اسلامی افکار

  • مركزی صفحہ
  • كچھ اپنے بارے میں
  • قرآن
    • عبدالرحمن بن عبدالعزیز السدیس
    • سعود بن ابراهيم بن محمد الشريم
    • ماهر بن حمد المعيقلي
    • محمد أيوب بن محمد يوسف
  • درس قرآن
    • مولانا عبدالباری ندوی صاحب
    • مولانا عبد الحسیب ندوی صاحب
  • درس حدیث
    • مولانا صادق اكرمی ندوی صاحب – سلطانی مسجد
    • مولانا صادق اكرمی ندوی صاحب – تنظیم مسجد
  • فقہی مسائل
    • لائیو سوالات جوابات
    • فقہ شافعی سوال و جواب
    • فقہ حنفی سوال و جواب
    • مولانا خواجہ اكرمی مدنی صاحب-حج و عمره
    • مولانا خواجہ اكرمی مدنی صاحب-زكواة
    • مولانا انصار خطیب مدنی صاحب – خرید وفروخت
    • مولانا انصار خطیب مدنی صاحب – قربانی
    • مولانا انصار خطیب مدنی صاحب – حج وعمرہ
    • مولانا انصار خطیب مدنی صاحب – وراثت
    • مولانا انصار خطیب مدنی صاحب – نکاح
    • مولانا انصار خطیب مدنی صاحب – زیادتی پر قصاص
    • مولانا انصار خطیب مدنی صاحب – مرتد کے مسائل
    • مولانا انصار خطیب مدنی صاحب-جھاد
    • مولانا انصار خطیب مدنی صاحب – زنا کے مسائل
  • خطبات الحرمین
    • مكۃ المكرمۃ
    • مدینۃ المنوّرۃ
  • خطبات الحرمین اردو
    • مكۃ المكرمۃ
    • مدینۃ المنوّرۃ
  • بھٹكل جمعہ خطبات
    • مولانا عبدالرب خطیبی ندوی صاحب
    • مولانا خواجہ اكرمی مدنی صاحب
    • مولانا عبدالعلیم خطیب ندوی صاحب
    • مولانا انصار خطیب مدنی صاحب
    • مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
    • مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب
    • مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
    • مولانا جعفر فقیہ صاحب ندوی
    • دیگر علماء
  • اہم بیانات
  • جمعہ بیانات
    • مولانا عبدالرب خطیبی ندوی صاحب
    • مولانا عبدالعلیم خطیب ندوی صاحب
    • مولانا خواجہ اكرمی مدنی صاحب
    • مولانا انصار خطیب مدنی صاحب
    • مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
    • مولانا اقبال نائطے صاحب ندوی
    • مولانا نعمت اللہ عسكری ندوی صاحب
    • مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب
    • مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
    • مولانا جعفر فقیہ صاحب ندوی
    • دیگر علماء
  • دیگر بیانات
    • مولانا مقبول احمد كوبٹے ندوی صاحب
    • مولا نا الیاس جاكٹی ندوی صاحب
    • مولانا خواجہ اكرمی مدنی صاحب
    • مولانا انصار خطیب مدنی صاحب
    • مولانا عبدالعلیم خطیب ندوی صاحب
    • مولانا اقبال نائطے صاحب ندوی
    • مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب
    • مولانا عبدالنور فكردے ندوی صاحب
    • دیگر علماء
  • مختصر اوڈیو
    • درسِ قرآن
    • درسِ حدیث
    • دیگر موضوعات
  • رمضان ایک منٹ كا سبق
    • مولاناعبدالباری ندوی – رمضان 2007
    • مولاناعبدالباری ندوی – رمضان 2011
    • مولاناعبدالباری ندوی – رمضان 2012
    • مولاناعبدالباری ندوی – رمضان 2013
    • مولانا عبدالرب خطیبی ندوی صاحب – رمضان 2010
  • دعائیں
    • مكۃ المكرمۃ – 1437 / 2016
    • 1438 / 2017
    • 1439 / 2018
    • 1441 / 2020
    • 1442 / 2021
    • 1443 / 2022
    • مدینۃ المنوّرۃ – 1437 / 2016
    • 1438 / 2017
    • 1439 / 2018
    • 1441 / 2020
    • 1442-2021
    • 1443 / 2022
  • اوقات الصلاۃ
  • ایمیل سروسس
  • فقہ شافعی سوالات
  • گروپ میں شامل ہونے كے لئے

