ہفتہ _4 _دسمبر _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1020
جمع تقدیم و جمع تاخیر کے درمیان کیا فرق ہے؟
سفر میں دو نمازوں کو ملا کر ایک وقت میں پڑھنے کی اجازت ہے. اس کی دو شکلیں ہیں دونوں نمازوں کو پہلے وقت میں پڑھنا (جمع تقدیم) دونوں نمازوں کو دوسرے وقت میں پڑھنا (جمع تاخیر) کہلاتا ہے۔ جمع تقدیم کے لیے چار شرائط ہیں . دونوں نمازیں حالت سفر میں ہوں . پہلے پہلی نماز پڑھے۔ پہلی نماز ہی میں جمع کی نیت ہو دونوں میں فصل نہ ہو. جمع تاخیر کے لیے یہ شرط ہے کہ پہلی نماز کے وقت ہی میں یہ نیت کرلے کہ میں یہ نماز بعد میں پڑھوں گا اگر وقت کے اندر نیت نہیں کیا تو پھر یہ نماز قضا ہوگی اور اس کا گناہ ہوگا
جمعہ _10 _دسمبر _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1021
فرض نمازوں سے پہلے اور بعد والی سنت یا نفل نمازوں میں صرف سورۀ فاتحہ پڑھ سکتے ہیں یا کوئی سورت پڑھنا ضروری ہے؟
سنت نمازوں میں سورہ فاتحہ کے بعد کوئی سورہ پڑھنا سنت ہے. البتہ فرض نماز سے پہلے اور بعد کی دو دو رکعت سنت ومطلق سنت نمازوں میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھنے سے نماز تو درست ہوجائے گی لیکن سورہ پڑھنے کی سنت فوت ہوجائے گی۔
علامہ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: فِي مَذاهِبِ العُلَماءِ فِي السُّورَةِ بَعْدَ الفاتِحَةِ: مَذْهَبُنا أنَّها سنة فلو قتصر عَلى الفاتِحَةِ أجْزَأتْهُ الصَّلاةُ
المجموع شرح المهذب:٣/٣٨٨
صاحب فقہ المنہجی فرماتے ہیں: وتتحقق السنة بقراءة سورة من القرآن مهما قصرت، أو بقراءة ثلاثة آيات متواليات
الفقه المنهجي على مذهب الإمام الشافعي:١/١٥٢
* ۔روضة الطالبين وعمدة المفتين ١/٢٤٧
* ۔ المنهاج القويم شرح المقدمة الحضرمية ١/٩٨
*۔ السراج الوهاج ١/٤٤
جمعرات _23 _دسمبر _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1022
سفر میں جمع تاخیر کی نیت کرلینے کے بعد جماعت کی نماز مل رہی ہو لیکن نمازوں کی ترتیب آگے پیچھے ہو رہی ہو تو اس کا کیا مسلہ ہے؟
جمع تاخیر کی صورت میں دو نمازوں کے درمیان ترتیب ضروری نہیں ہے جس کو چاہے پہلے پڑھ سکتا ہے اگر کسی نے سفر میں پہلے جمع تاخیر کی نیت کی مسجد پہنچنے پر جماعت کی نماز مل رہی ہو تو بہتر یہ ہے کہ پہلے جماعت کی نماز پڑھے چاہے نمازوں کی ترتیب آگے پیچھے کیوں نہ ہو
علامہ خطیب شربینی فرماتے ہیں: أخَّرَ) الصَّلاةَ (الأُولى) إلى وقْتِ الثّانِيَةِ (لَمْ يَجِبْ التَّرْتِيبُ) بَيْنَهُما (و) لا (المُوالاةُ، و) لا (نِيَّةُ الجَمْعِ) فِي الأُولى (عَلى الصَّحِيحِ) فِي المَسائِلِ الثَّلاثِ. أمّا عَدَمُ التَّرْتِيبِ فَلِأنَّ الوَقْتَ لِلثّانِيَةِ فَلا تُجْعَلُ تابِعَةً. (مغني المحتاج: ٥٣٢/١)
