بدھ _18 _جنوری _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر – 1140
اگر امام تشہد اول میں بیٹھ جائے اور مقتدی کھڑے ہوجائیں تو مقتدیوں کو دوبارہ تشہد اول میں جانا چاہیے یا کھڑے کھڑے امام کا انتظار کرنا چاہیے؟
اگر امام تشہد اول میں بیٹھ جائے اور مقتدی حضرات کھڑے ہوجائیں تو مقتدیوں کو دوبارہ تشہد اول میں جانا ضروری ہے اسلئے کہ نماز میں امام کی متابعت فرض ہے.
وإذا انتصب المَأْمُوم ناسِيا وجلسَ إمامه للتَّشَهُّد الأول وجب عَلَيْهِ العود لِأن المُتابَعَة آكد. (الإقناع: ١/١٥٧)
ولو قعد الإمام للتشهد الأول، وقام المأموم ناسيًا عاد في أصح الوجهين، لأن متابعة الإمام فرض. (المهمات: ٣/٢١٩)
ولَو قعد الامام للتَّشَهُّد الأول وقامَ المَأْمُوم ناسِيا فالصَّحِيح وجوب العود إلى مُتابعَة الامام فَإن لم يعد بطلت صلاته هَذا كُله فِيمَن انتصب قائِما أما إذا انتهض ناسِيا وتذكر قبل الانتصاب فَقالَ الشّافِعِي والأصْحاب يرجع إلى التَّشَهُّد. (كفاية الأخيار ١/١٢٥)
وقد قعد الإمام وقامَ المَأْمُوم إلى الرَّكْعَة الثّالِثَة فَهَل يرجع فعلى وجْهَيْن أحدهما نعم لِأن القدْوَة أيْضا واجِبَة. (الوسيط في المذهب ٢/١٩٠)
منگل _31 _جنوری _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1141
نماز میں تلاوت جلدی کرنے اور رک رک کر کرنے کا کیا حکم ہے؟
قران مجید کی تلاوت ٹہر ٹہر کر پورے اطمینان کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے اسی طرح نماز میں بھی قران کی تلاوت ٹہر ٹہر کر پورے استحضار کے ساتھ کرنا چاہیے۔
والمستحب: أن يقرأ قراءة مرتلة، من غير عجلة، ولا تمطيط. ويستحب ذلك لكل قارئ في الصلاة وغيرها؛ لِقَوْلِهِ تَعالى: ﴿ورَتِّلِ القُرْآنَ﴾ إلا أنه في الصلاة أشد استحبابًا؛ لأن القراءة تجب فيها دون غيرها. (البيان في مذهب الإمام الشافعي ٢/١٨٦)
ويُسَنُّ تَرْتِيلُ القِراءَةِ: قالَ الله تعالى (ورتل القرآن ترتيلا) وثَبَتَ فِي الأحادِيثِ الصَّحِيحَةِ أنَّ قِراءَةَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ كانَتْ مُرَتَّلَةً واتَّفَقُوا عَلى كَراهَةِ الإفْراطِ فِي الإسْراعِ ويُسَمّى الهَذُّ قالُوا وقِراءَةُ جُزْءٍ بِتَرْتِيلٍ أفْضَلُ مِن قراءة جزءين فِي قَدْرِ ذَلِكَ الزَّمَنِ بِلا تَرْتِيلٍ قالَ العُلَماءُ والتَّرْتِيلُ مُسْتَحَبٌّ لِلتَّدَبُّرِ. (المجموع شرح المهذب ٢/١٦٥)
التهذيب في فقه الإمام الشافعي:٢/٩٧ أسنى المطالب في شرح روض الطالب ١/٦٣ بحر المذهب للروياني:٢/٢٥
منگل _24 _جنوری _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1142
قسم کے کفارہ کے روزے تینوں ایک ساتھ رکھنا ضروری ہے یا الگ الگ رکھ سکتے ہیں؟
اگر کوئی شخص قسم کھانے کے بعد اسے توڑ دے تو اس پر کفارہ لازم ہوتا ہے. کفارہ میں غلام آزاد کرنا یا دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا کپڑے پہنانا یا تین دن بالترتیب روزے رکھنا ہے۔ البتہ روزہ پے درپے رکھنا افضل ہے. اگر کوئی شخص متفرق (الگ الگ) طور پر رکھنا چاہے تو اس کی گنجائش ہے.
