004 – سورة النساء – آیت نمبر – 044
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة الانعام– آيت نمبر 065-066-067(مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سورة الانعام– آيت نمبر 065-066-067(مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
سورة الانعام– آيت نمبر 054-055(مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سوال نمبر/ 0028
مسجد میں کھانے پینے کا شرعا کیاحکم ہے؟
جواب:۔ حضرت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد میں روٹی اور گوشت کھاتے تھے۔(سنن ابن ماجہ:3300)
اس دلیل کی بناء پر علماء نے مسجد میں کھانے پینے کی اجازت دی ہے. البتہ مسجد میں کھانے پینے سے احتیاط بہتر ہے.اور اگر کھانے کی نوبت آجائے تو دسترخوان بچھانے کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ فرش گندانہ ہو. اور کھانے کے ذرات کچھ باقی نہ رہے ۔
—————
امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں
لا باس بالاکل والشرب فی المسجد و وضع المائدۃ فیه وغسل الید فیه ۔(فتاوی للنووی:126)
امام زرکشی رحمة الله عليه فرماتے ہیں۔
یجوز اکل الخبز و الفاکہة و البطیخ و بغیر ذالك فی المسجد۔ (اعلام الساجد باحکام المساجد:232)
وینبغی ان یبسط شیئا و یحترز خوفا من التلویث لئلا یتناثر شئي من الطعام فتجتمع علیه الھوام۔ (اعلام الساجد باحکام المساجد:232)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مكۃ المكرّمہ اردو ترجمہ
سورة الانعام– آيت نمبر 053(مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سوال نمبر/ 0027
نماز میں عورت کے لیے ستر کتنا ہونا ضروری ہے؟
جواب:۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے "ولا یبدین زینتھن الا ما ظھر منھا”(سورہ نور/31)
یعنی عورتیں اپنے جسم کی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے ان اعضاء کے جو ظاہر ہوتے ہیں۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت میں ” الا ما ظھر منھا” کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد چہرہ اور ہتیلیاں ہیں (اضواء البیان:27/28)
امام قرطبی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں
"الا ما ظھر منھا” سے مراد چہرہ اور ہتیلیاں ہیں جو عادۃ اور عبادت میں ظاہر ہوتی ہیں. لہذا نماز اور حج میں چہرہ اور ہتیلیاں ستر میں داخل نہیں ہیں۔ (الجامع لاحکام القرآن :6/331)
اس تفصیل کی روشنی میں فقہاء فرماتے ہیں کہ نماز میں عورت کے لیے چہرہ اور ہتیلیوں کے علاوہ پورا بدن ستر ہے۔ لہذا ان دو اعضاء کے علاوہ بدن کا کوئی بھی حصہ ظاہر ہوجائے تو نماز درست نہیں ہوگی۔
————–
شیخ سلیمان جمل رحمة الله عليه ) ہیں:
انه لما دل الدلیل علی ان عورۃ الانثی بالنسبة الی الاجانب جمیع بدنھا و باالنسبة الی المحارم ماعدا سرتھا و رکبتھا تعین ان تکون الایة واردۃ فی شان الصلاۃ (حاشیۃ الجمل:2/133)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة الانعام– آيت نمبر 052(مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سوال نمبر/ 0026
کیا قمیص وجبہ کی آستین کو انگلیوں سے زائد رکھنا جائز ہے؟ یا اس میں اسراف ہوگا؟
جواب:۔ حضرت اسماء بنت یزید انصاریہ رضي الله عنها فرماتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کی آستین گھٹوں تک ہوتی تھی ۔(سنن ترمذی :1765)
اس حدیث کی بناء پر آستین کو گھٹوں تک رکھنا سنت ہے۔ اور جس طرح بغیر کسی مقصد کے ضرورت سے زیادہ لباس کا استعمال ناپسندیدہ ہے، اسی طرح کرتہ وجبہ کی آستین کو انگلیوں سے زیادہ لمبی رکھنا ناپسندیدہ اور منع ہے۔
ومثله (فی الممانعة) حمل ما لو کان زائداعلی تمام لباسه کما قاله القاضی لانه غیر مضطر الیه قال فی المھمات: و مقتضاہ منع زیادۃ الکم علی الاصابع و لبس ثوباآخر لا لغرض من تجمل و نحوہ۔(اعانۃ الطالبین:1/221)
ويسن في الكم كونه إلى الرسغ للاتباع وهو المفصل بين الكف والساعد وللمرأة ومثلها الخنثى فيما يظهر إرسال الثوب على الأرض إلى ذراع من غير زيادة عليه لما صح من النهي عن ذلك، والأوجه أن الذراع يعتبر من الكعبين وقيل من الحد المستحب للرجال وهو أنصاف الساقين ورجحه جماعة وقيل من أول ما يمس الأرض وإفراط توسعة الثياب والأكمام بدعة وسرف وتضييع للمال نعم ما صار شعارا للعلماء يندب لهم لبسه ليعرفوا بذلك۔ (نهاية المحتاج : 382/2)