منگل _23 _جون _2026AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 1328
استنجاء سے فارغ ہونے کے بعد شرمگاہ کے حصے میں ازار کے اوپر پانی کے چھڑکنے کا تذکرہ ملتا ہے تو کیا یہ حکمِ عام ہے یا سلسل البول والے یا شک کی بیماری والوں کے ساتھ خاص ہے؟
پیشاب سے فارغ ہونے کے بعد شرم گاہ والے حصہ میں آزار یا پاجامہ پر پانی چھڑکنا ہر ایک کے لیے مسنون ہے یہ حکم صرف سلس البول والے یا شک والوں کے ساتھ خاص نہیں ہے۔
قال النووي:“ويستحب أن يبدَأ الاستنجاء بالماء … وينضح فرجه أو سراويله بعد الاستنجاء دفعًا للوسواس.
(روضة الطالبين:١٨٢/١)
★ حاشية الجمل ١٥٩/١
★ شرح التنبيه ٤٠٠/١
★ نهاية المحتاج ١٥٢/١
★ إعانة الطالبين ١٧٨/١
جمعہ _18 _ستمبر _2026AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1329
اگر کوئی نماز میں چیونگم/ یا دوسری رسیلی چیز منہ میں رکھے تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟
اس مسئلہ کی تین صورتیں ہیں 1.اگر چیونگم کا رس باقی ہو اور نماز میں چبائے تو نماز باطل ہوجائے گی۔ 2.اگر چیونگم کا رس ختم ہوچکا ہو، لیکن نماز میں مسلسل چبائے تو نماز باطل ہوجائے گی۔ 3.اگر چیونگم کا رس ختم ہوچکا ہو اور بغیر چبائےصرف منہ میں رکھے تو نماز باطل نہیں ہوگی۔
قال الامام النووي رحمه الله اعلم ان المضغ وحده فعل يبطل الكثير وان لم يصل شيئ الي الجوف حتي لو كان يمضغ علكا بطلت صلاته وان لم يمضغه, وكان جديدًا يذوب فهو كالسكرة وان كان مستعملا لم تبطل صلاته كما لو امسك في فمه اجاصة
روضة الطالبين:1/ 402
بحر المذهب: 2/ 239
حاشية البجيرمي:2/ 78