(عَنْ) كُلٍّ مِن (الثَّلاثَةِ) المَذْكُورَةِ (لَزِمَهُ صَوْمُ ثَلاثَةِ أيّامٍ) لِلْآيَةِ إذْ هِيَ مُخَيَّرَةٌ ابْتِداءً مُرَتَّبَةٌ انْتِهاءً، (ولا يَجِبُ تَتابُعُها فِي الأظْهَرِ) لِإطْلاقِ الآيَةِ، وصَحَّ عَنْ عائِشَةَ كانَ فِيما أُنْزِلَ ثَلاثَةَ أيّامٍ مُتَتابِعاتٍ فَسَقَطَتْ مُتَتابِعاتٌ، وهُوَ ظاهِرٌ فِي النُّسَخِ خِلافًا لِمَن جَعَلَهُ ظاهِرًا فِي وُجُوبِ التَّتابُعِ الَّذِي اخْتارَهُ كَثِيرُونَ، وأطالُوا فِي الِاسْتِدْلالِ لَهُ بِما أطالَ الأوَّلُونَ فِي رَدِّهِ. (تحفة المحتاج مع حواشي الشرواني والعبادي: ١٠/١٨)
وإذا عجز الحر أو المبعض عما مر .. صام ثلاثة أيام كالرقيق ولو مكاتبًا لم يأذن له سيده. والأفضل الولاء بين صومها؛ خروجًا من خلاف من أوجبه، وجاز التفريق بينها؛ لإطلاق الآية، ولبنائها على التخفيف. (فتح الرحمن بشرح زبد ابن رسلان:٩٦٣)
عجالة المحتاج إلى توجيه المنهاج: (٤/١٧٧٤) حاشيتا قليوبي وعميرة:(٤/٢٧٦)
بدھ _1 _فروری _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1143
جانور یا پرندے کو ذبح کرنے کے بعد اگر اس کے پیٹ سے علقہ یا مضغہ نکلے تو کیا وہ ایسا حمل کا تکڑا کھانے کا کیا مسئلہ ہے؟
حلال جانور یا پرندے کو ذبح کرنے کے بعد اگر اس کے پیٹ سے ایسا حمل علقہ یا مضغہ یعنی خون اور گوشت کا تکڑا نکلے جس کی شکل و صورت نہ بنی ہو تو یہ دونوں کا کھانا درست نہیں
وأمّا المُضْغَةُ الَّتِي لَمْ تَتَشَكَّلْ والعَلَقَةُ فَلا يَحِلّانِ وإنْ كانا ظاهِرَيْنِ هَذا هُوَ المَنقُولُ عَنْ المَشايِخِ. حاشية الجمل على شرح المنهج: ٥/٢٧٠
وشَرْطُ حِلِّهِ أنْ يَخْرُجَ مُضْغَةً مُخَلَّقَةً، فَإنْ كانَ عَلَقَةً لَمْ يُؤْكَلْ لِأنَّهُ دَمٌ ولَوْ لَمْ تَتَخَطَّطْ المُضْغَةُ لَمْ تَحِلَّ بِناءً عَلى عَدَمِ وُجُوبِ الغُرَّةِ فِيها وعَدَمِ ثُبُوتِ الِاسْتِيلادِ مغني المحتاج :١٨٤/٧
العزيز شرح الوجيز ١٥٥/١٢ حاشية البجيرمي على الخطيب ٣٢١/٤
جمعرات _2 _فروری _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1144
مسافر سفر سے اپنے شہر پہنچ جائے لیکن گھر نہ جائے بلکہ شہر کی مسجد میں چلا جائے تو کیا ایسا شخص قصر کر سکتا ہے؟
