004 – سورة النساء – آیت نمبر – 092
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة الانعام– آيت نمبر 158 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
سوال نمبر/ 0104
کسی مسجد میں ایک جماعت کے بعد دوسری جماعت کرکے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ اگر کسی مسجد میں امام مقرر ہو تو اس کی جماعت سے قبل یا بعد اس کی اجازت کے بغیر دوسری جماعت مکروہ ہے، لیکن اگر مسجد بازار میں یا ایسے راستے پر جہاں لوگوں کی ہمیشہ آمدورفت رہتی ہو تو پھر مکروہ نہیں ہے۔
————–
وان حضر وقد فرغ الامام من الصلاة فان كان المسجد له امام راتب كره ان يستانف فيه جماعة وان كان المسجد في سوق او ممر الناس لم يكره أن يستانف الجماعة۔(المھذب مع المجموع/4/193)
اما اذا لم یکن له امام راتب فلا کراھة في الجماعة الثانیه والثالثه…..
واما اذا کان له امام راتب ولیس المسجد مطروقا فمذھبنا کراھك الجماعة الثانیة بغیر أذنه (المجموع:4/194)
سورة الانعام– آيت نمبر 154-155-156-157 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
سوال نمبر/ 0105
تیراکی کے وقت پانی میں پیشاب کرنے کا شرعا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ تیراکی رکے ہوئے پانی میں ہو مثلا کنویں یا تالاب میں اور پانی کم ہو تو اس میں پیشاب کرنا حرام ہے. اور اگر ٹہرا ہوا پانی زیادہ ہو تو مکروہ ہے. لیکن تیراکی جاری پانی میں ہو اور وہ زیادہ ہو مثلا ندی یا سمندر تو حرام نہیں ہے. البتہ جاری پانی میں بھی پیشاب کرنا بہتر نہیں ہے. لیکن اگر جاری پانی کم ہو تو پھر پیشاب کرنا مکروہ ہے۔ اس لئے تیرا کی کرنے والوں کو چاہیے کہ پانی میں پیشاب نہ کریں۔ اس لیے کہ صحیح مسلم کی روایت ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص ٹہڑے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے۔ (مسلم:665 )
————–
وإن كان الماء كثيرا راكبا فقال أصحابنا يكره ولا يحرم…وأما الراكد القليل فقد أطلق جماعة من أصحابنا أنه مكروه والصواب المختار انه يحرم البول فيه (شرح مسلم 1/523)
[ فإن كان الماء كثيرا جاريا لم يحرم البول فيه لمفهوم الحديث ولكن الأولى إجتنابه (شرح مسلم 1/523)
وان كان قليلا جاريا فقد قال جماعة من أصحابنا: يكره…لأنه يقذره وينجسه (شرح مسلم1/523)
سورة الانعام– آيت نمبر 152-153 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
سوال نمبر/ 0106
کھانے کے بعد دانتوں میں خلال کرنے اور خلال سے کھانے کے نکلنے والے ذرات کو نگلنے کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ کھانے سے فراغت کے بعد دانتوں کے سوراخوں میں پھنسے ہوئے کھانے کے ریشے وغیرہ کو احتیاط کے ساتھ خلال کے ذریعہ صاف کر لینا چاہیے. اس لیے کہ منہ اور دانتوں میں ان ذرات کا باقی رہنا دانتوں کی بیماری اور بدبو کا باعث بنتا ہے. اگر ان ذرات میں خون بھی نکلا ہو توایسے ذرات کو نگلنا حرام ہے۔ اس سلسلے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے کھانے کے بعد خلال کیا تو خلال سے نکلنے والے ذرات کو پھینک دے اور جو زبان سے نکلے اسے نگل سکتا ہے. جس نے ایسا کیا تو بہتر کیا اور جس نے نہیں کیا تو اس پر کوئی حرج نہیں۔(سنن ابی داود/35)
————-
علامہ خطیب شربینی رحمة الله عليه فرماتے ہیں:
ولا یبتلع ما یخرج من اسنانه بالخلال بل یرمیه (مغنی المحتاج:3/250)
(ﺃﻛﻞ) ﺷﻴﺌﺎ (ﻓﻤﺎ ﺗﺨﻠﻞ) ﻣﺎ ﺷﺮﻃﻴﺔ ﻭاﻟﺠﺰاء ﻓﻠﻴﻠﻔﻆ ﺃﻱ ﻣﺎ ﺃﺧﺮﺟﻪ ﻣﻦ اﻷﺳﻨﺎﻥ ﺑﺎﻟﺨﻼﻝ (ﻓﻠﻴﻠﻔﻆ) ﺑﻜﺴﺮ اﻟﻔﺎء ﻓﻠﻴﻠﻖ ﻭﻟﻴﺮﻡ ﻭﻟﻴﻄﺮﺡ ﻣﺎ ﻳﺨﺮﺟﻪ ﻣﻦ اﻟﺨﻼﻝ ﻣﻦ ﺑﻴﻦ ﺃﺳﻨﺎﻧﻪ ﻷﻧﻪ ﺭﺑﻤﺎ ﻳﺨﺮﺝ ﺑﻪ ﺩﻡ (ﻭﻣﺎ ﻻﻙ ﺑﻠﺴﺎﻧﻪ) ﻋﻄﻒ ﻋﻠﻰ ﻣﺎ ﺗﺨﻠﻞ ﺃﻱ ﻣﺎ ﺃﺧﺮﺟﻪ ﺑﻠﺴﺎﻧﻪ ﻭاﻟﻠﻮﻙ ﺇﺩاﺭﺓ اﻟﺸﻲء ﺑﻠﺴﺎﻧﻪ ﻓﻲ اﻟﻔﻢ ﻳﻘﺎﻝ ﻻﻙ ﻳﻠﻮﻙ (ﻓﻠﻴﺒﺘﻠﻊ) ﺃﻱ ﻓﻠﻴﺄﻛﻠﻪ ﻭﺇﻥ ﺗﻴﻘﻦ ﺑﺎﻟﺪﻡ ﺣﺮﻡ ﺃﻛﻠﻪ (ﻣﻦ ﻓﻌﻞ) ﺃﻱ ﺭﻣﻰ ﻭﻃﺮﺡ ﻣﺎ ﺃﺧﺮﺟﻪ ﻣﻦ اﻷﺳﻨﺎﻥ ﺑﺎﻟﺨﻼﻝ (ﻭﻣﻦ ﻻ) ﺃﻱ ﻟﻢ ﻳﻠﻔﻈﻪ ﺑﻞ ﺃﻛﻠﻪ ﻋﻠﻰ ﺗﻘﺪﻳﺮ ﻋﺪﻡ ﺧﺮﻭﺝ اﻟﺪﻡ (عون المعبود)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة الانعام– آيت نمبر 152 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب