پیر _3 _فروری _2025AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1291
کیا بہو اپنے سسر کے ساتھ سفر پر اکیلی جاسکتی ہے؟
عورت کے لیے اس کا سسر محرم ہے، لھذا بہو کے لیے اپنے سسر کے ساتھ اگر فتنہ کے اندیشہ نہ ہو تو اکیلی ضرورتا سفر کرسکتی ہے۔
امام بجیرمی فرماتے رح ہیں: تَحْرُمُ (زَوْجَةُ الِابْنِ) وَهُوَ مَنْ وَلَدْته بِوَاسِطَةٍ أَوْ غَيْرِهَا وَإِنْ لَمْ يَدْخُلْ وَلَدُك بِهَا، لِإِطْلَاقِ قَوْله تَعَالَى: ﴿وَحَلائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلابِكُمْ﴾
حاشية البجيرمي: ٤٢٤/٣
رؤضة الطالبين:١١١/٧
نهاية المطلب:٢٢٣/١٢
شرح مشكل الوسيط: ٥٩٧/٣
الوسيط في المذهب: ١٠٦/٥
منگل _22 _اپریل _2025AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال/ نمبر1292
مغرب کے وقت گھر کے دروازے بند کرنے کا کیا حکم ہے؟
احادیث میں رات کے ابتدائی حصے یعنی مغرب کے وقت گھر کے دروازوں کو بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے، کیونکہ اس وقت شیاطین پھیلتے ہیں۔ لھذا شام کے وقت گھر کے دروازوں کو بند کرنا مستحب ہے۔
قال الإمام الدمياطي:(قوله: وأن يغلق الأبواب) أي ويستحب أن يغلق الأبواب، لما في خبر مسلم: وأغلقوا الأبواب، واذكروا اسم الله، فإن الشيطان لا يفتح بابا مغلقا.
قال الإمام الرافعي: فهذه سنن ينبغي المحافظة عليها.
1 (البخاري:٥٦٢٣)
2 إعانة الطالبين ٢/٣٨٨
3 العزيز شرح الوجيز ١٢/١٢٢
روضة الطالبين :٣/٢٣٦
منگل _22 _اپریل _2025AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر1293
اگر کوئی غیرمسلم کو چھینکے تو جواب دینے کا کیا مسئلہ ہے؟
اگر کسی غیر مسلمان کو چھینک آئے تو سننے والے کے لیے اس کے جواب میں "یَرْحَمُکَ اللہُ” نہیں کہنا چاہیے۔ البتہ غیر مسلم شخص کو چھینک کا جواب صرف "يَهْدِيکُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَکُمْ” کہہ کر دیا جاسکتا ہے۔
ولو عطس يهودي فالسنة أن يقول ما ثبت عن أبي موسى قال ” كان اليهود يتعاطسون عند رسول الله صلى الله عليه وسلم يرجون أن يقول لهم يرحمكم الله فيقول يهديكم الله ويصلح بالكم”