فقہ شافعی سوال نمبر – 1275

بدھ _11 _ستمبر _2024AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

فقہ شافعی سوال نمبر / 1275
بارہ ربیع الاول کے دن نبی کی وفات کی یاد میں روزہ رکھنے کا کیا مسئلہ ہے؟
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت یا وفات کی مناسبت سے روزے رکھنا جائز نہیں ہے۔ اسی وجہ سے فقہاء کرام نے جہاں سنت روزوں کا ذکر کیا ہے اس میں 12/ ربیع الاول (وفات یا ولادت) کے دن روزہ کی مشروعیت ثابت نہیں ہے۔
امام نووی فرماتےہیں: يُسَنُّ صَوْمُ الإِثْنَيْن، وَالخَمِيسِ، وَعَرَفَةَ ، وَعَاشُورَاءَ، وَتَاسُوعَاءَ، وَأَيَّامِ الْبِيضِ، وَسِتَّةِ مِنْ شَوَّالٍ، وَتَتَابُعُهَا أَفْضَلُ ، وَيُكْرَهُ إِفْرَادُ الجُمُعَةِ ، وَإِفْرَادُ السَّبْتِ، وَصَوْمُ الدَّهْرِ غَيْرَ الْعِيدِ وَالتَّشْرِيقِ مَكْرُوهُ لِمَنْ خَافَ بِهِ ضَرَراً أَوْ فَوْتَ حَقٍّ.
(الوجيز: ٣٥)
علماء عرب کا فتوی ہے: وأما تخصيص الثاني عشر من ربيع الأول من كل سنة بالصوم فخلاف السنة أيضا.
منهاج الطالبين: ١٤١
اسلام ويب فتوي:18134
اعانة الطالبين: ٤١٤/٢
تحفة المحتاج:٦٣١/٤
النجم الوهاج:٣٥٣/٣

https://islamiafkaar.com/podcast-player/31004/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-1275.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 0:59

فقہ شافعی سوال نمبر – 1276

منگل _24 _ستمبر _2024AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

فقہ شافعی سوال نمبر / 1276
جمع بین الصلاتین کرنے والا شخص (ظہر،عصر یا مغرب،عشاء) کی اگلی اور پچھلی سنتوں کو کس طرح ادا کرے گا؟
اگر کوئی شخص جمع بین الصلاتین تقدیم یا تاخیر پڑھ رہا ہو یعنی ظہر و عصر یا مغرب و عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ملا کر پڑھ رہا ہو تو دونوں صورتوں میں ان نمازوں کی اگلی اور پچھلی سنت نمازوں کو دونوں فرض نماز پڑھنے کے بعدادا کرے
الفقه عبد الله الحضرمي الشافعي فرماتے ہیں: مَنْ جَمَعَ تقديماً صلَّى راتبة الأولى السابقة، ثم الفرضين، ثم راتبة الأولى المتأخرة، وراتبتي الثانية؛ أو تأخيراً فكذلك، وإن شاء قدم راتبة المتأخرة السابقة قبل الفرضين، وله في كل حال تأخير كل الرواتب، وحيثُ جَازَتَا فتقديم راتبة الأولى أولى.
(قلائد الخرائد و فرائد الفوائد: ١٥٨/١)
امام نووی فرماتے ہیں: وفي جمع العشاء والمغرب، يصلي الفريضتين، ثم سنة المغرب، ثم سنة العشاء، ثم الوتر.
رؤضة الطالبين:٤٠٢/١
المهمات: ٣٦٧/٣
العزيز شرح الوجيز:٢٤٧/٢
النجم الوهاج: ٤٤٢/٢
مغني المحتاج:٨٨/٢

https://islamiafkaar.com/podcast-player/31090/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-1276.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 1:15

فقہ شافعی سوال نمبر – 1278

جمعرات _10 _اکتوبر _2024AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

فقہ شافعی سوال نمبر / 1278
صلاۃ التسبیح کے لیے کوئی خاص دن یا وقت متعین کرنے کا کیا مسئلہ ہے؟
تسبیح کی نماز کے لیے کوئی وقت یا دن متعین نہیں ہے، بلکہ مکروہ اوقات کے علاوہ رات یا دن کے کسی بھی حصہ میں پڑھ سکتے ہیں، ممکن ہوسکے تو روزانہ یا ہر جمعہ، یا مہینے میں ایک مرتبہ،یا سال میں ایک مرتبہ، یا کم سے کم زندگی میں ایک مرتبہ پڑھنا مستحب ہے۔
امام رملی رح فرماتے ہیں: وصلاة التسبيح كل وقت وإلا فيوم وليلة أو أحدهما وإلا فأسبوع وإلا فشهر وإلا فسنة وإلا فالعمر و حدیثھا حسن لکثرۃ طرقه.
(تحفة المحتاج :٢٦٩/١)
المجموع: ٦٢/٥
النجم الوهاج : ٣.٦/٢
حشيتا القليوبي وعميرة: ٥٥٩/١
المعتمد ٣٨٢/١

https://islamiafkaar.com/podcast-player/31170/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-1278.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 1:12