تسن صلاة الجماعة في مكتوبة وهي الصلوات الخمس… والأصل فيها قبل الإجماع: قوله تعالى: ﴿وإذا كنت فيهم فأقمت لهم الصلاة [سورة النساء ١٠٢] الآيه، أمر بها في الخوف ففي الأمن أولي، ومواظبته ﷺ عليها كما هو معلوم بعد الهجرة، والأخبار كخبر (الصحيحين): (صلاة الجماعة أفضل من صلاة الفذ بسبع وعشرين درجة)
( فتح الرحمن:٣٤٣/١) بداية المحتاج ٣٧٠/١ عجالة المحتاج ٣٥٤/١ النجم الوهاج ٤٣٦/٢
پیر _13 _دسمبر _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 1023
امام اور مقتدی اسی طرح تنہا نماز پڑھنے والے کے لیے سورة فاتحہ کے بعد آمین کہنے کا کیا مسلہ ہے؟
نماز میں سورہ فاتحہ کے بعد ہر شخص کے لئے آمین کہنا مستحب ہے چاہے وہ امام ہو یا ماموم ہو یا تنہا نماز پڑھنے والا نیز اگر نماز جہری ہو تو امام اور مقتدی کے لیے جہرا آمین کہنا سنت ہے اسی طرح سری نماز میں سرا آمین کہنا سنت ہے
قال الإمام النووي (ر) يُسْتَحَبُّ لِكُلِّ مَن قَرَأ الفاتِحَةَ فِي الصَّلاةِ أوْ خارِجَ الصَّلاةِ أنْ يَقُولَ عَقِبَ فَراغِهِ مِنها آمِينَ، بِالمَدِّ أوِ القَصْرِ بِلا تَشْدِيدِ فِيهِما……. ويَسْتَوِي فِي اسْتِحْبابِها الإمامُ والمَأْمُومُ والمُنْفَرِدُ، ويَجْهَرُ بِها الإمامُ والمُنْفَرِدُ فِي الصَّلاةِ الجَهْرِيَّةِ تَبَعًا لِلْقِراءَةِ (روضة الطالبين وعمدة المفتين: ١/٢٤٧)
فِي مَذاهِبِ العُلَماءِ فِي التَّأْمِينِ: قَدْ ذَكَرْنا أنَّ مَذْهَبَنا اسْتِحْبابُهُ لِلْإمامِ والمَأْمُومِ والمُنْفَرِدِ وأنَّ الإمامَ والمُنْفَرِدَ يَجْهَرانِ بِهِ وكَذا المَأْمُومُ على الاصح (المجموع شرح المهذب ٣/٣٧٣ النووي) بداية المحتاج في شرح المنهاج ١/٢٣٨ كفاية النبيه في شرح التنبيه ٣/١٢٩ العزيز شرح الوجيز المعروف بالشرح الكبير ١/٥٠٥
منگل _14 _دسمبر _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1024
نجس اور ناپاک پانی کی مچھلیوں کے کھانے کا کیا حکم ہے؟ جبکہ اس پانی کی مچھلیاں ذائقہ دار ہوتی ہے؟
پانی نجاست کی وجہ سے اگر بدل جائے اور نجس پانی مچھلیوں میں اثر پیدا کرے اس طور پر کہ مچھلی کے گوشت کا مزا بدل جائے تو صحیح قول کے مطابق ایسی مچھلیوں کا کھانا اس وقت تک مکروہ ہے جب کہ وہ پانی پاک ہوجائے یا نجاست کا اثر ختم ہوجاۓ گا اگر نجس پانی کی مچھلیوں اثر پیدا نہ ہوا ہو تو اس کے کھانے میں حرج نہیں ہے