(رواه أبو داود والترمذي وقال حديث حسن صحيح
المجموع:٤/٦٣٢)
(إذا عطس أحدكم فحمد الله فشمتوه فإن لم يحمد الله فلا تشمتوه) هذا تصريح بالأمر بالتشميت إذا حمد العاطس وتصريح بالنهي عن تشميته إذا لم يحمده فيكره تشميته إذا لم يحمد
(شرح مسلم:١٨/١٢١)
إذا عطس أحدكم فحمد الله تعالى، فشمتوه، فإن لم يحمد الله تعالى، فلا تشمتوه» وهذا الحديث مما ينبغي حفظه وإشاعته، فإن كثيرا من الناس يتساهلون فيه، وإذا لم يحمد الله تعالى، يستحب لمن عنده أن يذكره الحمد، ولو سمع حمده بعض القوم، يشمته السامعون فقط۔
روضة الطالبين:١٠/٢٣٧
منگل _22 _اپریل _2025AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/1294
بیماری میں مبتلا شخص روزے کی قضا کرنے سے پہلے انتقال کرجائے تو اس کے روزوں کا کیا حکم ہے؟
اگر کوئی بیمار شخص بیماری کی وجہ سے روزہ چھوڑ دے اور مسلسل بیمار رہنے کی وجہ سے روزوں کی قضاء کرنے کا موقع ملے بغیر انتقال ہوجائے تو ایسا شخص گنہگار نہیں ہوگا اور اس پر روزہ کا فدیہ بھی نہیں ہوگا
من فاته) من الأحرار (شيء من) صوم (رمضان فمات قبل إمكان القضاء) بأن استمر مرضه أو سفره المباح إلى موته (فلا تدارك له) أي الفائت بالفدية ولا بالقضاء لعدم تقصيره (ولا إثم) به لأنه فرض لم يتمكن منه إلى الموت فسقط حكمه كالحج
مغني المحتاج:٢/١٧٢
جمعرات _1 _مئی _2025AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1295
مرد کی طرف سے عورت یا عورت کی طرف سے مرد عمرہ یا حج بدل کرسکتا ہے یا نہیں؟
عمرہ ہو یا حج بدل اگر کسی مرد کی طرف سے عورت یا عورت کی طرف سے مرد کرنا چاہیے تو کرسکتا ہے۔ عورت کی طرف سے عورت ہی ہونا ضروری نہیں بلکہ مرد بھی جاسکتا ہے۔
ﻭﻟﻮ ﺃﺣﺠﻮا ﻋﻨﻪ اﻣﺮﺃﺓ ﺃﺟﺰﺃ ﻋﻨﻪ ﻭﻛﺎﻥ اﻟﺮﺟﻞ ﺃﺣﺐ ﺇﻟﻲ، ﻭﻟﻮ ﺃﺣﺠﻮا ﺭﺟﻼ ﻋﻦ اﻣﺮﺃﺓ ﺃﺟﺰﺃ ﻋﻨﻬﺎ.
الأم :٤/٩٩
ﻓﻴﺠﻮﺯ ﻟﻠﺮﺟﻞ ﺃﻥ ﻳﺤﺞ ﻋﻦ اﻟﺮﺟﻞ ﻭاﻟﻤﺮﺃﺓ، ﻭﻳﺠﻮﺯ ﻟﻠﻤﺮﺃﺓ ﺃﻥ ﺗﺤﺞ ﻋﻦ اﻟﺮﺟﻞ ﻭاﻟﻤﺮﺃﺓ.۔۔۔ ﻭﻳﺠﻮﺯ اﻟﻨﻴﺎﺑﺔ ﻓﻲ ﺣﺞ اﻟﻔﺮﺽ ﻓﻲ ﻣﻮﺿﻌﻴﻦ: ﺃﺣﺪﻫﻤﺎ: ﻓﻲ ﺣﻖ اﻟﻤﻴﺖ: ﻟﺤﺪﻳﺚ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ اﻟﺬﻱ ﺗﻘﺪﻡ: ﻭاﻟﺜﺎﻧﻲ: ﻓﻲ ﺣﻖ ﻣﻦ ﻻ ﻳﻘﺪﺭ ﻋﻠﻰ اﻟﺜﺒﻮﺕ ﻋﻠﻰ اﻟﺮاﺣﻠﺔ ﺇﻻ ﺑﻤﺸﻘﺔ ﺷﺪﻳﺪﺓ ﻟﻤﺎ ﺫﻛﺮﻧﺎﻩ ﻣﻦ ﺣﺪﻳﺚ اﻟﺨﺜﻌﻤﻴﺔ.