فقہ شافعی سوال نمبر – 1279

جمعرات _24 _اکتوبر _2024AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

فقہ شافعی سوال نمبر / 1279
مساجد میں لگے پینے کے لئے واٹر فلٹر اور کولر (Water Filter & Cooler) کے پانی کو مسجد سے باہر لے جانے کا کیا مسئلہ ہے؟
مساجد میں لگے ہوئے پینے کے پانی کے فلٹر اور کولر (Water Filter & Cooler) سے پانی کو مسجد سے باہر مسجد کمیٹی سے اجازت کے بغیر لے جانا درست نہیں ہے کیونکہ یہ وقف کے حکم میں ہےاور وقف کی ہوئی چیز کا استعمال مسجد کمیٹی کی اجازت سے ہو تو درست ہے۔ نیز اجازت کے سلسلہ میں وہاں کے عرف و عادت کا بھی اعتبار ہوگا کہ اگر پانی کے لے جانے پر کوئی روک ٹوک اور ممانعت نہ ہو تو اجازت کے بغیر بھی پانی لے جانا درست ہے
*فَلَوْ كَانَ مَوْقُوفًا عَلَى جِهَةٍ عَامَّةٍ اُعْتُبِرَ إذْنُ النَّاظِرِ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فَالْحَاكِمُ وَالْعَبْدُ الْمُوصَى بِمَنْفَعَتِهِ
( أسنى المطالب:١/‏٥٢٦)
إنْ مَلَكَ الْمُوصَى لَهُ أَتَمَّ مِنْ مِلْكِ الْمَوْقُوفِ عَلَيْهِ بِدَلِيلِ أَنَّ لَهُ الْإِجَارَةَ وَالْإِعَارَةَ مِنْ غَيْرِ إذْنِ مَالِكِ الرَّقَبَةِ وَتُورَثُ عَنْهُ الْمَنَافِعُ بِخِلَافِ الْمَوْقُوفِ عَلَيْهِ لَا بُدَّ مِنْ إذْنِ النَّاظِرِ وَلَا تُورَثَ عَنْهُ الْمَنَافِعُ
(نهاية المحتاج:٥/‏٣٩٢)
الإِْذْنُ ضَرْبَانِ: أَحَدُهُمَا: الإِْذْنُ الصَّرِيحُ فِي النَّفَقَةِ وَالصَّدَقَةِ، وَالثَّانِي: الإِْذْنُ الْمَفْهُومُ مِنَ اطِّرَادِ الْعُرْفِ وَالْعَادَةِ، كَإِعْطَاءِ السَّائِل كَعُمْرَةٍ وَنَحْوِهَا مِمَّا جَرَتْ الْعَادَةُ بِهِ، وَاطَّرَدَ الْعُرْفُ فِيهِ، وَعُلِمَ بِالْعُرْفِ رِضَا الزَّوْجِ وَالْمَالِكِ بِهِ، فَإِذْنُهُ فِي ذَلِكَ حَاصِلٌ وَإِنْ لَمْ يَتَكَلَّمْ
شرح المسلم للنووي:٧/١١٢
حاشية الجمل: ٣/‏٥٨٨
حاشية البجيرمي: ٣/‏٢١١
تحفة المحتاج:٦/‏٢٧٩

https://islamiafkaar.com/podcast-player/31256/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-1279.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 0:53