وإذا ظَهَرَ تَغَيُّرُ لَحْمِ جَلّالَةٍ) مِن نَعَمٍ أوْ غَيْرِهِ كَدَجاجٍ، ولَوْ يَسِيرًا (حَرُمَ أكْلُهُ) أيْ اللَّحْمِ..لِأنَّها صارَتْ مِن الخَبائِثِ……فَإنَّ تَغَيُّرَ الطَّعْمِ أشَدُّ (وقِيلَ يُكْرَهُ) لِنَتْنِ لَحْمِها (قُلْت الأصَحُّ يُكْرَهُ) كَما نَقَلَهُ الرّافِعِيُّ فِي الشَّرْحِ عَنْ إيرادِ أكْثَرِهِمْ (واَللَّهُ أعْلَمُ) لِأنَّ النَّهْيَ، إنّما هُوَ لِتَغَيُّرِ اللَّحْمِ، وهُوَ لا يُوجِبُ التَّحْرِيمَ كَما لَوْ نَتُنَ اللَّحْمُ المُذَكّى وتَرَوَّحَ فَإنَّهُ يُكْرَهُ أكْلُهُ عَلى الصَّحِيحِ. (مغني المحتاج إلى معرفة معاني ألفاظ المنهاج ٦/١٥٥) • تحفة المحتاج في شرح المنهاج وحواشي الشرواني والعبادي ٩/٣٨٥ • تحرير الفتاوى ٣/٤٣١ • إعانة الطالبين على حل ألفاظ فتح المعين ٢/٤٠٠ • التدريب في الفقه الشافعي ٤/٢٧٣
بدھ _15 _دسمبر _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1025
غیر مسلموں کو بیماری سے شفایابی یا کاروبار میں ترقی یا ایمان کی ہدایت کی دعا دینا کیسا ہے؟
غیر مسلم کے لیے مغفرت کے علاوہ ایمان کی ہدایت کے لیے, بیماری سے شفایابی کے لیے, اسی طرح کاروبار میں ترقی کی دعا دینا یا دعا کرنا جائز ہے
واما الصَّلاةُ عَلى الكافِرِ والدُّعاءُ لَهُ بِالمَغْفِرَةِ فَحَرامٌ بِنَصِّ القُرْآنِ والإجْماعِ (المجموع شرح المهذب:٥/١٢٠)
وأنْ يَدْعُوَ لَهُ بِالشِّفاءِ أيْ ولَوْ كافِرًا أوْ فاسِقًا ولَوْ كانَ مَرَضُهُ رَمَدًا ويَنْبَغِي أنَّ مَحَلَّهُ ما لَمْ يَكُنْ فِي حَياتِهِ ضَرَرٌ لِلْمُسْلِمِينَ (حاشية الجمل على شرح المنهج: ٣/١١٧)
ويَجُوزُ الدُّعاءُ لِلْكافِرِ بِنَحْوِ صِحَّةِ البَدَنِ والهِدايَةِ. (حاشية الجمل على شرح المنهج:١/٣٨٩ ) (قَوْلُهُ: وأنْ يَدْعُوَ لَهُ بِالشِّفاءِ) أيْ ولَوْ كانَ كافِرًا أوْ فاسِقًا ولَوْ كانَ مَرَضُهُ رَمَدًا، ويَنْبَغِي أنَّ مَحَلَّهُ ما لَمْ يَكُنْ فِي حَياتِهِ ضَرَرٌ لِلْمُسْلِمِينَ نهاية المحتاج إلى شرح المنهاج (٢/٤٣٥ )
جمعرات _16 _دسمبر _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1026
گھر میں چوہے زیادہ ہوں تو مارنے کا کیا حکم ہے؟
فقہائے کرام نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ جن جانوروں سے نقصان پہنچتا ہو مثلا سانپ بچھو چیل چوہا وغیرہ ان جیسے نقصان دہ جانوروں سے نقصان کا اندیشہ ہو تو ان کو مارنا جائز ہے چونکہ چوہے اکثر گھروں میں پاے جاتے ہیں اور یہ گھر کی بہت سی چیزوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اس لیے ان کو مارنے کی اجازت دی ہے
ابن ارسلان فرماتے ہیں: (والفأرة) مهموزة فاسقة (٥)؛ لأنها تسرق الأطعمة وتفسدها، وتقرض الثياب وتأخذ الفتيلة من السراج وتضرم بها البيت، وليس في الحيوان أفسد من الفأرة (شرح سنن أبي داود :٨/ ٤٤٣)
امام نووی فرماتے ہیں: نَدْبُ قَتْلِهِ كَتَأكُّدِهِ فِي الحَيَّةِ والفَأْرَةِ والكَلْبِ العَقُورِ (المجموع: ٧/ ٣١٥)
علامہ دمیری فرماتے ہیں: ما يستجب قتله كالحية والعقرب والفأرة والكلب العقور… (النجم الوھاج:٣/ ٦٠٢) روضة الطالبين ٣/ ١٤٦
