درس قرآن نمبر 0707
سورة الانعام– آيت نمبر 025-026(مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سورة الانعام– آيت نمبر 025-026(مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سوال نمبر/ 0130
قرآن مجید کے وہ نسخےجو بہت زیادہ پھٹ گئےہو یا اس قدر پرانی ہو چکے ہوکہ جنکا استعمال مشکل ہو, اسی طرح وہ دینی کتابیں یا اخبار جسمیں دینی باتیں ہوں, ان کو جلانے کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔قرآن مجید یا ایسی کتابیں جن میں اللہ تعالیٰ کا نام ہو آگ سے جلانا جائز ہے اس لئے کہ جلانے میں مصحف کا اکرام ہے اور پیروں تلے آنے سے حفاظت ہے۔ چونکہ دینی کتابوں میں اکثر قرآن کی آیتیں, احادیث شریفہ، اللہ اور رسول کے نام ہوتے ہے۔ لھذا ان کا احترام ضروری ہے اور انکے پھٹنے اور بوسیدہ ہونے پر جلانا یا ایسی جگہوں پر دفن کرنا جہاں پر لوگ چلتے پھرتے نہ ہوں یا دریا میں ڈالنا جائز ہے تاکہ انکی بےحرمتی نہ ہو۔بخاری شریف کی روایت میں بھی اس کی صراحت موجود ہے
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آرمینیہ اور آذربیجان کی فتح کے وقت آئے اور قراءت کے اختلاف کا تذکرہ کیا… پھر ایک مصحف تیار کیا اور ہر جانب روانہ کیا اور اس مصحف کے علاوہ تمام صحیفوں اور مصحفوں کو جلانے کا حکم دیا۔(بخاری:4987)
قال ابن القيم :۔ في هذالحديث جواز تحريق الكتب التي فيها اسم الله بالنار وأن ذلك اكرام لها وصون عن وطئتها بالاقدام (فتح الباري:11/219)
قال الشربيني: ويكره احراق خشب نقش بالقرآن الا ان قصد به صيانة القرآن فلا يكره (مغني المحتاج 1/67)
وفي فتاوي بلد الحرام الواجب بعد الفراغ من المصحف والاوراق المذكورة (ای نجد بسم الله في بداية بعض الاوراق والرسائل ) حفظها او احراقها او دفنها في ارض طيبة صيانة للايات القرانية واسماء الله سبحانه من الامتهان ۔(فتاوي بلد الحرام: رقم 1063 ص:1021)
مكۃ المكرّمہ اردو ترجمہ : حفظ الرحمن تیمی
عنوان / صحافت و قلمكاری
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
فضيلة الشيخ صلاح بن محمد البدير
فضيلة الشيخ فيصل بن جميل غزاوي
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
سورة الانعام– آيت نمبر 023-024(مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
سورة الانعام– آيت نمبر 022-023-024(مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سوال نمبر/ 0284
حیض اور نفاس والی عورت یا جنبی کے لیے قرآن مجید کی ایات لکھنے یا کمپوزنگ کرنے کا کیا حکم ہے ؟
جواب:۔ اگر حیض اور نفاس والی عورت یا جنبی شخص کسی ایسی چیز یعنی کاغذ یا تختی پر قرآن مجید لکھ رہا ہو جسے چھونے اور اٹھا نے کی ضرورت پیش آتی ہو تو ایسی صورت میں حیض اور نفاس والی عورت کے لیے قرآن مجید کی آیات لکھنا جائز نہیں ہے اگر ایسی چیز پر لکھ رہا ہو جسے ہاتھ سے چھونے یااٹھانے کی ضرورت پیش نہ آتی ہوجیسے کمپوزنگ کرنا تو ایسی صورت میں حیض اور نفاس والی عورت اور جنبی شخص کے لئے قرآن مجید لکھنے یا کمپوزنگ کرنے کی اجازت ہے ۔
اذا كتب المحدث او الجنب مصحفًا نظر ان حمله و مسه في حال كتابته حرم، وإلا فصحيح جوازه لانه غير حامل ولا ماس ۔(المجموع ٧٨/٢)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)