مسافر شخص اپنے شہر میں داخل ہوتے ہی مقیم ہوجائے گا۔ جب سفر ختم ہوجائے یا مسافر اس جگہ پہنچ جائے جہاں سے اس نے سفر شروع کیا تھا تو اب اسے قصر کی اجازت نہیں
العَوْدُ إلى الوَطَنِ، والضَّبْطُ فِيهِ: أنْ يَعُودَ إلى المَوْضِعِ الَّذِي شَرَطْنا مُفارَقَتَهُ فِي إنْشاءِ السَّفَرِ مِنهُ. وفِي مَعْنى الوَطَنِ: الوُصُولُ إلى المَوْضِعِ الَّذِي يُسافِرُ إلَيْهِ إذا عَزَمَ عَلى الإقامَةِ فِيهِ القَدْرَ المانِعَ مِنَ التَّرَخُّصِ. (روضة الطالبين وعمدة المفتين: ١٧١)
المجموع شرح المهذب ٣٣٣/٥ العزيز شرح الوجيز ٢/٢١٢ أسنى المطالب ١/٢٣٦ التهذيب في فقه الإمام الشافعي ٢/٣٠٠
پیر _13 _فروری _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1145
نماز جنازہ میں کھڑے ہونے کی قدرت کے باوجود بیٹھ کر پڑھنے کا کیا مسئلہ ہے؟
کھڑے ہونے کی قدرت کے باوجود اگر کوئی شخص بیٹھ کر نماز جنازہ پڑھتا ہے تو نماز درست نہیں ہوگی اس لیے کہ نماز جنازہ بھی کھڑے ہوکر پڑھنا شرط ہے.
ولا تَصِحُّ صَلاةُ الجِنازَةِ قاعِدًا مَعَ القُدْرَةِ عَلى القِيامِ سَواءٌ تَعَيَّنَتْ أمْ لا. (المجموع :٢/٣٠٠)
ومن شرط صحة صلاة الجنازة الطهارة وستر العورة لانها صلاة فشرط فيها الطهارة وستر العورة كسائر الصلوات ومن شرطها القيام واستقبال القبلة لانها صلاة مفروضة فوجب فيها القيام واستقبال القبلة مع القدرة كسائر الفرائض. (المجموع :٥/٢٢٢)
نهاية المطلب :١/١٨٢ التهذيب :١/٤٠٢ البيان: ٣/٦٣
اتوار _12 _فروری _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1146
عمرہ کے ارکان کیا ہیں؟
عمرہ کے پانچ ارکان ہیں۔١) میقات یا میقات سے پہلے احرام پہن کر عمرہ کی نیت کرنا۔
٢) کعبۃ اللہ کا طواف کرنا۔
٣) صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا صفا سے شروع کرنا۔
٤) بال کاٹنا یا حلق (مکمل بال صاف کرنا) مردوں کے لیے یا اسی طرح تقصیر یعنی چھوٹا کرنا۔ صرف عورتوں کے لیے تقصیر کرنا ہے چاہے دو چار بال ہی نکالے
٥) اوپر ذکر کی گئی ترتیب کے مطابق عمرہ کے اعمال کو کو ادا کرنا۔
: أرْكانُ الحَجِّ خَمْسَةٌ: الإحْرامُ، والوُقُوفُ، والطَّوافُ، والسَّعْيُ، والحَلْقُ إذا جَعَلْناهُ نُسُكًا ولا تُجْبَرُ بِدَمٍ، وما سِوى الوُقُوفِ أرْكانٌ فِي العُمْرَةِ أيْضًا. (مغني المحتاج إلى معرفة معاني ألفاظ المنهاج: ٢/٢٨٥)