جمعہ _17 _دسمبر _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سؤال نمبر / 1027
سنت یا نفل نمازوں کے لیے اذان و اقامت کہنے کا کیا مسلہ ہے؟
اذان و اقامت صرف فرض نمازوں کے لئے سنت ہے اور انکے علاوہ کسی بھی سنت یا نفل یا جنازے کی نماز کے لیے اذان و اقامت کہنا مشروع نہیں ہے
قال الإمام النووي رحمة الله عليه: فالأذانُ والإقامَةُ مَشْرُوعانِ لِلصَّلَواتِ الخَمْسِ بِالنُّصُوصِ الصَّحِيحَةِ والإجْماعِ ولا يُشْرَعُ الأذانُ ولا الإقامَةُ لِغَيْرِ الخَمْسِ بِلا خِلافٍ سَواءٌ كانَتْ مَنذُورَةً أوْ جِنازَةً أوْ سُنَّةً وسَواءٌ سُنَّ لَها الجَماعَةُ كالعِيدَيْنِ والكُسُوفَيْنِ والِاسْتِسْقاءِ أمْ لا كالضُّحى (المجموع :٩٤/٤) *التهذيب (٤٣/٢) *فتح العلام (٩٢/٢) *روضة الطالبين (١٩٦/١) *البيان (٥٥/٢)
پیر _20 _دسمبر _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1028
نماز میں خیالات آنے کی وجہ سے نماز آنکھ بند کرکے پڑھنے کا کیا مسلہ ہے؟
نماز میں آنکھیں بند کرنا مکروہ ہے. ہاں اگر آنکھیں بند کرکے نماز پڑھنے سے نماز میں یکسوئی حاصل ہوتی ہو یا وساوس سے بچنے کی غرض سے آنکھیں بند کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں
قال الإمام النووي (ر): يُكْرَهُ أنْ يُغْمِضَ المُصَلِّي عَيْنَيْهِ فِي الصَّلاةِ قالَ قالَ الطَّحاوِيُّ وهُوَ مَكْرُوهٌ عِنْدَ أصْحابِنا أيْضًا وهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ والمُخْتارُ أنَّهُ لا يُكْرَهُ إذا لَمْ يَخَفْ ضَرَرًا لِأنَّهُ يُجْمِعُ الخُشُوعَ وحُضُورَ القَلْبِ ويَمْنَعُ مِن إرْسالِ النَّظَرِ وتَفْرِيقِ الذِّهْنِ. (المجموع شرح المهذب: ٣/٣١٤)
قال الإمام الدميري (ر):قال (وعندي: لا يكره إن لم يخف ضررًا)لأنه يجمع الخشوع وحضور القلب. وعبر في (الروضة) بالمختار، وهذا قاله اختيارًا من عنده، وهو مذهب بعض العلماء. وقال الشيخ عز الدين: إذا خشي فوات الخشوع لرؤية ما يفرق خاطره .. فالأولى تغميض عينيه. النجم الوهاج في شرح المنهاج ٢/١٧٧ عجالة المحتاج إلى توجيه المنهاج ١/٢٢٢ فتح المعين بشرح قرة العين بمهمات الدين ١/١٢٦
بدھ _22 _دسمبر _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1029
اگر کسی عورت کو کم عمری میں حیض آنا بند ہوجاے پھر کچھ مدت بعد حیض پھر سے شروع ہوجاے تو ایسی عورت کا کیا مسلہ ہے؟
عورت کی پاک کی کوئی مدت نہیں لہذا ایسی عورت کا جتنا زمانہ بغیر حیض سے گزرا ہے وہ پوری مدت پاک مانی جائے گی اب جو حیض آنا شروع ہوا ہے اگر اس کی مدت ایک دن اور ایک رات یا پندرہ دن تک ہو تو وہ حیض شمار کیا جائے گا پندرہ دن کے بعد بھی اگر خون جاری رہا تو وہ استحاضہ کے حکم میں ہوگا
