منگل _6 _دسمبر _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1125
شادی یا کسی پروگرام کے دعوت نامہ پر قرآن کی آیت یا صرف بسم اللہ لکھا ہوا ہو تو اسے غیر مسلم کو دینے کا کیا مسئلہ ہے؟
قرآن مجید ایک مقدس کتاب ہے جس کا احترام کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے جس طرح مکمل کتاب کا احترام ضروری ہے ایسے ہی اس کے ہر جزو اور حصہ کا احترام کرنا بھی ضروری ہے اگر قرآنی آیت دعوت نامہ وغیرہ پر لکھا ہو اور کسی غیر مسلم کو دینے سے بےحرمتی کا اندیشہ ہو تو نہیں دینا چاہیے، اگر بے حرمتی کا اندیشہ نہ ہو تو دے سکتے ہیں غیر مسلم کو مکمل مصحف دینے کے سلسلہ میں جو ممانعت آئی ہے وہ بےحرمتی کے خدشہ کی بناء پر ہے ورنہ عام حالات میں دعوت نامہ دینے میں کوئی حرج نہیں۔
علامہ دمیری رحمة الله عليه فرماتے ہیں: وكذلك الحكم في كتب الفقه، والثوب المطرز بآيات من القرآن، والحيطان المنقوشة به؛ لأنه لا يصدق عليها اسم المصحف.(۱)
علامہ عملی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: لِأنَّهُ لا يُقْصَدُ بِإثْباتِ القُرْآنِ فِيها قِراءَةٌ فَلا تَجْرِي عَلَيْها أحْكامُ القُرْآنِ ولِهَذا يَجُوزُ هَدْمُ جِدارٍ وأكْلُ طَعامٍ نُقِشَ عَلَيْها ذَلِكَ والثّانِي يَحْرُمُ لِإخْلالِهِ بِالتَّعْظِيمِ (۲)
والرَّسائِل الَّتِي فِيها قُرْآنٌ. فَأجازَ المالِكِيَّةُ والشّافِعِيَّةُ والحَنابِلَةُ وبَعْضُ فُقَهاءِ الحَنَفِيَّةِ وهُوَ الأْصَحُّ عِنْدَ أبِي حَنِيفَةَ لِغَيْرِ المُتَطَهِّرِ أنْ يَمَسَّها ويَحْمِلَها ولَوْ كانَ فِيها آياتٌ مِنَ القُرْآنِ، بِدَلِيل: أنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَتَبَ إلى هِرَقْل كِتابًا وفِيهِ آيَةٌ ولأِنَّهُ لاَ يَقَعُ عَلى مِثْل ذَلِكَ اسْمُ مُصْحَفٍ ولاَ تَثْبُتُ لَها حُرْمَتُهُ.(۳)
علامہ خطیب شربینی رحمة الله عليه فرماتے ہیں:ان النبيّ ﷺ كتب إلى هرقل كتابًا فيه قرآن، وهرقل محدث يمسه هو وأصحابه،(٤) (١) النجم الوهاج : ١/٢٨٠ (٢)نهاية المحتاج : ١/١٢٦ (٣)الموسوعة الفقهية: ٣٤/١٨٣ (٤) السراج المنير: ٤/١٩٦
منگل _6 _دسمبر _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 1126
میت کو قبر میں اتارنے کا صحیح طریقہ کیا ہے اور کونسی دعا پڑھنا چاہیے؟
میت کو سر کی جانب سے اٹھاتے ہوئے پہلے پاوں قبر میں اتارنا چاہیے اور اتارتے وقت یہ دعا پڑھنا سنت ہے۔ "بسم الله وبالله وعلى ملَّة رسول الله”