جمعہ _24 _فروری _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1147
سیلات یا زلزلہ سے متأثرین کی امداد کے لیے رقم جمع کی جارہی ہے۔کیا ایسے لوگوں کے لیے زکات کی رقم دی جاسکتی ہے؟
سیلاب یا کسی اسمانی آفات کی وجہ سے اگر لوگوں کا مال ضائع ہوجائے اور ان کے پاس مال ہو لیکن ضروریات کے لئے کافی نہ ہو، یا مال ہو لیکن استعمال پر قدرت نہ ہو یعنی بینک وغیرہ میں جمع ہو اور اس مال کو نکالنا بھی ممکن نہ ہو تو ایسے افراد مستحقین زکاۃ کی فہرست میں شمار ہونگے، لہذا ایسے متاثرین کو زکوۃ کی رقم دینا جائز ہے۔
علامہ شیرازی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ويجب صرف زكاة المال إلى ثمانية أصناف…. والثالث: المساكين، وهم الذين يقدرون على ما يقع موقعًا من كفايتهم ولا يكفيهم، فيدفع إليهم ما تتم به الكفايةاھ (التنبيه :١/٦٣)
امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: وإنَّما يُعْطى المُسافِرُ بشرط حاجَتِهِ فِي سَفَرِهِ ولا يَضُرُّ غِناهُ فِي غَيْرِ سَفَرِهِ فَيُعْطى مَن لَيْسَ مَعَهُ كِفايَتُهُ فِي طَرِيقِهِ وإنْ كانَ لَهُ أمْوالٌ فِي بَلَدٍ آخَرَ…. ولا يَضُرُّ غِناهُ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ (المجموع: ٦/٢١٤)
امام مجاہد رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ثَلاثَةَ مِنَ الغارِمِينَ : رَجُلْ ذَهَبَ السَّيْلُ بِمالِهِ، وَرَجُلٌ أَصابَهُ حَرِيقَ فَذَهَبَ بمالِهِ، وَرَجُلْ لَهُ عِيالَ ولَيْسَ لَهُ مَالْ فَهُوَيْدانُ وَيُنْفَقُ عَلَى عِيالِهِ (مصنف ابن أبي شيبة: ٤٢٤/٢)
(وله التوكيل) في التفرقة حيث يجوز له التفرقة بنفسه؛ لأنه حقّ مالي فجاز التوكيل في أدائه؛ كحقوق الآدميين (بدايه المحتاج: ١/٥٤٠)
الإقناع للماوردي:١/٧١ فتح القريب: ١/١٣٢
اتوار _26 _فروری _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1148
مردوں کے لیے اللہ کا نام لکھی ہوئی یا نگینہ کے بغیر والی انگوٹھی پہننے کا کیا مسئلہ ہے؟
مرد حضرات کے لیے بغیر نگینہ والی انگوٹھی پہننا جائز ہے نیز اس میں اللہ کا نام لکھا ہوا ہو تو کوئی حرج نہیں جائز ہے.