البيان:٤/٥٢
منگل _20 _مئی _2025AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1296
جائداد یا زیورات فروخت کرکے فرض حج پر جانے کا کیا مسئلہ ہے؟
اگر کسی شخص کے پاس اتنی زمینیں یا جائدادیں یا زیوارات ہوں جو اس کی ضرورت یا استعمال سے زائد ہو اور وہ زمین/ زیوارات یا زائد مکان وغیرہ بیچ کر سفر حج کے جملہ اخراجات آسانی سے نکال سکتا ہو، تو ایسے شخص پر انہیں فروخت کرکے حج ادا کرنا فرض ہے۔
لو كانت دار كبيرة يمكنه ان يبيع بعضها و يسكن في باقيها يلزمه بيعها وصرف ثمنها إلى الحج ولا يجب عليه عليه بيع كتبه اذا كان فقيها يحتاج إليها فإن كانت له كتب لا يحتاج إليها أو كانت له نسختان من كتاب واحد يلزمه بيعها وبيع إحدى النسختين و كذلك إذا کان له خادم کثیر الثمن یکفیه خادم بدون ذالك الثمن یلزمه بیعه.
(بحرالمذھب: ٥/١١)
ﻓﺄﻣﺎ ﺇﺫا ﺃﻣﻜﻦ ﺑﻴﻊ ﺑﻌﺾ اﻟﺪاﺭ ﻭﻟﻮ ﻏﻴﺮ ﻧﻔﻴﺴﺔ ﻭﻭﻓﻰ ﺛﻤﻨﻪ ﺑﻤﺆﻧﺔ اﻟﺤﺞ، ﺃﻭ ﻛﺎﻧﺎ ﻧﻔﻴﺴﻴﻦ ﻻ ﻳﻠﻴﻘﺎﻥ ﺑﻤﺜﻠﻪ ﻭﻟﻮ ﺃﺑﺪﻟﻬﻤﺎ ﻟﻮﻓﻰ اﻟﺘﻔﺎﻭﺕ ﺑﻤﺆﻧﺔ اﻟﺤﺞ ﻓﺈﻧﻪ ﻳﻠﺰﻣﻪ ﺫﻟﻚ ﺟﺰﻣﺎ ﻭﻟﻮ ﻛﺎﻧﺎ ﻣﺄﻟﻮﻓﻴﻦ
مغني المحتاج:٢/٢١٣
(ﻭاﻷﺻﺢ اﺷﺘﺮاﻁ ﻛﻮﻧﻪ) ﺃﻱ ﻣﺎ ﺳﺒﻖ ﺟﻤﻴﻌﻪ (ﻓﺎﺿﻼ) ﺃﻳﻀﺎ (ﻋﻦ ﻣﺴﻜﻨﻪ) اﻟﻻﺋﻖ ﺑﻪ اﻟﻤﺴﺘﻐﺮﻕ ﻟﺤﺎﺟﺘﻪ (ﻭ) ﻋﻦ (ﻋﺒﺪ) ﻳﻠﻴﻖ ﺑﻪ ﻭ (ﻳﺤﺘﺎﺝ ﺇﻟﻴﻪ ﻟﺨﺪﻣﺘﻪ)
مغني المحتاج:٢/٢١٣
ﻭﻣﻦ ﻛﺎﻥ ﻟﻪ ﺃﺭﺽ ﻳﺤﺼﻞ ﻣﻨﻬﺎ ﻋﻠﻰ ﻧﻔﻘﺘﻪ ﻭﺟﺐ ﺑﻴﻌﻬﺎ ﻷﺩاء اﻟﺤﺞ ﻭاﻟﻌﻤﺮﺓ
الفقه المنهجي:٢/١٢٤
اتوار _25 _مئی _2025AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1297
اگر کسی پر حج فرض تھا لیکن اس نے بغیر عذر کے حج نہیں کیا اور حج کرنے سے پہلے انتقال ہوجائے تو اس کا کیا مسئلہ ہے؟
اگر کسی پر حج فرض تھا اور اس نے استطاعت و سہولت کے باوجود ہونے بغیر کسی عذر کے حج نہیں کیا اور حج کرنے سے پہلے اس کا انتقال ہوجائے تو وہ گنہگار ہوگا اور ورثا پر اس کے مال سے اس کی طرف سے قضاء حج کرنا واجب ہوگا
اذا وجب علی الانسان الحج او العمرۃ ، ولکنہ تراخي عن اداءهما فلم يؤدهما حتى مات ” مات عاصيا۔
(الفقه المنهجي: ٤١٦/١)
قال الامام النووي: اجمعت الامة : على ان من تمكن من الحج فلم يحج ومات لا يحكم بكفره بل هو عاص وقال: ومن وجب عليه الحج فلم يحج حتى مات بعد التمكن من الاداء لم يسقط الفرض ويجب قضاء ؤه..