(ويُسَلُّ) المَيِّتُ (مِن قِبَلِ رَأْسِهِ) سَلًّا (بِرِفْقٍ) لا بِعُنْفٍ لِما رَواهُ أبُو داوُد بِإسْنادٍ صَحِيحٍ أنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الخِطْمِيَّ الصَّحابِيَّ – رَضِيَ اللَّهُ تَعالى عَنْهُ – «صَلّى عَلى جِنازَةِ الحَرْبِ، ثُمَّ أدْخَلَهُ القَبْرَ مِن قِبَلِ رِجْلِ القَبْرِ، وقالَ هَذا مِن السُّنَّةِ»، وقَوْلُ الصَّحابِيِّ مِن السُّنَّةِ كَذا، حُكْمُهُ حُكْمُ المَرْفُوعِ، ولِما رَواهُ الشّافِعِيُّ – ﵀ تَعالى – بِإسْنادٍ صَحِيحٍ «أنَّ النَّبِيَّ – ﷺ – سُلَّ مِن قِبَلِ رَأْسِهِ سَلًّا». (مغني المحتاج إلى معرفة معاني ألفاظ المنهاج :٤٤/٢)
(و)يُنْدَبُ (أنْ يَقُولَ) الَّذِي يُدْخِلُهُ القَبْرَ (بِسْمِ اللَّهِ وعَلى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ – ﷺ -) لِلِاتِّباعِ كَما رَواهُ التِّرْمِذِيُّ وصَحَّحَهُ ابْنُ حِبّانَ والحاكِمُ، وفِي رِوايَةٍ سُنَّةِ بَدَلَ مِلَّةِ، ويُسَنُّ أنْ يَزِيدَ مِن الدُّعاءِ ما يُناسِبُ الحالَ
(٥) :ثم يسلُّ من قبل رأسه إذا أمكن؛ لما روي عن ابن عباس؛ قال: سُلَّ رسول الله- ﷺ- من قبل رأسه. وأول ما يدخل القبر رأسه. وقال أبو حنيفة: توضع الجنازة على عُرض القبر مما يلي القِبلة ويقول من يدخله القبر؛ ما رُوي عن ابن عمر؛ أن النبي-ﷺ- كان إذا أدخل الميت القبر قال: «بسم الله وبالله وعلى ملَّة رسول الله»، وفي رواية: «على سُنَّة رسول الله (التهذيب في فقه الإمام الشافعي:٢/٤٤٣)
المجموع شرح المهذب:٢٩٢/٥ المهذب في فقة الإمام الشافعي للشيرازي: ١/٢٥٥
منگل _6 _دسمبر _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 1127
قرآن کی تلاوت میں مصروف شخص کے لئے اپنی تلاوت کو روک کر سلام کرنے کا کیا مسئلہ ہے؟
تلاوت میں مصروف شخص تلاوت کے دوران پاس سے گزرنے والے کو اپنی تلاوت روک کر سلام کرسکتا ہے البتہ جب دوبارہ تلاوت شروع کرے تو بہتر یہ ہے کہ تعوذ پڑھ کر شروع کرے۔
اذا مَرَّ القارِئُ عَلى قَوْمٍ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ وعادَ إلى القِراءَةِ فَإنْ أعادَ التَّعَوُّذَ كانَ حَسَنًا ويُسْتَحَبُّ لِمَن مَرَّ عَلى القارِئِ أنْ يُسَلِّمَ عَلَيْهِ (المجموع: ٢/١٦٧)
ويَلْزَمُ القارِئَ رَدُّ السَّلامِ بِاللَّفْظِ (روضة الطالبين :١٠/٢٣٢)
الغرر البهية: ٥/١٣١ تحرير الفتاوى:٣/٢٨٩ أسنى المطالب :٤/١٨٣
بدھ _7 _دسمبر _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 1128
اگر کوئی نماز پڑھتے ہوئے گر جائے تو اس نماز کا کیا مسئلہ ہے؟کیا نماز ہوجائے گی یا دوبارہ پڑھنا ہوگا؟
نماز میں قبلہ رخ ہونا شرط ہے، اگر کوئی نماز کے دوران گرجائے یا سواری پر نماز کے دوران سواری کے حرکت سے سینہ قبلہ سے ہٹ جائے پھر گرنے والا فورا اٹھ جائے اور سینہ قبلہ رخ کرے تو نماز پر کوئی فرق نہیں پڑھے گا یعنی نماز درست ہوجائے گی البتہ اخیر میں سجدہ سہو کرنا ہوگا۔ ہاں اگر گرنے سے سینہ قبلہ سے ہٹ جائے اور فورا اٹھنا ممکن نہ ہو یا سواری پر نماز ادا کرنے والا اپنا رخ قبلہ کی طرف نہ کرے تو پھر نماز فاسد ہوجائے گی.
إذا انْحَرَفَ ناسِيًا أوْ جاهِلًا، أوْ لِغَلَبَةِ الدّابَّةِ فَلا بُطْلانَ إنْ عادَ عَنْ قُرْبٍ (تحفة المحتاج: ١/٤٩١)
ولو انحرف عن صوب طريقه لا إلى القبلة.. بطلت صلاته إن علم وتعمد واختار، وإلاَّ بأن انحرف جاهلًا أو ناسيًا أو لغلبة دابته.. فلا إن عاد عن قرب، ويسجد للسهو إلا في النسيان عند (حج)، فهو مستثنا من قاعدة: (ما أبطل عمده يسجد لسهوه) (شرح المقدمة الحضرمية :١/٢٦٧)
روضة الطالبين:٢/٦٠ *حاشية الشبراملسي مع نهاية ١/٤٤٨
جمعرات _8 _دسمبر _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 1129
عقیقہ میں جانور ذبح کرنے کے بجائے اس رقم کو کسی ضرورت مند کو دینے کا کیا مسئلہ ہے؟
عقیقہ میں اصل جانور ذبح مقصود ہے اسی وجہ سے عقیقہ میں جانور کو ذبح کرنا سنت اور افضل عمل ہے. ہاں اگر کوئی شخص جانور ذبح کرنے کے بجائے کسی سخت ضرورت کی بنا پر وہ رقم کسی فقیر یا مسکین کو بطور صدقہ دینا چاہیے تو دے سکتا ہے. لیکن اس طرح قیمت صدقہ کرنے سے عقیقہ کی سنت ادا نہیں ہوگی
وقال الامام النووي رحمة الله عليه : فِعْلُ العَقِيقَةِ أفْضَلُ مِن التَّصَدُّقِ بِثَمَنِها عِنْدَنا (المجموع: ٨/٤٣٣)
النجم الوهاج:٥٢٧/٩ تحفة المحتاج :٣٦٩/٩ حاشية الجمل: ٥/٢٦٤ نهاية المحتاج :٨/١٤٥
جمعہ _9 _دسمبر _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 1130
کیا والدین اپنی اولاد کو استطاعت کے باوجود فرض یا نفل حج و عمرہ سے روک سکتے ہیں؟
اگر کوئی فرض حج و عمرہ کی استطاعت رکھتا ہو اور تمام شرائط پائے جاتے ہوں اور تاخیر کی صورت میں فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو فرض حج و عمرہ کے لیے والدین منع نہیں کرسکتے، ہاں اگر سنت حج یا عمرہ ہو تو والدین اپنی اولاد کو روک سکتے ہیں۔
فمنها حَجَّةُ الإسْلاَم إذا وجبت على الابْنِ؛ لاجتماع شَرائِطِ الاستطاعة فليس لَهُما المنعُ منها؛ لأنها فرضُ عَيْنٍ، وفي التأخير خطر الفوات (العزيز: ١١/٣٦٠)
ويجوز للأبوين منع الولد غير المكي من الإحرام بتطوع حج أو عمرة دون الفرض (المقدمة الحضرمية: ١/١٥٨)
المجموع – ٨/٣٤٧ المهذب – ١/٤٢٨ المنهاج القويم – ١/٣٠٣
اتوار _11 _دسمبر _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 1131
عورتوں کے بال سر سے جدا ہوجانے کے بعد خریدتے اور عورتیں بھی خوشی سے بال بیچ دیتی ہیں کیا ایسا کرنا جائز ہے۔؟
کسی بھی انسان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے سر کے بالوں کو فروخت کرے۔ جس طرح سر پر ہوتے (متصل) بیچنا حرام ہے اسی طرح سر سے الگ ہونے کے بعد بھی خریدنا اور بیچنا دونوں حرام ہے۔
وبِأنَّهُ فَضْلَةُ آدَمِيٍّ فَلَمْ يَجُزْ بَيْعُهُ كالدَّمْعِ والعَرَقِ والمُخاطِ وبِأنَّ ما لا يَجُوزُ بَيْعُهُ مُتَّصِلًا لا يَجُوزُ بَيْعُهُ مُنْفَصِلًا كَشَعْرِ الآدَمِيّ المجموع شرح المهذب:٩/٢٥٤
فيحرم وصْلُه؛ لأن من كرامته أن لا ينتفع بشيء منه بعد مَوْتِهِ وانفصاله عنه، بل يدفن (أسنى المطالب: ١/١٧٣)
العزيز :٢/١٤ المهمات :٣/١٤٥
منگل _13 _دسمبر _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 1132
مسجد کی پرانی ناقابل استعمال چیزیں جن کو زیادہ دن رکھنے سے خراب ہونے کا اندیشہ ہو، نیز دوسری ضروری چیزیں رکھنے کے لیے جگہ تنگ ہو رہی ہو تو اس پرانی چیز کو (رکھ کر خراب کرنے سے) بیچنے کا کیا مسئلہ ہے؟
اگر مسجد کی چیزیں استعمال کے قابل نہ ہو اور استعمال نہ ہونے سے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو، اور اس چیز کے ہوتے ہوئے دوسری ضروری چیزیں رکھنے کے لیے جگہ تنگ ہو رہی ہو تو اس پرانی چیز کو بیچنا درست ہے۔ البتہ اُن چیزوں کو بیچنے کے بعد اس رقم کو مسجد ہی دوسرے کے کاموں میں استعمال کرنا ہوگا۔
قال الإمام النووي (ر):حُصْرُ المَسْجِدِ إذا بَلِيَتْ، ونُحاتَةُ أخْشابِهِ إذا نَخَرَتْ، وأسْتارُ الكَعْبَةِ إذا لَمْ يَبْقَ فِيها مَنفَعَةٌ ولا جَمالٌ، فِي جَوازِ بَيْعِها وجْهانِ: أصَحُّهُما: تُباعُ لِئَلّا تَضِيعَ وتُضَيِّقَ المَكانَ بِلا فائدة و على الأوَّلِ قالُوا: يُصْرَفُ ثَمَنُها فِي مَصالِحِ المَسْجِدِ أمّا ما اشْتَراهُ النّاظِرُ لِلْمَسْجِدِ، أوْ وهَبَهُ لَهُ واهِبٌ، وقَبِلَهُ النّاظِرُ فَيَجُوزُ بَيْعُهُ عِنْدَ الحاجَةِ بِلا خِلافٍ.