امام نووی رحمة اللہ عليه فرماتے ہیں: ويَجُوزُ الخاتَمُ بِفَصٍّ وبِلا فَصٍّ (المجموع شرح المهذب: ٤/٤٦٣)
علامہ ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ويَجُوزُ نَقْشُهُ وإنْ كانَ فِيهِ ذِكْرُ اللَّهِ تَعالى ولا كَراهَةَ فِيهِ (تحفة المحتاج :٣/٢٧٦
شرح المقدمة الحضرمية: ١/٤١٦) حاشية الجمل:١/٨٢
بدھ _1 _مارچ _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1149
ناک کے بالوں کا کیا حکم ہے؟
ناک کے بال سانس لینے والی ہوا کو فلٹر کرتے ہیں اور ہوا میں پھیلنے والے جراثیم وغیرہ سےحفاظت کرتے ہیں، یہ بال اگر زیادہ بڑھ جائیں اور اس سے خارش ہو تو ان بالوں کو کاٹنا مستحب ہے، البتہ ان بالوں کو اکھاڑنا مکروہ ہے
علامہ دمیاطی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: وكَرِهَ المُحِبُّ الطَّبَرِيُّ نَتْفَ الأنْفِ قالَ: بَلْ يَقُصُّهُ لِحَدِيثٍ فِيهِ، قِيلَ بَلْ فِي حَدِيثٍ أنَّ فِي بَقائِهِ أمانًا مِن الجُذامِ اهـ. ويَنْبَغِي أنَّ مَحَلّه ما لَمْ يَحْصُلْ مِنهُ تَشْوِيهٌ وإلّا فَيُنْدَبُ قَصُّهُ. (إعانة الطالبين :٢/٩٨)
شعب الایمان:٢٥٠٩ طب نبوی:٣٠٩ شبراملسي مع نهاية المحتاج :٢/٣٤١ تحفة المحتاج: ٢/٤٧٦
بدھ _8 _مارچ _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1150
مسجد، مدرسہ، یا کسی ادارے کے لیے وقف کی ہوئی چیز کو واپس لینے کا کیا مسئلہ ہے؟
اگر کوئی شخص کسی چیز کو مسجد کے لیے وقف کردیا ہو تو اس وقف شدہ چیز کو بغیر ضرورت شرعیہ کے واپس لینا یا بیچنا، خریدنا یا ہبہ کرنا جائز نہیں۔
قال الامام الماوردي رحمة الله عليه : فَإذا وقَفَ شَيْئًا زالَ مِلْكُهُ عَنْهُ بِنَفْسِ الوَقْفِ ولَزِمَ الوَقْفُ، فَلا يَجُوزُ لَهُ الرُّجُوعُ فِيهِ بَعْدَ ذَلِكَ ولا التَّصَرُّفُ فِيهِ بِبَيْعٍ ولا هِبَةٍ (الحاوى الكبير:٧\٥١١)
*بحر المذهب ٧\٢٠٨ *مغنى المحتاج ٣\٥٦٩
منگل _7 _مارچ _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1151
اندھیرے میں نماز پڑھنا کا کیا حکم ہے؟
اندھیرے میں نماز پڑھنا بلا کراہت جائز ہے شرط یہ ہے کہ اندھیرے میں نماز پڑھتے وقت مکمل قبلہ کی سمت ہو کر نماز پڑھ رہا ہو ہاں اگر قبلہ رخ ہونے میں شک ہوجائے تو اس نماز کا اعادہ کرنا واجب ہوگا