وليس لأكثر الطهر حد بلا خلاف. وأما أقله.. فاختلف العلماء فيه: فذهب الشافعي إلى: أن أقله خمسة عشر يومًا (١)
وأقَلُّ الحَيْضِ يَوْمٌ ولَيْلَةٌ عَلى المَذْهَبِ، وعَلَيْهِ التَّفْرِيعُ. وأكْثَرُهُ: خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا. وغالِبُهُ: سِتٌّ أوْ سَبْعٌ. الِاسْتِحاضَةُ: قَدْ تُطْلَقُ عَلى كُلِّ دَمٍ تَراهُ المَرْأةُ غَيْرَ دَمِ الحَيْضِ والنِّفاسِ. سَواءً اتَّصَلَ بِالحَيْضِ المُجاوِزِ أكْثَرَهُ أمْ لَمْ يَتَّصِلْ، (٢) (١). البيان في مذهب الإمام الشافعي ١/٣٤٧ (٢). روضة الطالبين وعمدة المفتين ١/١٣٤ المجموع شرح المهذب ٢/٣٨٠ الحاوي الكبير ١/٤٣٥ حاشية الجمل على شرح المنهج ١/٢٣٧
پیر _27 _دسمبر _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1030
احرام کی حالت میں شکار کیے ہوے جانور کا گوشت خرید کر کھانے کا کیا مسلہ ہے؟
احرام کی حالت میں شکار کا گوشت خرید کر کھا سکتا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وہ شکار اس کے کہنے پر نہ کیا گیا ہو بلکہ شکاری نے ازخود شکار کیا ہو ،لہذاایسے گوشت کو احرام پہنا ہوا شخص خرید کر کھاے تو کوئی حرج نہیں۔
قال الإمام النووي (ر): المسألة الثّالِثَةُ) ما صادَهُ المُحْرِمُ أوْ صادَهُ لَهُ حَلالٌ بِأمْرِهِ أوْ بِغَيْرِ أمْرِهِ أوْ كانَ مِن المُحْرِمِ فِيهِ إشارَةٌ أوْ دَلالَةٌ أوْ إعانَةٌ بِإعارَةِ آلَةٍ أوْ غَيْرِها فَلَحْمُهُ حَرامٌ عَلى هَذا المُحْرِمِ فَإنْ صادَهُ حَلالٌ لِنَفْسِهِ ولَمْ يَقْصِدْ المُحْرِمَ ثُمَّ أهْدى مِنهُ لِلْمُحْرِمِ أوْ باعَهُ أوْ وهَبَهُ فَهُوَ حَلالٌ لِلْمُحْرِمِ أيْضًا. (المجموع شرح المهذب:٧/٣٢٤)
قال الإمام الماوردي (ر): فَوَجَبَ ألّا يَحْرُمَ أكْلُهُ عَلى المُحْرِمِ أصْلُهُ إذا صادَهُ المُحِلُّ لِنَفْسِهِ بِغَيْرِ مَعُونَةِ المُحْرِمِ والدَّلالَةُ عَلَيْهِما رِوايَةُ المطلب بن عبد الله بن جابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قالَ: «لَحْمُ صَيْدِ البَرِّ لَكُمْ حلالٌ وأنْتُمْ حرمٌ ما لَمْ تَصِيدُوهُ أوْ يُصادَ لَكُمْ»، فَقَوْلُهُ: «لَحْمُ صَيْدِ البَرِّ لَكُمْ حلالٌ وأنْتُمْ حرمٌ. (الحاوي الكبير:٤/٣٠٥)
بحر المذهب للروياني ٤/٤٩
شرح المقدمة الحضرمية المسمى بشرى الكريم ١/٦٧٥
نهاية المطلب في دراية المذهب ٤/٤٠٨
جمعرات _30 _دسمبر _2021AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1031
مساجد میں پینے کا فلٹر پانی مسجد سے باہر گھر والوں یا مزدور قسم کے لوگوں کے لیے لے جانے کا کیا حکم ہے؟
