درس حدیث نمبر 0622
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 1091
*اگر کوئی شخص رکوع کی تسبیح سجدہ میں پڑھے تو نماز کا کیا حکم ہے؟*
*اگر کوئی شخص رکوع میں پڑھی جانے والی تسبیح سجدہ میں یا سجدہ میں پڑھے جانے والی تسبیح رکوع میں پڑھے تو اس سے نماز پر کوئی اثر نہیں ہوگا اور سجدہ سہو کی بھی ضرورت نہیں بلکہ نماز درست ہوگی*
*علامہ دمیاطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ولنقل… قولي غير مبطل نقله إلى غير محله.*(١)
*علامہ ابن حجر ھیتمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :أن التسبيح ونحوه من كل مندوب قولي مختص بمحل لا يسجد لنقله إلى غير محله.* 2. (١) اعانة الطالبين: ١/ ٣٢٠. * حاشية البجيرمى: ١/ ٢٥٨. * نهاية المحتاج: ٢/ ٧٣. (٢) منهاج القويم: ١٣٠. * الغرر البهية: ٢/ ٣٥٥
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 1090
جمعہ کے دن زوال کے بعد جمعہ کی نماز سے پہلے ٹرین، بس، فلایٹ سے سفر کرنے کا کیا مسئلہ ہے؟
اگر زوال کے بعد جمعہ سے پہلے ٹرین بس یا فلایٹ ہو تو ایسے شخص کے لیے سفرکرنا حرام ہے، اگر جمعہ سے پہلے سفر کرنا بہت ضروری ہو فلایٹ یا ٹرین سے سفر کرنا ہو تو بہتر یہ ہے کہ صبح صادق سے پہلے ہی گھر سے نکل کر اسٹیشن یا ایرپورٹ پہنچ جائے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو اور نہ جمعہ بعد سفر کرنا ممکن ہو اور سفر نہ کرنے کی صورت میں اسے سواری کے چھوٹنے کی وجہ سے سخت تکلیف یا بھاری نقصان (ٹکٹ) کا امکان ہو تو پھر مجبوری کی وجہ سے جمعہ کی نماز سے پہلے سفر کرنے کی گنجائش ہے عمدا جمعہ کی نماز سے جمعہ چھوڑ کر سفر کرنا حرام ہے
امام نووی ؒ فرماتے ہیں: وحَيْثُ قُلْنا: يَحْرُمُ، فَلَهُ شَرْطانِ. أحَدُهُما: أنْ لا يَنْقَطِعَ عَنِ الرُّفْقَةِ، ولا يَنالُهُ ضَرَرٌ فِي تَخَلُّفِهِ لِلْجُمُعَةِ. فَإنِ انْقَطَعَ، وفاتَ سَفَرُهُ بِذَلِكَ، أوْ نالَهُ ضَرَرٌ، فَلَهُ الخُرُوجُ بَعْدَ الزَّوالِ بِلا خِلافٍ (روضة الطالبين: ١٩٥)
*حاشیة البجيرمى: ٣٨٩/١ *العزيز: ٣٠٥/٢ *النجم الوهاج:٤٥٢/٢ *المهمات: ٤٠٠/٣
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا اقبال نائطے صاحب ندوی
مولانا عبد الاحد فکردے صاحب ندوی
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
فقہ شافعی سوال نمبر / 1088
حجاج کرام کے استقبال کا حکم اور اس کا طریقہ شریعت میں کیا ہے؟
حجاج کرام کا استقبال کرنا مشروع ہے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ رشتے داروں کو گھر بلا کر دعوت وغیرہ کا اہتمام کیا جائے اور آنے والے حاجیوں کا ان دعائیہ کلمات ” تقبل الله حجك وغفر ذنبك وأخلف نفقتك” کے ساتھ استقبال کیا جائے اور دیگر کام جو عرف و عادۃ میں عام طور پر حاجیوں کے آنے پر کے جاتے ہیں شریعت کی حد میں رہتے ہوئے ان کا جائز ہے
بابُ اسْتِقْبالِ الحاجِّ القادِمِينَ والثَّلاثَةِ عَلى الدّابَّةِ اشْتَمَلَتْ هَذِهِ التَّرْجَمَةُ عَلى حُكْمَيْنِ وأمّا الحُكْمُ الأوَّلُ فَأخَذَهُ مِن حَدِيثِ البابِ مِن طَرِيقِ العُمُومِ لِأنَّ قُدُومَهُ ﷺ مَكَّةَ أعَمُّ مِن أنْ يَكُونَ فِي حَجٍّ أوْ عُمْرَةٍ أوْ غَزْوٍ وقَوْلُهُ القادِمِينَ صِفَةٌ لِلْحاجِّ لِأنَّهُ يُقالُ لِلْمُفْرَدِ ولِلْجَمْعِ وكَوْنُ التَّرْجَمَةِ لِتَلَقِّي القادِمِ مِنَ الحَجِّ والحَدِيثُ دالٌ عَلى تَلَقِّي القادِمِ لِلْحَجِّ (٢)
(التّاسِعَةُ والخَمْسُونَ) يُسْتَحَبُّ النَّقِيعَةُ وهِيَ طَعامٌ يُعْمَلُ لِقُدُومِ المُسافِرِ ويُطْلَقُ عَلى ما يَعْمَلُهُ المُسافِرُ القادِمُ وعَلى ما يَعْمَلُهُ غَيْرُهُ۔۔۔ ومِمّا يستدل به لها حديث جابِرٌ ﵁ «أنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ لَمّا قَدِمَ المَدِينَةَ مِن سَفَرِهِ نَحَرَ جَزُورًا أوْ بَقَرَةً» رَواهُ البُخارِيُّ (٣)
والسنة: أن يتلقى المسافر، وأن يقال له إن كان حاجًا: قبل الله حجك وغفر ذنبك وأخلف نفقتك. (٤) (١) البخاري:١٧٩٨ (٢)فتح الباري(٦١٩/٣) (٣) المجموع (٤٠٠/٤) (٤) النجم الوهاج(٦٢٩/٣) *نهاية المحتاج(٣٧١/٣)