فقہ شافعی سوال نمبر – 1280

جمعہ _25 _اکتوبر _2024AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

فقہ شافعی سوال نمبر / 1280
اگر کسی عورت کی بچہ دانی کسی وجہ سے دائمی طور پر نکالی گئی ہو اور ایسی عورت کو عادت کے مطابق متعینہ اوقات میں خون نظر آئے تو اس خون کا کیا حکم ہوگا؟
حیض کا خون پیدا ہونے اور نکلنے کی جگہ عورت کی بچہ دانی ہوتی ہے۔ جب عورت کی بچہ دانی نکال لی گئی ہو تو اب شرمگاہ سے نکلنے والا خون حیض کے حکم میں نہیں ہوگا بلکہ پیشاب کی طرح ناپاک خون مانا جائے گا اور اس خون کے نکلنے سے غسل بھی واجب نہیں ہوگا۔ البتہ وضو ٹوٹ جائے گا اور ایسی عورت نماز روزہ بھی نہیں چھوڑے گی بلکہ نماز کے اوقات میں بدن اور کپڑوں کی پاکی کا خیال رکھتے ہوئے صفائی کے بعد شرمگاہ پر پٹی یا کپڑا رکھ کر فورا نماز ادا کریگی ـ اگر خون مسلسل جاری ہو تو سلس البول یا مستحاضہ عورت کی طرح فرض نماز کا وقت داخل ہوجانے کے بعد ایک وضو سے ایک فرض اور کئی سنتیں ادا کرے گی
ﻗﺎﻝ اﻟﻤﺎﻭﺭﺩﻱ: اﻋﻠﻢ ﺃﻥ اﻟﺤﻴﺾ ﻫﻮ ﻣﺎ ﻳﺮﺧﻴﻪ اﻟﺮﺣﻢ ﻣﻦ اﻟﺪﻡ ﺇﺫا ﻛﺎﻥ ﻋﻠﻰ ﻭﺻﻒ
(الحاوي الكبير:١ / ٣٧٨)
ﻭاﻟﻔﺮﻕ ﺑﻴﻦ ﺩﻡ اﻟﺤﻴﺾ ﻭﺩﻡ اﻻﺳﺘﺤﺎﺿﺔ ﻣﻊ اﻓﺘﺮاﻗﻬﻤﺎ ﻓﻲ اﻟﺼﻔﺔ: ﺃﻥ ﺩﻡ اﻟﺤﻴﺾ ﻳﺨﺮﺝ ﻣﻦ ﻗﻌﺮ اﻟﺮﺣﻢ ﻭﺩﻡ اﻻﺳﺘﺤﺎﺿﺔ ﻳﺴﻴﻞ ﻣﻦ اﻟﻌﺎﺩﻝ: ﻭﻫﻮ ﻋﺮﻕ ﻳﺴﻴﻞ ﺩمه ﻓﻲ ﺃﺩﻧﻰ اﻟﺮﺣﻢ ﺩﻭﻥ ﻗﻌﺮﻩ ﺣﻜﺎﻩ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﻭﻗﺪ ﻗﺎﻝ اﻟﻨﺒﻲ – ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ – ﻟﻔﺎﻃﻤﺔ ﺑﻨﺖ ﺃﺑﻲ ﺣﺒﻴﺶ ﻓﻲ ﺩﻡ اﻻﺳﺘﺤﺎﺿﺔ ﺇﻧﻤﺎ ﻫﻮ ﻋﺮﻕ.
(الحاوي الكبير:١ /٣٨٩ )
ﻭﺳﻠﺲ اﻟﺒﻮﻝ ﻭﺳﻠﺲ اﻟﻤﺬﻱ ﺣﻜﻤﻬﻤﺎ ﺣﻜﻢ اﻟﻤﺴﺘﺤﺎﺿﺔ ﻓﻴﻤﺎ ﺫﻛﺮﻧﺎﻩ ﻭﻣﻦ ﺑﻪ ﻧﺎﺻﻮﺭ ﺃﻭ ﺟﺮﺡ ﻳﺠﺮﻱ ﻣﻨﻪ اﻟﺪﻡ ﺣﻜﻤﻬﻤﺎ ﺣﻜﻢ اﻟﻤﺴﺘﺤﺎﺿﺔ ﻓﻲ ﻏﺴﻞ اﻟﻨﺠﺎﺳﺔ ﻋﻨﺪ ﻛﻞ ﻓﺮﻳﻀﺔ ﻷﻧﻬﺎ ﻧﺠﺎﺳﺔ ﻣﺘﺼﻠﺔ ﻟﻌﻠﺔ ﻓﻬﻮ ﻛﺎﻻﺳﺘﺤﺎﺿﺔ.
(المهذب: ١ / ٩١)
ﻭﻳﺠﺐ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﺴﺘﺤﺎﺿﺔ ﺃﻥ ﺗﻐﺴﻞ اﻟﺪﻡ ﻭﺗﻌﺼﺐ اﻟﻔﺮﺝ ﻭﺗﺴﺘﻮﺛﻖ ﺑﺎﻟﺸﺪ ﻭاﻟﺘﻠﺠﻢ ﻟﻤﺎ ﺭﻭﻱ ﺃﻥ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻗﺎﻝ ﻟﺤﻤﻨﺔ ﺑﻨﺖ ﺟﺤﺶ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻬﺎ "ﺃﻧﻌﺖ ﻟﻚ اﻟﻜﺮﺳﻒ” ﻓﻘﺎﻟﺖ: ﺇﻧﻪ ﺃﻛﺜﺮ ﻣﻦ ﺫﻟﻚ ﻓﻘﺎﻝ: "ﺗﻠﺠﻤﻲ” ﻓﺈﻥ اﺳﺘﻮﺛﻘﺖ ﺛﻢ ﺧﺮﺝ اﻟﺪﻡ ﻣﻦ ﻏﻴﺮ ﺗﻔﺮﻳﻂ ﻓﻲ اﻟﺸﺪ ﻟﻢ ﺗﺒﻄﻞ ﺻﻼﺗﻬﺎ ﻟﻤﺎ ﺭﻭﺕ ﻋﺎﺋﺸﺔ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻬﺎ ﺃﻥ ﻓﺎﻃﻤﺔ ﺑﻨﺖ ﺃﺑﻲ ﺣﺒﻴﺶ اﺳﺘﺤﻴﻀﺖ ﻓﻘﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ: "ﺗﺪﻉ اﻟﺼﻼﺓ ﺃﻳﺎﻡ ﺃﻗﺮاﺋﻬﺎ ﺛﻢ ﺗﻐﺘﺴﻞ ﻭﺗﺘﻮﺿﺄ ﻟﻜﻞ ﺻﻼﺓ” ﻭﺗﺼﻠﻲ ﺣﺘﻰ ﻳﺠﻲء ﺫﻟﻚ اﻟﻮﻗﺖ ﻭﺇﻥ ﻗﻄﺮ اﻟﺪﻡ ﻋﻠﻰ اﻟﺤﺼﻴﺮ ﻭﻻ ﺗﺼﻠﻲ ﺑﻄﻬﺎﺭﺓ ﺃﻛﺜﺮ ﻣﻦ ﻓﺮﻳﻀﺔ ﻟﺤﺪﻳﺚ ﻓﺎﻃﻤﺔ ﺑﻨﺖ ﺃﺑﻲ ﺣﺒﻴﺶ ﻭﻳﺠﻮﺯ ﺃﻥ ﺗﺼﻠﻲ ﻣﺎ ﺷﺎءﺕ ﻣﻦ اﻟﻨﻮاﻓﻞ ﻷﻥ اﻟﻨﻮاﻓﻞ ﺗﻜﺜﺮ ﻓﻠﻮ ﺃﻟﺰﻣﻨﺎﻫﺎ ﺃﻥ ﺗﺘﻮﺿﺄ ﻟﻜﻞ ﻧﺎﻓﻠﺔ ﺷﻖ ﻋﻠﻴﻬﺎ
(المهذب:١/ ٩٠)
ﻭﺃﻣﺎ اﻟﻨﺎﺩﺭ ﻓﻬﻮ:ﻛﺎﻟﺤﺼﻰ ﻭاﻟﺪﻭﺩ، ﻭﺳﻠﺲ اﻟﺒﻮﻝ، ﻭﺩﻡ اﻻﺳﺘﺤﺎﺿﺔ، ﻭﻫﻮ ﻳﻨﻘﺾ اﻟﻮﺿﻮء ﻋﻨﺪﻧﺎ
(البيان: ١ / ١٧٢)

https://islamiafkaar.com/podcast-player/31262/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-1280.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 1:39