(المجموع شرح المهذب:٧٦/٧)
حدیث: جامع ترمذی :٢٠٢
بدھ _28 _مئی _2025AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1298
غیر شادی شدہ شخص کے پاس صرف اتنا مال ہے کہ وہ حج کرسکتا ہے لیکن نکاح کی بھی ضرورت ہے تو وہ پہلے نکاح کرے گا یا حج کرے گا؟
اگر کسی غیر شادی شدہ شخص کے پاس صرف اتنا مال ہے کہ وہ حج کر سکتا ہے لیکن اسےنکاح کی بھی سخت ضرورت ہو اور اسے گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں نکاح کو مقدم کرے گا اور حج مؤخر کرے گا
الامام النووی رحمة الله علیه: وان احتاج الي النكاح وهو يخاف العنت قدم النكاح لان الحاجة الى ذلك على الفور و الحج ليس على الفور ثم ان لم يخاف العنت فتقديم الحج افضل والا فالنكاح
(المجموع ١٠٧/٨)
مغنی المحتاج: ٢٣٠/٣
حواشی الشروانی: ٣٢/٥
تحفتہ المحتاج: ٩/٢
المھذب : ٦٥٣/١
جمعرات _29 _مئی _2025AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1299
اگر کوئی عورت (محرم یا گروپ کے ساتھ) حج کی استطاعت رکھتی ہو لیکن شوہر کے منع کرنے سے حج نہ کرسکے اور اس عورت کا انتقال ہوجائے تو کیا وہ عورت گنہگار ہوگی؟
شادی سے پہلے عورت اگر سفر حج کی طاقت نہ رکھتی ہو اور شادی کے بعد سفر حج پر قادر ہو (شرعی رکاوٹ نہ ہو) لیکن شادی کے بعد شوہر منع کرنے کی وجہ سے حج نہ کرسکے اور اس کا انتقال ہوجائے تو ایسی عورت گنہگار نہیں ہوگی، البتہ اس عورت کے مال سے حج بدل کرنا ضروری ہوگا
الشیخ محمد بن محمد الشربینی فرماتے ہیں: واذا احرمت فمنعھا الزوج ومات قضي من تركتها مع كونها لا تعصي لكونه منعها۔ الا اذا تمکنت قبل النکاح فتعصی اذا ماتت
(مغنی المحتاج:٣٤٧/٢)
حواشی الشروانی:٣٦٨/٥
الغررالبھیہ: ٣٥٣/٤
الحاشیة الجمل:٢٧٦/٤
شرح التنبھیۃ: ٤٠٢/٣