روضة الطالبين: ٥/٣٥٨ عجالة المحتاج :٢/٩٧٧ المهمات – ٦/٢٦٠ النجم الوهاج – ٥/٥١٧
بدھ _14 _دسمبر _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 1133
اگر کسی لکڑی پر قرآن مجید کی آیت لکھی ہو تو اسے جلانے کا کیا حکم ہے؟
اگر کسی لکڑی پر قرآن مجید لکھا ہوا ہو تو اس لکڑی کو جلانا مکروہ ہے اگر اس کو جلانے سے قرآن مجید کی حفاظت مقصود ہو تو قرآنی آیت لکھی ہوئی لکڑی کو جلانا جائز ہے۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ اس لکڑی کی راکھ کو دفنایا جائے
قال الخطيب الشربيني رحم ة الله عليه: ويكره إحراق خشب نقش بالقرآن إلا إن قصد به صيانة القرآن فلا يكره (مغنى المحتاج: ١\١٥٢)
*نهاية المحتاج ١\١٢٦ *تحفة المحتاج مع حواشي الشرواني .. ١\١٥٥ *إعانة الطالبين ١\٨٥ *الاقناع ١\١٠٤
پیر _2 _جنوری _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 1134
کسی شخص کی تعظیم کے لیے کھڑے ہونے کا کیا مسئلہ ہے؟
ایسا کوئی شخص جو اپنے لیے لوگوں کے کھڑے ہونے کو پسند کرتا ہو خواہ وہ دینی یا دنیاوی مقام و مرتبہ رکھتا ہو اس کے لیے کھڑا ہونا حرام ہے۔ البتہ جن لوگوں کے پاس دینی و علمی ، تقوی و طہارت کے لحاظ سے ظاہری فضیلت ہو اور وہ اپنے لئے لوگوں کے کھڑے ہونے کے خواہش مند نہ ہوں ایسے حضرات کے لیے کھڑا ہونا مستحب ہے
ويُسَنُّ القِيامُ لِمَن فِيهِ فَضِيلَةٌ ظاهِرَةٌ مِن نَحْوِ صَلاحٍ أوْ عِلْمٍ أوْ وِلادَةٍ أوْ نَسَبٍ أوْ وِلايَةٍ مَصْحُوبَةٍ بِصِيانَةٍ…. ويَحْرُمُ عَلى الدّاخِلِ أنْ يُحِبَّ قِيامَهُمْ لَهُ؛ لِلْحَدِيثِ الحَسَنِ: «مَن أحَبَّ أنْ يَتَمَثَّلَ النّاسُ لَهُ قِيامًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِن النّارِ. (تحفة المحتاج :٩/٢٢٩)
إعانة الطالبين: ٤/٢١٩ فتح المعين : ١/٥٩٨ أسنى المطالب: ٤/١٨٦ العزيز :١١/٣٧٨
بدھ _4 _جنوری _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 1135
کیا کفن کے لیے استعمال شدہ کپڑا استعمال کرنا ضروری ہے یا کپڑا نیا ہونا ضروری ہے؟
کفن کے لیے نیا کپڑا ہونا ضروری نہیں ہے. استعمال شدہ کپڑا اگر پاک اور صاف ہو تو نئے کپڑے سے اولی اور بہتر ہے. البتہ کفن کے لیے سفید کپڑا استعمال کرنامسنون ہے.
و المَلْبُوسُ (المَغْسُولُ) بِأنْ يُكَفَّنَ فِيهِ المَيِّتُ (أوْلى مِن الجَدِيدِ)؛ لِأنَّهُ لِلصَّدِيدِ والحَيُّ أحَقُّ بِالجَدِيدِ.