فقہ شافعی سوال نمبر – 1281

بدھ _30 _اکتوبر _2024AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

فقہ شافعی سوال نمبر / 1281
غسل کرتے وقت ناک اور کان کے زیور پہننے والے سوراخ میں پانی پہنچانے کا کیا مسئلہ ہے؟
عورت کے کانوں کے سوراخ اگر کھلے ہوں تو غسل کرتے وقت ان سوراخوں میں پانی کا پہنچانا واجب ہوگا۔ اگر استعمال نہ ہونے کی وجہ سے عورت کے کانوں کا سراخ بند ہوچکا ہوتو غسل کرتے وقت کانوں کے سراخ میں پانی کا پہنچانا ضروری نہیں۔
قال الامام ملباری رحمہ اللہ:لو دخلت شوكة في رجله وظهر بعضها وجب قلعها وغسل محلها لأنه صار في حكم الطاهر فإن استترت كلها صارت في حكم الباطن فيصح وضوؤه ولو تنفط في رجل أو غيره لم يجب غسل باطنه ما لم يتشقق فإن تشقق وجب غسل باطنه ما لم يرتتق
فتح المعين/49
قال الامام بجيريمي رحمه الله: لَوْ دَخَلَتْ شَوْكَةٌ فِي أُصْبُعِهِ مَثَلًا وَصَارَ رَأْسُهَا ظَاهِرًا غَيْرَ مَسْتُورٍ فَإِنْ كَانَتْ بِحَيْثُ لَوْ قُلِعَتْ بَقِيَ مَوْضِعُهَا مُجَوَّفًا وَجَبَ قَلْعُهَا وَلَا يَصِحُّ غَسْلُ الْيَدَيْنِ أَوْ الرِّجْلَيْنِ مَعَ بَقَائِهَا وَإِنْ كَانَتْ بِحَيْثُ لَوْ قُلِعَتْ لَا يَبْقَى مَوْضِعُهَا مُجَوَّفًا
حاشيه البجيريمي:1/ 71
قال مصنف الموسوعه الفقهيه الكويتيه: وَلاَ يَجِبُ غَسْل مَا فِيهِ حَرَجٌ كَعَيْنٍ وَثَقْبٍ انْضَمَّ بَعْدَ نَزْعِ الْقُرْطِ وَصَارَ بِحَالٍ إِنْ أُمِرَّ عَلَيْهِ الْمَاءُ يَدْخُلْهُ، وَإِنْ غُفِل لاَ، فَلاَ بُدَّ مِنْ إِمْرَارِهِ، وَلاَ يَتَكَلَّفُ لِغَيْرِ الإِْمْرَارِ مِنْ إِدْخَال عُودٍ وَنَحْوِهِ، فَإِنَّ الْحَرَجَ مَرْفُوعٌ
موسوعه الفقهيه الكويتيه:31/ 208
اعانه الطالبين:1/ 53
نهايه المحتاج:1/ 173
حاشيه الجمل:1/ 113

https://islamiafkaar.com/podcast-player/31299/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-1281.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 0:43

فقہ شافعی سوال نمبر – 1282

جمعہ _29 _نومبر _2024AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

فقہ شافعی سوال نمبر/ 1282
غیر مسلم کے حق میں تجارت میں ترقی و برکت اور ان کے حق میں ہدایت کی دعا کرنے کا کیا حکم ہے؟
کافر و مشرک کے حق میں صحت و تجارت ترقی و برکت کی دعا کرنا اس وقت جائز ہے جب کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کا دشمن نہ ہو یا اس سے اسلامی احکامات پر عمل کرنے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا نقصان نہ ہو تو غیر مسلم کے حق میں تجارت میں برکت و ترقی کی دعا دینا جائز ہے اور ہدایت کی دعا ہر ایک کے حق میں ہر وقت کرنا جائز ہے۔
امام رملي رحمة الله عليه فرماتے ہیں:وَيَجُوزُ الدُّعَاءُ لِلْكَافِرِ بِنَحْوِ صِحَّةِ الْبَدَنِ وَالْهِدَايَةِ
(نهايه المحتاج:1/ 533)
حاشيه الجمل:1/ 389

https://islamiafkaar.com/podcast-player/31462/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-1282.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 0:52

فقہ شافعی سوال نمبر – 1283

بدھ _11 _دسمبر _2024AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

فقہ شافعی سوال نمبر / 1283
کسی ایسے شخص کے حق میں جو مسلمان نہ ہو کیا اس کے لیے صحت و برکت یا ہدایت کی دعا کرنے کا کیا حکم ہے؟
ایسے کسی شخص کے لیے جو مسلمان نہ ہو یا اس شخص کا اسلام و مسلمان سے دشمنی بھی ظاہر نہ ہو تو اسلامی تعلیم کے مطابق حسن سلوک کا تقاضہ یہ ہے اس کی صحت و اس کے مال میں برکت کی دعا کرسکتے ہیں اسی طرح کسی بھی کافر کے حق میں اس کی زندگی میں ہدایت کی دعا کی جاسکتی ہے
امام رملي رحمة الله عليه فرماتے ہیں: وَيَجُوزُ الدُّعَاءُ لِلْكَافِرِ بِنَحْوِ صِحَّةِ الْبَدَنِ وَالْهِدَايَةِ
(نهايه المحتاج:1/ 533)

https://islamiafkaar.com/podcast-player/31537/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-1283.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 1:09