جمعرات _29 _مئی _2025AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1300
جانور کو ذبح کرتے وقت جانور کی گردن پر پاؤں رکھنے کا کیا حکم ہے؟
جانور کو ذبح کرتے وقت اگر جانور کے جسم پر پاوں رکھنے کی ضرورت پیش آئے جس سے جانور کو باسانی ذبح کیا جاسکتا ہو تو ذبح کرتے وقت پاؤں رکھنا مستحب ہے۔
(ﻭﻭﺿﻊ ﺭﺟﻠﻪ ﻋﻠﻰ ﺻﻔﺎﺣﻬﻤﺎ) ﺃﻱ ﺻﻔﺤﺔ اﻟﻌﻨﻖ ﻭﻫﻲ ﺟﺎﻧﺒﻪ ﻭﺇﻧﻤﺎ ﻓﻌﻞ ﻫﺬا ﻟﻴﻜﻮﻥ ﺃﺛﺒﺖ ﻟﻪ ﻭﺃﻣﻜﻦ ﻟﺌﻼ ﺗﻀﻄﺮﺏ اﻟﺬﺑﻴﺤﺔ ﺑﺮﺃﺳﻬﺎ ﻓﺘﻤﻨﻌﻬﻤﻦ ﺇﻛﻤﺎﻝ اﻟﺬﺑﺢ ﺃﻭ ﺗﺆﺫﻳﻪ ﻭﻫﺬا ﺃﺻﺢ ﻣﻦ اﻟﺤﺪﻳﺚ اﻟﺬﻱ ﺟﺎء ﺑﺎﻟﻨﻬﻲ ﻋﻦ ﻫﺬا
شرح مسلم :13/122
ﻗﻮﻟﻪ ﻓﺮﺃﻳﺘﻪ ﻭاﺿﻌﺎ ﻗﺪﻣﻪ ﻋﻠﻰ ﺻﻔﺎﺣﻬﻤﺎ ﺃﻱ ﻋﻠﻰ ﺻﻔﺎﺡ ﻛﻞ ﻣﻨﻬﻤﺎ ﻋﻨﺪ ﺫﺑﺤﻪ ﻭاﻟﺼﻔﺎﺡ ﺑﻜﺴﺮ اﻟﺼﺎﺩ اﻟﻤﻬﻤﻠﺔ ﻭﺗﺨﻔﻴﻒ اﻟﻔﺎء ﻭﺁﺧﺮﻩ ﺣﺎء ﻣﻬﻤﻠﺔ اﻟﺠﻮاﻧﺐ ﻭاﻟﻤﺮاﺩ اﻟﺠﺎﻧﺐ اﻟﻮاﺣﺪ ﻣﻦ ﻭﺟﻪ اﻷﺿﺤﻴﺔ۔
فتح الباري:10/18
ﻭاﻟﺤﻜﻤﺔ ﻓﻴﻪ اﻟﺘﻘﻮﻯ ﻋﻠﻰ اﻻﻇﻬﺎﺭ ﻋﻠﻴﻬﺎ ﻭﻳﻜﻮﻥ ﺃﺳﺮﻉ ﻟﻤﻮﺗﻬﺎ ﻭﻟﻴﺲ ﺫﻟﻚ ﻣﻦ ﺗﻌﺬﻳﺒﻬﺎ اﻟﻤﻨﻬﻰ ﻋﻨﻪ
عمدة القاري:٢١/١٥٤
ﻟﻴﻘﻮﻯ ﻋﻠﻰ اﻹﺟﻬﺎﺯ ﻋﻠﻴﻬﺎ، ﻭﻳﻜﻮﻥ ﺃﺳﺮﻉ ﻟﻤﻮﺗﻬﺎ۔
شرح صحيح الباري لابن البطال:٦/٢٢
اتوار _8 _جون _2025AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1302
دس ذی الحجہ کو حاجی رمی سے پہلے طواف زیارت کرسکتا ہے؟
حاجی کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ 10/ذوالحجہ کو جمرہ عقبہ کے رمی سے پہلے طوافِ زیارت کر لے، لیکن افضل یہ ہے کہ اعمال کی ترتیب ویسے ہی رکھی جائے جیسے نبی کریم ﷺ نے کیا تھا: پہلے رمی، پھر حلق یا تقصیر، پھر طوافِ زیارت۔ ہاں اگر کوئی حاجی طوافِ زیارت کو رمی سے پہلے کرے تو اس کا حج درست ہوگا اور اس پر کوئی فدیہ یا کفارہ بھی لازم نہیں آئے گا۔
قال الإمام ابن حجر الهيتمي:(وهذا الرمي و الذبح والحلق والطواف يسن ترتيبها كما ذكرنا)…فإن خالف صح لإذنه ﷺ في ذالك.