فإن أداء الصلاة في المكان المظلم لا حرج فيه وهو أمر جائز. (فتاوى الشبكة الإسلامية: ١١\١٢٢٣٣)
امام الشافعي فرماتے ہیں: وصَلّى فِي ظُلْمَةٍ واجْتَهَدَ فِي اسْتِقْبالِ القِبْلَةِ فَعَلِمَ أنَّهُ أخْطَأ اسْتِقْبالَها لَمْ يُجْزِهِ إلّا أنْ يُعِيدَ الصَّلاةَ (كتاب الأم: ١/١١٤)
قد يقال بكراهة الصلاة في مكان مظلم إذا كان المصلي يخاف من الظلام ويتشوش ذهنه، كما قد يقال باستحبابها إذا كانت الصلاة في الظلام أدعى للخشوع والبعد عن النظر إلى ما يلهي (اسلام ويب ؛ رقم الفتوى: ١٥٥٥٠٩)
إعانة الطالبين:١/٢١٤
جمعرات _9 _مارچ _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1152
اندھیرے میں نماز پڑھتے وقت کیا سجدہ کی جگہ دیکھنا ضروری ہے یا نہیں؟
اندھیرے میں نماز پڑھتے وقت بھی اپنے آنکھوں کو سجدہ کی جگہ پر رکھنا سنت ہے چونکہ نماز میں سجدہ کی جگہ پر دیکھنا خشوع کا سبب ہے
في شرح المقدمة الحضرمية: يسن أيضًا للمصلي (نظر موضع السجود) أي: سجوده في جميع صلاته ولو صلاة جنازة، والأعمى ومن في ظلمة تكون حالتهما كحالة الناظر لمحل سجوده؛ لأنه أقرب إلى الخشوع.. (شرح المقدمة الحضرمية: ١/٢١٨)
اتوار _12 _مارچ _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1153
*نفل نماز پڑھتے وقت اگر والدین پکارے تو انہیں جواب دینے کا کیا حکم ہے؟*
*اگر کوئی نفل نماز پڑھ رہا ہو اور والدین میں سے کوئی اسے پکارے تو نماز کی حالت میں جواب دینا واجب ہے، البتہ جواب دینے سے نماز باطل ہوجائے گی، فرض نماز پڑھ رہا ہو تو جواب دینا حرام ہے*
*امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: فِيهِ قِصَّةُ جُرَيْجٍ وأنَّهُ آثَرَ الصَّلاةَ عَلى إجابَتِها فَدَعَتْ عَلَيْهِ فاسْتَجابَ اللَّهُ لَها قالَ العُلَماءُ هَذا دَلِيلٌ عَلى أنَّهُ كانَ الصَّوابُ فِي حَقِّهِ إجابَتَها لِأنَّهُ كانَ فِي صَلاةِ نَفْلٍ والِاسْتِمْرارُ فِيها تَطَوُّعٌ لا واجِبٌ وإجابَةُ الأُمِّ وبِرُّها واجِبٌ وعُقُوقُها حَرامٌ.* (شرح النووي على المسلم: ١٦ / ١٠٥)
*علامہ سلیمان الجمل رحمة اللہ عليه فرماتے ہیں: إجابَةِ أحَدِ الوالِدَيْنِ وإنْ شَقَّ عَدَمُ إجابَتِهِ فَإنَّها لا تَجِبُ حِينَئِذٍ بَلْ تَحْرُمُ فِي الفَرْضِ ويَبْطُلُ بِها وتَجُوزُ فِي النَّفْلِ ويَبْطُلُ بِها والإجابَةُ فِيهِ أوْلى إنْ شَقَّ وغَيْرُهُ مِن الأنْبِياءِ كَسَيِّدِنا عِيسى تَجِبُ إجابَتُهُ وتَبْطُلُ بِها الصَّلاةُ.* (حاشية الجمل: ١/٤٢٧)
