معرفة الله ومحبته وتوحيده – 12-02-2021
فضيلة الشيخ بندر بن عبد العزيز بليلة
فضيلة الشيخ بندر بن عبد العزيز بليلة
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0951
نماز کے دوران اگر ٹوپی یا عمامہ سر سے گر جائے تو کیا نماز کی حالت میں ہی اسے سر پر رکھ سکتے ہیں؟
دوران نماز اگر ٹوپی یا عمامہ کو اٹھا کر پہننا عام طور پر اسے عمل کثیر شمار نہیں کیا جاتا ہے لھذا دوران نماز گری ہوئی ٹوپی یا عمامہ کو اٹھا کر پہننا جائز ہے۔
قال الإمام الدميري رحمة الله عليه: والكثرة بالعرف)، فلا يضر ما يعد قليلًا، كخلع النعل ولبس الثوب الخفيف، والإشارة برد السلام. وقيل: القليل ما لا يحتاج إلى كلتا اليدين، كرفع العمامة وحل شوطة السراويل. (النجم الوهاج: ٢ / ٢٣٠)
قال الإمام الخطيب الشربيني رحمة الله عليه: (وَالْكَثْرَةُ) وَالْقِلَّةُ (بِالْعُرْفِ) فِي الْأَصَحِّ فَمَا يَعُدُّهُ النَّاسُ قَلِيلًا كَخَلْعِ الْخُفِّ وَلُبْسِ الثَّوْبِ الْخَفِيفِ. (مغني المحتاج:١ / ٣٤١)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0950
کچھ لوگ قرآن مجید کی تلاوت کے بعد مصحف کا بوسہ لیتے ہیں کیا قرآن مجید کا بوسہ لینا درست ہے؟
قرآن کریم کی تعظیم کرنا ہر مسلمان پر ضروری ہے اسی طرح قرآن مجید کی تلاوت ختم کرنے کے بعد قرآن مجید کو تعظیما بوسہ لینا مستحب ہے۔
علامہ سلیمان رحمة الله عليه فرماتے ہیں: سن تقبيل المصحف. (حاشيه الجمل: ١٠٧/٤)
علامہ شروانی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: على جواز تقبيل المصحف. (حواشي الشروانى: ١٥٥/١)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0948
اگر کسی جگہ آگ لگ جائے یا پانی بھر جائے اور وہاں قرآن مجید کے نسخے جل کر یا پانی میں گر کر ضائع ہو رہے ہوں تو ایسے موقع پر قرآن مجید کے ان نسخوں کو بغیر وضو کے اٹھانے کا کیا مسئلہ ہے؟
عام حالت میں قرآن مجید کو بغیر طہارت کے چھونا یا اٹھانا بالکل جائز نہیں ہے۔ لیکن اگر کسی جگہ قرآن مجید کا نسخہ پانی میں ڈوبنے ، یا جلنے کا ڈر ہو، یا کسی کافر کے ہاتھ لگنے سے قرآن کی بے ادبی و اہانت کا امکان ہو تو ان تمام صورتوں میں بغیر وضو کے بھی قرآن مجید کو اٹھانا درست ہے۔
علامه نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: لَوْ خَافَ الْمُحْدِثُ عَلَى الْمُصْحَفِ مِنْ حَرْقٍ أَوْ غَرَقٍ أَوْ وُقُوعِ نَجَاسَةٍ عَلَيْهِ أَوْ وُقُوعِهِ بِيَدِ كَافِرٍ جَازَ أَخْذُهُ مَعَ الْحَدَثِ۔ (المجموع:٨٨/١)
علامہ خطیب شربین رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ﻭﻟﻮ ﺧﻴﻒ ﻋﻠﻰ ﻣﺼﺤﻒ ﺗﻨﺠﺲ ﺃﻭ ﻛﺎﻓﺮ ﺃﻭ ﺗﻠﻒ ﺑﻨﺤﻮ ﻏﺮﻕ ﺃﻭ ﺿﻴﺎﻉ ﻭﻟﻢ ﻳﺘﻤﻜﻦ ﻣﻦ ﺗﻄﻬﺮﻩ ﺟﺎﺯ ﻟﻪ ﺣﻤﻠﻪ ﻣﻊ اﻟﺤﺪﺙ. (مغني المحتاج: ٦٧/١)
علامہ سیوطی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: الضروريات تبيح المحظورات۔ (الاشباء و والنظائر:٨٤)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)