعة من المؤلفين)
بدھ _3 _نومبر _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر /1014
اگر کسی شخص کی شلوار گھٹنوں سے اوپر پھٹی ہوئی ہو اور اس کے اوپر کُرتا پہنا ہوا ہو تو کیا اس صورت میں نماز صحیح ہوگی؟
نماز کے لیے مرد کا ستر ناف سر گھٹنے تک ہے اور نماز کے لیے اتنا ستر ہونا مرد کے لیے ضروری ہے۔ لہذا اگر شلوار کا پھٹے ہوئے حصہ کو اوپر سے کوئی کپڑا ڈھانک دے تو نماز ہو جائے گی اگر ستر کا حصہ دکھائی دیتا ہو تو نماز صحیح نہیں ہوگی۔
*قال الإمام النووي رحمه الله: فسترة العورة شرط لصحة الصلاة….. ويشترط سترة العورة من أعلى ومن الجوانب ولا يشترط من أسفل الذيل والإزار * (المجموع: ١٨٩/٤-١٩٣)
بدھ _17 _نومبر _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 1015
اگر کوئی شخص ماہی گیری کے پیشہ سے منسلک ہو اور چھوٹی ناؤ میں ماہی گیری کرتا ہو تو اس سفر میں قصر کی کیا صورت ہے؟ جبکہ کلو میٹر کی تعیین بھی نہیں ہوتی ہے۔؟
سفر میں نماز قصر کرنے کے لیے شریعت مطہرہ نے مسافت مقرر کی ہے اگر کوی سمندری ماہی گیر پیشہ سے منسلک شخص اس طرح پورا دن بھی ناو پر گزار دے اور وہ قصر کے لیے متعینہ کلو میٹر طے نہ کرے تب بھی اس کے لیے نمازوں کو قصر کرنے کی گنجائش نہیں کیونکہ ایسا شخص شرعی اعتبار سے مسافر کے حکم میں نہیں مانا جاے گا۔
امام نووی ؒ تحریر فرماتے ہیں: قالَ أصْحابِنا يُشْتَرَطُ لِجَوازِ القَصْرِ لِلْمُسافِرِ أنْ يَرْبِطَ قَصْدَهُ بِمَقْصِدٍ مَعْلُومٍ فَأمّا الهائِمُ الَّذِي لا يَدْرِي أيْنَ يَتَوَجَّهُ ولا لَهُ قَصْدٌ فِي مَوْضِعٍ وراكِبُ التَّعاسِيفِ وهُوَ الَّذِي لا يَسْلُكُ طَرِيقًا ولا لَهُ مَقْصِدٌ مَعْلُومٌ فَلا يَتَرَخَّصانِ أبَدًا بِقَصْرٍ ولا غَيْرِهِ مِن رُخَصِ السَّفَرِ وإنْ طالَ سَفَرُهُما وبَلَغَ مَراحِلَ فَهَذا هُوَ المَذْهَبُ وبِهِ قَطَعَ الأصْحابُ فِي كُلِّ الطُّرُقِ وحَكى الرّافِعِيُّ وجْهًا أنَّهُما إذا بَلَغا مَسافَةَ القَصْرِ لَهُما التَّرَخُّصُ بَعْدَ ذَلِكَ وهَذا شاذٌّ غَرِيبٌ ضَعِيفٌ جِدًّا قالَ البَغَوِيّ وغَيْرُهُ وكَذا البَدْوِيُّ إذا خَرَجَ مُنْتَجِعًا عَلى أنَّهُ مَتى وجَدَ مَكانًا مُعْشِبًا أقام به لم يجز له الترخص
شروط القصر…..تعيين مسافة القصر: وهُوَ أنْ يَقْصِدَ الإْنْسانُ مَسِيرَةَ مَسافَةِ السَّفَرِ المُقَدَّرَةِ عِنْدَ الفُقَهاءِ، حَتّى إنَّهُ لَوْ طافَ الدُّنْيا مِن غَيْرِ قَصْدِ مَسِيرَةِ المَسافَةِ المُحَدَّدَةِ لاَ يَجُوزُ لَهُ القَصْرُ؛ لأِنَّهُ لاَ يُعْتَبَرُ مُسافِرًا، وقَدْ مَرَّ بَيانُ ذَلِكَ الموسوعة الفقهية الكويتية ٢٧/٢٧٥. فتح القريب المجيب ١/٩٤. متن أبي شجاع المسمى الغاية والتقريب ١/٣٩. نهاية المحتاج إلى شرح المنهاج ٢/٢٩٩.