(تحفة المحتاج: ٢١٤/٥)
كنز الاغبين:٥٤٦/٢
مغني المحتاج:٢٩٣/٢
جمعرات _17 _جولائی _2025AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1306
اگر کوئی بار بار عمرہ کرتا رہتا ہے لیکن اس کے سر پر بال ہی نہ ہوں تو ایسے شخص کے لیے حلق کا رکن ساقط ہوگا یا حلق کرنا ضروری ہوگا؟
اگر کوئی شخص بار بار عمرہ میں حلق کرنے کی وجہ سے یا سر پر بال نہ رہنے کی وجہ سے گنجا ہوجائے تو اس کے لیے حلق ضروری نہیں ہے البتہ ہر مرتبہ عمرہ کے ارکان مکمل ہونے کے بعد سر پر استرا پھیرنا سنت ہے فرض نہیں.
قال محمد بن محمد الشربيني: والحلق إزالة شعر الرأس أو التقصير في حج وعمرة في وقته نسك علي المشهور، ومن لا شعر كائن برأسه أو ببعضه كما قالوالاسنوي بأن خلق كذالك أو كان قد حلق واعتمر من ساعته… يستحب له امرار الموسى عليه بالإجماع… وانما لم يجب الامرار لأن ذالك فرض تعلق بجزء آدمي فسقط بفواته
(مغني المحتاج :٢/٢٩٢)
الفقه المنهجي : ١/٣٨٣
روضة الطالبين: ١/٣٨٢
المجموع: ٨/١٤٩
شرح المنهاج في الفقه: ٣/٣٧٣،٣٧٤
جمعرات _17 _جولائی _2025AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1307
عصر کی نماز کے بعد مکروہ وقت عصر کی اذان سے شروع ہوتا ہے یا نماز کے بعد شروع ہوتا ہے؟
عصر کے بعد کا مکروہ وقت عصر کی فرض نماز کے بعد سے شروع ہوتا ہے۔ اور مغرب کی اذان کا وقت ہونے شروع یعنی آفتاب غروب تک رہتا ہے.
قال الإمام ابن الحجر الهيتمي: وتكره الصلاة… وبعد أداء فعل العصر
١ـ صحیح البخاری: ٥٨٦
۲ـ حواشی الشروانی: ٢/٤٧
۳ـ کفایۃ النبیہ : ٣/٥٠٧
٤ـ المہمات : ٢/٤٣٧
۵ـ المجموع : ٥/١٦٣
جمعرات _18 _ستمبر _2025AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1308
مرغا اگر نماز کے اوقات میت آواز لگاتا ہو اور بارہا اس کا تجربہ بھی کیا گیا ہو، تو ایسے مرغے کی بانگ پر نماز کے اوقات کا اعتبار کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟
اگر مرغا اکثر و بیشتر نماز کے اوقات کے مطابق بانگ دیتا ہو اور بارہا اس کا تجربہ کیا گیا ہو اور اس کے پاس اذان کا وقت جاننے کے لیے کوئی آلہ یعنی گھڑی یا موبائیل وغیرہ نہ ہو تو ایسی صورت میں اس مرغے کی صُراخ (آواز/ بانگ) کو نماز کے اوقات کی تعین کے لیے معتبر سمجھا جاسکتا ہے۔ اور ایسی حالت میں مرغا کے آواز دینے سے وقت کا اندازہ لگا کر نماز پڑھ سکتا ہے۔
قال شهاب الدين الرملي: اجتهد) بما يغلب على ظنه دخوله ( بورد ونحوه ) كصوت ديك جربت إصابته للوقت ، وصنعة وجوبا إن عجز عن اليقين ، وجوازا إن قدر عليه . هذا كله إن لم يخبره ثقة عن مشاهدة
(نهاية المحتاج: ٣٨٠/١)
قال إمام النووي:فرع: الديك الذي جربت إصابته في صياحه للوقت يجوز اعتماده في دخول الوقت، ذكره القاضي حسين وصاحب التتمة والرافعي.