مسجد کا پانی عموماً مسجد کے لیے ہی وقف ہوتا ہے۔ یعنی صرف مسجد کے استعمال کے لیے ہی خاص ہوتا ہے۔ دراصل اس میں وقف کرنے والے یا مسجد کی طرف سے اگر انتظام کیا گیا ہو تو مسجد کی انتظامیہ کے فیصلے کا اعتبار ہوگا اگر مشین پر لکھا ہو پانی باہر لے جانا منع ہو تو اس کا مسجد سے باہر لے جانا اور یا کسی ذاتی کام کے لیے مسجد کا پانی استعمال کرنا درست نہیں ہے۔ ہاں اگر مشین وقف کرنے والے کی طرف سے یا مسجد انتظامیہ کی طرف سے دوسروں کو بھی استعمال کرنے یا مسجد سے باہر لے جانے کی اجازت ہو تو درست ہے۔
علامہ ابن حجر ہیتمی ؒ رقم طراز ہیں: أَنَّ مَنْ تَصَدَّقَ بِمَاءٍ أَوْ وَقَفَ مَا يَحْصُلُ مِنْهُ الطَّهُورُ بِمَسْجِدِ كَذَا لَمْ يَجُزْ نَقْلُهُ مِنْهُ لِطَهَارَةٍ وَلَا لِغَيْرِهَا مُنِعَ النَّاسُ مِنْهُ أَوْ لَا لِأَنَّ الْمَاءَ الْمُسَبَّلَ يَحْرُمُ نَقْلُهُ عَنْهُ إلَى مَحَلّ آخَرَ لَا يُنْسَبُ إلَيْهِ….. نَعَمْ مَنْ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَتَوَضَّأَ مِنْهُ لَا يَلْزَمُهُ الصَّلَاةُ فِيهِ وَإِنْ احْتَمَلَ أَنَّ الْوَاقِفَ أَرَادَ ذَلِكَ تَكْثِيرًا لِثَوَابِهِ لِأَنَّ لَفْظَهُ يَقْصُرُ عَمَّا يُفْهِمُ ذَلِكَ هَذَا كُلُّهُ إنْ لَمْ يَطَّرِدْ عُرْفٌ فِي زَمَنِ الْوَاقِفِ وَيَعْلَمهُ وَإِلَّا نَزَلَ وَقْفُهُ عَلَيْهِ لِأَنَّهُ مُنَزَّلٌ مَنْزِلَةِ شَرْطِهِ. (الفتاوى الفقهية الكبرى:٣/٢٦٦)
علامہ نووی الجاوی الشافعی ؒ لکھتے ہیں: ولا يجوز نقل الماء المسبِّل للشرب من محلّه إلى محلّ آخر، كأن يأخذه للشرب في بيته مثلاً، إلا إذا عُلم أو قامت قرينة على أن مسبِّله يسمح بذلك. (نهاية الزين ١/٣٦)
★ حاشية البجيرمي ٣/٢٦٨.
★ كفاية الأخيار ١/٦٥.
★ المهمات في شرح الروضة والرافعي ٦/٢٦٠.
اتوار _2 _جنوری _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1032
جانور کوخصی کرنے کی اجرت لینا کیساہے؟
جن جانوروں کا گوشت کھانا حرام ہے ان جانوروں کی خصی کرنے پر اجرت لینا بھی حرام ہے البتہ ماکول اللحم جانوروں کو چھوٹی عمر میں خصی کرنے پر اجرت لینا جائز ہے۔ اسی طرح ماکول اللحم جانوروں کو بڑی عمر کے بعد خصی کرنا اور اس پر اجرت لینا درست نہیں
لا يجوز خصاء حيوان لا يؤكل لا في صغره ولا في كبره، ويجوز خصاء المأكول في صغره؛ لأن فيه غرضاً وهو طيب لحمه، ولا يجوز في كبرهأ (المجموع:٦/١٧٧)
قالَ البِرْماوِيُّ: والخِصاءُ حَرامٌ إلّا فِي مَأْكُولٍ صَغِيرٍ لِطِيبِ لَحْمٍ فِي زَمَنٍ مُعْتَدِلٍ، وهُوَ عَيْبٌ فِي الآدَمِيِّ مُطْلَقًا (حاشية البجيرمي على الخطيب:٣/٣٩)
إذا كره شي كره اخذ الأجرة عليه كما يحرم أخذها علي الحرام أو كما أخذ الأجرة على الحرام يحرم إعطاءه لأنه إعانة على المعصية (اسنی المطالب:٥٢٠/٢)
حاشية البجيرمي على شرح المنهج :٣/٣١٨
حاشية الجمل :٤/١١٠
جمعرات _6 _جنوری _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1033
چیونٹی کو مارنے کا کیا حکم ہے؟