فقہ شافعی سوال نمبر – 1284

اتوار _15 _دسمبر _2024AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

فقہ شافعی سوال نمبر / 1284
اقامت کہنے والا امام کے پیچھے کھڑے ہوکر ہی اقامت کہنا ضروری ہے یا کسی بھی جگہ سے اقامت کہہ سکتا ہے؟
امام کے پیچھے ہی کھڑا ہوکر اقامت کہنا درست ہے لیکن ضروری نہیں ہے. بلکہ مستحب یہ ہے کہ اذان دی ہوئی جگہ کے علاوہ کسی بھی جگہ سے اقامت کہہ سکتے ہیں
قال الإمام العمراني: وإذا أراد المؤذن الإقامة. فالمستحب له: أن يتحول من موضع الأذان إلى غيره.
(البيان ٨٥/٢) قال الإمام البغوي: ويستحب أن يتحول عن موضع الأذان إلى غيره للإقامة. (التهذيب٤٠/٢)
المجموع ١٤٤/٤ بحر المذهب ٥٤/٢
المنهاج القويم _ ٨٥

https://islamiafkaar.com/podcast-player/31569/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-1284.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 0:39

فقہ شافعی سوال نمبر – 1285

اتوار _22 _دسمبر _2024AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

فقہ شافعی سوال نمبر / 1285
طواف اور سعی کرنے کے دوران ٹھکاوٹ کی وجہ سے رکنے یا آرام کرنے کا کیا مسئلہ ہے؟
اگر کوئی شخص طواف یا سعی کے دوران تھک جائے یا بیمار ہوجائے اور آرام یا تھکن دور کرنے کی غرض سے طواف اور سعی کے چکر کو پورا کرنے سے پہلے رکنا چاہے تو رک بھی سکتا ہے اور کچھ دیر آرام کرنے کے لیے بیٹھ بھی سکتا ہے۔ البتہ بقیہ چکر اسی جگہ سے شروع کرے گا جہاں پر وہ رکاتھا چاہے وقفہ طویل ہوجائے۔
يستحب موالات الطواف فيتابع بين الاشواط ولا يفرق بين الطوافات السبع فلو فرق تفريقا كثيرا بلا عذر لا يبطل طوافه…. ولو اقيمت الصلاة المكتوبة وهو في الطواف*او عرضت له حاجه لابد منها وهو في اثناء الطواف قطعه فاذا فرغ بنى على ما سبق سواء طال الفصل او قصر.
(المعتمد:٢/٣٥٣)
(فَلَوْ أَحْدَثَ فِيهِ تَوَضَّأَ وَبَنَى وَفِي قَوْلٍ اسْتَأْنَفَ).(وَبَنَى) إلَّا الْمُغْمَى عَلَيْهِ وَالْمَجْنُونَ فَيَسْتَأْنِفَانِ مُطْلَقًا (فَلَوْ أَحْدَثَ إلَخْ) نَقَلَ فِي الْكِفَايَةِ عَنْ النَّصِّ أَنَّهُ لَوْ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، وَجَبَ الِاسْتِئْنَافُ وَالْوُضُوءُ وَعَلَّلَهُ بِزَوَالِ التَّكْلِيفِ بِخِلَافِ الْمُحْدِثِ بِغَيْرِهِ.
حاشيتا القليوبي وعميرة :٢/٤٧٨
قال الامام النووي:حَيْثُ قَطَعَ الطَّوَافَ فِي أَثْنَائِهِ بِحَدَثٍ أَوْ غَيْرِهِ وَقُلْنَا يَبْنِي عَلَى الْمَاضِي فَظَاهِرُ عِبَارَةِ جُمْهُورِ الْأَصْحَابِ أَنَّهُ يَبْنِي مِنْ الْمَوْضِعِ الَّذِي كَانَ وَصَلَ إلَيْهِ.وَاحْتَجَّ الْمَاوَرْدِيُّ فِي الْبِنَاءِ عَلَى قُرْبٍ بِإِجْمَاعِ الْمُسْلِمِينَ عَلَى أَنَّ الْقُعُودَ الْيَسِيرَ فِي أَثْنَاءِ الطَّوَافِ لِلِاسْتِرَاحَةِ لَا يَضُرُّ.
المجموع:٨/٤٩,٤٨
تحفة مع الحواشي:٥/١٣٠
البيان ٤/٢٨٤

https://islamiafkaar.com/podcast-player/31610/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-1285.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 1:45