(المجموع: ٨٠/٣)
قال إمام الخطيب الشربيني::وَمَنْ جَهِلَ الْوَقْتَ)…(جْتَهَدَ)…(بِوِرْدٍ) مِنْ قُرْآنٍ وَدَرْسٍ وَمُطَالَعَةٍ وَصَلَاةٍ (وَنَحْوِهِ) أَيْ الْوَرْدِ كَخِيَاطَةٍ وَصَوْتِ دِيكٍ مُجَرَّبٍ، وَسَوَاءٌ الْبَصِيرُ وَالْأَعْمَى، قال إمام الجمل: لِأَنَّ مَا دَخَلَ تَحْتَهُ مِنْ الْوَرْدِ وَكَلَامِ الشَّارِحِ يُشِيرُ إلَى رَدِّهِ؛ لِأَنَّ الْوِرْدَ مَا كَانَ بِنَحْوِ ذِكْرٍ أَوْ قِرَاءَةٍ وَنَحْوِهِ مَا كَانَ بِنَحْوِ صِنَاعَةٍ وَمِنْهُ سَمَاعُ صَوْتِ دِيكٍ مُجَرَّبٍ وَسَمَاعُ مَنْ لَمْ تُعْلَمْ عَدَالَتُهُ وَمَنْ لَمْ يُعْلَمْ أَنَّ آذَانَهُ أَوْ خَبَرَهُ عَنْ عِلْمٍ وَسَمَاعِ آذَانِ ثِقَةٍ عَارِفٍ فِي الْغَيْمِ لَكِنَّ لَهُ فِي هَذِهِ تَقْلِيدَهُ اهـ (قَوْلُهُ: كَخِيَاطَةٍ إلَخْ) أَيْ بِأَنْ يَتَأَمَّلَ فِي الْخِيَاطَةِ الَّتِي فَعَلَهَا هَلْ أَسْرَعَ فِيهَا عَادَتَهُ أَوْ لَا وَقَوْلُهُ وَصَوْتِ دِيكٍ مُجَرَّبٍ أَيْ بِأَنْ يَتَأَمَّلَ هَلْ آذَانُهُ قَبْلَ عَادَتِهِ أَمْ لَا.
(مغني المحتاج :٣٢٢/١)
•حاشية الجمل:٤٤٠/١
•حواشي البجيرمي:١٥٧/١
جمعرات _18 _ستمبر _2025AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1309
شرعی طور پر ایسے کپڑے پہننے کا کیا مسئلہ ہے جن پر “مسلم” یا “اسلام” یا اللہ اور رسول کے نام ہو؟
ایسے کپڑے جن پر اسلام” "مسلمان یا اسی طرح قرآنی آیات، عربی الفاظ و اشعار وغیرہ لکھے ہوئے ہوں تو ایسا کپڑا پہننا جائز ہے۔ االبتہ قرآنی آیات یا اللہ و رسول کے ناموں کی بے حرمتی نہ ہو اس کا احتیاط ضروری ہے۔ بےحرمتی و بے ادبی کا قوی امکان ہو تو پھر درست نہیں ہوگا
قال محمد الخطيب الشربيني: يُكْرَهُ كَتْبُ الْقُرْآنِ عَلَى حَائِطٍ وَلَوْ لِمَسْجِدٍ وَثِيَابٍ وَطَعَامٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ، وَيَجُوزُ هَدْمُ الْحَائِطِ وَلُبْسُ الثَّوْبِ وَأَكْلُ الطَّعَامِ.
(الإقناع: ٢٥٢/١)
قال زكريا الأنصاري: وَيُكْرَهُ كَتْبُهُ أَيْ الْقُرْآنِ عَلَى حَائِطٍ وَلَوْ لِمَسْجِدٍ وَعِمَامَةٍ لَوْ قَالَ وَثِيَابٌ كَمَا فِي الرَّوْضَةِ كَانَ أَوْلَى…وَيَجُوزُ هَدْمُهُ أَيْ الْحَائِطِ وَلُبْسُهَا أَيْ الْعِمَامَةِ وَالتَّصْرِيحُ بِهِ مِنْ زِيَادَتِهِ…
(اسني المطالب: ١٤٠/١)
مغني المحتاج: ١٢٤/١
بجيرمي علي الخطيب: ٣٧٢/١
حواشي الشرواني: ٢٤٩/١