چیونٹی بھی اللہ کی پیدا ایک مخلوق ہے کسی بھی جانور کو بلا ضرر کے مارنے سے روکا گیا ہے ہاں اگر چھوننی جیسی جاندار چیز سے کسی قسم کی تکلیف ہو تو اس کو مارنے کی اجازت ہے ورنہ نہیں۔
قال العلامة السهارنفورى رحمه الله: إن النبي ﷺنهى عن قتل أربع من الدواب: النملة) قال القاري عن نوع خاص منها، وهو الكبار ذوات الأرجل الطوال، لأنها قليلة الأذى والضرر. قلت: لم أقف على دليل هذا التخصيص، فلو كان في رواية صح، وإلا، فلا والنحلة لعدم إضرارهما،۔۔۔
قال الإمام النووي رحمه الله: وأمّا قَتْلُ النَّمْلِ فَمَذْهَبُنا أنه لايجوز واحتج أصحابنا فيه بحديث بن عَبّاسٍ أنَّ النَّبِيَّ ﷺ نَهى عَنْ قَتْلِ أرْبَعٍ مِنَ الدَّوابِّ النَّمْلَةِ والنَّحْلَةِ والهُدْهُدِ والصُّرَدِ رَواهُ أبُو داوُدَ بِإسْنادٍ صَحِيحٍ عَلى شَرْطِ البُخارِيِّ ومُسْلِمٍ
أن النبي ﷺ نهى عن قتل أربع من الدواب: النملة، والنحلة، والهدهد،والصرد)، وأولها النملة، ومعلوم أنها لا تقتل إلا إذا آذت، ولهذا مر في الحديث السابق أنها تسبح، فإذا كان لا يحصل منها الأذى فإنها تترك، وإن حصل منها أذى فإنها تقتل، فالنهي في الأصل من أجل عدم الإيذاء، أما إذا وجد إيذاء فإن الذي يؤذي يقتل من أجل دفع أذاه والتخلص من أذاه
قال الإمام النووي رحمه الله: أصْحابُنا ولا يَجُوزُ قَتْلُ النَّحْلِ والنَّمْلِ والخَطّافِ والضُّفْدَعِ وفِي وُجُوبِ الجَزاءِ بِقَتْلِ الهُدْهُدِ والصُّرَدِ خِلافٌ مَبْنِيٌّ عَلى الخِلافِ فِي جَوازِ أكْلِهِما إنْ جازَ وجَبَ وإلّا فَلا (بذل المجهود :٩٩/١٠)
(شرح مسلم :٢٣٩/١٤)
(شرح سنن ابى داود للعباد:٥٩٦/١٣)
(المجموع (٣١٦/٧)
اتوار _9 _جنوری _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1034
جسم پر زخم کی وجہ سے نماز کی حالت میں بہت زیادہ خون نکلے تو اس نماز کا کیا مسئلہ ہے؟ کیا خون کے نکلنے سے وضو ٹوٹے گا یا نہیں؟
نماز کی حالت میں زخم ہونے کی وجہ سے خون نکلنے سے اس کی نماز پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اسی طرح خون کے نکلنے سے وضو بھی نہیں ٹوٹتا اب چاہے وہ خون کم ہو یا زیادہ کوئی حرج نہیں
قال الحافظ ابن حجر العسقلاني رحمة الله:اﻟﺤﺠﺔ ﻗﺎﺋﻤﺔ ﺑﻪ ﻋﻠﻰ ﻛﻮﻥ ﺧﺮﻭﺝ اﻟﺪﻡ ﻻ ﻳﻨﻘﺾ (فتح البارى:٢٨١/١)
وحاصِلُ ما فِي الدِّماءِ أنَّهُ يُعْفى عَنْ قَلِيلِها ولَوْ مِن أجْنَبِيٍّ غَيْرِ نَحْوِ كَلْبٍ، وكَثِيرِها مِن نَفْسِهِ ما لَمْ يَكُنْ بِفِعْلِهِ أوْ يُجاوِزُ مَحَلَّهُ فَيُعْفى حِينَئِذٍ عَنْ قَلِيلِها فَقَطْ (نهاية المحتاج إلى شرح المنهاج :٢/٣٢)
قال الشيخ محمد الزحيلى رحمه الله: فلا ينتقض الوضوء بخروج الدم من الجسم (المعتمد: ٨٨/١)
*التحرير:٣٣/١
*المنهاج القويم :٣٦
*نهاية الزين:٢٩