فقہ شافعی سوال نمبر – 1286

پیر _23 _دسمبر _2024AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

فقہ شافعی سوال نمبر / 1286
مسجد کے باہری حصہ میں سخت بدبو ہو تو ایسی بدبودار جگہ پر نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
مسجد کے باہر جگہ اگر صاف ہو تو نماز پڑھنا درست ہے.جب کہ گذرنے والوں کو تکلیف نہ ہو ہاں اگر باہر مسجد سے متصل جگہ پر سخت بدبو ہو تو ایسی بدبو دار جگہ پر نماز پڑھنا مکروہ ہے جس سے نماز کے خشوع و خضوع میں خلل ہوتا ہے لیکن اگر نماز پڑھنے کی جگہ پر نجاست ہو یا کپڑا یا بدن نجس ہو تو نماز فاسد ہوگی۔
أما قارعة الطريق، فالنهي عن الصلاة فيها لمعنيين:أحدهما: أنها لا تنفك عن النجاسات غالبًا، لأنها ممر الدواب والبهائم، والثاني: أن المارة تكثر فيها، فلا يكمل الخشوع ويتعلق قلبه بما يتوهمه من المارة بين يديه، فلو بسط فيها ثوبًا طاهرًا، فالكراهية باقية، وإن ارتفع معنى النجاسة، لأن المعنى الثاني يمنع الخشوع في الصلاة، ويوجب اشتغال القلب، وهو قبل بسط الثوب الطاهر عليها موجود بعده، وتنعقد الصلاة. ولو صلى فيها في جوف الليل، فمكروه، لأنه لا يأمن مرور المارة بين يديه بالليل كهو بالنهار.
(التعليقه٢/ ٩٤٩)
المهمات ٣/ ١٥١
التهذيب٢/ ٢٠٥
العزيز ٢/ ١٨

https://islamiafkaar.com/podcast-player/31616/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-1286.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 1:07

فقہ شافعی سوال نمبر – 1287

منگل _7 _جنوری _2025AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

فقہ شافعی سوال نمبر / 1287
اگر کوئی شخص اپنے والدین یا کسی رشتہ دار کے ایصال ثواب کے لیے کوئی چیز بنائے مثلاً راستے میں واٹر کولر (Water Cooler) یا مسجد میں اوقات نماز بورڈ (Prayer Time Table) لگائے تو کیا اس پر ان کے نام کی تختی لگانے کا کیا مسئلہ ہے؟
مرحومین کے ایصالِ ثواب کیلئے دی ہوئی چیزوں پر ان کے نام کی تختی لگانے میں کوئی حرج نہیں البتہ جب دکھاوے اور نام و نمود کا اندیشہ ہو تو نہ لگانا بہتر ہے اگر یہ نیت ہو کہ یہاں سے پانی پینے والے لوگ مرحومین کے حق میں دعا کرینگے تو اس نیت کے ساتھ نام کی تختی لگانا درست ہے۔
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:”وَلَا بَأْسَ أَنْ يُقَالَ مَسْجِدُ فُلَانٍ وَمَسْجِدُ بَنِي فُلَانٍ عَلَى سَبِيلِ التَّعْرِيفِ“
(المجموع :٢ / ٢٠٧)
محمد زحیلی فرماتے ہیں:أن دفع صدقة التطوع في السر أفضل منها في العلن ،لقوله عز و جل….
(المعتمد: ٢ / ١٤٢)
امام سیوطی فرماتے ہیں القاعدة:الأصل في الأشياء الاباحة حتى يدل الدليل على التحريم
(الأشباه و النظائر: ١٠٣)

https://islamiafkaar.com/podcast-player/31703/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-1287.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 1:13

فقہ شافعی سوال نمبر – 1288

ہفتہ _11 _جنوری _2025AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

فقہ شافعی سوال نمبر / 1288
میت کی نماز جس طرح فرض کفایہ ہے اسی طرح میت کو کندھا دینا اور تدفین کے عمل میں شریک ہونا بھی فرض کفایہ ہے
أمام نووی فرماتے ہیں: قال الشافعي والاصحاب: حمل الجنازة فرض كفاية، ولا خلاف فيه“.
المجموع: ٦ / ٢٦٩
الموسوعة الفقهية الكويتية: ١٦ / ١١
المهذب: ١ / ٢٥١
نهاية المطلب في دراية المذهب: ٣ / ٤٢

https://islamiafkaar.com/podcast-player/31738/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-1288.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 0:27

فقہ شافعی سوال نمبر – 1289

جمعرات _16 _جنوری _2025AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

فقہ شافعی سوال نمبر / 1289
شادی کی غرض سے لڑکی کو دیکھنے کا کیا مسئلہ ہے؟ اور شرعا اس کی کیا حد مقرر ہے؟
کسی بھی اجنبی عورت کو دیکھنا حرام ہے، نکاح سے پہلے منگیتر کو دیکھنا بھی حرام ہے، اس لیے کہ نکاح سے پہلے منگیتر بھی اجنبی عورت کے حکم میں ہوتی ہے، البتہ نکاح کی غرض سے منگنی کے وقت چہرہ اور ہتھیلیوں کو دیکھنا جائز ہے۔ بال یا سر وغیرہ کو دیکھنا جائز نہیں۔
شیخ عز الدین بن عبدالسلام رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: من رغب في نكاح امرأة فله النظر إلى وجهها وكفَّيها وإن خاف الفتنة، واستحبَّه الأكثرون، ولا يقف على إذنها، بل له أن يسرقها النظر، ولا يجوز إلى غير الوجه والكفِّ اتِّفاقًا.
(الغاية في اختصار النهاية:٨٨/٥)
اصحاب الفقه المنهجي فرماتے ہیں: ومن الأمور المستحبّة التي رغّب فيها الإسلام أن ينظر الخاطب إلى المخطوبة قبل الخطبة، إذا قصد نكاحها… وله تكرير النظر ثانيًا وثالثًا إن احتاج إليه، ليتبين هيئتها، فلا يندم بعد النكاح، إذ لا يحصل الغرض غالبًا بأول نظرة.
(الفقه المنهجي: ٤٦/٤)
علامہ رملی فرماتے ہیں: هَلْ يَجُوزُ تَكْرِيرُ نَظَرِ الْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ إلَى الْمَخْطُوبَةِ مِنْ غَيْرِ حَاجَةٍ؟(فَأَجَابَ) بِأَنَّهُ لَا يَجُوزُ.
(فتاویٰ الرملی:١٨٢/٣)
نهاية المطلب في دراية المذهب: ٣٧/١٢
النجم الوهاج: ١٩/٧
حاشية الجمل: ١٩٩/٤