ہفتہ _20 _نومبر _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1016
امام کے لیے اقامت کے بعد نماز شروع کرنے سے پہلے صفوں کو درست کرنے کے لیے کہنے کا کیا حکم ہے؟
امام کا اقامت کے بعد مقتدیوں کو صفوں کی درستگی کا حکم دینا مستحب ہے
ويستحب للإمام أن يأمر من خلفه بتسوية الصفوف يُسْتَحَبُّ لِلْإمامِ أنْ يَأْمُرَ مَن خَلْفَهُ بِتَسْوِيَةِ الصفوف (المهذب في فقة الإمام الشافعي للشيرازي ١/١٨٠ الشيرازي، أبو إسحاق:٤٧٦) (المجموع شرح المهذب ٤/٢٢٥ النووي: ٦٧٦)
جمعرات _25 _نومبر _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1017
جمعہ کے خطبہ کے عین وقت میں فرض قضاء نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
عین خطبہ کے وقت اگر کوئی شخص مسجد میں داخل ہوجائے تو اسے بیٹھنے سے پہلے تحت المسجد کی مختصرا دو رکعت پڑھنے کی اجازت ہے خطبہ جمعہ کے دوران مزید کوئی فرض قضاء نماز پڑھنا درست نہیں ۔
وتُسْتَثْنى التَّحِيَّةُ لِداخِلِ المَسْجِدِ و الخَطِيبُ عَلى المِنبَرِ فَيُصَلِّيها نَدْبًا مخففة… وحَصَلَت التَّحِيَّةُ، ولا يَزِيدُ عَلى رَكْعَتَيْنِ بِكُلِّ حالٍ۔ (مغنی المحتاج:۱۲۴/۲) (والدّاخِلُ) لِلْمَسْجِدِ والخَطِيبُ عَلى المِنبَرِ (لا فِي آخِرِ الخُطْبَةِ يُصَلِّيَ التَّحِيَّةَ) نَدْبًا (مُخَفَّفَةً) …. وحَصَلَتْ التَّحِيَّةُ ولا يَزِيدُ عَلى رَكْعَتَيْنِ بِكُلِّ حال . (أسنى المطالب: ١/٢٥٩ ) (وَسُئِلَ) فَسَّحَ اللَّهُ فِي مُدَّتِهِ عَمَّنْ تَذَكَّرَ فَائِتَةً وَقْتَ الْخُطْبَةِ هَلْ يُصَلِّيهَا وَيَتْرُكُ سَمَاعَ الْخُطْبَةِ أَوْ لَا؟ (فَأَجَابَ) بِقَوْلِهِ لَا يُصَلِّي الْفَائِتَة الَّتِي تَذَكَّرَهَا وَقْتَ الْخُطْبَةِ. (الفتاوى الفقهية الكبرى:١ / ٢٤٨) (ولو فائتة الخ) غاية في الكراهة، أي تكره تحريما صلاة الفرض، ولو كانت فائتة تذكرها حال جلوس الخطيب على المنبر. (قوله: وإن لزمته فورا) غاية في الفائتة، أي ولو كانت الفائتة لزمته فورا، أي لزمه قضاؤها فورا، بأن فاتته من غير عذر، فإنه يكره تحريما قضاؤها حينئذ. (إعانة الطالبين: ١٠١/٢)
جمعہ _26 _نومبر _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سؤال نمبر / 1018
قاضی اور دوسرے لوگوں کی موجودگی میں اگر کوئی شخص اپنا نکاح خود پڑھے تو اس کا کیا مسلہ ہے؟
نکاح صحیح ہونے کے لیے یہ شرط کہ ایجاب و قبول گواہوں کی موجودگی میں ہو چاہے خود اپنا نکاح پڑھے یا قاضی صاحب نکاح پڑھاے درست ہے.
قال القاضي ابن شهبة رحمه الله علیہ:إنما يصح النكاح بإيجاب وهو) أن يقول: الولي أو وكيله («زوجتك» أو «أنكحتك»، وقبول؛ بأن يقول الزوج: «تزوجت»، أو «نكحت»، أو «قبلت نكاحها»، أو «تزويجها») أو (قبلت هذا النكاح (بداية المحتاج:٣١/٣)
ہفتہ _27 _نومبر _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1019
بہت زیادہ ٹھنڈے پانی سے وضو کرنے کا کیا حکم ہے ؟
بہت زیادہ ٹھنڈے پانی سے اگر کوئی شخص وضو کرتا ہے تو اس کا وضو درست ہوگا البتہ بہت زیادہ ٹھنڈے پانی یا بہت زیادہ گرم پانی سے وضو کرنا مکروہ ہے۔
علامہ رویانی تحریر فرماتے ہیں: قال بعض أصحابنا: يكره التوضؤ بالماء الحار الشديد والبارد المفرد؛ لأنه لا يمكنه إسباغ الوضوء به ( بحر المذهب ١/٤٧)