*علامہ رویانی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: لو ناداه الوالد أو الوالدة وهو في الصلاة، قيل فيه وجهان: أحدهما: يلزمه الإجابة وتبطل صلاته إذا أجاب، والثاني: تلزمه الإجابة ولا تبطل صلاته بها، وفيه وجه ثالث لا تلزمه الإجابة أصلًا، وهذا هو أصح عندي* (بحر المذهب للروياني ٢/٣٠٦)
منگل _9 _مئی _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1154
ایک مرتبہ عمرہ سے فراغت کے بعد اگر کوئی شخص حدود حرم سے باہر کسی کام یا تفریح یا تاریخی مقامات کی زیارت کے لیے جائے تو کیا انہیں واپسی میں عمرہ کا احرام باندھ کر عمرہ کرنا ضروری ہے؟ چونکہ ان دنوں سعودی حکومت کی طرف سے ایک عمرہ کرنے کے بعد دوسرا عمرہ کرنے کی اجازت نہیں ہے؟
جو لوگ حدود حرم میں عمر ہ یا حج کے نیت سے داخل ہوتے ہیں ان کے لیے میقات سے احرام باندھ کر حدود حرم میں داخل ہونا ضروری ہے۔ اگر کوئی ایک مرتبہ مکمل عمرہ کرنے کے بعد کسی وجہ سے حدود حرم سے باہر نکلیں اور واپس حدود حرم میں داخل ہوتے وقت دوبارہ عمرہ کا ارادہ نہ ہو تو احرام باندھنا ضروری نہیں ہے البتہ مستحب یہ ہے کہ دوبارہ حدود حرم میں داخل ہوتے وقت احرام کے ساتھ داخل ہوں۔ چونکہ اس وقت سعودی حکومت کی طرف سے دوبارہ عمرہ کی اجازت نہیں ہے تو بغیر احرام کے ہی چلے جائیں اور دیگر عبادات میں مصروف رہیں۔
(ﻭﻣﻦ ﻗﺼﺪ ﻣﻜﺔ) ﺃﻭ اﻟﺤﺮﻡ ﻭﻟﻮ ﻣﻜﻴﺎ ﺃﻭ ﻋﺒﺪا ﺃﻭ ﺃﻧﺜﻰ ﻟﻢ ﻳﺄﺫﻥ ﻟﻬﻤﺎ ﺳﻴﺪ ﺃﻭ ﺯﻭﺝ ﻓﻲ ﺩﺧﻮﻝ اﻟﺤﺮﻡ، ﺇﺫ اﻟﺤﺮﻣﺔ ﻣﻦ ﺟﻬﺔ ﻻ ﺗﻨﺎﻓﻲ اﻟﻨﺪﺏ ﻣﻦ ﺟﻬﺔ ﺃﺧﺮﻯ (ﻻ ﻟﻨﺴﻚ) ﺑﻞ ﻟﻨﺤﻮ ﺯﻳﺎﺭﺓ ﺃﻭ ﺗﺠﺎﺭﺓ (اﺳﺘﺤﺐ ﻟﻪ ﺃﻥ ﻳﺤﺮﻡ ﺑﺤﺞ) ﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﻓﻲ ﺃﺷﻬﺮﻩ ﻭﻳﻤﻜﻨﻪ ﺇﺩﺭاﻛﻪ (ﺃﻭ ﻋﻤﺮﺓ) ﻭﺇﻥ ﻟﻢ ﻳﻜﻦ ﻓﻲ ﺃﺷﻬﺮﻩ ﻛﺘﺤﻴﺔ اﻟﻤﺴﺠﺪ ﻟﺪاﺧﻠﻪ ﻭﻳﻜﺮﻩ ﺗﺮﻛﻪ ﻟﻠﺨﻼﻑ ﻓﻲ ﻭﺟﻮﺑﻪ (نهاية المحتاج مع حاشيته: ٣/ ٢٧٧)
(ﻭﻣﻦ ﻗﺼﺪ اﻟﺤﺮﻡ) ﻫﻮ ﺃﻋﻢ ﻣﻦ ﻗﻮﻟﻪ ﻣﻜﺔ (ﻻ ﻟﻨﺴﻚ) ﺑﻞ ﻟﻨﺤﻮ ﺯﻳﺎﺭﺓ ﺃﻭ ﺗﺠﺎﺭﺓ (ﺳﻦ) ﻟﻪ (ﺇﺣﺮاﻡ ﺑﻪ) ﺃﻱ ﺑﻨﺴﻚ ﻛﺘﺤﻴﺔ اﻟﻤﺴﺠﺪ ﻟﺪاﺧﻠﻪ ﺳﻮاء ﺃﺗﻜﺮﺭ ﺩﺧﻮﻟﻪ ﻛﺤﻄﺎﺏ ﺃﻡ ﻻ ﻛﺮﺳﻮﻝ ﻗﺎﻝ ﻓﻲ اﻟﻤﺠﻤﻮﻉ ﻭﻳﻜﺮﻩ ﺗﺮﻛﻪ. (شرح المنهج مع حاشية الجمل: ٢/ ٤٢٦)