https://islamiafkaar.com/podcast-player/31756/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-1289.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 0:56

فقہ شافعی سوال نمبر – 1290

پیر _20 _جنوری _2025AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments

فقہ شافعی سوال نمبر / 1290
والدین کا کنواری لڑکی کی رائے اور اجازت کے بغیر اپنی مرضی سے رشتہ طے کرنے کیا مسئلہ ہے؟
کسی لڑکی یا لڑکے کو والدین کا زبردستی نکاح پر مجبور کرنا اسلامی تعلیمات کے عدل و شفقت کے اصولوں کے خلاف ہے البتہ صرف والد یا اس کی عدم موجودگی میں دادا کو یہ اجازت ہے کہ کنواری لڑکی کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر كفو يعنى دين حسب ونسب اور مال کے اعتبار سے اس کے جیسا شخص سے کرے لیکن ان کے لئے بھی مستحب یہی ہے کہ اس سے اجازت لی جائے۔ اگر باپ یا دادا اس کا نکاح غیر مناسب شخص (غیر کفؤ) سے کرتا ہے تو یہ نکاح باطل ہوگا
فَقَالَ الشَّافِعِيُّ وبن ابي ليلى وأحمد واسحق وَغَيْرُهُمُ الِاسْتِئْذَانُ فِي الْبِكْرِ مَأْمُورٌ بِهِ فَإِنْ كَانَ الْوَلِيُّ أَبًا أَوْ جَدًّا كَانَ الِاسْتِئْذَانُ مَنْدُوبًا إِلَيْهِ.
(شرح النووي على مسلم ٩/٢٠٤)
ويجوز للاب والجد تزويج البكر من غير رضاها صغيرة كانت أو كبيرة: لما روى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قال (الثيب أحق بنفسها من وليها والبكر يستأمرها أبوها في نفسها) فدل على أن الولى أحق بالبكر وإن كانت بالغة فالمستحب أن يستأذنها.
(المجموع شرح المهذب. تكملة المطيعي الأولى ١٦/‏١٦٥)
تَزْوِيجُ الْأَبِ الْبِكْرَ الصَّغِيرَةَ بِغَيْرِ كُفْءٍ بَاطِلٌ وَإِنْ رَضِيَتْ إذْ لَا عِبْرَة.
(الفتاوى الفقهية الكبرى ٤/‏٩٣)
البيان في مذهب الإمام الشافعي ٩/‏١٨١
حلية العلماء في معرفة مذاهب الفقهاء :٦/‏٣٣٦

https://islamiafkaar.com/podcast-player/31791/%d9%81%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%81%d8%b9%db%8c-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-1290.mp3

Download file | Play in new window | Duration: 1:29

1 … 84 85 86 87 88

↓↓↓ براہِ راست سننے كے لئے كلك كریں ↓↓↓


↓↓↓ براہِ راست سننے كے لئے كلك كریں ↓↓↓
Islamiafkaar is on Mixlr
بھٹکل آذان ٹائم بدھ 27 Shawwal 1447ﻫ

٢٦ شَوَّال ١٤٤٧

Suhoor End 4:57 am
Iftar Start 6:48 pm
Prayer Begins
Fajr5:02 am
Sunrise6:18 am
Zuhr12:38 pm
Asr3:46 pm
Maghrib6:48 pm
Isha7:54 pm

تازہ اِضافے

  • درس قرآن نمبر 0555
  • درس حدیث نمبر 0826
  • درس قرآن نمبر 0554
  • درس قرآن نمبر 0553
  • درس حدیث نمبر 0636
  • درس قرآن نمبر 0552
  • فقہی دروس نمبر 020– 11-04-2026
  • درس قرآن نمبر 0551
  • اسلام میں علم کا مقام – 10-04-2026
  • فقه الأسماء الحسنى – 10-04-2026

ہماری نئی معلومات كے لئے

  • مركزی صفحہ
  • كچھ اپنے بارے میں
  • قرآن
  • درس قرآن
  • درس حدیث
  • فقہی مسائل
  • خطبات الحرمین
  • خطبات الحرمین اردو
  • بھٹكل جمعہ خطبات
  • اہم بیانات
  • جمعہ بیانات
  • دیگر بیانات
  • مختصر اوڈیو
  • رمضان ایک منٹ كا سبق
  • دعائیں
  • اوقات الصلاۃ
  • ایمیل سروسس
  • فقہ شافعی سوالات
  • گروپ میں شامل ہونے كے لئے

Copyright © 2014 • اسلامی افکار • Finch Theme