ويسن الأبيض
لقول النبي ﷺ: البسوا من ثيابكم البياض، فإنها خير ثيابكم، وكفنوا فيها موتاكم (النجم الوهاج:٣/ ٣٣) (نهاية المحتاج:٣/٢١) (بداية المحتاج: ١/٤٦٧)
جمعرات _5 _جنوری _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 1136
کیا گوہ کھانا جائز ہے؟
گوہ کا کھانا جائز ہے
امام نووي رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ويحل الضب (العزيز: ١٢/ ١٢٩)
امام رافعي رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ولا يحرم الضَّبُّ (الفقه المنهجي: ٣/ ٦٩)
الحاوي الكبير: ١٥/ ١٣٨
جمعہ _6 _جنوری _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 1137
عورت کے کفن میں ریشمی اور رنگین کپڑا استعمال کرنے کا کیا مسئلہ ہے؟
عورت کے کفن میں ریشمی اور زعفرانی اور زردرنگ کے کپڑے استعمال کرنا کراہت کے ساتھ جائز ہے.
وأمّا المَرْأةُ فالمَشْهُورُ القَطْعُ بِجَوازِ تَكْفِينِها فِيهِ لِأنَّهُ يَجُوزُ لَها لُبْسُهُ فِي الحَياةِ لَكِنْ يُكْرَهُ تَكْفِينُها فِيهِ لِأنَّ فِيهِ سَرَفًا ويُشْبِهُ إضاعَةَ المالِ بِخِلافِ اللُّبْسِ فِي الحَياةِ فَإنَّهُ تَجَمُّلٌ لِلزَّوْجِ وحَكى صاحِبِ البَيانِ فِي زِياداتِ المُهَذَّبِ وجْهًا أنَّهُ لا يَجُوزُ وأمّا المُعَصْفَرُ والمُزَعْفَرُ فَلا يَحْرُمُ تَكْفِينُها فِيهِ بِلا خِلافٍ ولَكِنْ يُكْرَهُ عَلى المَذْهَبِ وبِهِ قَطَعَ الأكْثَرُونَ. (المجموع شرح المهذب: ١٥٣/٥)
عمدة السالك :٨٤ فتح الوهاب :١٦٣/١ حاشية البحيرمي على شرح منهج الطلاب:٤٦٣/١ حاشية الجمل :١٥٧/٣
جمعرات _12 _جنوری _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 1138
قرآن مجید کی تلاوت کے بعد قرآن مجید کا بوسہ لیتے ہیں کیا قرآن مجید کا بوسہ لینا درست ہے؟
قرآن کریم کی تعظیم کرنا ہر مسلمان پر ضروری ہے اسی طرح قرآن مجید کی تلاوت کے بعد تعظیما بوسہ لینا مستحب ہے۔
علامہ بجیرمی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: واسْتَدَلَّ السُّبْكِيُّ عَلى جَوازِ تَقْبِيلِ المُصْحَفِ بِالقِياسِ عَلى تَقْبِيلِ الحَجَرِ الأسْوَدِ ويَدِ العالِمِ والصّالِحِ والوالِدِ؛ إذْ مِن المَعْلُومِ أنَّهُ أفْضَلُ مِنهُمْ (حاشية البجيرمي: ١/٣٧٣)
حاشيه الجمل: ١٠٧/٤ حواشي الشروانى: ١٥٥/١
جمعرات _19 _جنوری _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1139
تہجد کی نماز کب سے کب تک پڑھ سکتے ہیں اور اس کا اصل وقت کیا ہے؟
عشاء کی نماز کے بعد سے فجر کے اذان سے (دس پندرہ منٹ) پہلے یعنی طلوع فجر سے پہلے تک تہجد کی نماز پڑھنے کی گنجائش ہے۔البتہ سوکر اٹھنے کے بعد پڑھی جانی والی نماز پر تہجد کا اطلاق ہوتاہے۔
يَدْخُلُ وقْتُ التَّهَجُّدِ بِدُخُولِ وقْتِ العِشاءِ وفِعْلِها…. ويُشْتَرَطُ أيْضًا أنْ يَكُونَ بَعْدَ نَوْمٍ فَهُوَ كالوِتْرِ فِي تَوَقُّفِهِ. (نهاية المحتاج: ٢/١٣١)
ووقته: بين صلاة العشاء وطلوع الفجر) بالإجماع (بداية المحتاج: ١/٣١١)
حاشية الجمل: ١/٤٩٥ روضة الطالبين: ١/٣٢٩ عجالة المحتاج:١/٢٧٨